مشرف کا ساتھ دینے والے بھی مستوجبِ احتساب

پاکستان میں آج غدرکی سی حالت ہے۔ڈرون پہ ڈرون برس رہا ہے۔پورا ملک دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے ۔کراچی بدامنی کی آگ میں بری طرح جل رہا ہے ۔فرقہ ورایت کا جن قابو میں نہیں آرہا۔ بلوچستان کو علیحدگی پسندوں نے آگ کا گولا بنا دیا ہے۔جہاں مسلم لیگ کی اکثریت تھی۔پارٹی سے وزیر اعلیٰ کے دو امیدوار سامنے آئے تو کسی ایک کو ناراض کرنے کے بجائے حکومت کی باگ ڈور قوم پرستوں کے حوالے کردی گئی اور گورنر شپ پختون خوا ہ ملی پارٹی کو پیش کردی ۔گورنر اوروزیر اعلیٰ بلوچستان ہی صوبے کے امن کو برباد کرنے میں معاون بن رہے ہیں۔ گورنر محمد خان اچکزئی نے ایک موقع پر کہا کہ بلوچستان میں لوگ اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے۔ لاپتہ افراد کے حوالے سے وزیر اعلیٰ عبدالمالک بلوچ اپنی بے بسی کا اظہار کرچکے ہیں۔پنجاب کا امن بھی سوالیہ نشان بن چکا ہے ۔ملک کا کونسا حصہ لاقانونیت سے محفوظ ہے؟فرقہ ورایت عفریت کی طرح ہر سو عذاب بنی ہوئی ہے ۔راولپنڈی میں یوم عاشورہ پر انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے پورے ملک کا امن متاثر ہوا ۔اُ دھر طالبان نے حکیم اللہ محسود کے ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد عسکری اور سیاسی قیادت پر حملوں کی دھمکی دی اور پنجاب کو میدان جنگ بنانے کا اعلان کردیا۔ عوام نے پیپلزپارٹی کی کرپشن اور عوام دشمن پالیسیوں سے بیزار ہو کر نواز لیگ کو مینڈیٹ دیالیکن حالات پر نواز لیگ کی گرفت کمزور ہوتی جارہی ہے۔لاقانونیت ، دہشتگردی اور فرقہ ورایت کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں بھی عوام کی برداشت سے بڑھ کر اضافہ ہوا۔لوگ بدترین حالات میں اپنے ہاتھوں کو کاٹ رہے ہیں۔ایسے میں حکمرانوں کو حالات میں بہتری لانے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاکر عوام کو ممکنہ حد تک ریلیف دینے کی کوشش کرنی چاہیئے تھی لیکن ایسا کچھ بھی ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ۔ انکی نااہلیت چار پانچ ماہ میں ہی کھل کر عوام کے سامنے آچکی ہے۔ایسے میں حکمرانوں نے سابق صدر پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف کیخلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت غداری کے مقدمے کی کارروائی شروع کردی۔یہ ایک ایسا پنڈورہ بوکس ہے جو کھلا تو اس کو سمیٹنا ممکن نہیں ہوگا۔ کیا مشرف کیخلاف اس کیس سے عوامی مسائل حل ہوجائیں گے؟
ایک لمحے کیلئے ذرا غیر جانبداری سے مشرف دور کا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے موجودہ دور حکومت سے موازنہ کریں تو مشرف کا دور ہر حوالے سے بہتر دور تھا ۔ ترقیاتی کام ہورہے تھے۔1997ء میں ڈالر 68 روپے کا ہو چکا تھا ۔ مشرف کے نو سالہ دور میں 62 روپے پر مستحکم رہا۔ مہنگائی کا جن بوتل میں بند رہا۔ پٹرول کی قیمت 54روپے سے اوپر نہ گئی۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے برابر تھی۔ گیس کی لوڈشیڈنگ کا تصور بھی نہیں تھا ۔ سی این جی کی فراہمی میں کبھی ناغہ نہیں ہوا تھا۔مشرف کے بعد حالات بد سے بدتر ہوئے اور آج بد ترین ہیں۔نواز شریف کو شاید ہر بحران کا حل مشرف پر 3 نومبرکی ایمرجنسی کو لے کرغداری کا مقدمہ شروع کرنے میں نظر آیا ہے۔اس حوالے سے جو تیزی دکھائی جارہی ہے اسکے حکمرانوں کے سابق صدر سے تعصب کا واضح اظہار ہوتا ہے۔ ایف آئی اے کی ٹیم کی رپورٹ وزیر داخلہ کو شائد رات کو نیند کے دوران میں ملی اور اگلے روز جاگتے ہی پریس کانفرنس کرنے بیٹھ گئے۔سپریم کورٹ کو خصوصی عدالت کی تشکیل کا خط شاید پریس کانفرس سے قبل ہی لکھ دیا گیا تھا۔ اگلے ایک دو روز میں عدالت تشکیل پا گئی جس پر اٹارنی جنرل تک اثر انداز ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ادھر خصوصی عدالت تشکیل پائی ادھر انہوں نے میڈیا کو یہ بتانا ضروری سمجھا کہ’’ سابق فوجی صدر پرو یز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے میں حکومت کے پاس اتنے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ انہیںسزائے موت یا عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے غداری کیس کی یہی دو سزائیں ہیں۔ دیکھا جائے تو پرویز مشرف کیخلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں، یہ طویل معاملہ نہیں ہے اس لئے کیس کا فیصلہ جلد کرنا پڑے گا۔‘‘اٹارنی جنرل نے اپنی طرف سے مشرف کو مجرم قرار دے کر ان کیلئے سزا بھی تجویز کردی۔
میں مشرف دور میں پنجاب کابینہ میں وزیر قانون تھا۔ 2002ء میں انتخابات کے نتیجے میں جمہوری حکومت بنی تو ہم لوگ سبکدوش ہوگئے۔ اسکے بعد جنرل مشرف سے کبھی رابطہ نہیں رہاحالانکہ وہ اسکے بعدچھ سال اقتدار میں رہے۔آج وہ تنہا کھڑے ہیں ۔ انکے ہزاروں لوگوں پر احسانات ہیں۔ مشرف کی ایک جنبش قلم سے کتنے وزیر، مشیر، سفیر،گورنر ز، وزرائے اعلیٰ ، اٹارنی جنرل اور بڑے عہدیداربنے۔اب ہر کوئی ان سے دور بھاگ رہا ہے۔اس وقت کے میاں مٹھو آج طوطا چشم بن کر کہہ رہے ہیں،فیصلے مشرف نے تنہا کئے وہی ذمہ دار ہیں ان کا ہی ٹرائل کیا جائے۔ان کا رویہ انتہائی شرمناک ہے۔ میں مشرف کا مختصر عرصہ کیلئے وزیر رہا ، میں خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں۔ جن لوگوں نے جنرل مشرف کی 12اکتوبر1999ء کو ٹیک اوور کرنے میں ساتھ دیا، انکے اقدام کو ویلیڈیٹ کیا اور آئین میں ترمیم کر کے تحفظ فراہم کیا۔ اس کے بعد 3نومبر کے ایمرجنسی کے نفاذ کے اقدام میں معاونت کی،اگر یہ سب کچھ آئین اور قانون کے خلاف تھا تو اس میں مشرف کا ساتھ دینے والے بھی پوری طرح شامل ہیں۔ اب یہ مشرف سے تو دور بھاگ رہے ہیں لیکن قانون سے راہ فرار اختیار نہیں کر سکتے ۔ایک ایک کو پکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے، چاہے آدھی سے زیادہ ہی پارلیمنٹ اسکی زد میں آتی ہواور یقینا آئیگی اس حوالے سے گزشتہ روز26 نومبر کو لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی منظور کردہ قرار دار یقینا وقت کی آواز ہے جس میں کہا گیا ہے پرویز مشرف اور ان کا ساتھ دینے والوں کے خلاف بھی آرٹیکل6 کے تحت کارروائی کی جائے ۔ جنرل ہائوس اجلاس عابد ساقی صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ احسان وائیں ایڈووکیٹ کی پیش کردہ قرارداد پر غوروخوض کیلئے طلب کیا گیا۔ یم بلیغ الزمان چودھری سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے رائے شماری کیلئے قرارداد ہائوس کے سامنے پیش کی جسے بھاری اکثریت سے منظور کر لیا گیا صرف دو ممبران نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ قرارداد کے متن کے مطابق لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملک میں جمہوریت اور جمہوری روایات کو فروغ دینے ، آمریت اور آمرانہ نظام کی مزاحمت کی قابل فخر روایت رکھتی ہے۔ موجودہ حکومت کی جانب سے جنرل (ر) مشرف کے یک شخصی ٹرائل کے فیصلہ پر وکلاء برادری میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ ٹرائل آئین اور قانون کے منشا کے صریحاً خلاف ہے۔ کیونکہ آئین کے آرٹیکل 6(2)کے مطابق ہر وہ شخص جو مدد فراہم کرے اس میں شامل ہو یا شریک جرم ہو، فوجی مداخلت کی کسی طور پر توثیق کرے، آرٹیکل 6(2)کے دائرے میں آتا ہے۔ یہ ہائوس مطالبہ کرتا ہے کہ 12 اکتوبر 1999ء کے شب خون کو آئین شکنی کا نقطہ آغاز سمجھا جائے۔ لہٰذا 3 نومبرکی بجائے12 اکتوبر 1999ء کے واقعہ میں ملوث جنرل پرویز مشرف اور ان کے ساتھیوں،جنہوں نے 12 اکتوبر 1999ء کے اقدام کو تحفظ فراہم کیا اور آمرانہ دور کو دوام بخشا۔ ان کا آرٹیکل (6)کے تحت جنرل مشرف کے ساتھ منصفانہ اور شفاف ٹرائل کیا جائے۔