ہمارا سنہرا پاکستان

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
ہمارا سنہرا پاکستان

دہشت گردی کی جنگ نے ہمیں اور کچھ دیا ہے یا نہیں لیکن ایک چیز سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور وہ یہ کہ غیر فطری طور پر بحیثیت قوم ہم میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیںجن سے پوری قوم کا مزاج بدل گیا ہے۔ پہلی اہم تبدیلی یہ ہے کہ ہم میں برائی ، گناہ اور بدی کا احساس ختم ہو چکا ہے ۔اس لئے کرپشن ، ملاوٹ، جھوٹ ،ریپ، اغوائ، ظلم یا جرم وغیرہ کا ہم محسوس ہی نہیں کرتے۔ لوگ فخریہ جرم کرتے ہیں اور دندناتے پھرتے ہیں ۔
مزید حیران کن یہ کہ جرم اور بدی کے سپورٹرز وہ طبقات ہیں جنہیں ہم اشرافیہ بولتے ہیں۔ دوسری اہم تبدیلی مذہبی سوچ ہے۔ہر شخص کو یقین ہو گیا ہے کہ جس فرقے یا اسلام کی جس تشریح سے اسکا اپنا تعلق ہے وہی درست ہے اور باقی سب غیر درست ۔ لہٰذا وہ باقیوں کو بھی اپنی مرضی کے مطابق بزور طاقت درست کرنا اپنا فرض بلکہ عین عبادت سمجھتا ہے جس وجہ سے فرقہ واریت اور عدم برداشت میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے ۔
یہ سوچ اسوقت اور بھی سنگین ہو جاتی ہے جب ہمارے لوگ رزق یا علم کی تلاش میں قانونی یا غیر قانونی طور پر مغربی ممالک جاتے ہیں ۔وہاں جا کر انہیں بھی درست کرنے کا جہاد شروع کر دیتے ہیں۔
تیسری تبدیلی یہ ہے کہ ہم بے حس ہو چکے ہیں۔ روزانہ درجنوں کے حساب سے لاشیں گرتی ہیں۔ بم دھماکے ہوتے ہیں۔ غریب ، بے سہارا اور بے گناہ لوگ لقمہ اجل بنتے ہیں۔ خواتین اور بچوں کے پر خچے اڑتے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے۔ معصوم اور بے سمجھ بچیاں تک ریپ کا نشانہ بنتی ہیں لیکن مجال ہے ہمارے حکمرانوں ، سیکورٹی ایجنسیوں یا منتخب ممبران پر کوئی اثر ہوتا ہو۔اور تو اور اب ہم عوام پر بھی اثر نہیں ہوتا۔ لاشیں گرانے میں ہمارے بس اور ویگن ڈرائیورز بھی دہشتگردوںسے پیچھے نہیں۔ دہشتگردوں کے متعلق تو کہا جا سکتا ہے کہ وہ کسی دشمن ایجنسی کے ہاتھوں کھیل رہے ہیں۔
 ڈالروں کے عوض بک رہے ہیں لیکن ان ڈرائیوروں کے متعلق کیا کہا جائے جنہوں نے قبرستان آباد کرنے کا فرض سنبھا ل لیا ہے۔ اگر کسی بچے سے بھی پوچھا جائے کہ:’’ پاکستان میں سب سے سستی اور آسانی سے ملنے والی چیز کونسی ہے؟ جواب ایک ہی ملے گا اور وہ ہے’’موت‘‘ کیسا دور آگیا ہے کہ ہر طرف موت ہی موت رقص کناں ہے۔
پاکستان میں اگر سب سے ناپید چیز کوئی ہے تو وہ خوشی ہے چاہے کسی بھی شکل میں ہو۔اب تو سنا ہے کہ کھل کر ہنسنے پر بھی کچھ لوگوں کو اعتراض ہے کہ  بہرحال آج میں اپنے قارئین کے ساتھ ایک اہم خوشخبری شئیر کرنا چاہتا ہوں اور وہ ہے پیارے وطن کے اس پیارے خطے ’’ تھر‘‘کے متعلق جہاں پچھلے تین ماہ سے انسان ایک مختلف قسم کی دہشتگردی کا شکار ہیں جسے عرف عام میں ’’قحط‘‘ کہا جاتا ہے۔ بچے،بوڑھے انسان اور جانور بیک وقت بھوک، پیاس ،بے بسی اور اپنے ہی وڈیروں کے ظلم کے شکار ہو کر مر رہے ہیں۔
قدرت کی طرف سے تو آفات آتی رہتی ہیں۔دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں قدرتی آفات تشریف نہ لاتی ہوں لیکن مہذب سو سائٹی میں انسان مل کر ان آفات کا مقابلہ کرتے ہیں اور مصیبت زدہ بھائیوں کو سنبھال لیتے ہیں۔
یہاں حیران کن بات یہ ہے کہ جب تھر کے متعلق خطرناک خبریں آنی شروع ہوئیں تو ہمارے تمام سر کردہ’’ انسانیت دوست حکمران‘‘ وہاں تشریف تو لے گئے۔ظاہری طور پر افسوس بھی کیا۔ دل کھول کر امداد کے وعدے بھی کئے۔ سرکاری حکام کومختلف احکامات بھی دئیے اور پھر مرغن کھانے کھا کر اپنی ائیر کنڈیشنڈ گاڑیوں میں بیٹھ کر واپس آگئے۔ غریب تھریوں کی قسمت نہ بدلنی تھی اور نہ بدلی۔
میری نظر میں ان لوگوں کی مصیبت قدرتی آفت سے زیادہ انسانی بلکہ وڈیرہ شاہی کی دہشت گردی کا نتیجہ ہے جو بے حسی کا شکار ہو چکے ہیں۔علاقے کے وڈیرے اور حکمران مخلص ہوتے تو یقیناً اس انسانی المیے کو روکا جا سکتا تھا۔
اب خوشی کی بات یہ ہے کہ دو ہفتے پیشتر جناب سابق صدر آصف علی زرداری صاحب اپنے صاحبزادے کے ساتھ وہاں تشریف لے گئے اور جناب نے تھر کو سندھ کا ترقی یافتہ علاقہ بنانے کا اعلان کر دیا ۔ اہل تھر کو دلی مبارکباد قبول ہو۔
امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا ۔تعلیم، صحت اور روزگار فراہم کرنے کے مواقع پیدا کرنے ،مستحق خواتین کو زمین فراہم کرنے ،ہر گائوں میں کھارا پانی میٹھا بنانے کے پلانٹ لگانے اورمٹھی کے علاقے میں فوری طور پر 150بینظیر دستر خواں لگا نے کے خوشنما وعدے فرمائے ۔
مزید یہ کہ محترم سابق صدر نے سندھ حکومت کو تھر پار کر میں کیڈٹ کالج ،یونیورسٹی اور وو کیشنل انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کے احکامات بھی صادر فرمائے۔ خدا کرے کہ یہ خوشی سچ ثابت ہو اور قائم رہے کیونکہ جناب زرداری صاحب نے غالباً 2010میں پنجاب کا دورہ بھی کیاتھا۔ فخریہ طور پر پنجاب کی اونچے شملے والی پگ پہن کر لاکھوں کے مجمعے کے سامنے بجلی، گیس اور پینے کا صاف پانی دینے کا اعلان بھی فرمایا تھا۔دورہ ختم ہوا۔ رات گئی بات گئی۔فرق یہ پڑا کہ اسوقت آٹھ گھنٹے روزانہ بجلی جاتی تھی اور جب صدر محترم کی حکومت ختم ہوئی تو لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 16 سے18 گھنٹے بڑھ گیا ۔
شروع شروع میں وزیر پانی و بجلی جناب راجہ صاحب نے بھی بار بار خوشنما اعلانات کر کے عوام کی مت مار دی تھی :’’ دسمبر2009تک ملک سے لوڈ شیڈنگ کا نام و نشان بھی ختم ہوجائیگا ‘‘۔
 اور پھر ہم نے دیکھا کہ لوڈ شیڈنگ کس طرح ختم ہوئی۔الیکشن سے پہلے جناب شہباز شریف صاحب بھی مائیک گرا گرا کر اعلان فر ماتے تھے کہ :
’’ اگر ایک سال میں لوڈ شیڈنگ ختم نہ کی تو میرا نام شہباز شریف نہیں‘‘۔
بلند بانگ وعدے اور دعوے شاید ہمارے سیاستدانوں کے خون میں شامل ہو چکے ہیں۔بے دھڑک وعدے کرتے ہیں ۔اقتدار حاصل کرتے ہیں اور پھر کھا پی کر چادر جھٹک کر بیرون ملک سدھار جاتے ہیں ۔ وہاں آرام فرماتے ہیں پھر نئی ٹرم کے لئے تازہ دم ہو کر نئے خوشنما وعدوں کے ساتھ واپس تشریف لے آتے ہیں ۔
جمہوری وعدوں کے متعلق ایک نوجوان آفیسر نے بڑا دلچسپ واقعہ سنایا۔ اس آفیسر کو چند ہفتوں کے ایک تعارفی کورس کے لئے امریکہ جانا پڑا۔ ایسے کورسز پر ہر طالب علم کو اپنے اپنے ملک کا تعارف کرانا پڑتا ہے۔ یہ آفیسر یہاں سے خوبصورت سلائیڈز اور ویڈیوز بنا کر ساتھ لے گیا۔جب اس آفیسر کی وہاں لیکچر کی باری آئی تو اس نے ’’ سنہرا پاکستان ‘‘کے عنوان سے پاکستان کا تعارف کرایا۔ خوبصورت سلائیڈز دکھائیں جس میں بلند پہاڑ ،خوبصورت ندیاں،پھولوں سے بھری وادیاں اور ہر طرف خوشحالی ہی خوشحالی تھی تمام طالبعلم دیکھ کر پاکستان کی خوبصورتی اور ترقی سے بہت متاثر ہوئے۔ جن لوگوں نے پاکستان دیکھا ہوا تھا انہوں نے سوال کیاکہ یہ پاکستان کا کونسا علاقہ ہے جو اب تک اُنکی نظروں سے اوجھل ہے۔
اُس آفیسر نے تحمل سے جواب دیا :’’جناب یہ وہ پاکستان ہے جس کے وعدے تمام سیاستدان الیکشن سے پہلے عوام کے ساتھ کرتے ہیں۔ یہ خوبصورت پہاڑ اور بلند چوٹیاں اُن کے دعوے اور وعدے ہیں۔یہ حسین وادیاں وہ ترقی کا خواب ہیں جو ہمارے سیاستدان عوام کو دکھاتے ہیں ۔
پھر پانچ سال بعد وہ جس حالت میں پاکستان چھوڑتے ہیں اب آپ کو وہ تصاویر دکھاتا ہوں ۔پھر اُس نے اصلی لہولہان ، بھوکا پیاسا پاکستان اُنکے سامنے رکھا۔پہلا سیاستدانوں کے وعدوں پر مبنی سنہرا پاکستان تھا اور یہ ہے ہم عوام کا پاکستان۔معزز قارئین! صرف اتنا کہنا کافی ہوگا کہ خدا کرے زرداری صاحب کے وعدے تھر کی قسمت بدل دیں۔آمین!