شرم تم کو مگر نہیں آتی…

کالم نگار  |  آغا امیر حسین
شرم تم کو مگر نہیں آتی…

سندھ طاس معاہدے کیمطابق بھارت پاکستان کو راوی، چناب، جہلم اورستلج میں پانی چھوڑنے کیلئے مقررہ تاریخوں پر قبل از وقت مطلع کرنے کا پابند ہے۔ یہ سندھ طاس معاہدہ جنرل ایوب خان نے بین الاقوامی دبائو پر کیا تھا۔ پنڈت نہرو اتنے خوش تھے کہ انہوں نے بلا تاخیر کراچی تشریف لا کر معاہدے پر دستخط کیے۔ بھارت نے پاکستان دشمنی کا رویہ اختیار کئے رکھا اور قدم قدم پر سندھ طاس معاہدہ اور بین الاقوامی قانون کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ یوں تو بھارت روزِ اوّل سے ہی منصوبہ بندی اور پلاننگ سے پاکستان کو نقصان پہنچانے یا اپنا باجگزار ملک بنانے کی راہ پر گامزن ہے۔ جونا گڑھ، حیدر آباد دکن اور کشمیر کے حوالے سے بھارتی جارحیت کی ایک طویل داستان ہے۔ کوئی موقع ایسا نہیں ہے جب بھارت نے اچھے پڑوسی ہونے کا ثبوت دیا ہو۔ پچھلے دس بارہ سال سے افغانستان میں امریکہ کی سرپرستی میں نام نہاد کرزئی حکومت کی آڑ میں پاکستان کے قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں تخریبی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ بھارتی لابی بین الاقوامی پریس میں زہریلا پروپیگنڈہ کر رہی ہے۔ راہول گاندھی برملا پاکستان کے اندر جاری تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے (خدانخواستہ) کرنے کے منصوبے کا اظہار کرتے چلا آ رہا ہے۔ آج کل بھارت کی آبی جارحیت کے حوالے سے اگر جائزہ لیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ پاکستان کی حکومتوں نے سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے کیلئے متبادل انتظامات نہیں کیے۔ نقصان کو کم سے کم کرنے کے حوالے سے کئی کمیشن قائم کئے گئے۔ 2010ء کے تباہ کن سیلاب پر ہائی کورٹ لاہور کے جج جناب منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن تشکیل دیا۔ اس کمیشن کے باقی دو ممبروں میں ایک جناب شاکر اللہ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے شعبہ سول انجینئر کے ڈین اور دوسرے واپڈا کے ایک ممبر پر مشتمل تھا۔ یہ کمیشن حکومت پنجاب نے بنایا تھا جس نے بڑی محنت اور جاں فشانی سے ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کرکے حکومت کو پیش کی جس میں سیلاب سے ہونیوالے مالی و جانی نقصان کے ذمہ داروں کا تعین کیا گیا یہ رپورٹ 30 ہزار صفحات پر مشتمل ہے اس رپورٹ میں تباہی کا ذمہ دار ’’رب نواز‘‘ سیکرٹری اری گیشن کو قرار دیا گیا تھا۔ رب نواز کا محاسبہ کرنے کی بجائے اسے انرجی کمیشن کا چیئرمین بنا دیا۔ رب نواز یہاں بھی ناکام ہوگیا تو اسے وزیراعظم نواز شریف کے ایڈیشنل سیکرٹری فواد حسین فواد نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اہم پوسٹ پر لگا دیا۔ آپ جانتے ہیںکہ اس پروگرام میں اربوں روپے خرچ کرنے ہوتے ہیں۔ پنجاب میں شہباز شریف چھ مرتبہ چیف منسٹر بنے اور سب جانتے ہیںکہ چیف منسٹر شہباز شریف تمام محکموں پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔ انکی شہرت بھی یہ ہے کہ وہ بہت متحرک وزیراعلیٰ ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اربوں کھربوںکے نقصان اور سینکڑوں انسانوں کی جانوں کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی نہیں ہوئی۔ پھر نہ صرف یہ کہ کوئی کارروائی نہیں ہوئی ذمہ دار افسران کو ترقیاں دی گئی ہیں۔ کمیشن نے 2010ء میں ہی اپنی رپورٹ مکمل کرکے پنجاب حکومت کے سپرد کر دی تھی۔ پنجاب حکومت کے چیف منسٹر شہباز شریف نے اس پر کوئی توجہ نہ دی۔ اب 2014ء میں جو سیلاب آیا اسکی صفائی میں رانا ثناء اللہ سابق وزیر داخلہ و قانون پنجاب نے جسٹس منصور علی شاہ کمیشن رپورٹ کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ رپورٹ کا جائزہ لینے کیلئے ایک کمیٹی بنائی تھی اس کمیٹی نے رپورٹ کو مسترد کر دیا تھا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کمیٹی سینئر وزیر کھوسہ صاحب کی سربراہی میں بنی تھی۔ رانا ثناء اللہ کے اس بیان پر جب شور مچا اور معاملہ ہائی کورٹ چلا گیا تو رانا ثناء اللہ نے پھر جھوٹ بولا کہ ہم نے کمیشن کی رپورٹ پر لفظ بہ لفظ عمل کیا ہے اور ذمہ داروں کیخلاف ایف آئی آر بھی درج کرائی تھی۔ جس کا نمبر میں بعد میں دے دوں گا۔ حالانکہ ہماری اطلاع کیمطابق کمیشن کی اس رپورٹ میں ’’رب نواز‘‘ کو نامزد کیا گیا تھا۔ 1992ء میں جو بڑا تباہ کن سیلاب آیا تھا، جس کے نتیجے میںجہلم شہر میں تباہی مچی تھی اس پر بھی ایک کمیشن بنا تھا جس کی رپورٹ پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا۔ چند روز پہلے وزیراعظم نواز شریف نے نریندر مودی کو آموں کی پیٹیاں اور خوبصورت ساڑھیوں کا تحفہ روانہ کیا اور نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے سیلاب زدگان کی تباہی اور بربادی پر دکھ کا اظہار کیا۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ پتہ نہیں کہ اچانک اتنا زیادہ پانی کہاں سے آگیا؟ ہمیں تو سمجھ ہی نہیں آئی حالانکہ محکمہ موسمیات نے 6اگست کو مطلع کر دیا تھا جبکہ اخبارات اور میڈیا پر خبریں نشر ہوتی رہی ہیں۔ بھارت کی پاکستان دشمن پالیسیوں میں ذرا برابر فرق نہیں آیا اور وہ مسلسل جارحانہ انداز اختیار کئے ہوئے ہے۔ پچھلے دنوں جب نواز شریف نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرنے دہلی گئے تھے جوکہ ایک رسمی ملاقات تھی تو اس تقریب میں سُجاتا سنگھ سیکرٹری وزارت خارجہ نے منسٹر سُشما سوراج کے ذریعے نریندر مودی کو ایک دستاویز پکڑائی کہ وزیراعظم نواز شریف اعتماد کی بحالی کیلئے ان تجاویز پر عمل کریں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سرتاج عزیز جو وزیراعظم کے مشیر خارجہ امور ہیں اُن تمام متنازعہ نکات پر مشتمل ایک دستاویز اپنے پاس تیار رکھتے جو جواب میں یہ کہہ کر نریندر مودی کے حوالے کر دی جاتی کہ آپ بھی اعتماد کی بحالی کیلئے ہماری معروضات پر غور فرمائیں۔اگر توقع کے برخلاف ایسا ہو تو اسی وقت لکھ کر وزیراعظم کو کہتے کہ مودی کو دے دیں لیکن افسوس ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اسکے برعکس بھارت کے بدنام زمانہ مسلمان دشمن وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ پاکستان کا وزیراعظم خوشامد کرتا نظر آیا۔
 بھارت کی آبی جارحیت 2014ء کے اس تباہ کن سیلاب کے بعد کوئی گنجائیش باقی نہیں کہ حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب غفلت اور سستی کا مظاہرہ کرتی۔ آبی جارحیت پر تو سب سے پہلے بھارت کی شدید الفاظ میں مذمت اور احتجاج کرنا چاہیے اور سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد کیلئے زور دینے کی ضرورت ہے اسکے بعد آبی گزر گاہوں کو گہرا اور درست کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات پر بڑی بڑی جھیلیں بنانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ لاکھوں کیوسک پانی جو پاکستان میںتباہی مچاتا اور سینکڑوں انسانوں کی زندگیوں سے کھیلتا ہوا سمندر میں جا گرتا ہے اس پانی کو محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ اس پانی سے بے تحاشہ زرعی اجناس کی پیداوار بھی حاصل ہوسکتی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حکمران مگرمچھ کے آنسو بہانے کی بجائے جنگی بنیادوںپر اس مسئلے کا مستقل حل نکالیں اور ملک میں چھوٹے بڑے ڈیم بنانے پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کریں۔