اقتصادی راہداری پر قومی اتفاق رائے!!

کالم نگار  |  رحمت خان وردگ....
اقتصادی راہداری پر قومی اتفاق رائے!!

28 مئی 2015ءکو وزیراعظم میاں نوازشریف کی زیر صدارت اقتصادی راہداری پر آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں تمام پارلیمانی جماعتوں نے شرکت کی اور پاک چین اقتصادی راہداری پر سیاسی قیادت کا اتفاق رائے ہوا۔ آل پارٹیز کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مغربی روٹ پہلے تعمیر کیا جائیگا اور منصوبے کی نگرانی پارلیمانی کمیٹی کریگی۔ اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ کے مکمل آپریشنل ہوجانے سے پاکستان کی تقدیر بدل جائیگی اور پاکستان کا سب سے پسماندہ صوبہ بلوچستان کے عوام کا معیار زندگی بلند ہوگا۔ یہ بہت بڑا منصوبہ ہے جس کی تکمیل سے پاکستان خطے میں مزید اہمیت اختیار کر جائیگا اور وسط ایشیائی ریاستوں‘ چین اور افغانستان کیلئے سب سے مناسب راہداری میسر آجائے گی جس سے یقینی طور پر پاکستانی معیشت کو بہت بڑا سہارا ملے گا۔

اس منصوبے کی تیاری اور چین کے ساتھ معاہدے کے بعد پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے اس اہم ترین منصوبے کو جلد ازجلد مکمل کرنے کے عزم کا بار بار اعادہ کیا گیا کیونکہ یہ پاکستان کے مستقبل اور آنیوالی نسلوں کی ترقی کا ضامن ہے مگر بدقسمتی سے چین کے صدر کے دورہ پاکستان میں اس معاہدے پر دستخط کے بعد سے ماضی کی طرح ایک بار پھر سازشوں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ اس پروپیگنڈے کا آغاز کیا گیا کہ اقتصادی راہداری روٹ میں تبدیلی کردی گئی ہے جس سے مخصوص علاقوں کو فائدہ پہنچانے کےلئے بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کے وسیع علاقوں کونظرانداز کردیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقیات احسن اقبال نے اے پی سی کو بریفنگ دیتے ہوئے بھی ان افواہوں کو سختی سے مستردکردیا اور کہا کہ بلاوجہ بدگمانی پھیلائی جارہی ہے کہ روٹ میں تبدیلی کی گئی ہے حالانکہ حقیقت میں تو کوئی نئی سڑک تعمیر ہی نہیں کی جارہی بلکہ موجودہ سسٹم کو اپ گریڈ کیا جائےگا اور مسنگ لنک مکمل کئے جائینگے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال کی اس وضاحت سے قبل بھی اس اہم راہداری منصوبے کو متنازعہ بنانے والوں کواصل منصوبے کے حقائق سے آگاہ ہونا چاہئے تھا اور بے بنیاد پروپیگنڈے کے آغاز اور غیر ملکی آقاﺅں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کم از کم حقائق پر مبنی بات کرنی چاہئے تھی۔ اقتصادی راہداری کوئی نئی سڑک نہیں ہے بلکہ گوادر سے کاشغرتک پہلے سے موجود سڑکوں کو کشادہ اور بہتر بنانا ہے اور اس کےلئے پہلے سے موجود سڑکوں کو ہی بہتر بنایا جائےگا۔ یہ کوئی مخصوص نیا روٹ نہیں بن رہا جس پر زہریلا پروپیگنڈہ کرکے نام نہاد علاقائی رہنمائی کا دعویٰ کیاگیا۔ بہرحال حکومت اور خصوصاً وزیراعظم میاں نوازشریف نے بروقت اور خوش اسلوبی سے اس اہم قومی منصوبے کو متنازعہ بنانے سے بچالیا اور سیاسی قیادت کی اے پی سی بلاکر اصل منصوبے پر بریفنگ کے بعد حکمت عملی سے بھی سب کو آگاہ کردیا جس سے ملک دشمن قوتوں کی گھناﺅنی سازش کو دھچکا پہنچا ہے۔
حکومت کو مستقبل میں بھی اس معاملے میں محتاط رہنا ہوگا اور میڈیا پر اصل منصوبے سے پوری قوم کو بھی آگاہ کرنا چاہئے تاکہ عوام کسی کے بے بنیاد پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں اور ماضی میں بھی ملک کو نقصان پہنچانے والے نام نہاد رہنماﺅں کی سیاست نہ چمک سکے۔ پاکستان اور چین کی قربت سے پاکستان دشمن قوتیں بہت پریشان ہیں اور وہ ہر صورت پاک چین معاہدوں کو سبوتاژ کرنیکی کوششیں جاری رکھیں گی۔ اس اے پی سی میں سیاسی قیادت کے اتفاق کے بعد بھی یہ سلسلہ نہیں رکے گا اور مختلف نعروں اور حیلوں بہانوں سے اقتصادی راہداری منصوبے کی تعمیر اور گوادر پورٹ کے آپریشنل ہونے میں روڑے اٹکائے جاتے رہیں گے۔ اس صورتحال میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اسی طرح فعال طریقے سے سازشوں کو ناکام بنانے کے بھی اقدامات جاری رہیں تاکہ پاک چین معاہدوں پر تیزی سے عملدرآمد ہوسکے اور منصوبوں کی بروقت تکمیل سے پاکستان کی معیشت کواستحکام حاصل ہو۔پاک چین منصوبوں کی تکمیل میں جنرل راحیل شریف نے بھی بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور ان منصوبوں پر کام کرنیوالے چینی انجینئرز اور عملے کو آرمی سیکورٹی فراہم کرنے کا اعلان کرکے اس پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے کہ پاکستان میں سیاسی و عسکری قیادت میں اہم قومی معاملات پر مکمل ہم آہنگی ہے اور پاکستان کے مفاد کے تمام تر اقدامات اور منصوبے ہر قیمت پر مکمل کئے جائینگے۔
اقتصادی راہداری منصوبے پر قومی اتفاق رائے کےلئے حکومت نے جس حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل تحسین ہے اور کیا ہی اچھا ہوتا کہ حکومت کالا باغ ڈیم کی تعمیر کےلئے بھی سنجیدہ ہوتی اور کاش اسی طرح کی آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرکے تکنیکی ماہرین سے سیاسی قیادت کو بریفنگ دلائی جاتی تاکہ منصوبے سے مکمل طور پر آگاہی ملنے کے بعد سیاسی قیادت ایک دوسرے کے روبرو بیٹھ کر اپنے ضمیر پر اس اہم ترین قومی منصوبے پر اپنی رائے دے سکے۔
میرے خیال میں تو اب تک حکومت کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں سنجیدہ ہی نہیں اور یہ کہہ کر معاملے کو فائلوں میں بندکردیا گیا ہے کہ جب قومی اتفاق رائے پیدا ہوگا تبھی اس منصوبے پر عملدرآمد ممکن ہے۔ اقتصادی راہداری پر تو ”قومی اتفاق رائے“ پیدا ہوگیا کیونکہ اس کے لئے حکومت خود سنجیدہ تھی لیکن کالا باغ ڈیم جیسے قومی بقاءکے اہم منصوبے پر حکومت خود سنجیدہ نہیں ہے اس لئے اس طرح کی کوششیں نہیں کی جارہیں جس سے سیاسی قیادت کو ایک جگہ بٹھاکر بریفنگ دی جائے اور نہ ہی حکومت الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر اس اہم منصوبے کے متعلق عوام کو آگاہی کی مہم چلانے میں سنجیدہ ہے۔ حکومتی اشتہارات میں صرف اپنی تصویریں چھاپ کر اور ذاتی تشہیر کیلئے اربوں روپے تو ہیں لیکن کالا باغ ڈیم کیلئے عوامی آگاہی کےلئے انکے پاس فنڈز نہیں ہیں۔
قوم پر یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ جن نام نہاد ”سیاسی رہنماﺅں“ نے کالا باغ ڈیم کو ”متنازع“ بنایا اور اس میں کسی حد تک کامیاب رہے اب بھی وہی ”رہنما“ اقتصادی راہداری کو بھی منظم پروپیگنڈے کے ذریعے متنازع بنانے کی کوششوں میں مصروف تھے لیکن میاں نوازشریف کی سیاسی بصیرت سے اقتصادی راہداری پر قومی اتفاق رائے ہوگیا اور مجھے یقین ہے کہ اگر حکومت نیک نیتی کے ساتھ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کےلئے سنجیدہ کوششوں کا آغاز کرے اور اسی طرح کی اے پی سی بلاکر تفصیلی بریفنگ دی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ کالا باغ ڈیم پر قومی اتفاق رائے نہ ہوسکے اور میڈیا مہم کے ذریعے عوام کو اس منصوبے کے فوائد سے آگاہ کرکے اسکی تعمیر کا آغاز کیا جاسکتا ہے لیکن بات صرف نیتوں کی ہے۔اگر حکومت کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں سنجیدہ نہیں تو کھلے عام کہنا چاہئے کہ کالا باغ ڈیم ہم تعمیر نہیں کرینگے اور ہم اسکے مخالف ہیں یا پھر حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ اس پر بھی قومی اتفاق رائے پیدا کرے ۔ میاں برادران کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اب بھی وقت ہے کہ ملک کی بقاءکیلئے لازم منصوبے کی تعمیر میں پیشرفت کریں اور اﷲ پاک نے انہیں اقتدار دیا ہے تو قوم کی تقدیر سنوارنے کیلئے دلیرانہ فیصلے کریں ورنہ مستقبل میں ان کی انہی کمزوریوں کی وجہ سے انہیں عوام مسترد کرسکتے ہیں لیکن اس وقت تک وقت گزرچکا ہوگا اور پھر پچھتاوے کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئےگا۔