بن نہ سکا انسان ۔۔!

کالم نگار  |  اصغر علی شاد
بن نہ سکا انسان ۔۔!

انڈین آرمی چیف جنرل راوت نے پچیس ستمبر کو ایک مرتبہ پھر اپنی روایتی ہرزہ سرائی کا مظاہرہ کیا اور کھلے الفاظ میں پاکستان کو جنگ کی دھمکی دی ۔ موصوف نے یہ گوہر افشانی ” India's Most Fearless “ نامی کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع کی ۔ اس موقع پر جنرل راوت کے ساتھ سابق بھارتی آرمی چیف ”دلبیر سنگھ سوہاگ“ بھی موجود تھے ۔
اس پس منظر کا جائزہ لیتے سنجیدہ حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ دہلی کے حکمرانوں کی اس روش کو ان کی بد بختی سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ کہ انھوں نے تقریباً ہر محاذ پر وطنِ عزیز کے خلاف مکروہ سازشوں کا ایک لا متناہی سلسلہ چھیڑ رکھا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے بھارتی اقلیتوں پر بھی زمین تنگ کر رکھی ہے ۔ یاد رہے کہ 27 ستمبر کو مالیگاﺅں دہشتگردی کے آخری مرکزی مجرم ”میجر رامیش اپادھیا“ کو بھی رہا کر دیا گیا اور واضح رہے کہ اس سے چند ہفتے قبل مالیگاﺅں دہشتگردی کے ایک اور بڑے مجرم” کرنل شری کانت پروہت“ کو بھی دہلی سرکار رہا کر چکی ہے ۔ علاوہ ازیں سمجھوتہ ایکسپریس دہشتگردی کے مرکزی کردار ”سوامی اسیمانند“ اور ”سادھوی پرگیہ ٹھاکر“ کو بھی رہا کیا جا چکا ہے ۔ صرف اسی بات سے نام نہاد برہمی انصاف کی شکل تمام مہذب دنیا پر واضح ہو جانی چاہیے ! دوسری جانب RSS اور BJP کے جنونی رہنماﺅں کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے آرٹیکل” 35A “ کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ سبھی جانتے ہیں کہ آرٹیکل 35A آرٹیکل 370 کا حصہ جس کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کوئی بھی ہندوستانی شہری منقولہ یا غیر منقولہ جائیدار نہیں خرید سکتا ۔ اس لئے دہلی سرکار کی کوشش اور خواہش ہے کہ مقبوضہ ریاست کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کر دیا جائے تا کہ ہندوستان سے ہندو یہاں لا کر بسائے جائیں اور مسلمان یہاں بھی اقلیت میں تبدیل ہو کر مکمل طور پر قابض بھارتیوں کے رحم و کرم پر رہ جائیں ۔ دہلی کی اس انسان دشمنی کے ضمن کسی نے خوب کہا ہے ....
رام بنا تھا ، کشن بنا تھا، بنا تھا میں بھگوان
ایک جنم یہ ایسا آیا بن نہ سکا انسان
یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ ریاست میں بے گناہ کشمیریوں کی شہادت روز مرہ کا معمول بن چکی ہے۔ اسی تناطر میںماہرین نے کہا ہے کہ پچھلے ستر برسوں سے بھارتی حکمران ہر ممکن طریقے سے پاکستان کی بابت جارحانہ روش اپنائے ہوئے ہیں۔ تبھی تو چند ماہ قبل کانگرس کے نائب صدر ”راہل گاندھی “ نے مودی کو خون کا سوداگر قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ جنوبی ایشیاءمیںبالعموم اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی بھارتیوں کی اصل موت کا ذمہ دار نریندر مودی ہے ۔ کانگرسی رہنما نے اس موقع پر کہا تھا کہ مودی نے بھارتی عوام سے ہر قسم کے جھوٹے وعدے کیے اور کہ وہ ہر طرف دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیں گےا اور شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پئیں گے ۔ مگر ساڑھے تین سال بعد جب بھارتی عوام مڑ کر دیکھتے ہیں تو انھیں محسوس ہوتا ہے کہ ” خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا “ ۔
یہاں یہ امر خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ گذشتہ روز کانگرس کے اہم رہنما اور سابق بھارتی وزیر خزانہ” چدمبرم“ نے کہاہے کہ ” بھارتی عوام یہ سوچ رہے کہ اچھے دن تو نہ آئے مگر یہ بُرے دن جانے کب جائیں گے “ ۔دوسری طرف ”انڈین ایکسپریس“ میں 27 ستمبر کو سابق بھارتی وزیر خزانہ ” یشونت سنہا “ کا ” I need to speak now “ کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہوا جس میں انھوں نے براہ راست مودی سرکار پر کڑی تنقید کرتے کہا کہ ” مجھے اب بولنا ہو گا کیونکہ بھارت معیشت انتہائی تیزی سے زوال کا شکار ہے “ ۔ یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ ان کے بیٹے ” جینت سنہا “ مودی کابینہ میں ” سول ایوی ایشن “ کے وزیر ہیں ۔
بہرکیف اس تمام تر صورتحال کے تناظر میں محض توقع ہی ظاہر کی جا سکتی ہے کہ بھارتی حکمران نہ صرف کشمیری عوام کے خلاف مظالم کا سلسلہ بند کریں گے بلکہ منی پور ، ناگالینڈ اور بھارت کے دیگر علاقوں میں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روش ترک کریں گے ۔