صدارتی الیکشن میں متنازع کون ؟

کالم نگار  |  نعیم مسعود

وہ پارٹی جس نے ماضی میں جمہوریت کی بہتری کیلئے فراخدلی کا مظاہرہ کیا، مصلحتوں کی شاہراہ پر چلتی رہی، آئینی ترامیم میں آگے آگے رہی اور اپنا صدر رکھنے کے باوجود 58۔ ٹو بی کا قلع قمع کیا کہ، ایوان صدر کی جانب سے اسمبلیوں پر شبِ خون نہ مارا جا سکے۔ حتیٰ کہ اپنے حریف میاں نواز شریف کیلئے تیسری دفعہ وزیراعظم بننے کی قدغن کو بھی ختم کیا حالانکہ اس ترمیم کا بے نظیر بھٹو کے بعد پی پی پی کو کوئی فائدہ نہیں تھا۔ ان چند مثبت روایات اور پیشرفتوں کے باوجود آخر اس صدارتی انتخابات میں ”غیر جمہوری“ رویہ کیوں اپنانا پڑا؟
ہمارا نفرتیں یا محبتیں اپنی جگہ پر بہرحال پیپلز پارٹی بھی کوئی ”بچہ پارٹی“ نہیں ہے کہ اس کے اقدامات کو فراموش کیا جا سکے۔ سیاست پر نظر رکھنے والے اس بات سے آشنا ہیں کہ کون کون کب کب کتنے پانی میں رہا۔ نواز شریف اور پی پی پی نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ ان کی اپنی وجوہات اور ان پر غیروں کے ستم سے انہیں شرمناک شکستیں بھی ہوئیں اور شاندار و جاندار فتوحات بھی! ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلا سوال یہ اُبھرا کہ ”غیر جمہوری رویے کا چلن اس صدارتی انتخابات ہی میں کیوں؟“ دوسرا سوال یہ ہے کہ (جان کی امان پاتے ہوئے) عدلیہ کو ”متنازعہ“ بنانے کی سازش میں پی پی پی ہی پورے خشوع و خضوع کے ساتھ مصروف ہے یا عدلیہ سے بھی کچھ جلدی ہو گئی؟ تیسرا سوال سیاسی لحاظ سے شاید اور بھی اہم ہے کہ، مانا کہ عددی اکثریت مسلم لیگ (ن) کی جیب میں ہے اور پی پی پی خواب و خیال میں بھی یہ صدارتی الیکشن نہیں جیت سکتی تھی پھر بھی مسلم لیگ (ن) کو کیا ضرورت تھی کہ وہ انتخابات کی تاریخ کی حد تک بھی اپوزیشن کو اعتماد میں نہ لے سکی؟
اب تک کے آخری یعنی تیسرے سوال ہی کی بات پہلے کر لیتے ہیں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ممنون حسین صدر منتخب ہو گئے اور پی پی پی کے رضا ربانی کیلئے اس انتخابات میں سوائے رسمی امور کے کچھ نہیں تھا لیکن مسلم لیگ (ن) کیلئے فراخدلی کا یہ پہلا موقع تھا کہ جس کا مظاہرہ ضروری تھا، مجموعی طور پر تو اپوزیشن پہلے ہی ایک دوسرے سے دور ہے کیونکہ تحریک انصاف اور پی پی پی ایک پلیٹ فارم پر جلوہ افروز ہی نہیں ہو سکے، پھر سابق حکومت کی حلیف جماعتوں میں سے بالخصوص ایم کیو ایم حکومتی صدارتی امیدوار کے حق میں تھی اور بالعموم مولانا فضل الرحمان نے بھی حکومت کا ساتھ دیا۔ آخر پھر کون سی قیامت آ گئی تھی کہ خود بھی جلد بازی کا شکار ہوئے اور مسلم لیگ (ن) نے عدلیہ کو بھی ---! 30 جولائی یا 6 اگست میں کوئی فرق نہ تھا!
سوال ایک چوتھا بھی کھڑا ہے، بہت سُنتے آئے تھے کہ ترامیم نے الیکشن کمشن کو بااختیار اور پتہ نہیں کیا کیا بنا دیا لیکن یہ الیکشن کمشن بھی تو پہلو کے اُس دل کے مصداق نکلا کہ جسے چیرہ تو ایک قطرہ خون بھی نہ نکلا۔ اس ”خود مختار اور بااختیار“ الیکشن کمشن کیلئے بھی اتنا بڑا امتحان کہاں سے آ گیا تھا کہ الیکشن کو آگے پیچھے کرنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیں۔ اس پر ہمارے ایک ضرورت سے زیادہ سیانے تجزیہ نگار ساتھی نے تو یہ بھی کہہ دیا ”شکر کریں الیکشن کمشن نے یہ نہیں کہہ دیا ہے کہ صدر کا انتخاب ہی سپریم کورٹ سے کرا لیں!“ خیر ہمارے پیارے سیاستدان اگر واقعی جمہوری اور حب الوطنی کے دلدادہ ہوں تو عدالتوں کو فیصلے ازخود ججوں اور جرنیلوں کے سپرد کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد جب سانپ گزر جاتے ہیں تو یہ لکیریں پیٹتے رہ جاتے ہیں۔
ہم براہ راست مسلم لیگ (ن) سے مخاطب ہو کر ایک عرض کی جسارت کرتے ہیں کہ، اب کل کو اگر آپ کوئی اے پی سی بلاتے ہیں تو یقیناً اپوزیشن جماعتوں اور ”ناپسندیدہ“ سیاستدانوں کو بھی آپ آل پارٹیز کانفرنس میں مدعو کریں گے۔ جب اس غیر مضر باہمی اعتماد کو آپ فروغ نہیں دے سکے، پی پی پی کو نہیں منا سکے یا اُن کی نہیں مان سکے تو پھر یہ اے پی سی شے پی سی کی کیا اہمیت اور افادیت ہو گی؟ پہلے بھی یہ اے پی سی جیسے معاملات چائے کی پیالی اور ایک رسمی اجتماع سے زیادہ کہاں اہم ہوئے ہیں؟ حکومت محض اپنی مرضی کرتی ہے۔ آپ کی تو پھر بھاری بھرکم مینڈیٹ والی حکومت ہے۔ پی پی پی والوں سے بھی ایک گزارش ہے کہ جب آپ کی دال گلنی ہی نہیں تھی، جب اعداد و شمار ہی آپ کے حق میں نہیں ہیں تو پیالی میں طوفان اٹھانے کا فائدہ؟ کوشش کے باوجود صدر متنازع صدر قرار نہیںپائے گا تو آپ کو توانائی ضائع کر کے کیا ملے گا؟ آپ عدلیہ کو بھی متنازع قرار دینے میں کب سے کمربستہ ہیں لیکن آپ خود متنازع ہو گئے، ایسی صورتحال بنی کہ الیکشن میں بھی رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ ضرورت تو اس امر کی تھی کہ پی پی پی قیادت قحط الرجال کی کیفیت سے باہر نکلتی اور اپنی تنظیم سازی پر توجہ دیتی۔ اسی میں اس کی بقا تھی اور ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) یہ کیوں بھول رہی ہے کہ بے شک یہ بھاری مینڈیٹ والے ہیں لیکن یہ ملک حالتِ جنگ میں ہے۔ جب ریاست حالتِ جنگ میں ہو تو پھر مینڈیٹ جتنا بھی ہو وہ نہیں چلتا صرف تدبر چلتا ہے۔ جب سانحہ 12 اکتوبر 1999ءبرپا ہوا تھا اُس وقت بھی مینڈیٹ بہت بھاری تھا۔ سیانے درست کہتے ہیں کہ کبھی کبھی بھاری چیز اپنے وزن سے بھی نقصان اٹھا لیتی ہے۔
بہرحال مسلم لیگ (ن) کو چاہئے تھا کہ پی پی پی کو میدان سے دوڑنے کا موقع نہ دیتی، مصلحتوں کی شاہراہ اسی کو کہتے ہیں کہ جہاں پر افہام و تفہیم سے سفر کر سکیں۔ موٹر وے بنانے والوں کو افہام و تفہیم کی یہ شاہراہ بھی تعمیر کرنی پڑے گی۔ صدر کے الیکشن کے حوالے سے اسحاق ڈار کا یہ بیان اتنا معتبر نہیں تھا کہ صدارتی الیکشن میں کون سا عوام سے رابطہ کرنا پڑتا ہے انہیں کم از کم یہ تو یاد رکھنا چاہئے تھا کہ صوبائی اسمبلی کے ممبران کو چلنا،، کسی سے انفرادی ملاقات کرنا، کسی کو پیغام پہنچانا پھر گفت و شنید کے دریچے کھلونے جیسی ضرورت پیش آ جاتی ہے۔ یہ ڈار صاحب ہی بتا دیں کہ اعتماد کا فقدان کیوں؟ مسلم لیگ (ن) کا یہ خیال تھا کہ لوگ اعتکاف میں ہوں گے یا عمرے پر لہٰذا الیکشن 6 اگست سے قبل یا بعد میں کرایا جائے، پھر عدالت کے حوالے سے بھی قانونی ماہرین کی آراءمختلف ہیں، کچھ کا کہنا ہے کہ عدالت کو دونوں پارٹیوں کو سُن کر فیصلہ دینا چاہئے۔ ہم عدالت کے حوالے سے کافی حد تک مطمئن ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) کی ”تیزیاں“ مطمئن نہیں کر رہی ہیں۔ تیزیاں دکھانی ہی ہیں تو پٹواری کلچر، تھانہ کلچر، ہسپتالوں میں ڈاکٹر کلچر اور بیورو کریسی کلچر کو ختم کرنے میں دکھائی جائیں۔ اسی طرح پی پی پی نے کچھ کلا کاریاں دکھائی ہیں تو سندھ کی حکمرانی کو چار چاند لگا کر دکھائیں۔ اس وقت تینوں بڑی جماعتیں حکومتوں میں ہیں۔ خیبر پی کے میں تحریک انصاف، سندھ میں پی پی پی، مرکز اور پنجاب و بلوچستان میں مسلم لیگ (ن)، گویا تینوں کسوٹی پر ہیں اور عوام پرکھ رہے ہیں۔ سبھی کو قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے --- قبلہ! ہر وہ شخص اور سیاسی جماعت ہی اس وقت تک متنازع ہے جب تک قبلہ درست نہیں۔ قبلہ صرف نظریہ پاکستان پر چل کر درست رہتا ہے!