میں نے دھرنے میں کیا دیکھا

کالم نگار  |  محمد اسلم خان....چوپال
میں نے دھرنے میں کیا دیکھا

پورے جاہ و جلال سے پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر طلوع ہو رہے ہیں۔ شیخ الحدیث علامہ خادم حسین رضوی سوادِ اعظم اہلسنت و الجماعت کے متفقہ اور واحد رہبر بن کر ابھرے ہیں۔ وہ فاتح بن کر کامیاب و کامران لوٹ رہے ہیں۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ اور حکومت میں معاہدے کے بعد زاہد حامد مستعفی ہو گئے ہیں۔ کامل 22 دن بعد دھرنا اپنے اہداف حاصل کر کے کامیابی سے ختم ہو گیا۔ انجام بخیر ہوا تو سب اچھا ہو گیا۔ اب فوج کی ثالثی پر طعن توڑے جا رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کے بلانے پر فوج کیا کرتی۔ یہ آسان بات "روشن خیالوں اور بدحالوں" کو سمجھ نہیں آ رہی' جو فتنہ و فساد چاہتے تھے سر پکڑے بیٹھے ہیں۔ اس دوران 8 دن دورہ چین کی نذر ہو گئے اس لئے دھرنے کے قصے کہانیاں دور سے دیکھنے اور سننے کا شرف حاصل رہا خاص طور پر شیخ الحدیث مولانا خادم حسین رضوی کے آتشیں خطابات سوشل میڈیا کے ذریعے سنتا رہا اور سر دھنتا رہا کہ میڈیا پر اجارہ داری رکھنے والوں نے طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اتنے بڑے دوررس نتائج کے حامل سیاسی اور دینی مظاہرے کا غیر اعلانیہ بائیکاٹ کئے رکھا۔ اتوار کی شام دینی و سیاسی جماعتوں پر اتھارٹی رکھنے والے جہانگیر منہاس سے درخواست کی کہ دھرنا کا دورہ ہی کرا دو تو بعض شرائط منوانے کے بعد عزیزم منہاس آمادہ ہو گیا۔ دیرینہ کرم فرما اظہر جتوئی کے ہمراہ ٹیکسی والے کو فیض آباد چوراہے تک لے جانے پر تیار کرنے میں خاصی دقت ہوئی لیکن نوجوان ڈرائیور ہمارے پیہم اصرار پر چار و ناچار آمادہ ہو گیا ائیرپورٹ چوک عبور کرتے ہی تحریک لبیک کے نوجوان اور پرجوش کارکن ہاتھوں میں ڈنڈے لئے چوکیاں قائم کر کے ٹریفک روک رہے تھے‘ تلاشیاں اور جانچ پڑتال کر رہے تھے۔ فیض آباد چوراہے تک 6 مقامات پر ہمیں بھی روکا گیا لیکن جہانگیر منہاس ہر بار انچارج کو ایک طرف لے جا کر کان میں کچھ کہتا اور اپنا خصوصی اجازت نامہ دکھاتا اور ساری رکاوٹیں چشم زدن میں ختم ہو جاتیں اور اس طرح ہم تمام رکاوٹیں ایک ایک عبور کر کے فیض آباد پل کے نیچے پہنچ گئے جہاں دھرنا جاری تھا اور لبیک یارسول اللہ کی صدائیں چہار سُو گونج رہی تھیں دیواروں جیسے پشتوں کے ذریعے اوپر چڑھنا تھا جہانگیر اپنے باپو 'کی وجہ سے' پریشان تھا کہ یہ کالم نگار اس عمودی دیوار پر کیسے چڑھے گا ماضی کی یادوں نے بھولا سبق یاد دلایا کہ ترچھا چلتے چلتے مضبوطی سے قدم جماتے بلندیاں سر کی جاتی تھیں اور وہی مشق کرتے کرتے ماضی کی یادوں میں کھو کر پل پر جا پہنچا چند لمحوں کا سفر ماضی کی یاد نے آسان بنا دیا۔ وہاں سارے چہرے منہاس کے جانے پہچانے تھے ایک شہید ختم نبوت کی نماز جنازہ ادا کی جا رہی تھی اور پھر تحریک لبیک یارسول اللہ کے امیر المجاہدین شیخ الحدیث مولانا خادم حسین رضوی کی آمد کی چہ مگوئیاں شروع ہوئیں اور وہ عشاق کے ہجوم میں گھرے وہیل چیئر پر تشریف لائے جہانگیر نے ان کے ایک مصاحب سے تعارف کرایا تو اس نوجوان نے بڑے تپاک سے استقبال کیا اور انتظار کرنے کی درخواست کی اسی اثناء میں اپنے ہم دم دیرینہ سابق طالب علم رہنما' ہیلے کالج سٹوڈنٹس یونین کے صدر شاہد شاہ گیلانی دکھائی دیئے۔ جماعت اسلامی' شباب ملی سے ہوتے ہوئے تحریک انصاف کے ہجوم میں شناخت کے بحران میں مبتلا ہیں ہمیشہ سے یکسوئی کی نعمت سے دست کش رہے ہیں اب سیاسی بقا کے لئے ادھر ادھر دیکھتے رہتے ہیں۔ ماہر تعلیم ہیں کالم نگار ہیں اور سیاسی رضاکار ہیں اب شائد مسافر تحریک لبیک کے پڑاؤ پر قیام کرے گا اسی سوچ و بچار میں گم تھا کہ نوجوان آیا اور اس کالم نگار کو ہاتھ سے پکڑ کر ''امیرالمجاہدین'' کے قریب لے گیا جن کے ایک اشارے پر راستہ مل گیا 22 دنوں سے ختم نبوت کے تحفظ میں مصروف کار اس معذور بزرگ کے ہاتھوں کو بوسہ دیا کالم نگار نے تعارف کرانے کی کوشش کی تو ہاتھ اُٹھا کر فرمایا سب جانتا ہوں اسلم خاں صاحب چین سے کب واپسی ہوئی، سب پڑھتا رہتا ہوں آپ کے لئے دعاگو ہوں ایک نوجوان نے مداخلت کرتے ہوئے بتایا کہ جاوید لطیف ایم این اے نے شیخوپورہ سے 26 کارکنوں کو اُٹھوا لیا ہے اور سارے پنجاب میں چھوٹے بڑے تمام شہروں اور قصبوں میں پولیس سے جھڑپیں جاری ہیں۔ رضوی صاحب فرمانے لگے اس ظلم کا ردعمل بھی ہو گا اور حالات بے قابو ہو جائیں گے وہ ساڑھے چار بجے پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے تھے اس کے چیدہ نکات بتا رہے تھے کہ سرکاری ذرائع ابلاغ خاص طور پر پی ٹی وی ان کے بارے میں بے بنیاد افواہیں پھیلا رہا ہے۔ رضوی صاحب نے بتایا کہ ہم نے وزیراعظم اور کابینہ کے استعفیٰ کا مطالبہ نہیں کیا لیکن یہ جھوٹ تحریک لبیک یارسول اللہ کی قیادت سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ وہ میڈیا کی چیرہ دستیوں، خاص طور پر جنگ جو میڈیا گروپ میں جاری سازشوں سے بخوبی آگاہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ میری صرف ایک شرط ہے کہ مذاکرات کار وفاقی وزیر قانون کا استعفی لے کر آئیں ہم بات چیت کے لئے تیار ہیں۔ اسی دوران کسی نوجوان نے ان کے کان میں سرگوشی کی تو انہوں نے پریس کانفرنس دو گھنٹہ تاخیر سے 6 بجے کرنے کا اعلان کروانے کی ہدایت دی۔ اس کالم نگار نے اجازت چاہی تو جلد دوبارہ ملنے اور گپ شپ کرنے کی یاد دہانی کرائی۔ سٹیج سے مختلف گم شدہ چیزوں کے ملنے اور کھونے کے اعلانات ہو رہے تھے۔ ہمارے میزبان تواضع پر اصرار کر رہے تھے وہاں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں تھی ڈرائی فروٹ وافر موجود، مرغ پلاؤ تقسیم ہو رہا تھا۔ میرے انکار کے باوجود اوّل درجے کی خشک کھجوروں کا ڈبہ پکڑا دیا گیا۔ وہاں آنسو گیس کے ہزاروں شیل دو بڑے بوروں میں پڑے تھے جو ایک دن پہلے عشاق کے اس ہجوم بے کراں پر برسائے گئے تھے جن کی بو اب تک محسوس ہو رہی تھی۔ اس دھرنے نے بے نقاب کر دیا۔

پروفیسر احسن اقبال کی عقل و دانش بیج چوراہے "رْل" گئی۔ موقف بدلتے رہے اور اپنے پیش رو چودھری نثار علی خان سے الجھ بیٹھے۔ سابق وزیر داخلہ چودھری نثار کا پیمانہ صبر جواب دے گیا وہ وزیر داخلہ احسن اقبال پر پھٹ پڑے کہ یہ وہی شخص ہے جس نے کہا تھا کہ تین گھنٹے میں دھرنا کلیئر کرا دوں گا اور اب آپریشن کا بوجھ عدالت پر ڈال رہا ہے۔ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ احسن اقبال کے عہدے کا تقاضا تھا کہ آپریشن پر بہانے بنانے کی بجائے اپنی انتظامیہ کے ساتھ کھڑے ہوتا، یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ ملک کا وزیر داخلہ اتنا بے خبر اور غیر ذمہ دار ہے۔
احسن اقبال اپنی نااہلی چھپانے کے لیے بے سروپا بیانات سے گریز کریں۔ اپنے گھر پر حملے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ میرے گھر میں کوئی ہلاکت تو درکنار کوئی شخص زخمی تک نہیں ہوا اور یہ کہ میں تو کئی دنوں سے اسلام آباد میں ہوں تو بکتر بند میں کیسے پہنچ گیا۔ یہ آرمی چیف تھے جنہوں نے برملا مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل ڈھونڈنے پر زور دیا جس پر سافمائی بے لگام حلقوں میں آگ لگی ہوئی ہے ورنہ میرے پیارے دوست وزیر داخلہ احسن اقبال سنجیدگی سے سمجھتے تھے کہ آئی 9 کا مقامی تھانیدار اس دھرنے کو قابو کرنے کے لئے کافی ہے۔ جب حالات قابو سے باہر ہونے لگے تو چہرے پر اڑتی ہوائیوں کے ساتھ احسن اقبال پردہ سکرین پر نمودار ہوتے اور روزانہ ایک نئی کہانی سنا کر دل بہلاتے رہے۔ اتوار کی شام جب یہ کالم نگار دینی جماعتوں کی دو دہائیوں سے رپورٹنگ کرنے والے عزیزم جہانگیر منہاس کے ہمراہ دھرنے کے مرکز و محور تک پہنچا تو علامہ رضوی صاحب نے بتایا کہ ہمارا مطالبہ صرف وفاقی وزیر قانون کے فوری استعفیٰ اور راجہ ظفر الحق کمیٹی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا ہے۔ کابینہ اور ناقص وزیراعظم کا استعفیٰ ہم نے کیا کرنا ہے اور یہ بھی کیا عجب منظر ہے جمہوری حکومت کے بند کرائے گئے نجی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کو فوج کھلوا رہی ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مداخلت پر انہیں 'آن ائیر'کیا گیا کہ جمہوری حکومت کی بلاجواز اور غیر قانونی پابندیوں کی وجہ سے سارا پاکستان افواہوں کی لپیٹ میں تھا۔
شیخوپورہ میں مشتعل ہجوم سوئی گیس سے خصوصی تعلق خاطر رکھنے والے لیگی رہنما جاوید لطیف کی پٹائی کر رہا تھا ہنگامے سارے ملک میں پھیل رہے تھے اور وزیر داخلہ راولپنڈی اور اسلام آباد حدود کا تعین کر رہا تھا سورج غروب تھا اور اس کے ساتھ ساتھ جمہوری حکومت کا جاہ و جلال بھی خاک بسر ہو چکا تھا۔ دھرنا جاری تھا اور لبیک یا رسول اللہ کی صدائیں چاروں گونج رہی تھیں۔