پاکستان کے دشمن کھل کر سامنے آگئے

کالم نگار  |  آغا امیر حسین
 پاکستان کے دشمن کھل کر سامنے آگئے

جب سے امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اور وہاں اُسے طویل جنگ کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے امریکہ جیسی مستحکم، معاشی ریاست کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ آج کی جنگ بچوں کا کھیل نہیں ہے یہ بہت مہنگی اور بہت مشکل جنگ ہے۔ غریب ممالک تو اس کا تصوّر بھی نہیں کرسکتے یہ تو بھارت کی پاکستان کیخلاف مسلسل جارحانہ ریشہ دوانیاں ہیں جن کے سبب پاکستان ذہنی طور پر اور اس کی افواج ہر ممکن دفاعی پوزیشن میں رہتی ہیں۔ امریکہ کبھی بھی پاکستان کا دوست نہیں رہا ہمیشہ اس نے پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی کوشش کی ہے جس کا ایک بھیانک ریکارڈ موجود ہے۔ بغداد پیکٹ سیٹو ہو یا سینٹو یا کوئی بھی اور معاہدہ ہر معاہدہ میں پاکستان امریکہ کی خواہش پر شامل ہوا۔ یہ معاہدے ہمارے کسی کام نہ آئے الٹا ہمیں ان کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا ہے گزشتہ دس بارہ سال سے مغربی سرحدیں بھی ہمارے لیے چیلنج بن چکی ہیں۔ افغانستان کی لیڈر شپ چاہے وہ شمالی اتحاد کی ہو یا دوسری کوئی اور، پاکستان کو زک پہنچانے کی کوششوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں مصروف رہتی ہیں جبکہ پاکستان نے مسلمان بھائی ہونے کے ناطے لاکھوں افغان باشندوں کا بوجھ اٹھا رکھا ہے۔ امریکہ کے افغانستان میں آنے کے بعد بھارت نے پاکستان کی مغربی سرحدوں پر سترہ (17) قونصلیٹ کھول کر منظم تخریبی سرگرمیوں کا جال بچھا دیا۔ جناب اویس غنی گورنر بلوچستان نے اپنے ز مانے میں کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ دس سے زیادہ کنٹینر اسلحے اور گولہ بارود سے لدے ہوئے افغانستان سے چمن کے راستے بلوچستان میں داخل ہوتے جو پکڑے گئے یہ اسلحہ اور گولہ بارود پاکستان کے بعض بلوچ سرداروں کے لیے آیا تھا۔ یہ کنٹینر جو بارود سے بھرے ہوئے، ہتھیاروں سے لدے ہوئے تھے۔ بھارت نے بلوچستان بھجوائے تھے اس گولہ بارود کی قیمت بھارت کے جس قونصلیٹ سے ادا کی گئی تھی اس کی نشان دہی بھی انہوں نے کر دی تھی۔ اسکے بعد اس خبر کا کوئی فالو اپ نہیں آیا دبے لفظوں میں حکمران نیشنل اور انٹرنیشنل فورم پر یہ کہتے رہے کہ بھارت بلوچستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہے اور ہمارے پاس ثبوت ہیں بعد میں بھارت اور امریکہ کی اس بڑی اور گھنائونی سازش کے بلوچستان، سوات اور اب وزیرستان میں سرگرم ہونے کے بعد پورے ملک کو منظم دہشت گردی کا نشانہ بنا کر پچاس ہزار سے زیادہ بے گناہ پاکستانی عوام اور ہزاروں فوجیوں اور دوسرے سیکیورٹی ایجنسیوں کے کارندوں کو شہید کرکے ملک میں دہشت گردی کی فضا پیدا کر دی۔ ملک کے اندر موجود تخریب کاروں کے حمایتی سیاسی اور مذہبی راہنما اگرچہ ان کی تعداد دو یا تین ہے اب کھل کر سامنے آچکے ہیں طالبان کے ساتھ مذاکرات کا جو ڈھونگ رچایا گیا ہے اس کا انجام تو آنے والے چند ہفتوں میں سامنے آ ہی جائے گا لیکن پاکستانی عوام کو حکومت کی بے عملی بے تدبیری اور ناعافت اندیشی کے نتیجے میں مزید صدمے برداشت کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے! بھارت میں آج کل الیکشن ہو رہے ہیں انتہا پسند پاکستان، مسلم دشمن نریندرمودی کے آئندہ وزیراعظم بننے کے امکانات نظر آ رہے ہیں۔ بھارت کی آنے والی پاکستان دشمن حکومت کا کیا رویّہ ہوگا اس پر پاکستان کی سیکیورٹی کے ذمہ دار حلقے غور و فکر میں مصروف ہیں ۔پاکستان میں جو لوگ اگرچہ ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے یہ کہتے نہیں تھکتے کہ تنازعات کا حل بالآخر مذاکرات سے ہی نکلتا ہے۔ مثال کے طور پر پہلی جنگ عظیم، دوسری جنگ عظیم، خود پاکستان بھارت کی 65 ء اور 71 ء کی جنگیں کو پیش کیا جاتا ہے جبکہ وطن دشمن تنظیموں اور تحریکوں کی کوئی ایک مثال بھی دنیا میں نہیں ملتی جن سے مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کئے گئے ہوں ریاست کے باغیوں، چوروں ،ڈاکوئوں اور قاتلوں کے ساتھ مذاکرات صرف ہتھیار ڈالنے، مغویوں کو چھڑوانے کے لیے کئے جاتے ہیں یا پھر طاقت سے اُن کا قلع قمع کر دیا جاتا ہے جیساکہ سری لنکا میں تامل باغیوں کے ساتھ وہاں کی سول حکومت نے کیا تھا یا ابھی حال ہی میں سوات کے اندر باغیوں کا خاتمہ پاکستان کی بہادر افواج نے کیا تھا۔
پاکستان میں قومی سلامتی کے ادارے اور سول حکومت کے درمیان معاملات کو حل کرنے کے سلسلے میں کشمکش محسوس ہو رہی ہے جو کسی صورت بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے جو لوگ فوج اور حکومت کو لڑانے کی باتیں کر رہے ہیں وہ بھی کوئی وطن دوستی کا ثبوت نہیں دے رہے یہ کام تو پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا ہے، پارلیمنٹ کا ہے کہ وہ مل کر اس سنگین صورتحال سے ملک کو نکالیں اگر میاں نواز شریف کی سمجھ میں بات نہیں آ رہی اور اپنی روایات کے مطابق ’’کڑاکے‘‘ نکالنے پر مصر ہیں تو پھر سیاست دانوںکا فرض ہے کہ وہ میاں صاحب کو ’’جاتی عمرے‘‘ میں آرام کرنے پر مجبور کریں۔ حکمران جماعت ہویا اپوزیشن جماعتیں سب کے ممبر ز کو مل کر اس درد ناک صورتحال سے عہدہ برا ہونا پڑیگا جہاں تک حامد میر پر ہونیوالے افسوس ناک حملے کا تعلق ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے لیکن اس کو آڑ بنا کر ملک کے منظم اور بہترین اداروںکے خلاف گھنائونی کمپین چلانا انتہائی شرم ناک اور ملک دشمنی کے ذیل میں آتا ہے اس سازش کے ڈانڈے جہاںجہاں ملتے ہیں اور جو جو اس سازش میں شریک ہیں ان سب کیخلاف ’’سنگین غداری‘‘ کا مقدمہ چلنا چاہیے اور کوئی رو رعایت نہیںہونی چاہیے یہ بات تو کسی طور بھی قابل قبول نہیں کہ اتنے بڑے ادارے کا کوئی سربراہ اتنی گری ہوئی گھنائونی حرکت کرسکتا ہے جن لوگوں نے اس خبر کو اچھالا اور بار بار تصویر دکھائی انکے مقاصد اور ایجنڈا کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے ’’امن کی آشا‘‘ کے نام سے سال ہا سال سے وہ پاکستان میں بھارت دوستی اور بھائی چارے کی باتیں کرتے چلے آ رہے ہیں۔ سیمینار کر رہے ہیں شہر شہر لوگوںکو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بھارت کے ساتھ دوستی بہت ضروری ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خود بھارت نے ’’امن کی اس آشا‘‘ کو کیا رنگ دیا ہے وہ تو آج بھی ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کے خواب دیکھ رہا ہے۔ سرحدوں کو مصنوعی لکیر کہتا ہے، کشمیریوں کو طے شدہ حق خود ارادیت دینے سے انکاری ہے۔ سیاچن، سرکریک اورپانی کا بحران پیدا کرکے پاکستان کو بنجر بنانے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ جونا گڑھ اور حیدر آباد دکن میں جو ہوا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں حال ہی میں مودی چیف منسٹر گجرات کی سربراہی میں مسلمانوںکا قتل عام کیا گیا احمد آباد میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا مسلمانوں کے کارخانوں اور تجارتی املاک کو خاکسترکیا گیا ان واقعات کی داستانیں بھارت کے ہی معتبر اخبارات اور رسائل میں چھپتی رہی ہیں۔ بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کے معاشی، سیاسی حالات کا جائزہ لیا جائے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کسی ملک میں اگر اقلیت کی تعداد 30 فیصد سے زیادہ ہو تو وہ اقلیت نہیںکہلاتی جبکہ بھارت میںمسلمانوں کی تعداد تیس فیصد سے بہت زیادہ ہے۔ بھارتی ہندو انتہا پسندوں کی مسلمانوں کے خلاف شُدی کی تحریک جاری ہے۔ اگر یہی صورت حال جاری رہی تو وہ وقت دور نہیں جب بھارت میں نام کے مسلمان بھی نظر نہیں آئیں گے۔!
پاکستانیوں کیلئے خوش آئند پہلو یہ ہے کہ پاکستان کی نئی نسل بھارت سے برابری کی سطح پر پورے پاکستانی قومی وقار کے ساتھ تعلقات تو چاہتی ہے لیکن بنیادی مسائل کو پش پشت ڈال کر یا نظرانداز کرکے دوستی قبول کرنے کو تیار نہیں۔!