یوم تکبیر اور مجید نظامی

کالم نگار  |  عزیز ظفر آزاد
یوم تکبیر اور مجید نظامی

دور حاضر میں مسلم امہ کی بدحالی و زوالی کیفیات اس امر کی دلیل ہے کہ اب مسلمانوں نے تدبر و تفکر کو ترک کر دیا ۔آزمائشوں سے گریزاں آسائشوں کی الائشوں میں مبتلا مسلم دنیا ذلت و پسپائی کی اتھاہ گہرائیوں میں جا چکی ہے ۔ خدا بزرگ و برتر نے بے تحاشا دولت معدنی وسائل اور جغرافیائی اہمیت و حیثیت کے مقامات سے نوازا مگر 58اسلامی ممالک میں کوئی نامور تعلیمی ادارہ ہے نہ تحقیق و تخلیق کی جانب توجہ ۔جو صاحب علم لوگ ہیں انکی قدردانی غیر مسلم ممالک کرکے اپنے مفاد میں استعمال کر رہے ہیں ۔ایسا ہی ایک فرزند اسلام ہالینڈ میں مٹیالوجسٹ مسلمان کی غیرت نے جوش مارا تو اس نے پاکستان کے وزیر اعظم کو خط لکھا کہ میں پاکستان کیلئے ایٹمی قوت فراہم کرنے کی قابلیت رکھتاہوں جس پر وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کے اس بیٹے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا موقع فراہم کیا ۔ یہ وقت تھا جب دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست پاکستان کو اکھنڈ بھارت کے پجاریوں نے دو لخت کر دیا تھا ۔ قوم شکستہ دلی کا شکار تھی ۔1974ء میں بھارت میں زیر زمین ایٹمی دھماکہ کی خبریں عام تھیں ۔بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت نہرو 1954ء میں ہی بھارت کو جوہری قوت بنانے کیلئے ایک ایٹمی سائنٹسٹ پی ایس گل کی خدمات حاصل کر چکے تھے اسی لئے 1968میں جوہری عدم پھیلائو کے بین الاقوامی معاہدے پر دستخط نہیں کئے ۔    
بھارت ہم پر تین جنگیں مسلط کر چکا تھا ۔ پاکستان کے پاس بقا سلامتی کیلئے اسکے سوا کوئی راستہ نہ تھا کہ ہر قیمت پر جوہری ہتھیار تیار کئے جائیں لہذا وزیر اعظم بھٹو نے کہا کہ گھاس کھا کر گزارہ کرینگے مگر ایٹم بم ضرور بنائینگے ۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی صورت میں ایٹمی سائنسدانوں کی ایک سنجیدہ ٹیم اپنے کام میں جتی رہی دوسری جانب بھارت اسلحے کے انبار لگاتا رہا ۔میزائل ٹیکنالوجی بھی حاصل کی ۔3جون 94ء بھارت نے درمیانی رینج والے میزائل پرتھوی کا تجربہ کیا جو پاکستان کے ہرشہر تک ہتھیار پہنچا سکے ۔جون 97ء میں بھارت نے اپنے میزائل کا رخ پاکستان کی سرحدوں کی جانب موڑ دیا ۔11سے 13مئی 1998میں پوکھران راجھستان میں بی جی پی کی انتہا پسند حکومت نے ایٹمی دھماکے کئے پھر کیا تھا تمام بین الاقوامی اصول قانون اور سفارت کاری کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے کی دھمکی دی ۔یہ وقت ملت پاکستانیہ پر بڑا ہی کٹھن اور صبر آزماوقت تھا ۔ عالمی ادارے بھارت کی مذمت کر رہے تھے نہ بھارتی حکمرانوں کی ہرزہ سرائی پر ملامت کرنے کو تیار تھے ۔ قوم مایوسی بددلی کی کیفیات کے عالم میں تھی ایسے میں سخت ردعمل کی ضرورت تھی تاکہ قومی زندگی میں جرأت و مقابلے کی رو ح پھونک سکیں۔بھارت کیخلاف واویلا کرنے یا اقوام متحدہ سے امن کی بھیک مانگنے سے پاکستان کا اپنے پائوں پر کھڑا رہنا ممکن نہ تھا لہذا اگر ٹیپو سلطان کے سنہری اصول پر عمل کرتے ہوئے (شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے) باہم قومی مشاورت کے بعد 28مئی کو چاغی کے پہاڑوں سے نعرہ تکبیر کی وہ صدا گونجی جس نے بیک وقت بھارتی مکاروں اور چاغی کے پہاڑوں کے رنگ زر د کر ڈالے ۔پاکستان کے بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں اور دھمکیوں کے جواب میں سات دھماکے کر دیے ۔ امریکی صدر کلنٹن فون کرتے اور واجپائی ہاتھ ملتے رہ گئے ۔ پاکستان کے ایٹمی دھماکے کی خبر سن کر پورے عالم اسلام میں خوشی اور اعتماد کی لہر دوڑ گئی ۔ خصوصا کشمیر اور فلسطین کے مجاہدین کے حوصلوں اور ولولوں کو چار چاند لگ گئے ۔ راقم کا یقین کامل ہے کہ ایٹمی دھماکوں کی پشت پر کھڑ ے نظریہ پاکستان کے سالار جرار عالی وقار جناب مجید نظامی کا جواں جذبے کا وہ نعرہ مستانہ تھا جو وہ وزیر اعظم نوازشریف کودھماکے کے فیصلے تک لے گیا ۔اس کا تذکرہ یوم تکبیر کے ہی ایک پروگرام میں جناب نظامی نے کیا۔
ڈاکٹر مجید نظامی نے بتایا کہ جب ایٹمی دھماکے ہو نے تھے تو میاں نوازشریف دھماکہ کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں تردد میں تھے اس دوران ایڈیٹروں کی ایک میٹنگ ہوئی اس میٹنگ میں اکثر حضرات نے دھماکہ نہ کرنے کا مشورہ دیا کہ اس صورت میں امریکہ یورپ ہمارے خلاف ہوجائیگا جب میری باری آئی تو میں نے کہا کہ آپ دھماکہ کر دیں ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کر دیگی میں آپ کا دھماکہ کر دوں گا ۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میری بات اثر کر گئی اسکے بعد محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان میرے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے کہ مجھے میاں صاحب کے گھر لے چلیں۔ میں انہیں میاں صاحب کے گھر لے گیا وہاں کیا میٹنگ ہوئی مجھے نہیں معلوم لیکن انکے آپس کے معاملات درست ہوگئے ۔28مئی کو میاں نوازشریف نے ایٹمی دھماکے کر دیے اور وہاں سے مجھے فون کیا کہ اب آپ کو میرا دھماکہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آپ کو مبارک ہو ہم نے ایٹمی دھماکہ کر دیا اور میں نے انہیں مبارکباد دی اور آج ایک بار پھر اس یوم فخر پر مبارکباد دیتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک یوم تکبیر کا تعلق ہے تو ایٹمی دھماکوں نے ہمارے دفاع کو ناقابل تسخیر بنادیا ۔ہمارے ایٹم بم اور میزائل قرآنی زبان میں ہمارے گھوڑے ہیں انہیں تیار رکھنے کا حکم دیا گیا میں اکثر کہتا ہوں کہ ہمارے یہ گھوڑے بھارتی کھوتوں سے کئی درج بہتر ہیں اگر بھارت کے ساتھ جنگ ہوئی تو انشاء اللہ ہم فتح یاب ہونگے ۔
قارئین کرام! جس قوم کے بزرگ اپنی قوم کی رہنمائی اس انداز سے کریں تو وہ قوم کبھی شکست نہیں کھا سکتی ۔ جناب نظامی کا یہ نعرہ میاں صاحب دھماکہ کر دو ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کر دیگی پاکستان کے ہر آنے والے حکمران کیلئے مشعل راہ ہونے کے ساتھ قوت فیصلہ کا باعث ثابت ہو گا ۔ ہر 28مئی قوم زندگی میں درست اور جرات مند فیصلے کرنے کی یاد تازہ کرتی رہے گی ۔