بھارتی صدارت اور تہہ در تہہ سازشیں

کالم نگار  |  اصغر علی شاد
بھارتی صدارت اور تہہ در تہہ سازشیں

اس امر سے سبھی آگاہ ہیں کہ بھارت میں ہر آنے والے دن کے ساتھ ہر شعبے میں ہندو جنونی اپنے پنجے نہ صرف گاڑ چکے ہیں بلکہ اپنی اس گرفت کو ہر طرح سے مضبوط کر رہے ہیں ۔ اور لگتا ہے کہ ہندوستان کا نام نہاد سیکولر ازم آنے والے کچھ عرصے میں پوری طرح سے قصہ پارینہ بن جائے گا ۔
اسی سلسلے کی تازہ ترین کڑی کے طور پر RSS نے ہندوستان کی صدارت اور نائب صدارت جیسے اہم ترین مناصب پر بھی قبضہ کر لیا ہے ۔ ہندوستانی صدارت جیسی مسند پر 71سالہ ’’ رام ناتھ کوِند ‘‘ فائز ہو چکے ہیں ۔ نائب صدر ہند کے طور پر کٹر ذہنیت کے مالک RSS کے ونکیا نائیڈو براجمان ہو چکے ہیں ۔ یاد رہے کہ ’’رام ناتھ کوِند‘‘ ذہنی طور پر RSS کے ا نتہائی قریب ہیںاور خود کو پیدائشی رام سیوک مانتے ہیں اور اس امر کا کھلے عام فخریہ اظہار کرتے ہیں کہ ان کا مقصد حیات رام راجیے اور اکھنڈ بھارت کا قیام ہے ۔ ان کی ہر ممکن سعی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ’’ ڈاکٹر کیشو بلرام ہیگواڑ ‘‘ ( RSS کا بانی) کے پوری دنیا پر ہندو راج کے سپنے کو عملی جامہ پہنا پائیں ۔
دوسری جانب’’ ونکیا نائیڈو‘‘ کو بھارت کا نائب صدر بنایا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ چند روز قبل تک وزیر اطلاعات و نشریات کے علاوہ ’’اربن ڈیولپمنٹ ‘‘ کے وزیر تھے ۔ علاوہ ازیں موصوف 2002 سے 2004 تک بی جے پی کے صدر بھی رہے ۔
باخبر حلقوں نے انکشاف کیا ہے کہ نائیڈو ان پارٹی لیڈروں میں شامل تھے جنھوں نے گجرات کی نسل کشی کے بعد مودی کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کی مخالفت کی تھی ۔ مزید یہ ہے کہ لوک سبھا الیکشن سے پہلے مودی کو آگے بڑھانے کی مہم میں بھی نائیڈو نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا ۔
اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ ونکیا نائیڈو کو نائب صدر کا الیکشن لڑنے کے لئے بی جے پی نے جو ٹکٹ دیا ہے ، اس سے موہن بھاگوت کا یہ خواب پوراہو گیا ہے کہ بھارت کے تمام کلیدی عہدوں پر آر ایس ایس کے کارندے متعین ہو جائیں ۔ نائیڈو کا انتخاب اس اعتبار سے اہم ہے کہ جن لوگوں کو میدان میں اتارنے کی بات ہو رہی ہے ان میں نجمہ ہیبت اللہ بھی شامل تھیں مگر اس کے نظریات سے درکنار انھیں صرف اس وجہ سے رد کر گیا کیونکہ وہ نہ صرف مسلمان ہیں بلکہ ’’ابوالکلام آزاد‘‘ کی نواسی بھی ہیں۔ مگر بھلے ہی کوئی مسلمان شخصیت بھارت نوازی میں شاہ سے بڑھ کر شاہ کی وفادار ثابت ہو ، مگر اس کامسلمان ہونا ایسا منفی پہلو ہے جو BJP اور RSS کے لئے قطعاً ناقابلِ قبول ہے ۔
یاد رہے کہ ’’ موہن بھاگوت ‘‘ کئی مرتبہ کھلے عام اس موقف کا اظہار کر چکے ہیں کہ 2025 یعنی RSS کے قیام کے سو سال پورے ہونے سے پہلے پورے بھارت پر RSS کی بلا شرکت غیرے حکومت ہو گی اور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو اگر بھارت میں رہنا ہے تو انھیں RSS کے نظریات کو قبول کرتے ہوئے اپنی زندگی گزارنا ہو گی ۔
RSS اور BJP کے جنونی ہندوئوں کا یہ موقف بذاتِ خود ہندوستان کے سیکولر ازم پر ایسا طمانچہ ہے جس پر شاید مزید کچھ نہ کہنا ہی بہتر تبصرہ ہو گا !
گذشتہ روز یعنی اپنے ایک فیصلے میں مدراس ہائی کورٹ کی جانب سے حکم جاری کیا گیا کہ بھارت کے تمام تعلیمی اداروں میں ’’بندے ماترم‘‘ کو نصاب کا حصہ بنایا جائے اور ہفتے میں کم از کم ایک بار اس کو پڑھا جائے جبکہ تمام سرکاری و نجی اداروں میں بھی مہینے میں لازمی ایک بار اسے گایا جائے ۔ مبصرین کے مطابق بھارت میں بڑھ رہی ہندو انتہا پسندی دنیا بھر کے انسان دوست حلقوں کے لئے انتہائی تشویش کا باعث ہے ۔ ایمسنٹی انٹر نیشنل کی رپورٹ کے مطابق اپریل 2017 سے جون 2017 تک یعنی محض تین ماہ کی مدت میں بھارت میں نو ایسے واقعات پیش آئے جن میں بے گناہ مسلمانوں کو بیف کھانے کے الزام میں پیٹ کر قتل کر دیا گیا ۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر اس شدت پسندی پر بر وقت قابو نہ پایا گیا تو اس کے نتائج بھارت کو ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیاء کو ناقابلِ تصور حد تک نقصان پہنچائیں گے اور بھارت بد ترین خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گا ۔
اسی پس منظر میں ماہرین نے کہا ہے کہ ہندوستانی حکمرانوں کی وطن عزیز کے خلاف سازشوں کا وطیرہ کوئی نئی بات نہیں اور یہ کسی نہ کسی شکل میں گذشتہ ستر برسوں سے جاری ہیں ۔ جس میں ایک طرف نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم ڈھانا سکہ رائج الوقت بن چکا ہے تو اسی کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بالعموم اور بلوچستان میں خاص طور پر بھارتی ریشہ دوانیوں کا سلسلہ خطرناک حد تک بڑھاہے ۔ صرف دو ہفتوں کے دوران پولیس اور سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ افسر ’’را ‘‘ کی دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ گئے ۔ اس کے علاوہ مٹھی بھر نام نہاد بلوچ قوم پرستوں نے ر ا کے ایما پر چودہ اگست کو پاکستان کے یومِ آزادی کی اہمیت گھٹانے کے لئے گیارہ اگست کو ’’ بلوچ ڈے ‘‘ ، 26 اگست کو ’’ اکبر بگٹی ڈے ‘‘ اور 30 اگست کو ’’ لاپتا افراد کا دن ‘‘ منانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ سی پیک کے خلاف بھی ہر قسم کا زہر اگلا جا رہا ہے۔
اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف سازشوں کی بھارت کی ایک لمبی تاریخ ہے ۔ جس کا ثبوت اس امر سے ملتا ہے کہ گذشتہ برس یعنی 15 اگست 2016 کو بھارتی یومِ آزادی کے موقع پر مودی نے لال قلعے سے خطاب کرتے ہوئے واضح الفاظ میں اس امر کا اظہار کیا کہ دہلی سرکار پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے کسی بھی حد تک جائے گی ۔ اس بابت ایک جانب موصوف نے ’’ برہمداغ بگٹی ‘‘ جیسے نام نہاد بلوچ رہنمائوں کے بارے میں قصیدہ گوئی کرتے ہوئے زمین آسمان کے قلابے ملا دیئے تھے اور کہا کہ وہ ان جیسے افراد کی ہر ممکن مدد کریں گے تو دوسری جانب پاکستان اور اس کے ریاستی اداروں پر ہر طرح کے جھوٹے الزامات کی بوچھاڑ کر دی تھی ۔
علاوہ ازیں کون نہیں جانتا کہ پاکستان کے خلاف بھارت کی تہہ تر تہہ سازشیں عروج پر ہیں ۔ تبھی تو کافی عرصے سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے اپنے ہیکرز کو اس کام پر لگایا ہوا ہے کہ پاکستانی دفاتر میں بکثرت استعمال ہونے والے سافٹ ویئرز کے ذریعے پاکستان کی اہم معلومات چوری کی جائیں ۔ یاد رہے کہ بھارت نے ’’سائبر قوانین ‘‘ کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے وطنِ عزیز سے متعلقہ اپنے مفادات پر مبنی یہ روش یوں تو خاصے عرصے سے روا رکھی ہوئی ہے مگر حالیہ مہینوں میں اس کی شدت اور نوعیت میں اور بھی تیزی آ گئی ہے ۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک عزیز کے سبھی حلقے اس ضمن میں دشمن کے ان ہتھ کنڈوں کو ناکام بنانے کے لئے خاطر خواہ اور موثر اقدامات اٹھائیں ۔