روپے کی قدرمیں اضافے کے برآمدی شعبے پر اثرات

کالم نگار  |  عبدالباسط
روپے کی قدرمیں اضافے کے برآمدی شعبے پر اثرات

نواز شریف حکومت جب سے برسرِاقتدار آئی ہے تب سے ملکی معاملات اور معاشی حالات سدھارنے کی بھرپورکوشش کرر ہی ہے جس میں اُسے خاصی حد تک کامیابی حاصل بھی ہوئی ہے ، روپے کی قدر میں استحکام بھی ان ہی میں سے ایک ہے لیکن ڈالر کی قیمت کم ہونے سے جہاں فائدہ ہوا ہے وہاں اِس نے کچھ پریشان کُن نتائج کو بھی جنم دیا ہے ، روپے کی قدر میں استحکام سے درآمدات کی لاگت کم ہوئی ہے جو 40ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں ،ملک پر 60ارب ڈالر کے لگ بھگ قرضے ہیں جن کے بوجھ میں کمی آئی ہے۔ دوسری طرف برآمد کنندگان کا منافع کم ہوگیا ہے جس پر وہ سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ، ان کا بالخصوص ٹیکسٹائل سیکٹر کا واویلا بے جا ہرگز نہیں کیونکہ منافع کی مد میں اُنہیں ڈالر کے مقابلے میں کم روپے ملیں گے جبکہ انہیں وہ اپنے ورکرز کو تنخواہوں کی ادائیگی ، بجلی، گیس اور پانی کے بلز، مقامی سطح پر خام مال کی خریداری اور دیگر لین دین پاکستانی کرنسی میں ہی کرنا پڑتا ہے ۔ٹیکسٹائل سیکٹر سے وابستہ دوستوں کا کہنا ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہونے سے اب تک صرف ٹیکسٹائل سیکٹر کو مجموعی طور پر 78ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے جبکہ سرمائے میں کمی کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ یقینا برآمد کنندگان کے مسائل بہت زیادہ ہیں جنہیں حل کرنا ناگزیر ہے کیونکہ ملک کی معاشی عمارت کی بنیاد برآمد ات ہی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ روپے کو کمزور کردیا جائے کیونکہ اس سے قرضوں کے بوجھ میں اضافے اور درآمدی لاگت بڑھنے جیسے پُرانے مسائل لوٹ آئیں گے اورڈھاک کے وہی تین پات کے مصداق ہم اپنی معاشی حالت کو ہی روتے رہیں گے جس کی وجہ سے امن و امان سمیت دیگر معاملات پر توجہ دینا ممکن نہیں ہوگا۔ جب تک دونوں پلڑوں میں توازن نہیں ہوگا تب تک صورتحال بہتر نہیں ہوپائے گی ۔ روپے کو ایک مرتبہ پھر کمزور کرنے کے بجائے برآمد کنندگان بالعموم اور ٹیکسٹائل سیکٹر بالخصوص کے مسائل حل کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ اُنہیں ایکسپورٹ ریبیٹ دیا جائے اور اس کا فیصلہ مہینوں، ہفتوں یا دنوں میں نہیں بلکہ گھنٹوں میں کیا جائے۔ اس سے برآمد کنندگان کی خاص حد تک اشک شوئی ہوگی ، اُن کے نقصان کا ازالہ ہوجائے گا اور سرمائے میں کمی کا مسئلہ بھی حل ہوگا۔سیلز ٹیکس ریفنڈ بھی ہمیشہ سے کاروباری برادری کو درپیش ایک بڑا مسئلہ رہا ہے لیکن احتجاج اور حل کے لیے تجاویز کی بھرمار کے باوجود یہ مسئلہ وبالِ جان بنا ہوا ہے۔ ڈالر کی قیمت کم ہونے کی وجہ سے برآمدات سے وابستہ صنعتوں کو ہونے والے نقصانات کے کچھ ازالے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انہیں سیلز ٹیکس ریفنڈ فوری طور پر دے دیا جائے تاکہ سرمائے کی قلت کا مسئلہ نہ پیدا ہونے پائے۔  ٹیکسٹائل سیکٹر کو ریلیف دینے کے لیے مزید ایک قدم یہ اٹھایا جاسکتا ہے کہ اُسے گیس کی سپلائی بڑھا دی جائے۔ جب کبھی کوئی کہتا ہے کہ گیس دستیاب نہیں تو بے ساختہ مجھے کہاوت یاد آجاتی ہے۔ ایک شخص لمبے سفر پر جارہا تھا ، راستے میں اُس کی گاڑی کے چاروں بولٹ ڈھیلے ہوکر کہیں گرگئے، اب وہ سڑک کنارے پریشان کھڑا تھا کیونکہ بغیر بولٹ تو پہیہ چند فٹ فاصلے تک بھی اپنی جگہ ٹکا نہ رہ پاتا۔ وہاں سے ایک پاگل نما شخص کا گزر ہوا، اُس نے گاڑی والے سے پوچھا کیا مسئلہ ہے، اُس نے جواب دیا کہ ایک پہیے کے چاروں بولٹ گر گئے ہیں اب گاڑی نہیں چل سکتی۔’’ پاگل‘‘ نے کہا کہ اس میں کیا مسئلہ ہے باقی تینوں پہیوں سے ایک ایک بولٹ اُتار کر لگالو،باآسانی منزل تک پہنچ جائو گے ۔ گاڑی والے شخص نے حیران ہوکر پوچھا کہ تم تو پاگل لگتے ہو، تمہیں یہ آئیڈیا کیسے آیا، اس نے جواب دیا کہ میں پاگل ہوں، بیوقوف نہیں…مجھے حیرت ہوتی ہے کہ بجلی اور گیس کی قلت کا بوجھ تقسیم کرنے کے بجائے صرف ایک صوبے کی صنعتوں پر ڈال دیا جاتا ہے جبکہ دوسرے صوبوں، بالخصوص سندھ کی صنعتوں کو یہ معمولی تعطل کے ساتھ ملتی رہتی ہیں حالانکہ قومی وسائل پر سب کا حق یکساں ہے۔ اگر دوسرے صوبوں کی صنعتوں کے لیے بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ ہو اور اس دوران بچنے والی بجلی اور گیس پنجاب کی صنعتوں کو فراہم کردی جائے تو ان کا پہیہ رواں رہ سکتا ہے جبکہ دوسرے صوبوں کی صنعتوں کو بھی کوئی زیادہ فرق نہیں پڑے گالیکن افسوس کی بات ہے کہ سیاسی مفادات ہمیشہ قومی مفادات پر غالب ہوتے آئے ہیں۔ سابق حکومت نے صوبہ پرستی کی انتہا کرتے ہوئے بجلی و گیس کی قلت کا مکمل بوجھ پنجاب پر ڈال دیا جس کی وجہ صرف پنجاب کی صنعتیں بالخصوص ٹیکسٹائل سیکٹر تباہی و بربادی سے دوچار ہوگیااور لاکھوں لوگوں کو بے روزگاری کا عذاب جھیلنا پڑا ۔ صوبہ پرستی کی وجہ سے گذشتہ پانچ سال ملک پر حکومت کرنے والی وہ جماعت قومی انتخابات کے بعد اُسی صوبے تک محدود ہوکر رہ گئی ہے ۔وزیراعظم میاں نواز شریف بڑی اچھی سیاسی بصیرت کے حامل ہیں اور خلوص نیت سے قومی معاملات کی درستگی کے لیے کام کررہے ہیں لہذا انہیں بجلی و گیس کی سپلائی کے سلسلے میں پنجاب کی صنعتوں سے امتیازی سلوک کے معاملے پر خاص طور پر توجہ دیتے ہوئے یہ یقینی بنانا چاہیے کہ وہ غلطی ہرگز نہ دہرائی جائے جو سابق حکومت نے کی تھی۔اگر سابق دورِ حکومت کی طرح اس حکومت کے دور میں بھی پنجاب کی صنعتوں بالخصوص ٹیکسٹائل سیکٹر کے ساتھ بجلی اور گیس کی سپلائی کے سلسلے میں امتیازی سلوک ہوتا رہا تو معاشی اہداف کا حصول ممکن نہیں ہوگا کیونکہ ٹیکسٹائل ملک کا سب سے بڑا برآمدی شعبہ ہے اور ٹیکسٹائل سیکٹر کا بہت بڑا حصہ پنجاب میں واقع ہے۔ حکومت اگر کم از کم پانچ دن تک بارہ گھنٹوں کے لیے ٹیکسٹائل سیکٹر کو گیس اور بجلی کی مسلسل فراہمی یقینی بناتی ہے تو اسے ڈالر کی قدر کم ہونے کی وجہ سے لگنے والے صدمے کے اثرات خاصی حد تک کم ہوجائیں گے۔