صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کا ذمہ دار کون؟

کالم نگار  |  قیوم نظامی

پاکستان کے باشعور حلقے جمہوریت کے تسلسل اور باوقار انتقال اقتدار سے مطمئن تھے۔ پی پی پی کی جانب سے صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کے اعلان سے جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں اندیشہ ہائے دورہ دراز پیدا ہوگئے ہیں۔ پاکستان بوڑھوں کی جنت بن چکا ہے۔ بوڑھوں کے قویٰ جب مضمل ہونے لگتے ہیں ان کو ایسے کلیدی منصبوں پر فائز کردیا جاتا ہے جن پر فرائض ادا کرنے کے لیے مستحکم ذہن اور توانا قلب لازم ہوتے ہیں۔ قوم ابھی الیکشن کمشن کے پرانے عارضوں سے باہر نہیں نکلی تھی کہ ایک نئے عارضے کا شکار ہوگئی ہے۔ الیکشن کمشن کے علم میں تھا کہ آئین کے آرٹیکل 41 کی شق 4 کے مطابق ”عہدے پر فائز صدر کی میعاد ختم ہونے سے زیادہ سے زیادہ 60دن اور کم سے کم 30دن قبل کرایا جائے گا“۔[ترجمہ وزارت قانون] انگریزی متن سے بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ صدارتی مدت ختم ہونے کے تیس دن بعد بھی صدارتی انتخاب کرایا جاسکتا ہے۔الیکشن کمشن کو 6 جولائی سے 6 اگست تک الیکشن شیڈول جاری کرنا چاہیئے تھا اگر یہ شیڈول 6 جولائی کو جاری کردیا جاتا اور 30 جولائی کو انتخاب کرادیا جاتا تو کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوتا اور صدارتی اُمیدواروں کو انتخابی مہم کے لیے مناسب وقت مل جاتا۔ الیکشن کمشن نے آئینی مدت ختم ہونے کا انتظار کیا اور آخری دن یعنی 6 اگست کو صدارتی انتخاب کرانے کا اعلان کردیا۔ کمشن نے 27 رمضان، عمرہ اور اعتکاف کا خیال نہ رکھا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شہریوں کی مذہبی عبادات کا خیال رکھنا ریاستی اداروں کا آئینی فرض ہے۔ افسوس پاکستان میں آئین کی روح پر عمل نہیں کیا جاتا۔
مسلم لیگ(ن) نے مذہبی جذبے ، اپوزیشن کے اتحاد اور ووٹوں کی کمی کے خوف سے 6اگست کو صدارتی انتخاب کرانے کے لیے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔ چیف الیکشن کمشن صدارتی انتخاب میں حصہ لینے والے اُمیدواروں اور پارٹی لیڈروں کا اجلاس بلا کر مشاورت اور افہام و تفہیم سے یہ مسئلہ حل کرتا۔ آئین کا آرٹیکل 254الیکشن کمشن کو 6 اگست سے آگے جانے کا راستہ فراہم کرتا ہے ۔صدارتی انتخاب ضمنی انتخابات کے بعد بھی کرائے جاسکتے ہیں جن میں 42اراکین اسمبلی منتخب کیے جائیں گے۔ الیکشن کمشن نے اپنی آئینی ذمے داری خود پوری کرنے کی بجائے یہ بوجھ بھی سپریم کورٹ کے مصروف کندھوں پر ڈال دیا۔ وزیراعظم پاکستان اگر تدبر اور فراست کا مظاہرہ کرتے تو ذاتی طور پر صدر پاکستان آصف علی زرداری سے رابطہ کرکے نئی تاریخ پر اتفاق کرلیتے۔ صدر زرداری جو ایوان صدر میں ہر روز بکرے کی قربانی دیتے رہے ہیں مسلمانوں کے مذہبی فرائض کا لازم ادراک کرتے اور یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہوجاتا۔ حکومتی جماعت سیاسی حل تلاش کرنے کی بجائے سپریم کورٹ چلی گئی۔ ماہر قانون دان ایس ایم ظفر کے مطابق سپریم کورٹ کا فرض تھا کہ وہ اس مسئلہ کو بااختیار آئینی ادارے الیکشن کمشن کو ریفر کرتی مگر اس نے فریقین کو سنے بغیرفوری طور پر نیا شیڈول جاری کردیا اور اس طرح پی پی پی کو صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کا جواز مل گیا۔جو بظاہر تو درست نظر آتا ہے مگر اس کے کچھ خفیہ ارادے بھی ہیں۔
پی پی پی کے رہنما اعتزاز احسن سے پوچھا کہ کیا سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین سے متصادم ہے کہنے لگے سپریم کورٹ کو الیکشن شیڈول جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے اور نہ ہی عدلیہ دوسرے فریق کو سنے بغیر کوئی فیصلہ دینے کی مجاز ہے۔ پوچھا کہ آپ نے نظر ثانی کی درخواست کیوں نہیں دی انہوں نے مجھے غالب کا یہ شعر سنا دیا....
قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
اعتزا ز احسن کو بتایا کہ عوام ان کو چیف جسٹس صاحب کے مقابل دیکھ کر بڑے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ کہنے لگے ”میں نے چیف جسٹس صاحب کو بحال کرایا ہے ان کی ملازمت نہیں کی“۔ اعتزاز احسن نے ادبی ذوق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اور شعر سنا دیا....
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بے گانے بھی نا خوش
میں زہر ہلال کو کبھی کہہ نہ سکا قند
اعتزاز احسن کے خیال میں نفلی عبادات کا بہانہ بنا کر انتخابی شیڈول تبدیل نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق پی پی پی کو اپنی شکست کا یقین تھا کیونکہ ایم کیو ایم، جمعیت العلمائے اسلام اور تحریک انصاف نے پی پی پی کی حمایت اور متفقہ صدارتی اُمیدوار سامنے لانے سے انکار کردیا تھا۔ پی پی پی خوف زدہ ہے کہ صدارتی مدت کے خاتمے کے بعد پی پی پی کے رہنماﺅں کے خلاف مقدموں میں تیزی آئے گی لہذا عدلیہ کو دباﺅ میں لانے کے لیے انتخابی بائیکاٹ کا حربہ استعمال کیا گیا۔ ایک جانب وفاق اور جمہوری نظام تھا جبکہ دوسری جانب ذاتی، گروہی اور سیاسی مفادات تھے جو غالب آئے۔ اعتزاز احسن کو یوسف رضا گیلانی کے مقدمے میں سپریم کورٹ نے ریلیف نہیں دیا تھا اس بناءپر ان کی چیف جسٹس پاکستان سے ناراضگی دیر تلک رہے گی۔ پی پی پی اب پرجوش بلکہ جارحانہ انداز میں سیاست کرے گی۔ ایم کیو ایم کراچی اور اسلام آباد میں مقتدر رہنے کے لیے وفاق میں مسلم لیگ(ن) اور صوبے میں پی پی پی سے تعاون کرے گی۔ اگر الطاف بھائی کو مقدمات میں باضابطہ طور پر ملوث کرلیا گیا تو وفاقی اور صوبائی حکومتیں انتشار اور عدم استحکام سے بچنے کے لیے ایم کیو ایم کی سرپرستی کریں گی۔
پی پی پی کی قیادت نے شرافت اور دیانت کے پیکر رضا ربانی کو سینٹ میں قائد ایوان اور چیئرمین سینٹ بنانے سے گریز کیا تھا مگر اب ان کو صدارتی اُمیدوار نامزد کردیا کیوں کہ کامیابی یقینی نہ تھی۔ کاش رضا ربانی صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کا دھبہ اپنی اُجلی سیاسی شخصیت پر نہ لگواتے۔ مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے ایک تاجر بزنس ایگزیکٹو ٹیکسٹائل انڈسٹریزممنون حسین کو سرتاج عزیز پر ترجیح دی ہے۔ پنجاب کے ممکنہ گورنر چوہدری محمد سرور بھی (کیش اینڈ کیری) کے تاجر ہیں۔ پاکستان اب تاجروں(وزیراعظم، صدر پاکستان، گورنر پنجاب، وزیراعلیٰ پنجاب) کے ہاتھ میں ہے اگر ملک میں سرمایہ کاری ہوتی ہے اور معیشت اپنے پاﺅں پر کھڑے ہوجاتی ہے تو عوام کے لیے یہ سودا مہنگا نہیں ہوگا۔ تحریک انصاف نے نیک نام جسٹس(ر) وجیہہ الدین کو اپنا صدارتی اُمیدوار نامزد کیا ہے۔ عمران خان نے انتخاب کا بائیکاٹ نہ کرکے جمہوریت کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا ہے۔ پی پی پی کے بائیکاٹ سے منتخب صدر کی حیثیت متنازعہ ہوجائے گی اور اس کے وفاق پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ایم کیو ایم اور جمعیت العلمائے اسلام کے تعاون سے ممنون حسین کو پنجاب کے علاوہ باقی صوبوں میں بھی قابل ذکر تعداد میں ووٹ حاصل ہوجائیں گے۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری نے اٹھارہویں ترمیم میں میاں نواز شریف کے لیے تیسری بار وزیراعظم بننے کی گنجائش پیدا کی تھی۔ منتخب وفاقی حکومت کا فرض ہے کہ وہ صدر پاکستان اور پی پی پی کے سربراہ کو پورے پروٹوکول کے ساتھ رخصت کرے۔ اگر ایک آمر جرنیل صدر کو پوری شان و شوکت کے ساتھ رخصت کیا جاسکتا ہے تو ایک منتخب صدر ریڈ کارپٹ پروٹوکول کا زیادہ حقدار ہے۔ وفاق کی عزت اور وقار کے لیے نیز چھوٹے صوبوں میں مثبت پیغام بھیجنے کے لیے آصف علی زرداری کی باوقار رخصتی قومی مفاد میں ہے۔صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کی بنیادی ذمے داری الیکشن کمشن پر عائد ہوتی ہے جس نے اپنی آئینی ذمے داری خوش اسلوبی سے انجام نہیں دی۔