دھماکوں کا کریڈٹ

کالم نگار  |  نازیہ مصطفٰی
دھماکوں کا کریڈٹ

یہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے ضلع میں آنکھوں کو چندھیادینے والا ایک روشن اور گرم دن تھا۔اس ضلع میں ہر جانب پرندوں کی مشہور شکار گاہیں موجود ہیں، جہاں عرب دنیا سے شہزادے آتے اور جی بھر کر مختلف قیمتی پرندوں کا شکار کرتے تھے، لیکن یہ چمکتا دن پرندوں کے شکار کی دلفریب کہانیوں سے مزین دن نہیں تھا بلکہ یہ تو جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے شکاری کو منہ توڑ جواب دینے کا دن تھا۔ اُس روز ایک لاکھ آبادی والے علاقے تفتان سے ملحقہ تحصیل کے گرد پھیلے سیاہ گرینائٹ کے پہاڑ ایک نئی تاریخ کے گواہ بننے جارہے تھے۔ اِن پہاڑوں سے کچھ فاصلے پر ایک چھوٹی سی عمارت تھی، جس میںاُس روز غیر معمولی سرگرمیاں ہورہی تھیں اور عمارت پر لگے کیمرے گرینائٹ کے پہاڑوں کو مکمل فوکس کیے ہوئے تھے۔ یہاں جو لوگ اکٹھے ہوئے تھے، وہ ایک عظیم مقصد اور ایک بڑی کامیابی کیلئے جمع ہوئے تھے۔ جیسے ہی دوپہر کے تین بجے تو اس عمارت میں موجود تمام لوگوں کے چہرے دمکنے لگے تھے۔ ان لوگوں میں فوجی بھی تھے، انجینئرز بھی اور سائنسدان بھی شامل تھے۔ تیاریاں مکمل ہوچکیںتو یہ تمام لوگ آپریٹنگ مشینوں کے گرد اکٹھے ہوگئے، ٹیم کے ایک جونیئر اہلکار جوعمر میں اُن سب سے بڑے تھے، اُن سے کامیابی کی دعا کروائی گئی۔ رقت آمیز دعا کے بعد اُنہی سے بٹن دبانے کی استدعا کی گئی۔گھڑیوں پر سوا تین بجے اور معمر رکن اشارہ پاکر آگے بڑھا اور مختلف بٹنوں اور نابوں سے بھرے ڈیش بورڈپر لگا ایک بٹن اللہ کا نام لے کر دبادیا۔ بٹن دبانے سے لے کر بٹن دبانے کا نتیجہ نکلنے میں پندرہ سکینڈ کا وقفہ رکھا تھا،افواج پاکستان کی انجینئرنگ کور کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ذوالفقارعلی خان جو وہاں موجود تھے، کہتے ہیں کہ یہ پندرہ سکینڈ پندرہ صدیوں پر بھاری تھی، بٹن دبائے جانے کے بعد وہاں موجود تمام افراد کی نگاہیں سامنے گرینائٹ کے پہاڑوں پر لگ گئیں تھیں اور سکوت کی دبیز لہر میں اپنی تو اپنی دوسروں کے دلوںکی دھڑکنیں بھی سنی جاسکتی تھیں۔ پندرہ سکینڈ گزرے توپاؤں تلے زمین ہلنے لگی،یہ چار سے چھے درجے ریکٹر سکیل کا زلزلہ تھا، سامنے گرینائٹ کا پہاڑ لرز بھی رہا تھا اور رنگ بھی بدل رہا تھا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے گرینائٹ کے سیاہ پہاڑوں پر جیسے کسی نے سفیدی پھیر دی تھی، وہاں موجود تمام افراد نے اللہ کی بڑائی کا نعرہ بلند کیا۔ رنگ بدلتے چاغی کے پہاڑ دراصل پاکستان کے ناقابل تسخیر ہونے اور پہلی اسلامی جوہری قوت بننے کی گواہی دے رہے تھے۔ چاغی کی اس تجربہ گاہ میں موجود تمام افراد کی آنکھیں فرط جذبات سے چھلک رہی تھیں۔یہ 28 مئی 1998ء کا دن تھا، پاکستان کا ایٹمی تجربہ کامیاب رہا تھا اورپاکستان پہلی اسلامی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بن گیا تھا۔ جوہری سائنسدان بتاتے ہیں کہ’’ ہمارے سامنے موجود کالے رنگ کا مضبوط گرینائٹ پہاڑ پہلے گرے رنگ میں تبدیل ہوا پھر اس کا رنگ آف وائٹ ہو گیا، اس پہاڑ میں دس لاکھ سینٹی گریڈ کا درجہ حرارت پیدا ہوا، لیکن اِس کے باوجود کوئی نیوکلیئر تابکاری وہاں سے خارج نہ ہوئی ، یہ پاکستانی ایٹمی دھماکے کی سب سے اہم خصوصیت تھی۔‘‘
پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے سترہ سال بعد بھی یہ سوال اپنی جگہ پر قائم ہے کہ کیا پاکستان کو ایٹمی دھماکے کرنے چاہیے تھے یا نہیں؟ اس کا جواب کوئی اور دے یا نہ دے لیکن پاکستان میں گزشتہ سترہ سال کا گزرتا ایک ایک دن گواہی دے رہا ہے کہ دشمن کو پاکستان کا وجود ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ بھارت اپنے قیام سے ہی جنوبی ایشیا کا تھانیدار بننے کے خواب دیکھتا آرہا ہے۔عددی اعتبار سے دنیا کی تیسری بڑی زمینی فوج ، چوتھی بڑی فضائیہ اور پانچویں بڑی بحریہ رکھنے والا ملک 1974ء میں ہی ایٹمی تجربہ کر کے خطے میں ایٹمی اسلحہ کی دوڑ شروع کر چکا تھا، اس لیے مجبوراً پاکستان کو بھی اپنے دفاع کے لئے اس دوڑ میں شامل ہونا پڑا۔ پاکستان کی جانب سے ایٹمی دھماکوں کی ایک اوربڑی وجہ یہ تھی کہ پاکستان اپنے محدود وسائل کے باعث بھارت کے ساتھ روایتی ہتھیاروں کی دوڑ میں مقابلہ نہیں کر سکتا تھا اور بھارت ایٹمی قوت بننے سے قبل ہی متحدہ پاکستان پر جارحیت کرکے سانحہ مشرقی پاکستان کی صورت میں ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکا تھااور بھارت کے ایٹمی قوت بن جانے کے بعد تو خطہ میں طاقت کا توازن بری طرح بگڑ گیا تھا۔لیکن مئی 1998 میں ایک بار پھر ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد تو بھارت نے حد ہی کردی تھی ، بھارت میں ہر سطح پر پاکستان کے لئے دھمکی آمیز لہجے کا استعمال شروع ہو گیا تھا۔
اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے پاس ایٹمی صلاحیت مئی 1998 سے بہت پہلے سے موجود تھی، اور پاکستانی دھماکوں کے بغیر دونوں ملکوں میں ایک دفاعی توازن قائم تھا، لیکن بھارت کی طرف سے ایٹمی دھماکوں کے بعد یہ عدم توازن میں بدل گیا تھا۔ اگر بھارت ایٹمی دھماکے کر کے پاک بھارت دفاعی صلاحیتوں کا توازن خراب نہ کرتا تو پاکستان کو ایٹمی دھماکے کرنے کی کبھی ضرورت پیش نہ آتی۔ پاکستان کے ایٹمی دھماکے در اصل بھارتی ایٹمی دھماکوں کا ردعمل تھے،جس کا ایک واضح ثبوت یہ بھی ہے کہ مئی 1998ء کو بھارت نے اپنے ایٹمی دھماکوں کے بعد ہتک آمیز بیانات کا سلسلہ شروع کردیا تھا ۔ بھارت نے برملا کہنا شروع کردیا کہ بنگلہ دیش اور سری لنکا کی طرح پاکستان کے پاس ایٹمی صلاحیت ہے ہی نہیں۔ اس لیے پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیت اور دفاعی ساکھ برقرار رکھنے کیلئے ایٹمی دھماکے کرنا ضروری ہو گیا تھا، دوسری جانب پاکستان کی ایٹمی صلاحیت امن کے قیام میں بھی مدد گار ثابت ہوئی، پاکستان کی اِسی ایٹمی صلاحیت نے 2004ء میں سرحد پر فوجیں تعینات ہونے کے باوجود پاک بھارت جنگ کو روکا۔
لیفٹیننٹ جنرل ذوالفقار علی خان کے مطابق ’’امریکی افواج کے سربراہ جنرل زینی دھماکوں سے چند روز پہلے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت سے ملنے آئے۔ اس موقع پر ان کا رویہ بڑا ہی نا مناسب تھا، جنرل زینی نے کرسی پر بیٹھتے ہی کہا کہ اگر پاکستان نے نیو کلیئر ٹیسٹ کیا تو اسکے نتائج پاکستان کیلئے بہت بھیانک ہونگے، اس موقع پر شدید دباؤ ڈالنے کے بعد جنرل زینی نے اربوں ڈالر امداد کی پیش کش بھی کی،لیکن یہی جنرل زینی جب دھماکوں کے بعد 4 جون کو دوبارہ جنرل کرامت سے ملنے آئے تو وہ بالکل بدلے ہوئے تھے اور اس موقع پر جنرل زینی کا رویہ بڑا ہی باعزت اور برابری والا تھا۔‘‘ پاکستان کو ایٹمی دھماکوں سے روکنے کیلئے دشمن کس حد تک چلا گیا تھا اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ایٹمی دھماکوں سے چند دن پہلے پاکستان کی عسکری قیادت اور اُس وقت کے سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان اور سلمان بشیر پر مشتمل ایک ٹیم چینی حکام سے مشاورت کیلئے چین گئی۔ واپسی پر ایک جگہ جہاز میں سوار ہوتے ہوئے کسی اجنبی شخص نے سلمان بشیر کو ایک چٹ دی، جب وہ جہاز میں جا کر اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے، تو سلمان بشیر نے چٹ نکال کر پڑھی تو اس پر لکھا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ آپ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آ رہے ہیں، اگر آپ نے (ایٹمی دھماکے کی طرف) پیش رفت جاری رکھی تو ہم آپکا قیمہ بنا دینگے‘‘۔
قارئین کرام!! پاکستان کی مسلح افواج، سائنسدانوں، دفترخارجہ اور سیاست دانوں سمیت سارے طبقوں نے ایٹمی صلاحیت کے حصول کی حمایت کی اور اپنا ہر ممکن تعاون فراہم کیا ۔ پاکستان کی وہ تمام سیاسی جماعتیں جو آپس میں شدید اختلافات رکھتی تھیں، انہوں نے بھی جوہری پروگرام کو ہمیشہ بھرپور سپورٹ کیا۔ ذوالفقارعلی بھٹو سے لے کر ضیاء الحق تک اور بے نظیر بھٹو سے لے کر میاں نواز شریف تک جوہری صلاحیت میں سب کی خدمات قابل قدر رہیں، لیکن دھماکے کرنے کا کریڈٹ بلاشبہ وزیراعظم نواز شریف کو ہی جاتا ہے، لیکن بلاشبہ نواز شریف کو دھماکوں کی اہمیت سے آگاہ کرنے کرنے کا کریڈٹ جناب مجید نظامی کو بھی جاتا ہے، جنہوں نے واشگاف الفاظ میں وزیراعظم نواز شریف کو کہا تھا ’’میاں صاحب! دھماکے کرو نہیں تو قوم آپ کا دھماکہ کردے گی‘‘۔جناب مجید نظامی سے دھماکوں کا یہ کریڈٹ کوئی نہیں چھین سکتا۔