عالمی معاشی جنگ کے سائے

کالم نگار  |  محمد اسلم خان....چوپال
عالمی معاشی جنگ کے سائے

کیا ’معاشی جنگ عظیم‘ شروع ہونے کو ہے؟

دنیا اپنی تاریخ کے سب سے بدترین اور سنگین اقتصادی بحران سے دوچار ہونے والی ہے؟ ’اس کی وجہ نیم پاگل امریکی صدر ٹرمپ بنیں گے۔ اس تازہ واردات کیلئے شمالی کوریا کو بہانہ بنانے کیلئے زمین ہموار کی جارہی ہے بدترین مالیاتی بحران ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کو تیارہے۔ ماہرین معاشیات کو خدشہ ہے کہ یہ ایسی مالیاتی آفت ہوگی جسے دیکھ کر لوگ 2008کے بحران کو بھول جائیں گے۔ ٹرمپ نے شمالی کوریا سے کاروبار یا معاشی روابط رکھنے والے تمام ممالک سے قطع تعلق اور شمالی کوریا سے کاروبار کرنے والے تمام بینکوں پر پابندی لگانے کا اعلان کرکے نئے خدشات کو ہوا دی ہے۔ اس سنجیدہ دھمکی کے اثراتِ بد اتنے سادہ ہرگز نہیں ہوں گے۔اقتصادی غنڈہ گردی کے ’’ٹرمپ کارڈ‘ کا اثر ایشیا تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس تباہی کا زلزلہ امریکہ کو اپنی لپیٹ میں لے کر یورپ اور پوری دنیا کو تباہی کی نئی دلدل میں دھکیل سکتا ہے۔
چین اس وقت شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ شمالی کوریا کی 85 فیصد تجارت چین کے ذریعے ہوتی ہے۔ کم جونگ کی قیادت میں شمالی کوریا کے ساتھ کاروبار یا لین دین کرنے والے مالیاتی اداروں پر پابندیوں کی دھمکی دیتے ہوئے ٹرمپ بھول گئے کہ چین سے کاروبار کرنے والے چار ادارے دنیا میں سب سے بڑے ہیں، جے پی مورگن، ایچ ایس ،بی سی جو امریکہ کے کسی بھی بینک سے بڑے ہیں۔
’دی انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک‘ کے نام سے چین کا صنعت وتجارت بنک 3.47ٹریلین ڈالر کے اثاثوں کا مالک ہے۔ ’چائنا کنسٹرکشن بنک‘ کے اثاثوں کی مالیت 2.8ٹریلین ڈالر بتائی جاتی ہے۔ چین کا زرعی بنک اور بنک آف چائنا بالترتیب 2.93اور 3.02 ٹریلین ڈالر کے اثاثے رکھتے ہیں۔ یہ تمام بنک شمالی کوریا سے کاروبار میں ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کی اس فہرست میں جے پی مورگن کا نمبر چھٹا ہے اور اسکے اثاثوں کی مالیت2.49ٹریلین ڈالر بتائی جاتی ہے۔ 2.37ٹریلین ڈالر کے ساتھ ایچ ایس بی سی ساتویں نمبر پر ہے۔ دلچسپ اور حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ چین کے قرض دینے والے مالیاتی اداروں کا ’لینڈگ پول‘ یا قرض دینے کی صلاحیت پورے ’یورو زون‘ سے بھی زیادہ 33 ٹریلین ڈالر ہو چکی ہے۔
’بنک پول لون‘ قرض کی اصطلاح کا مطلب عمومی طورپر قرضوں کی نئی شکل لیا جاتا ہے۔ جیسے پانی ذخیرہ کرنے کے حوض بنائے جاتے ہیں، یہ سرمایہ بھی ایک جگہ جمع کردیاجاتا ہے جس کا مقصد کاروباری سرگرمیوں کے لے ایک بڑی حد یا مقدار تک سرمایہ کی فوری فراہمی ہوتاہے۔ امریکہ میں قائم کمپنیوں کو قرض کی فراہمی کی خاطر یورپ میں قائم کئی ایسے بنک پول قائم ہیں۔
’ٹرمپ نے اگر ’ایمانداری‘ سے یہ دھمکی دی ہے تو اس کا سیدھا سادہ مطلب دنیا کا سب سے بڑا مالیاتی بحران پیدا کرنا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر اس تباہی کا سامنا کرنا پڑا تو یہ منظر 1929 میں ’مارکیٹ کریش‘ کے مشہور واقعہ کو بھلا دے گا۔ دنیا کی یاداشت میں یہ ’وال سٹریٹ کریش1929‘، ’گریٹ کریش‘ یا ’سیاہ منگل‘ (Black Tuesday) کے نام سے اب تک محفوظ ہے۔ امریکی تاریخ میں اس سے بدترین سٹاک مارکیٹ کا جنازہ نہیں نکلا۔ اس واقعہ کے نتیجے میں لندن سٹاک ایکسچینج کا کباڑا ہوا اور پھر بارہ سال کی بدترین کساد بازاری یا معاشی ابتری کے دور کا آغاز ہوا۔ جس کے بعدجنگ عظیم دوئم 1939 سے 1945 تک جاری رہی۔ اس ’گریٹ ڈپریشن‘ کو بیسویں صدی کا سب سے بڑا مالیاتی بحران قرار دیاگیا۔ جاپان کے سوا ہر مالیاتی مارکیٹ میں حصص کی قیمتیں گری تھیں۔ اس تباہی کا ملبہ یوٹیلیٹی ہولڈنگ کمپنیوں اور کمرشل بینکوں پر ڈالاگیا۔ کئی اور پہلو بھی وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آئے۔ سازشی نظریات بھی اس تباہی کی وجوہات پر قلم بند ہوچکے ہیں۔ 1930ء میں ایک ہزار تین سو باون بنکوں کے کھاتے 85 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے زائد تھے۔ 1931 میں دو ہزار دوسو چورانوے بنک نشانہ بنے جن کے کھاتوں کی مالیت 1.7 ارب ڈالر تھی۔ امریکی بنکوں کے تجارتی روابط کے مکمل خاتمہ کی صورت میں چین امریکی تجوری میں اپنی 19ٹریلین ڈالر رقم فوری واپس نکلوائے گا امریکی تجوری سے چین ایک ٹریلین ڈالر نکلوائے تو امریکی ’قرض منڈی‘ Debt Market)کریش ہوجائیگی۔ اس کا اثر یورپی منڈی کے کریش کی صورت ہوگا جو 13 ٹریلین یورو مالیت کی حامل ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ’دیکھو اور انتظار کرو‘ کا سحر طاری ہے۔ اقتصادی ماہرین کا خدشہ ہے کہ اگر امریکی صدر نے اپنی دھمکی پر عمل درآمد کردیاتو یہ ’معاشی جنگ عظیم ‘ کا آغاز ہوجائے گا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو مستقبل میں ان کی دھمکیوں کو کوئی بھی سنجیدہ نہیں لے گا۔ ٹرمپ نے دنیا کے لئے کھائی اور شیروالی صورتحال پیدا کردی ہے۔
جنگ عظیم اول 28 جولائی1914سے 11نومبر 1918تک جاری رہی۔ زمانہ کے الٹ پھیر پر نظر رکھنے والوں کی رائے میں جب بھی دنیا میں عالمی جنگیں ہوئیں تو دنیا میں مالیاتی بحران عروج پر رہا ہے۔ اس تناظر کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشی ماہرین اس امکان کو نظرانداز نہیں کرتے کہ عالمی معاشی بحران دنیا کو کسی نئی جنگ کی آگ میں جھونکنے کی تیاری تو نہیں۔ مشرق وسطی میں بھڑکتی آگ کے شعلے سرحدوں کو پھلانگ دوسروں کے صحن میں گرنے کے خطرات تو پہلے ہی بیان ہورہے ہیں۔
چین ابھرتی ہوئی معاشی طاقت ہے، اس پر اب کوئی کلام، شک یا ابہام نہیں۔ معاشی قوت کا مرکز وال سٹریٹ سے بیجنگ منتقل ہونا کسی کو ہضم نہیں ہورہا۔ ’گراں خواب چینی‘ کیا جاگے کہ مغربی ساہوکاروںکی نیندیں ہی اڑ گئی ہیں۔ ’معاشی بے خوابی‘ کے ماروں کو ایسا بہانہ تراشنا ہے جس سے وہ ترقی وخوشحالی کے چینی خواب کو پارہ پارہ کردیں۔ تاریخ میں جاپان کی جو درگت بنی، سمجھنے کیلئے اس کا حوالہ دیکھاجاسکتا ہے۔ لیکن کیا مغربی سرمایہ خوروں کے شیطانی دماغ میں کوئی بھیانک چال جنم لے چکی ہے۔ چین اور اسکے اتحادیوں کے پیروں میں بیڑیاں ڈالنے کی چال کس حد تک کامیاب ہوسکتی ہے۔ یہ سوال چین کی قیادت اور اسکے اتحادیوں کے پیہم کردار پر منحصر ہے۔
ہزاروں برس قدیم چینی دانش کے رخ تاباں ڈنگ ژیاؤ پنگ ؒنے ایک بار کہا تھا کہ چین 2025 تک کسی جنگ میں نہیں الجھے گا اور 2050 کے بعد دنیا میں کسی کو چین کی جانب آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت نہیں ہوگی اور یہ کہ تائیوان کو سرخ فوج کے سپاہی نہیں' چینی سیاح فتح کریں گے 'ڈنگ' تو چلا گیا لیکن چین نے تمام اہداف قبل از وقت حاصل کرلیے۔ گزشتہ ماہ ختم ہونے والی 19 ویں پیپلز کانگریس کے موقع پر اعلان فتح کیا گیا کہ چین سے غربت ختم ہو چکی ہے جس کا باضابطہ اعلان 2020 میں مستند اعدادوشمار جاری کرکے کیا جائیگا
مسافر بردار ہوائی جہاز اور طیارہ بردار بحری بیڑے آزمائشی مراحل سے گذر رہے ہیں امریکہ فرانس اور روس کی اجارہ داری ختم ہو چکی صدر شی پنگ چیئرمین ماؤ کے نظریاتی جانشین بن کر رشوت کے خلاف انقلاب کی بنیاد رکھ چکے ہیں جس کے مشاہدات 8 دن ہم کرتے رہے۔
حرف آخر یہ کہ حکیم عبدالوحید سلیمانی گذشتہ دنوں سفر آخرت کو روانہ ہوئے’’ موتَ العالمِ موتُ العالَم‘‘ مرحوم حقیقی معنوں میں عالم بے بدل تھے ،وہ پبلشر تھے مفسر تھے رہبر تھے مفکر تھے اپنی ذات میں انجمن تھے بڑے اداروں جتنا کام تن تنہا خاموشی سے کر گئے۔ انہوں نے اپنے عظیم المرتبت والد حکیم عبداللہ کے چھوڑے روشن نقوش پر ساری زندگی قدم بہ قدم چل کر دکھایا' حکیم عبداللہ طب کی دنیا میں انقلاب لائے اور صدیوں قدیم خاندانی نسخوں کو مفاد عام کیلئے شائع کرا دیا۔ عبدالوحید سلیمانی کوجماعت اسلامی کی قیادت سے فکری اختلاف ہوا تو صاحب 'محسنِ انسانیت' کے ساتھ مل کر تحریک اسلامی کی بنیاد رکھی لیکن خوش اسلوبی سماجی تعلقات کو نبھایا۔ انکے صاحبزادے پروفیسر طلحہ سلیمانی بتا رہے تھے کہ دوران وضو لمحوں میں خالق حقیقی سے جا ملے۔ روڈہ' بھارت سے شروع ہونے والا سفر جہانیاں پر تمام ہوا یوں بے چین روح کو قرار آگیا۔