یومِ تکبیر سے آزادی کشمیرتک

کالم نگار  |  مطلوب وڑائچ

قطرے قطرے سے دریا اور تنکے تنکے سے آشیاں بنتا ہے۔ اسی طرح ایک ایک پرزہ جوڑ کر ایٹم بنتا ہے۔ پاکستان کو تو ایک ایک پرزہ آگ کے دریا عبور کرکے ڈھونڈنا اور پاکستان لانا پڑا۔ ایٹمی پروگرام کی ابتداءکرنے والے، پرزے تلاش کرنے والے، انہیں جوڑنے اور پایہ¿ تکمیل تک پہنچانے والے ہمارے ہیروز ہیں۔ ہم پاکستانیوں کی احسان فراموشی کی روایت چلی آ رہی ہے۔ ایٹمی پروگرام کے ہیروز بھی اسی روایت کا شکار ہو گئے۔ اسّی کی دہائی کے آغاز میں مسٹر ارشد پرویز نامی ایک پاکستانی کو امریکہ میں گرفتار کیا گیا۔ اس پر ایٹم بم میں استعمال ہونے والے مواد کو پاکستان کے لیے سمگل کرنے کا الزام تھا۔ اس کا امریکہ میں ٹرائل ہوا اور یہ تین سال تک وہاں قید رہے۔ پاکستان کی محبت اور وفاداری کی سزا کاٹ کر ارشد پرویز کینیڈا شفٹ ہو گئے۔ میری ان سے ملاقات ہوئی وہ ایٹمی پاکستان کی موجودہ بے بسی اور مسائل کی بھرمار سے مایوس ہیں۔ وہ اپنی حیثیت میں پاکستان کے لیے جو کچھ کر سکتے تھے کیا لیکن ان کے ساتھ پاکستان میں ہاتھ ہو گیا۔ وہ ہزاروں میل دور پاکستان سے وفا کی سزا بھگت رہے تھے کہ ان کے گھر، زمین اور جائیداد پر پاکستانیوں نے قبضہ کرکے ان پر پاکستان میں داخل ہونے کے دروازے بند کر دیئے۔ حب الوطنی اور ملک و قوم سے وفاﺅں کا ان کو کیا صلہ ملا؟ایٹم بم بنانے کی ابتدا ذوالفقار علی بھٹو نے کی۔ انہوں نے کہا تھا کہ گھاس کھا لیں گے ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔ وہ امریکہ کی دھونس اور دھمکیوں کے سامنے ڈٹ گئے۔ ان کے موقف میں کبھی کمزوری نظر نہیں آئی۔ ان کی زندگی میں ہی ایٹم بم کی تکمیل ہوا چاہتی تھی کہ ان کو اقتدار سے محروم کرکے ہنری کسنجر کی دھمکی کو عملی شکل دے دی گئی کہ ”ہم تمہیں عبرت کا نشان بنا دیں گے۔“ شہید ذوالفقار علی بھٹو ایٹمی پروگرام کے جتنے بڑے ہیرو ہیں ان کو اتنی ہی بڑی سزا دی گئی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان بلاشبہ محسن پاکستان ہیں۔ ان کے بغیر ایٹم بم کی تکمیل کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا ناممکن تھا۔ انہوں نے ہی تنکا تنکا جمع کرکے آشیاں بنایا تھا ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ مشرف کی آمریت کے دوران وہ کئی سال نظربند رہے۔ ان کو امریکہ کے حوالے کرنے کی کوشش کامیاب ہو جاتی اگر مشرف کے وزیراعظم ظفر اللہ جمالی اپنے باس کے آڑے نہ آ جاتے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو ایک قتل کے الزام میں تختہ دار پر کھینچ دیا گیا جس میں مدعی اور شہادتوں کے مطابق بھی براہ راست ملوث نہیں تھے اور پھر ججوں نے اس سزا کو زیادتی قرار دیا۔بھٹو شہید نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے اپنی جان دے دی۔ ڈاکٹر اے کیو خان کی خدمات کے اعزاز میں ان کو باقاعدہ محسن پاکستان کا خطاب دینا چاہیے اور پاکستان میں جاری انرجی بحران پر قابو پانے کے لیے ان سے بہتر شاید کوئی شخصیت اور سائنسدان نہیں ہے۔ ان کی خدمات سے نئی حکومت استفادہ کرے اور ایک قومی ہیر وکا جو مقام ہے وہ ان کو دیا جائے ۔مسٹر ارشد پرویز کو دھن دولت کی ضرورت نہیں۔ ایٹمی پروگرام کی تعمیر میں ان کا جو اعزاز اور ان کے حصے کی جو عزت بنتی ہے وہ انہیں ضرور دی جائے۔ ان ہیروز نے یقینا گلشن کے تحفظ میں اپنا خون پسینہ ایک کیا،۔ جان کو خطرات میں ڈالا لیکن قوم نے نہ ان کی قدر کی اور ہی نہ ایٹم بم کی۔یومِ تکبیر جب بھی آتا ہے قوم پر ایک نیا ایٹم بم چلا چکا ہوتاہے۔ آج کے یومِ تکبر کے موقع پر ایٹمی پاکستان جدید کیا قدیم سہولتوں سے بھی محروم ہے۔ مغرب میں 17ویں صدی میں بجلی آ گئی ہمارے ہاں 21ویں صدی میں چلی گئی۔ ہم ایٹم بم کے ثمرات سے یکسر دور ہیں۔ اسے پاکستان کے تحفظ کے لیے بنایا گیا۔ آج ہمیں اس کی حفاظت کرنا پڑتی ہے۔ بھارت نے 1973ءمیں پوکھران میں ایٹمی دھماکہ کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے اس دھماکے کے بعد ہی ایٹم بم بنانے کا عزم کیا۔ اس سے قبل پاکستان پر بھارت 1965ءاور 1971ءمیں جارحیت کر چکا تھا۔ 1971ءمیں تو اس نے پاکستان کو ہی دولخت کر دیا۔ پاکستان نے ایٹم بم بھارت کی جارحیت کے خدشات کے پیش نظر ہی بنایا اور میاں نوازشریف نے 28مئی1998ءکو بھارت کے تین دھماکوں کے جواب میں 5دھماکے کیے۔ اس پر میاں نوازشریف پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا ”بے جا“ کریڈٹ لیتے ہیں۔ انہوں نے تو دھماکے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کے وزیر خارجہ اور قریبی گوہرایوب کے مطابق تو میاں صاحبان نے ایٹمی دھماکے کرنے سے احتراز کیا تھا۔ ایٹمی دھماکے جناب مجید نظامی کی اس دھمکی کے بعد کیے گئے کہ ”میاں صاحب دھماکے کر دیں ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی۔“ ہماری میاں نوازشریف سے کوئی پرخاش نہیں ہے لیکن حقائق کو کوئی دوسرا رنگ دینا انصاف نہیں ہے۔ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے کریڈٹ کو میاں نوازشریف خود ڈس کریڈٹ کر رہے ہیں۔ بھارت پر وہ فریفتہ ہیں، منموہن کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں مدعو کر لیا۔ منموہن نے انکار کیا تو میاں صاحب بھارت دورے کے لیے بے تاب نظر آتے ہیں۔ فرمایا بھارت دعوت نہ بھی دے تو بھی وہ بھارت چلے جائیں گے۔ میاں صاحب تہذیب ،تمدن ،زبان اور ایک سے کلچر کی وکالت کرتے ہیں۔ اس سب کا بانیانِ پاکستان کو کیا ادراک نہیں تھا؟ انہوں نے پاکستان کیوں بنایا؟ اگر سب کچھ مشترک ہے تو ایٹم بم بنانے کے لیے قوم کو گھاس کھانے کی کیا ضرورت تھی؟ بھارت کو دوست بنانا ہی تھا تو ایٹم بم بنانے پر جو اخراجات آئے اس سے ملک میں غربت اور تعلیمی پسماندگی دور کی جا سکتی تھی۔ ایسے تکلف میں پڑنے کی کیا ضرورت تھی۔ میاں صاحب تسلیم کر لیں کہ بھارت ہمارا دشمن ہے اور ایٹم بم اس کی کارستانیوں کے جواب میں اس کو اپنی اوقات کے اندر رکھنے کے لیے ہی بنایا گیا ہے اور ہماری شہ رگ پر اس کے قبضہ تک وہ ہمارا دشمن ہے۔ میاں صاحب کو واجپائی کی پاکستان آمد پر بڑا فخر ہے وہ منموہن کو بھی واجپائی کی طرح پاکستان لانے کے لیے بے تاب ہیں۔ ان دوستوں سے مسئلہ کشمیر حل کروا لیں تو قوم نوازشریف کو اپنا حقیقی ہیرو تسلیم کرنے سے قطعاً دیر نہیں کرے گی۔ جس دن وہ کشمیریوں کو آزادی دلائیں گے پاکستان کی شہ رگ دشمن کے پنجہ استبداد سے وا کروائیں گے وہ پاکستان کی عظیم فتح کا دن ہوگا اس کا نام یومِ توحید یا یومِ قائد کے خواب کی تعبیر رکھ لیں۔ جس کے ہیرو صرف اور صرف میاں نوازشریف ہوں گے۔میاں صاحب کے پاس سنہری موقع ہے کہ وہ قوم کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے قوم کا دامن خوشیوں اور کامیابیوں سے بھر دیں۔