ملکی سلامتی خطرات کی زد میں

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
ملکی سلامتی خطرات کی زد میں

محترم نواز شریف کی حکمرانی کے ملک کو تین بڑے نقصانات برداشت کرنے پڑے۔ اول یہ کہ سیر سپاٹے کے شوق میں میاں صاحب نے چار سال تک کوئی وزیر خارجہ ہی نہ رکھا۔وہ خود تو خوب دنیا گھومے۔ جہاں ضرورت نہ بھی ہوتی محترم میاں صاحب وہاں بھی پہنچ جاتے مگر افسوس کہ اتنے زیادہ بیرونی ممالک کے دوروں کے باوجود وہ اپنی سفارتکاری کی کامیابی کہیں بھی نہ دکھا سکے اور نتیجتاً آج ملکی سلامتی سخت خطرے میں نظر آرہی ہے۔وزیر خارجہ نہ ہونے کی وجہ سے ملک کو سخت نقصان پہنچا جس کی تائید آرمی چیف نے بھی اپنے ایک بیان میں کی ہے۔میاں صاحب کی حکمرانی کا دوسرا نقصان انکی بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی سے ذاتی دوستی تھی۔نریندرا مودی پاکستان کی جڑیں کاٹتا رہا یہاں سخت جوابی رد عمل کی ضرورت تھی مگر میاں صاحب خاموشی سے دوستی نبھاتے رہے۔ نریندرا مودی نے مشرقی پاکستان توڑنے اور پاکستان کیخلاف اپنی کارکردگی کا فخریہ طور پر اعلان کیا۔ پاکستان کو یہ مسئلہ فوری طور پر اقوام متحدہ میں اٹھانا چاہیے تھا مگر زمیں جنبد نہ جنبد میاں صاحب۔مودی افغانستان کی وساطت سے بلوچستان ، کراچی اور فاٹا میں دہشتگردی کراتا رہا ۔یہاں تک کہ2016میں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ دہلی کی دیوار پر کھڑے ہو کر بلوچستان آزاد کرانے کی دھمکی دی مگر میاں صاحب نے کسی قسم کا رد عمل دینا مناسب ہی نہ سمجھا۔ بلوچستان میں دہشت گردی کرانے والا بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو پکڑا گیا۔قوم کو امید تھی کہ میاں صاحب اقوام متحدہ، اقوام عالم اور بھارت کے ساتھ یہ کیس سنجیدگی سے اٹھائیں گے کیونکہ یہ ہماری قومی سلامتی کا معاملہ تھا مگر میاں صاحب نے کلبھوشن کا نام لینا تک گوارنہ کیا۔ یہاں تک کہ بھارت یہ کیس عالمی عدالت میں لے گیا اور ابتدائی فیصلہ اپنے حق میں کرا لیا مگر میاں صاحب کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔مودی نے سندھ طاس معاہدہ کی دھجیاں اڑا دیں۔ پاکستان کے حصے کا پانی روک لیا۔ہمارے حصے کے دو دریا چناب اور جہلم مکمل طور پر خشک ہو گئے ۔دریائے سندھ پر غیر قانونی طور پر تعمیر کئے جانیوالے دو بڑے ڈیم تکمیل کے آخری مرا حل میں ہیں۔ انکی تکمیل کے بعد دریائے سندھ کا پانی بھی ہمیں نہیں ملے گا۔
جب سے نریندرا مودی سرکار اقتدار میں آئی ہے یہ مسز اندرا گاندھی کے نقش قدم پر چل رہا ہے۔اندرا گاندھی کی طرح تاریخ ساز شخصیت بننا چا ہتا ہے۔ یہ صرف پاکستان کو نقصان ہی نہیں پہنچانا چاہتا بلکہ پاکستان کو توڑنا چاہتا ہے۔اقتدار سنبھالتے ہی مودی نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کا فیصلہ کیا۔اجیت دول کی سربراہی میں ایک تین نکاتی پالیسی ترتیب دی گئی۔ پہلے قدم کے طور پر پاکستان میں دہشتگردی کو فروغ دینا تھا۔ جس کےلئے افغانستان میں ٹریننگ کیمپ کھولے گئے ۔بلوچستان کے اندر دہشتگردی کی کاروائیوں کو منظم کرنے کےلئے کلبھوشن جیسے جاسوس بھیجے گئے اور بلوچستان میں دہشتگردی کے ہولناک واقعات رونما ہوئے۔ کلبھوشن توپکڑا گیا اور اب یہ واقعات افغانستان سے بلا واسطہ طور پر ما نیٹر ہو رہے ہیں۔ دوسرا نکتہ یہ تھا کہ دہشتگردی میں پولیس اور فوج کو خصوصی نشانہ بنایا جائے تا کہ علاقے میں مایوسی پھیلے اور علاقہ عدم استحکام کا شکار ہو۔ اس مرحلے میں سی پیک پر کام کرنے والے مزدوروں اور چینیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تا کہ سی پیک کی تعمیر روکی جا سکے۔ یہ دہشتگردی اکا دکا شکل میں آج بھی جاری ہے اور تیسرے مر حلے میں بلوچستان کو (خدانخواستہ) بنگلہ دیش کی طرح پاکستان سے الگ کرنا تھا۔ اس مقصد کےلئے بھارتی ٹی وی اور ریڈیو پر بلوچی پروگرام شروع کئے گئے۔ بلوچستان کے بھاگے ہوئے باغی بلوچ سرداروں کو ”آزاد بلوچستان “ کے نام پراکٹھا کیا گیا۔ ”فرینڈز آف آزاد بلوچستان“ کے نام سے انکی تنظیم قائم کی گئی۔ بلوچستان سے ہمدردی رکھنے والے امریکی سینٹرز، یورپی سیاستدان اور سر کردہ اہل عقل و دانش نے بھارتی سر پرستی کے تحت انکی مدد کرنا قبول کی۔ ان کےلئے ایک خصوصی پروپیگنڈا یونٹ کھولی گئی جو بہت سر گرمی سے کام کررہی ہے۔
اس دوران مودی نے دو اہم اعلان بھی کئے۔پہلے اعلان میں مودی نے پاکستان کو تنہا اور دہشتگرد ملک قرار دلوانے کا کہا اور دوسرے اعلان میں پاکستان کو وارننگ دی کہ اگر اس نے کشمیر میں درِ اندازی بند نہ کی تو اسے بلوچستان سے ہاتھ دھونے پڑینگے۔ اس وقت سے اب تک مودی بہت جوش و خروش سے اپنی دی ہوئی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ہر بین الاقوامی فورم پر مودی نے ڈٹ کر پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کی اور پاکستان کو دہشتگرد ملک قرار دیکر اس سے تعلقات ختم کرنے پر زور دیا۔مودی نے اس تندہی سے پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کی کہ بالآخر ہمارا بہترین دوست چین بھی برکس کے مشترکہ اعلامیہ میںہمارے خلاف بیان پر دستخط کرنے پر مجبور ہو گیا ۔ یہ حقیقتاً بھارت کی بہت بڑی کامیابی ہے۔گو چین نے ہمارے وزیر خارجہ کو پرانی پاکستان پالیسی جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے مگر زمینی حقائق کچھ اور ہی اشارے دیتے ہیں۔
پچھلے چند سالوں سے بھارت امریکہ دوستی بہت تیزی سے پروان چڑھی ہے۔ امریکہ بھارت کو فطری دوست اور سٹریٹیجک پارٹنر قرار دیتا ہے۔امریکہ اسے افغانستان اور جنوبی ایشیا میں بہت بڑا کردار سونپنا چاہتا ہے بلکہ خطے کا تھانیدار مقرر کرنا چاہتا ہے۔ دو ماہ پہلے مودی نے امریکہ کا چکر لگایا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسطرح شیشے میں اتارا کہ اس نے مودی کو جدید ترین ٹیکنالوجی والے ہتھیار دے دئیے اور پاکستان کیخلاف ہر قسم کا پروپیگنڈا قبول کیا۔ مودی کو خو ش کرنے کیلئے ٹرمپ نے پاکستان کو دہشتگردوں کا سر پرست ملک قرار دیا اور پاکستان کیخلاف کارروائی کرنے کی دھمکی دی۔ امریکہ جس کیلئے ہم اب تک نان نیٹو اتحادی اور فرنٹ لائن سٹیٹ تھے۔ جس کےلئے اتنی زیادہ قربانیاں دیں مودی نے سب پر پانی پھیر دیا۔ اگرحقیقتاً دیکھا جائے تو مودی نے پاکستان کو دنیا میں تنہا کر دیا ہے۔ اب مودی نے ہماری سلامتی پر کاری ضرب لگائی ہے۔مودی نے سوئٹزر لینڈ میں ”آزاد بلوچستان “ کی تحریک شروع کر دی ہے۔ جینوا کی سڑکیں اوربسیں پاکستان مخالف نعروں سے بھر گئی ہیں۔ پاکستان کیخلاف یہ مہم منظم انداز میں چلائی جا رہی ہے ۔
امریکہ اور بھارت مل کر سر پرستی کر رہے ہیں۔ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ کچھ عرصے میں یورپ کے کسی ملک میں ”آزاد بلوچستان“ کی حکومت قائم کی جا رہی ہے اور پھر ان کی دعوت پر کئی ممالک بلوچستان میں فوجی مداخلت کرینگے۔ مشرقی تیمور کی طرح اقوام متحدہ کی فوج بھی بھیجی جا سکتی ہے۔ امریکہ اور بھارت دونوں بلوچستان کو آزاد کرانا چاہتے ہیں تا کہ بلوچستان کی بے پناہ قیمتی معدنیات پر قبضہ کیا جا سکے۔ امریکہ کےلئے نیٹو راستہ آزاد رکھا جائے اور سی پیک کا مسئلہ ختم کیا جائے۔یاد رہے کہ بھارت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موجودہ اجلاس میں آزاد بلوچستان کے حوالے سے ایک قرارداد بھی جمع کرائی ہے جس میں انسانی حقوق کی پامالی کو بنیاد بنایا گیا ہے۔بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستان کو ٹیرر ستان اور دہشتگردی کی فیکٹری قرار دیا۔ہماری وزارتِ خارجہ اس پر بھی چپ ہے نجانے کیوں؟ان حالات کے مدِنظر پاکستان کی سلامتی سخت خطرے میں ہے ۔ موجودہ حکومت آج تک کہیں بھی سفارتی کامیابی نہیں دکھا سکی۔ دعا ہے کہ ہم اس خطرے سے نبٹ سکیں۔آمین!