” جمہوریت کا لوک ورثہ “....(۱)

کالم نگار  |  مطیع اللہ جان....ازخودی

رواں سال کے دوران کئی اہم شخصیات اقتدار فانی سے کوچ کر جائیں گی۔پانچ سال سے ایوان صدر کے رہائشی جناب آصف علی زرداری ستمبر میں ،چھ سال سے فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نومبر میں،اور آٹھ سال سے شاہراہ دستور کے متولی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری دسمبر میں اپنے عہدوں سے ریٹائر ہو جائیں گے۔یہ وہ شخصیات ہیں جو کسی وقت ہمارے جمہوری نظام کی اہم ستون تھی اور جن کے متعلق افواہیں اور سازشیں دم توڑتی رہی ۔صدر آصف علی زرداری کی گذشتہ حکومت تقریبا روزانہ ٹی وی سکرینوں اور اخباری تجزیوں کے ذریعے گرائی جاتی تھی،آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی حکومت سے ناراضگی اور ان کی ریٹائرمنٹ کی خبریں یا استعفی کی توقعات مایوس کن واقعات کے باوجود منطقی انجام تک نہ پہنچی اور اسی طرح چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری دو مرتبہ عہدے سے ہٹائے جانے کے باوجود وکیلوں اور عوام کی طاقت سے دوبارہ منصب پر بحال ہوئے ۔جب یہ تینوں اقتدار کے ستون جگہ چھوڑیں گے تو کیا نظام کی چھت کے نیچے متبادل سہارا قوم کو دستیاب ہو گا وہ متبادل سہارا یا قیادت جو کسی بھی جہاں دیدہ لیڈرکا چھوڑا ہوا ورثہ ہوتی ہے؟ کیا ان شخصیات کی روانگی کے بعد جمہوری نظام ، ملکی دفاع اور انصاف کا ترازو مضبوط ہاتھوں میں ہو گا؟ ان سوالات کے جواب کے ذریعے ہم جان پائیں گے انہی شخصیات کی دور اندیشی اور کارکردگی جو آئندہ قیادت کے لیے بھی سبق آموز ہو گی ۔
یہ ایک تلخ تاریخی حقیقت ہے کہ چاہے صدر مملکت اور افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر پر کرپشن کے شرمناک الزامات کا معاملہ ہو،بہترین کمانڈر پیدا کرنے والی پاک فوج کے ادارے میں ایک نئے سپہ سالار کی عدم دستیابی کا مسئلہ ہو، عادل اعظم کے شہزادہ سلیم پر بدعنوانی کے الزامات اور پاکستانی خود مختاری کی امریکی فوج کی طرف سے خلاف ورزی، ان شخصیات نے اقتدار کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا ۔بد قسمتی سے ایسی رسمیں اور روایات قائم نہ کی جاسکی جو آئندہ قیادت کے یے مشعل راہ ہوتی۔سب سے پہلے ایوان صدر کے رہائشی سے متعلق ذہن میں سوالات اٹھتے ہیں کیا وفاق کی علامت صدر مملکت کو ایوان صدر میں حکمران جماعت کا جھنڈا لہرانا چاہیے تھا؟ کیا انہیں اپنے وزاءاعظم کو اٹھارویں آئینی ترمیم کے برخلاف اپنی پارٹی کی ڈور سے کٹھ پتلی بنانا چاہیے تھا؟ کیا انہیں بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد محترمہ کی وصیت کے پی سی او کے ذریعے پارٹی کے آئین اور جمہوری روایات کو پامال کرنا چاہیے تھا؟ اور کیا بے نظیربھٹو جیسی قومی لیڈر کے قاتلوں اور سازشیوں تک پہنچنے کے لیے پانچ سال کا عرصہ کم تھا؟ یہ وہ سوالات ہیںجن کے جواب بہت واضع ہیں اور جن کے ذریعے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ صدر زرداری ہمارے جمہوری نظام کے لیے ورثے میں کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
جناب آصف زرداری نے نئی جمہوری اقدار کی بنیاد رکھنے کا ایک اہم موقع گنوا دیا اور ایک وڈیرے کی ماند جمہوریت کو اپنی جاگیروں پر لگے ٹیوب ویل کی طرح استعمال کیا۔ انہیں یوں تو بہت ذہین اور چالاک ہونے کا کریڈٹ دیا جاتا ہے اور شائد اس سے مراد سیاسی بصیرت ہر گز نہیں جس کا اصل امتحان اب ایوان صدر کی دیواروں سے باہر شروع ہو گا۔ انتخابات میں پارٹی کی شکست کی ذمہ داری اسی طرح نہیں اٹھائی جس طرح پانچ سال کے اقتدار کے دوران اہم فیصلوں کا ذمہ نہ لیتے ہوئے اپنے وزرءاعظم کو ایوان صدر کے کالے بکروں کی طرح قربان کیا۔ اقتدار میں پانچ سالہ دور کے باوجود پارٹی کے اندر جمہوری روایات کی بیل مونڈھے نہیں چڑھی آج بھی ماں کی کوکھ سے لے کر قبرستان تک صرف بھٹو خاندان پارٹی پر راج کرتا ہے جس کی ایک عمدہ مثال ولی عہد بلاول بھٹو ہیں۔تاہم سیاسی جماعتوں پرخاندانی قبضوں کی مثال مسلم لیگ(ن) (ق) ،عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علما اسلام (ف) اور دوسری جماعتیں بھی ہیں۔ مگر کچھ جماعتیں ایسی ہیں جن کے قائدین کے خاندانی قبرستان مغل ادوار حکومت کی طرح ہماری سیاسی تاریخ کا پتہ دیتے ہیںاور جہاں کارکن دعائیں کم اور منتیں زیادہ مانگتے ہیں۔کاش کوئی گڑی خدا بخش کی جالی پر اصل جمہوریت کی منت کا تالا بھی لٹکا آئے؟
 صدر زرداری نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے وزیراعظم کے ہاتھوں میں بندھی سترہویں ترمیم کی ہتھکڑی اتار کر ان کے ہاتھوں کوقمر کی طرف جماعتی رسی سے باندھ دیا۔ کون نہیں جانتا کہ یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف جیسے وزراءاعظم کے بندھے ہاتھوں کی رسی کا دوسرا سرا ایون صدر کے اصطبل میں جاتا تھا۔صدر زرداری نے ایک بھی ایسا سیاسی قد کاٹھ والا وزیراعظم اس ملک کو نہیں دیا جسے لوگ ہزار تنقید اور اختلاف کے باوجود قومی لیڈر کہہ سکتے اختیارات کی منتقلی کے نام پر وزراءاعظم کو کٹھ پتلیوں کی طرح نچایا اور گرایا گیا اور اس پتلی تماشے کی پانچ سالہ مدت ختم ہونے کو جمہوریت کا تسلسل©©©©©©© قرار دیا گیا۔ کیا کسی جنگل کے درختوں کی شاخوں سے پانچ سال تک لٹکے رہنے کو جمہوریت کا تسلسل کہا جا سکتا ہے؟ تو یہ ہے ©تانبے کے برتنوں اور مٹی کی کٹھ پتلوں پرمبنی ہمارا جمہوری لوک ورثہ جو ایک منتخب صدر اپنی قوم کے لیے چھوڑے جا رہا ہے۔ اس سیاسی ورثے کو جمہوریت کی آنچ پر پرکھنے کا دوسرا معیار فوج پر سیاسی حکومت کے کنٹرول کی صورتحال ہے۔ بظاہر بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو جنرل مشرف کی جہاز میں سفر کے دوران برطرفی سے لے کر امریکی حکام کے نام گذشتہ حکومت کے خفیہ میمو تک کی کہا نی سے یہ نہیں لگتا کہ ہم سولین کنٹرول کی منزل تک پہنچ چکے ہیں ۔(جاری ہے)