امریکہ۔ ایران معاہدہ اور پاکستان

ایران اس خطے کا ہی نہیں بلکہ دنیا کے چند اہم ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ یہ ملک دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک تہذیب کا مسکن ہے۔ آج سے 4800 سال قبل اس ملک میں Elamite کی بادشاہت قائم ہوئی۔ اس کے بعد آج سے تقریباً 2600 سال پہلے ایران دنیا کی سب سے بڑی ریاست بن گیا۔ 651 عیسوی میں جب اس سلطنت کو مسلمانوں نے فتح کیا تو یہ مسلم دنیا کا درخشاں ستارہ بن کر ابھرا۔ ایران کے مشرق میں پاکستان، افغانستان، شمال میں ترکمانستان اور سمندر، مغرب و شمال مغرب میں عراق، شام اور ترکی واقع ہیں۔ 1953ء میں امریکہ نے ایران کی جمہوری حکومت کے وزیراعظم کا تختہ الٹ کر رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت کی بنیاد رکھی جس نے امریکی مدد سے تقریباً 25 سال ایران  پر بلاشرکت غیرے حکومت کی۔ 1979ء میں امام خمینی کی قیادت میں ایران میں انقلاب آیا اور اس کے بعد ایران میں باقاعدگی سے انتخابات منعقد ہوتے رہے اور لوگوں کے ووٹوں سے ملک کے صدور منتخب ہوتے رہے۔ اب چند ماہ پہلے حسن روحانی ایران کے صدر منتخب ہوئے ہیں جو نہایت عقلمندی سے ایران کو بین الاقوامی تنہائی سے نکالنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ایران آبادی کے لحاظ سے دنیا کا اٹھارواں اور مشرق وسطیٰ کا دوسرا بڑا ملک ہے جس کی آبادی 8 کروڑ کے قریب ہے۔
شہنشاہ ایران کے دورمیں ایران امریکہ کی ہر طرح کی مکمل سپورٹ کے ساتھ خطے کا ہر لحاظ سے ایک مضبوط ترین ملک تھا۔ یہی وہ وقت تھا جب امریکہ کی مدد سے ایران کا ایٹمی پروگرام شروع ہوا جو 1979ء خمینی کے وقت بند کر دیا گیا۔ گیس اور تیل کی دولت سے مالامال اور جدید ترین امریکی عسکری ٹیکنالوجی سے لیس ایران خطے کے سارے ممالک پر حاوی تھا۔ امام خمینی نے نہ صرف ایران سے امریکی اثر و رسوخ مکمل ختم کر ایا بلکہ امریکی صدر جمی کارٹر کے عہد حکومت میں 52 امریکی سفارتکاروں کو 444 دن یرغمال بھی بنائے رکھا۔ ساتھ ہی شام، لبنان اور حزب اللہ کے ساتھ ایرانی تعاون کی بدولت اسرائیل بھی ایران سے خائف تھا اور امریکہ ایران کا دشمن نمبر 1 بن گیا۔ امریکی حوصلہ افزائی سے اسرائیل نے ایٹمی ہتھیار تیار کرنا شروع کئے تو ایران نے بھی یورینیم کی افزودگی کا کام دوبارہ شروع کر دیا۔ عراق کے صدر صدام حسین کی مدد کرتے ہوئے امریکہ نے ایران عراق جنگ کو بھی کھول دیا جس سے دونوں مسلمان ممالک تباہ ہوتے رہے۔ فائدہ امریکہ اور اسرائیل کو ہوا۔ پھر امریکہ نے یہ کہہ کر ایران پر پابندیاں لگا دیں کہ یہ ملک ایٹم بم بنا رہا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ میں موجود یہودی لابی بھی اس پراپیگنڈے کے پیچھے تھی۔ ایران کا موقف یہ تھا کہ یورینیم کی افزودگی سے ایران پرامن مقاصد کے لئے ایٹمی توانائی کے حصول کا متمنی ہے اور وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا بلکہ صدر خامنی نے تو ایک دفعہ ایٹمی ہتھیاروں کو ایران کے لئے حرام قرار دیا لیکن پھر بھی امریکہ اور خصوصاً اسرائیل اس سے مطمئن نہ ہوئے بلکہ پاکستان پر بھی ایران کی مدد کرنے کے الزامات تھے۔ اسرائیل کا خیال تھا کہ امریکہ ایران پر حملہ کرکے ایٹمی تنصیبات  تباہ کر دے یا اسرائیل کو ایسا کرنے کی اجازت دے۔ افغان اور عراق جنگوں کا ڈسا ہوا امریکہ اسرائیل کے بہکانے پر ایران یا شام پر حملہ آور ہونے کے لئے تیار نہ ہوا جس سے اسرائیل ناراض ہے اور وہ یہ کہہ رہا ہے کہ امریکہ ایران حالیہ جنیوا معاہدہ امریکہ کی ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے آگے ایران کے ایٹمی ہتھیاروں سے نجات سے بھی زیادہ اس خطے میں ایران سے دوستی اپنے معاشی، سکیورٹی، سفارتی اور سٹریٹجک مفاد میں لگتی ہے۔ اس لئے گارڈین اخبار کے مطابق جب جنیوا میں پانچ پلس ون ممالک کے وزرائے خارجہ سر جوڑ کر معاہدے کی شقیں طے کر رہے تھے تو پسِ چلمن امریکہ ایران خفیہ سیاسی مذاکرات بھی ہو رہے تھے۔ ان مذاکرات کی کامیابی کے بعد جنیوا والی ٹیم کو معاہدے پر دستخط کرنے کا اشارہ دیا گیا۔ اس چھ ماہ کے لئے عبوری معاہدے سے ایران کو یقینا معاشی فوائد ہوں گے۔ پرامن مقاصد کے لئے یورینیم کی 5فیصد افزودگی کی اجازت بھی ہو گی۔ امریکہ میں ان کے منجمد اکائونٹ میں سے تقریباً 7 ارب ڈالرز ایران کو فوراً مل جائیں گے بلکہ مل بھی گئے ہیں۔ ایران تیل برآمد کرکے سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالرز کمائے گا۔ بے روزگاری کم ہو گی۔ ایران کی کرنسی فوراً 3 فیصد مضبوط ہو گئی ہے۔ دنیا میں تیل کی قیمت میں ایرانی تیل کی وجہ سے کمی آ سکتی ہے۔ پاکستان، ایران گیس پائپ لائن پر نہ صرف چین اور روس سرمایہ کاری کرنے پر رضامند ہو جائیں گے بلکہ یہ پائپ لائن  بھارت اور چین تک بھی جا سکتی ہے۔ امریکہ افغانستان میں امن کے لئے ایرانی تعاون حاصل کر سکے گا بلکہ پاکستان سے ٹرانزٹ کی سہولت میں رکاوٹ سے ایران کی چاہ بہار کی بندرگاہ NATO کے انخلا کیلئے استعمال ہو سکتی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خطرات ٹل سکتے ہیں چونکہ ایران کی مدد سے امریکہ شام کے ساتھ بھی معاملات طے کر سکتا ہے۔ حکمت اور بصیرت مومن کی میراث ہے۔ ہمارے پیارے نبی نے صلح حدیبیہ پر دستخط کئے تھے اور پھر مکہ فتح کرلیا۔ پاکستان کے لئے بھی امریکہ ایران معاہدے میں اہم اسباق ہیں بد قسمتی سے ہمارے کچھ سیاستدانوں کو اس بات کا ادراک نہیں کہ امریکہ کے ساتھ ہمارا سب سے سنجیدہ مسئلہ ڈرون نہیں بلکہ باہمی اعتماد کا شدید فقدان ہے اور یہ فقدان امریکہ کے ساتھ ٹکرائو سے نہیں بلکہ اعلیٰ سیاسی بصیرت اور سنجیدہ سفارتی مذاکرات سے ہی حل ہوگا ۔قومی سلامتی کو درپیش سنگین خطرات کا ازالہ جذباتی نعروں، دھرنوں اور غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نہیں بلکہ مدبرانہ حکمت عملی کے سائے میں بہترین سفارت کاری اور قابل رشک اندرونی یکجہتی سے ہوگا۔ گیارہ سالہ افغان جنگ میں شکست کھانے کے بعد لگتا ہے امریکہ نے اب یہ سبق سیکھ لیا ہے کہ خارجہ پالیسی کے اہداف  فوج کشی سے حاصل نہیں کیے جاسکتے یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے زبردست دبائو کے باوجود امریکہ شام پر حملہ آور ہوا نہ ایران پر۔ پاکستان کا مفاد بھی اسی میں ہے کہ سانپ تو ضرور مر جائے لیکن لاٹھی بھی ٹوٹنے سے بچ جائے۔ موجودہ حالات میں ڈرون کے خلاف ہمارا زبردست احتجاج اور پُر زور مذمت تو بہت ضروری ہے اور یہ کام وزیراعظم نے اقوام متحدہ اور واشنگٹن میں ڈنکے کی چوٹ پر کیا بھی ہے تاہم مسئلہ امریکہ ایران جنیوا معاہدے کی طرح سفارتی میز پر ہی حل ہوگا اور یہی ہمیں سوٹ بھی کرتا ہے۔ بد قسمتی سے اس وقت مسلم دنیا میں کوئی ایسا چوٹی کا قائد نہیں جو 57مسلمان ممالک کے 150کروڑ مسلمانوں کی قیادت کرسکے۔ میاں نواز شریف اس موقع پر پہل کریں اور ایرانی صدر اور سعودی فرمانروا کی ملاقات کروا کر ان کی باہمی غلط فہمیاں دور کروادیںیہ ممکن ہے اس سے فرقہ واریت کو ہوا دینے والی مسلمان مخالف قوتوں کو منہ کی کھانی پڑے گی۔شام کی خانہ جنگی بھی روکی جاسکتی ہے۔ مسلمان ممالک کی باہمی یگانگت کیلئے مال و زر نہیں چاہئے صرف قلندروں کی طرح اللہ کے دین پر چلنا کافی ہے۔