جب بیگم کلثوم نواز نے چاغی پر پرچم لہرایا…!

کالم نگار  |  اسرا ر بخاری
جب بیگم کلثوم نواز نے چاغی پر پرچم لہرایا…!

بیگم کلثوم نواز کا دورۂ چاغی اس لحاظ سے منفرد ہے کہ سینکڑوں کلومیٹر کا یہ سفر جہاں ایک عورت کے عزم و ہمت کی ولولہ انگیز داستان ہے وہیں یہ 12 اکتوبر 1999ء کے بعد مسلم لیگ کی بڑی سیاسی پیش رفت بھی تھی جس میں پنجاب انتظامیہ کی بے تدبیری نے اہم رول ادا کیا۔ لاہور سے ڈیرہ غازی خان تک پولیس اور ایلیٹ فورس کے ذریعہ جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر کے کارکنوں کے ساتھ ہاتھا پائی، دھکم پیل او ہلکے پھلکے لاٹھی چارج نے ایسی فضا پیدا کر دی کہ یوم تکبیر منانے چاغی جانیوالا یہ قافلہ ایک طویل سیاسی مظاہرہ بن گیا جس نے پورے دو دن پنجاب کے بڑے حصے میں ہلچل مچائے رکھی بڑے شہروں، قصبوں حتیٰ کہ چھوٹی چھوٹی آبادیوں میں بھی رکاوٹوں سے دور درختوں، چھتوں اور راستوں پر لوگ گھنٹوں کھڑے رہے۔ بیگم کلثوم نواز کے اس قافلے کو ’’کاروانِ تحفظ پاکستان‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ حکومتی رکاوٹیں، موسم کی سختیاں اور طویل فاصلے کا عصاب شکن احساس کوئی چیز اس قافلہ سخت جان کی راہ نہ روک سکی۔
بیگم کلثوم نواز کی جدوجہد کے دوران مشاہدہ کیا وہ مشاورت پر گہرا یقین رکھتی ہیں۔ ایک روز جاتی عمرہ کے ڈرائنگ روم میں کیپٹن صفدر، مریم نواز، سائرہ حسین نواز اور یہ ناچیز بھی موجود تھا۔ وہ آئندہ پروگرام کے حوالے سے گفتگو کر رہی تھیں میں نے عرض کیا 28 مئی کو یوم تکبیر آنے والا ہے اگر آپ چاغی تک سفر کر سکیں تو اس کے بہت گہرے سیاسی اثرات مرتب ہونگے۔ انہوں نے اس تجویز کو سراہا مگر کہا کہ وہ اس سلسلے میں اباجی (میاں شریف مرحوم) سے رہنمائی حاصل کرینگی۔ اگلے روز کیپٹن صفدر نے بتایا کہ بڑے میاں صاحب نے منظوری دے دی ہے میرا ہرگز دعویٰ نہیں کہ دورۂ چاغی کا واحد تجویز کنندہ میں ہوں یقیناً یہ خیال اور بھی ذہنوں میں کلبلایا ہوگا۔ بہرحال 26 مئی کو گیارہ بجے یہ قافلۂ سخت جاں بیگم کلثوم نواز کی قیادت میں ماڈل ٹاؤن سے روانہ ہوا۔ چودھری صفدر رحمان نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔ کیپٹن صفدر، بیگم تہمینہ دولتانہ، بیگم عشرت اشرف اور بیگم نجمہ حمید ان کے ساتھ بیٹھیں۔ (ن) لیگ کے لیڈروں میں سے بعض قصور تک، بعض بورے والا، وہاڑی اور ملتان تک گئے جبکہ مرد و خواتین کارکنوں کی بڑی تعداد آخر تک ساتھ رہی۔ نوازشریف سے گہری عقیدت رکھنے والے اور میرے پیارے بھائی عارف خان سندھیلہ چاغی تک گئے مسلسل سفر، رت جگے اور بے آرامی کارکنوں کے جوش و خروش کو مدہم نہ کر سکی۔ لاہور سے چاغی تک فضاؤں میں ’’قدم بڑھاؤ کلثوم نواز ہم تمہارے ساتھ ہیں، جیل کا پھاٹک ٹوٹے گا نوازشریف چھوٹے گا، آمریت مردہ باد، جمہوریت زندہ باد‘‘ کے فلگ شگاف نعرے گونجتے رہے۔
روانگی سے پہلے ماڈل ٹاؤن رہائش گاہ سے پہلے پولیس اور ایلیٹ فورس کی بھاری تعداد سے یہ گمان ہونے لگا تھا کہ قافلے کی روانگی ناممکن بنا دی جائے گی۔ بیگم کلثوم نواز کو نظر بندی‘ کارکنوں کو گرفتاریوں، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ خدشات کچھ بے بنیاد بھی نہ تھے۔
 ایک روز قبل ایک خاتون مجسٹریٹ نے انہیں یہ سفر ملتوی کرنے کا حکومتی پیغام پہنچایا اور راستے کی متوقع صعوبتوں سے ہراساں کرنے کی کوشش کی انکی گرفتاری کا فیصلہ کہا جاتا ہے بعض کور کمانڈروں کے عدم اتفاق کے باعث بدلنا پڑا۔ کوئی خوف، کوئی امکانی پریشانی سوئے منزل انکے قدم نہ روک سکی۔ لاہور سے سینکڑوں کلومیٹر دور چاغی تک 72 گھنٹے دن رات سفر کرنے کا ریکارڈ قائم کرنے والی وہ پہلی خاتون ہیں۔ ماڈل ٹاؤن سے قینچی، چونگی امرسدھو، مصطفی آباد اور قصور تک پولیس رکاوٹوں کو توڑ کر لوگ قافلے میں شریک اور استقبال کرتے رہے۔ پیر صابر شاہ، اقبال ظفر جھگڑا، خواجہ سعد رفیق، کراچی کی خاتون رہنما طوبیٰ درانی، ملک ریاض، شاہد بٹ بھی چاغی تک گئے قصور میں پولیس نے ہر اس ویگن بس اور سوزوکی کو شہر میں داخل ہونے سے روک دیا جس پر مسلم لیگ کا جھنڈا تھا لاٹھی چارج کے باوجود لوگ بڑی تعداد میں بیگم کلثوم نواز کی گاڑی کے نزدیک پہنچ گئے۔ لوگوں کو ڈنڈے مار کر بھگانے پر چودھری صفدر رحمان اور میاں عبدالمنان کی پولیس حکام سے تلخ کلامی ہو گئی۔ قصور میں موجودہ سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال اور ملک رشید نے بڑی تعداد میں کارکنوں کیساتھ استقبال کیا۔ قصور کے بعد فتح پور، کھڈیاں خاص اور تلونڈی میں بھی رکاوٹوں کے باوجود زبردست استقبال ہوا۔ تلونڈی میں خراب راستے کے باعث اڑتی دھول میں بڑی تعداد میں نوجوان دور تک قافلے کے ساتھ چلتے رہے۔ حجرہ شاہ مقیم میں گولے چلا کر استقبال کیا گیا۔ پاکپتن کے چوک جمال شاہ میں استقبال کا پروگرام نہ کرنے دیا گیا تو چوک حدے شاہ میں پروگرام بنایا گیا جہاں پولیس نے کارکنوں کی بڑی تعداد کو سڑک سے ملحقہ احاطے میں بند کر دیا مگر انکے نعروں کو بند نہ کیا جاسکا۔ بیگم کلثوم نواز کو علم ہوا تو وہ گاڑی سے اُتر کر احاطے کی طرف گئیں اور ان لوگوں کو رہا کرایا اور اس وقت تک موجود رہیں جب تک اسسٹنٹ کمشنر اور ایس ایس پی نے ان افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کا کیپٹن صفدر کو یقین نہیں دلا دیا ۔کارواں تحفظ پاکستان عارف والا پہنچا تو ارشد لودھی اور دیگر مقامی قائدین و لوگوں نے پُرجوش استقبال کیا پولیس رکاوٹوں اور سخت گرمی کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد پٹرول پمپ کے پاس جمع ہو گئی۔ معطل ایم پی اے نوید طارق نے قافلے کے شرکاء میں لنچ بکس تقسیم کئے بورے والا میں معطل ایم این اے شاہد مہدی نسیم کی رہائشگاہ پر مختصر قیام کے بعد قافلہ وہاڑی کی جانب روانہ ہوا، یہ بیگم تہمینہ دولتانہ کا حلقہ ہے وہاڑی میں بھی شہر جانیوالے راستوں کو بریکٹس اور آئل ٹینکرز کھڑے کر کے بند کر دیا گیا تھا تاہم یہ رکاوٹیں لوگوں کی راہ نہ روک سکیں۔ بیگم کلثوم نواز نے وہاڑی میں پکھی موڑ، ماچھی والا اور پرانا لاری اڈہ میں خطاب کیا جبکہ بیگم تہمینہ دولتانہ نے سرائیکی میں خطاب کیا ’’کارواں تحفظ پاکستان‘‘ وہاڑی سے مخدوم رشید پہنچا جہاں جاوید ہاشمی نے ایک بڑے ہجوم کے ساتھ استقبال کیا لوگ پُرجوش نعرے لگا رہے تھے اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کر رہے تھے۔ بیگم کلثوم نواز نے ایک فیکٹری کے احاطے میں جلسہ سے خطاب کیا جس میں خواتین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ سابق صوبائی وزیر حافظ اقبال خاکوانی نے بھی خطاب کیا یہاں سے قافلہ ملتان روانہ ہوا مگر اسے ملتان میں داخل نہیں ہونے دیا وہاڑی چوک میں ضلعی انتظامیہ کے حکام اور پولیس کی بھاری نفری نے رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں جس پر کارکنوں اور پولیس میں ہاتھا پائی اور دھکم پیل شروع ہو گئی معطل ایم این اے حاجی بوٹا بھی استقبال کرنے والوں میں شامل تھے تاہم تصادم سے بچنے کیلئے بیگم کلثوم نواز کی ہدایت پر قافلہ مظفر گڑھ روانہ ہو گیا۔ رات کے بارہ بج چکے تھے، بازار بند تھے پھر بھی لوگ استقبال کیلئے موجود تھے۔ رات کے ایک بجے قافلہ ملک نور ربانی کھر کے فارم ہاؤس پہنچا جہاں عشائیہ کا اہتمام تھا۔ یہاں سے ڈیرہ غازی خان پہنچے تو صبح کے آثار نمایاں ہو رہے تھے۔ سردار ذوالفقار کھوسہ نے سینکڑوں افراد کے ساتھ زبردست استقبال کیا یہاں سے لورا لائی پہنچے تو لکی شوز کے مقام سے سردار یعقوب ناصر کے گاؤں وکھی تک پندرہ کلومیٹر جلوس نے استقبال کیا جس میں بے شمار موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں شامل تھیں۔ سابق گورنر بلوچستان فضل آغا، عبدالحمید بزنجو بھی استقبال کرنے والوں میں شامل تھے۔ بیگم کلثوم نواز کو بلوچستان کی روایتی چادر پہنائی گئی۔ نوشکی میں قحط سے متاثرہ مرد و خواتین کی بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا۔
بیگم کلثوم نواز نے انکی امداد کیلئے دس لاکھ روپے کا عطیہ پیش کیا۔ نوشکی سے پہلے چند گھنٹے کوئٹہ میں قیام رہا نوشکی سے چھتر جاتے ہوئے چچلاتی دھوپ میں ایک سفید ریش بزرگ کو سڑک پر جاتے دیکھ کر انہیں کوچ رکوا کر سوار کرا لیا پسینہ سے شرابور تھے، انہیں ٹھنڈا پانی پلایا تو چہرے پر ممنونیت کا اجالا پھیل گیا کوئٹہ سے سرگرم مسلم لیگی کارکن فرید افغان، وحید کانسی، شوکت یوسف زئی اور شیرانی بھی ساتھ ہو گئے تھے۔ میں نے یوسف زئی سے کہا ان بزرگ سے جو صرف پشتو جانتے تھے پوچھو کہاں جانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ چھتر جا رہے تھے جہاں بیگم کلثوم نواز نے نماز استسقاء کا اعلان کیا ہے یہ سن کر عارف خان سندھیلہ نے انہیں گلے سے لگا کر نعرہ لگایا ’’یہ تو اپنے ہی بندے ہیں‘‘ چھتر میں نوافل کی ادائیگی کے بعد کارواں دالبندین روانہ ہوا جہاں سردار عاطف سنجرانی کی رہائش گاہ کے وسیع لان میں جلسہ ہوا جس میں ٹوپی والے برقعے پہنے خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی ایک مقامی دکاندار کے بقول دالبندین کی تاریخ میں کسی جلسہ میں خواتین کی اتنی بڑی تعداد شریک نہیں ہوئی۔ اس جلسہ سے بیگم کلثوم نواز، سردار عاطف سنجرانی، جان محمد لہری، عبدالحمید بزنجو، حسین بخش بنگلزئی، پیر صابر شاہ، بیگم تہمینہ دولتانہ، بیگم عشرت اشرف نے خطاب کیا۔ اس جلسے میں نیا نعرہ سننے میں آیا ’’نعرہ نواز شریف، نواز شریف‘‘ یہاں سے بیگم صاحبہ چاغی روانہ ہوئیں اور چاغی پہاڑ کے دامن میں جہاں ایٹمی دھماکہ کیا گیا تھا کیپٹن صفدر کے ہمراہ قومی پرچم لہرایا۔