یوم تکبیر، استحکام پاکستان کادن

کالم نگار  |  شیخ قیصر محمود
یوم تکبیر، استحکام پاکستان کادن

میں نے ٹی وی آن کیا تو سی این این پر بھارت کے ایٹمی تجربات سے متعلق خبر نشر ہو رہی تھی۔ خبر سنتے ہی میں نے بے ساختہ کہا ’’یااللہ مدد‘‘۔ بھارت کے حکمران، سیاستدان اورعوام خوشی سے جھوم رہے تھے۔ انہوں نے اکھنڈ بھارت کانعرہ لگاتے ہوئے پاکستان کی سالمیت اور دوقومی نظریے کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا۔ ان کا لب ولہجہ غروراور دشمنی سے بھرپور تھا۔ بھارت کے حکمران اور سیاستدان شروع دن سے جنوبی ایشیاء میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں جوانشاء اللہ کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ ایٹمی تجربات نے بھارت کے ارباب اقتدار کوبلی سے عارضی طورپر شیر بنا دیا تھا۔ اس نازک صورتحال کے باوجود پاکستان کی قیادت اور قوم کے چہروں پراضطراب کے آثار تک نہیں تھے۔ پاکستان کے حکمرا ن اورعوام بھارت کی اجارہ داری کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ بھارتی دھماکوں کے بعدپاکستان کے پاس ایٹمی تجربات کے سوا دوسرا کوئی چارہ نہ تھا۔ امریکہ سمیت مقتدر قوتوں کوبھی اس بات کااحساس تھا کہ پاکستان بھارت کوجواب ضرور دے گا تاہم امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جاپان نے پاکستان کوایٹمی تجربات سے روکنے کیلئے دبائو سمیت ہرہتھکنڈہ استعمال کیا۔ قومی ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس بات کے گواہ ہیں کہ امریکی صدر بل کلنٹن نے دھماکے نہ کرنے کے عوض میاں نواز شریف کو سو ملین ڈالر خفیہ طور پر ان کے پرائیویٹ بینک اکائونٹ میں جمع کرانے کی آفر بھی کی تھی لیکن اس وقت اقتدار کے ایوانوں میں کوئی بزدل اور تنہا فوجی آمر نہیں بیٹھا تھا جو امریکہ سے آئی ایک فون کال پر ڈھیر ہو جاتا بلکہ میاں نوازشریف کی صورت میں عوام کا ایک مقبول اورمحبوب سیاستدان بیٹھا تھا۔ اس نے قومی سالمیت اورمفادات کی قیمت پر اپنا اقتدار بچانے اور مال بنانے کی بجائے بیرونی دبائو اوردھونس کو مسترد کردیا۔ ادھرقیادت سمیت ساری قوم ایٹمی تجربات کیلئے متحد اور متفق ہو چکی تھی۔ ایک عجیب جوش و جذبہ پیدا ہوچکا تھا جو اس قسم کے حالات کے دوران پاکستانی قوم کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ سب لوگ اس بات پرمتفق تھے کہ ہم پیٹ پر پتھر باندھنے کیلئے تیار ہیں لیکن بھارت کی بالادستی قبول نہیں کریں گے۔ میاں نواز شریف نے ہر قسم کا بیرونی دبائو مسترد کرتے ہوئے عوامی خواہشات اور زمینی حالات کی روشنی میںایٹمی دھماکے کر کے ملک کامستقبل محفوظ اور قوم کودنیا بھر میں سرخرو کر دیا۔ پاکستان کی تاریخ میں وہ ایک یاد گار لمحہ تھا، بھارت کی بالادستی کا خواب اس کے ساتھ ساتھ ملیامیٹ ہوگیا، اکھنڈ بھارت کا بھونڈا خیال۔ یہ ایٹمی پاکستان کی ہی برکت ہے کہ افغانستان میں اتحادی افواج اپنا گھنائونا کھیل کھیلنے کے باوجود پاکستان کیخلاف براہ راست کارروائی کرنے سے خوفزدہ ہیں ورنہ بھارت جیسے مکار دشمن کے ہوتے ہوئے پاکستان پرانتہائی آسانی سے جنگ مسلط کی جا سکتی تھی۔ میں پورے وثوق کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں کہ اگر ہم ایٹمی قوت نہ ہوتے توہمارا انجام بھی افغانستان اورعراق سے مختلف نہ ہوتا۔ انصاف کی بات تو یہ ہے کہ اس کا سارا کریڈٹ ذوالفقارعلی بھٹو سے میاں نوازشریف تک پاکستان کی سیاسی قیادت کو جاتا ہے۔ سابق صدر غلام اسحاق خان مرحوم، سابق صدر محمد رفیق تارڑ اور ڈاکٹرعبدالقدیر خان کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں۔
وہی قومیں تاریخ میں زندہ رہتی ہیں جو عزت سے جیتی اور غیرت سے مرتی ہیں۔ بقول ٹیپو سلطان شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔ الحمدللہ ہم مسلمان ہیں اورہمارا ہرایک فرددفاع وطن کیلئے شوق شہادت سے سرشار ہے۔ ہمیں قرآن مجید میں یہ بشارت دی گئی ہے کہ ہمارا ایک مومن سو کافروں پر بھاری پڑے گا۔ ہمارے ایک نعرہ تکبیرسے باطل کے ایوانوں پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے اور طاغوت کی فصیلوں میں شگاف پڑجاتا ہے۔ زندہ، آزاد اور نڈر قومیں اپنے قومی ہیروز کو یاد رکھتی ہیں اور اپنے قومی دن شایان شان طریقہ سے مناتی ہیں۔ یہ بات بھی طے ہے کہ کار ہائے نمایاں کی تحسین نئے منصوبوں اور کارناموں کی ترغیب دینے کے ساتھ ساتھ ان کیلئے راستہ بھی ہموار کرتی ہے۔ ایک ایسا ہی شاندار اور  یاد گار دن یوم تکبیر بھی ہے جو ہمیں خودداری، بہادری، آزادی اورعزت نفس سے معمور کرتا ہے۔ آئیں آج ہم یوم تکبیر اس تجدید عہد کے ساتھ منائیں کہ ملک بچانے کیلئے ہم اپنا تن من دھن نچھاور کر دیں گے۔