بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے

کالم نگار  |  خالد محمود ہاشمی
بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے

اسلامی جمہوریہ پاکستان کو دھرنوں اور جلسوں سے اتنا خطرہ نہیں جتنا اس کی چار دیواری اور اسکے باہر کھلے اور چپھے دشمنوں سے ہے آپریشن ضرب عضب چار دیواری میں موجود دشمنوں کے خلاف جاری ہے لیکن دشمن ملک کے کونے کونے میں پھیلے اور چھپے ہوئے ہیں دشمنوں کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے بھی دشمن ہی ہوتے ہیں کوئٹہ میں خود کش حملے نئی بات نہیں بھارت بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کی سازش پر 60برس سے عمل پیرا ہے گوادر پورٹ اسی دشمن کی آنکھ میں کھٹک رہی ہے ملکتی باہنی کو فیڈر پلانے والے اب بلوچ لبریشن آرمی کے منہ سے فیڈر لگائے ہوئے ہیں بھارتی واقعات ایجنسیاں بلوچستان کو ٹارگٹ بنا کر پاکستان کو معاشی و سیاسی طور پر کمزور کرنا چاہتی ہیں تو اثر سے ہزارہ برادری کو ٹارگٹ بنایا جا رہا ہے مولانا فضل الرحمن خود کش حملے میں بال بال بچے ہیں دہشت گردی کی اتنی کارروائیوں سے واضح ہے کہ دہشت گرد از سر نو اپنی صفوں کو منظم کر رہے ہیں کوئٹہ میں فرقہ وارانہ قتل و غارت گری برسوں سے جاری ہے اس ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ایک فرقہ دوسرے فرقے کے افراد کو واجب القتل تصور کرتا ہے ایسی انتہا پسندانہ سوچ اسلام کے مبادیات سے کوسوں دور دکھائی دیتی ہے۔
 بلوچستان میں شیعہ سنی اختلافات قومی یکجہتی کے لئے سخت نقصان دہ ہیں حب میں سکران کے مقام پر 9مزدوروں کو محض پنجابی ہونے کی بنا پر اغوا کر کے گولی مار دی گئی۔ایسے واقعات صوبائی عصبیت کو بھڑکا کر صوبوں کے درمیان کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔ ادھر وفاقی وزراء کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان اٹھ چکے ہیں خواجہ سعد رفیق کو سیاسی امور کا قلم دان مل جائے تو وہ زیادہ متحرک ہو سکتے ہیں۔ ریلوے میں ان کی دلچسپی برائے نام دکھائی دیتی ہے عوام کو بھی صرف خواجہ آصف، اسحاق ڈار، احسن اقبال، پرویز رشید اور سعد رفیق کا پتہ ہے کہ وہ وفاقی وزراء ہیں اس لئے کہ الیکٹرانک میڈیا پر اکثر وہ ہی دکھائی دیتے ہیں باقی وزراء تو اپنے ووٹروں اور عوام کے لئے گمنام ہں وزیر اعظم کو اب فرصت ملی ہے کہ وفاقی کابینہ کی کارکردگی پر نظر ڈال سکیں طاہر القادری کا دھرنا ختم ہونے سے ان کے آدھے سرکا درد دور ہو چکا ہے عمران خان کا دھرنا ختم ہونے کے بعد انہیں صحت کا ملہ نصیب ہو جائے گی طاہر القادری کی شخصیت اب ایک معمہ بن چکی ہے بہتر تھا کہ وہ دینی شخصیت کے طور پر ملک کے طول و عرض کے لوگوں کے دلوں میں بس جاتے طاہر القادری سے وہ ڈاکٹر پھر پروفیسر اسکے بعد علامہ اور بالآخر شیخ الاسلام بنے اور عقیدت مندوں سے خود کو قبلہ اور حضور کہلوانے لگے لیکن اللہ جسے عزت دے پھر سیاست نے ان کا گراف گرانا شروع کیا تو سب القابات غائب ہونا شروع ہو گئے شیخ الاسلام سے گر کر علامہ پھر قادری اور اسکے بعد قادری اور مداری کے القابات حضرت کا پیچھا کرنے لگے مجھے 1982ء کا وہ وقت یاد ہے جب کراچی میں طارق روڈ کی مسجد طاہر القادری کا خطاب سننے کے لئے کچھا کچھ بھری ہوئی تھی ٹی وی پر ان کا درس بڑے شوق اور انہماک سے سنا جاتا تھا بھارت میں وہ ڈاکٹر ذاکر نائیک جیسے بڑے بڑے اجتماعات سے خطاب کرتے تھے سیاست کی دلدل میں اترنے سے لوگوں نے بالعموم ان کا نام بھی ادب سے لینا چھوڑ دیا یہ بات ایک مستند عالم دین کی شان کے خلاف ہے کہ مخالفین اس کے نام رکھیں کسی نے کہا یہ مسلمانوں کے جے سالک ہے تو کسی نے پادری کہہ کر پکارا اور کل کے سیاسی بچے مداری کہنے لگے، دور حاضر کا بھی المیہ یہی ہے کہ کرپشن پر اصرار ہے اور قانون کی حکمرانی اور آئین کی عملداری سے فرار ہے اس وقت نواز شریف آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن یکجا ہیں سراج الحق اسفندیارولی اور الطاف حسین بھی ان سے جدا نہیں مستقبل کا الیکشن 2015ء میں ہو یا 2018ء میں نتائج زیادہ حیران کن نہیں ہوں گے شطرنج کے مہروں کی طرح سیاست کے مہرے بدلتے رہتے ہیں۔ نواز شریف نے وزراء سے کہا تھا اپنی کارکردگی مثالی بنائیں خواجہ آصف کی مثالی کارکردگی سامنے آ چکی ہے کیا بجلی کے 70ارب روپے کے اضافی بل نہیں بھیجے گئے؟ بجلی کا کون سا صارف ایسا ہو گا جسے زائد بلنگ کی شکایت نہیں بلوں میں زیادہ یونٹ دکھانے کی شکایت تو عام ہے کیا زائد بلنگ صارفین کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف نہیں؟ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے پانچ سو ارب روپے کی گردشی قرضے ادا کرنے کے باوجود لوڈ شیڈنگ موسم گرما ختم ہونے کے باوجود آج بھی جوں کی توں ہے خواجہ آصف کے نزدیک ہم موجودہ وسائل سے ہی بیس اکیس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کر سکتے ہیں مگر ٹرانسمیشن لائنوں کی فرسودگی کے سبب اس بجلی کی ترسیل ممکن نہیں اگر ایسا ہے تو نئے منصوبوں سے بجلی پیدا کرنے کی بجائے ترسیل کے نظام کو کیوں نہیں بدلا جا رہا اس وقت تو سب سے بڑا مسئلہ بجلی ہے جس کے بارے میں عوام کے سامنے کوئی واضح پروگرام اور ٹائم ٹیبل نہیں دھرنے ختم بھی ہو جائیں تب بھی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشانات اٹھنے بند نہیں ہوں گے روٹی کی قیمت 10روپے ہو چکی ہے آنے والے دور میں یہ قیمت اوپر ہی جائے گی کیا سارا ملک چند مفت دستر خوانوں سے روٹی کھائے گا؟ مخالفین کی ناکامی کو کامیابی سمجھنے والے حکمران اور ان کے حواری زمینی حقائق اور سچ کو تلاش کریں رات دن آئین اور جمہوریت کی بالا دستی کا سبق پڑھانے کی ضرورت نہیں ایک طرف سرحدوں پر بھارتی فوج کی طرف سے چھیڑ چھاڑ ہے تو دوسری جانب پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے تیسرا محاذ بلوچستان میں کالعدم جند اللہ اور بی ایل اے نے کھول رکھا ہے افغانستان اور ایران کے ساتھ بھی تعلقات مثالی نہیں ہیں سیاست یہ ہے کہ قومی ایشوز پر بات کی جائے خیالات میں ہم آہنگی پیدا کی جائے۔
 حکومت کا سارا زور ٹیکسوں پر ہے ٹیکس کا گوشوارہ پر کرنا مشکل ترین کام ہے یہ گوشوارہ کوئی بڑے سے بڑا وزیر بھی پر نہیں کر سکتا ٹیکس گزاروں کو اتنی مشکل میں ڈالنے کی کیا ضرورت ہے دن رات پولیس گردی اور چالانوں کا نشان غریب ہی تو بنتے ہیں پولیس کے ناکوں پر رات کے اندھیروں میں رشوت بھتہ خوری نہیں تو اور کیا ہے پنجاب کے 529کالجوں میں لیکچررز کی 4500اسامیاں خالی ہیں انہیں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پر کرنے کی بجائے عارضی سی ٹی آئز (CTIS)کی 9ماہ کے لئے بھرتی کر کے کام چلایا جا رہا ہے پہلے کالج ٹیچرز انٹرنی کا معاوضہ 15ہزار ماہانہ تھا اس سال سے 30ہزار کر دیا گیا ہے حکومت کی ترجیحات ڈینگی پولیو اور لیپ ٹاپ کی تقسیم ہے ملک کو انتخابی اور اکنامک اصلاحات کی ضرورت ہے۔