جب چاغی کی پہاڑیوں کا رنگ بدلا!

کالم نگار  |  ساجد حسین ملک

بھارت 13مئی 1998ءکو پوکھران (راجستھان) میں ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد اپنی کامیابی پر پھولے نہیں سما رہا تھا اس کے تنگ نظر رہنما اور حکومتی عہدیدار پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کے بارے میں انگلیاں اٹھ رہی تھیں۔ پاکستانی قوم کی فکر مندی اور پریشانی فطری بات تھی وزیراعظم نواز شریف کی حکومت پر اندرونی طور پر بڑا دباﺅ تھا کہ وہ ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کر کے بھارت کو منہ توڑ جواب دیں۔ عالمی رائے عامہ، جاپان سمیت جی ایٹ کے ممالک، یورپی یونین اور امریکہ برطانیہ وغیرہ پاکستان کی طرف سے دھماکے کرنے کے سخت مخالف تھے۔ پاکستان کو دھماکوں سے روکنے کے لئے ترغیب، تحریص اور دباﺅ کے سبھی حربے آزمائے جا رہے تھے۔ امریکی صدر بل کلنٹن بذاتِ خود نواز شریف پر دھماکے نہ کرنے کے لئے دباﺅ ڈال رہا تھا۔ بل کلنٹن کی طرف سے دھماکے نہ کرنے کی صورت میں اربوں ڈالر امداد کی پیشکش بصورت دیگر اقتصادی پابندیاں لگانے کے ہر دو آپشن موجود تھے۔ غرضیکہ یہ ایک بڑا نازک اور مشکل وقت تھا۔وزیراعظم نواز شریف نے دھماکے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ کرنا تھا۔ میاں صاحب نے مشورے کے لئے اخبارات کے مدیران اور سنئیر صحافیوں کا اجلاس بھی بلایا۔ اس موقع پر نوائے وقت گروپ آف نیوز پیپر کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی نے نواز شریف کے استفسار پر انہیں جو جواب دیا وہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ محترم مجید نظامی نے کہا کہ میاں صاحب ایٹمی دھماکے کریں ورنہ قوم آپکا دھماکہ کر دے گی۔ اور پھر 28 مئی 1998 کو 3:13 منٹ پر چاغی کی پہاڑیوں کا رنگ بدلنا شروع ہُوا پاکستان سات ایٹمی دھماکے کر چکا تھا۔ دھماکوں کے نتیجے میں بے پناہ توانائی اور حرارت کے اخراج سے پہاڑیوں کا رنگ پہلے کالا پھر سرخی مائل اور آخر میں سفید ہوگیا۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کا ثبوت ساری دنیا کے سامنے آ چکا تھا۔ ایٹمی دھماکوں کے لئے جب چاغی کی پہاڑیوں میں تیاری کی جا رہی تھی اور مشہور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی زیر قیادت سائنسدانوں ، ٹیکنیشنز اور دیگر ماہرین کی ٹیم سرگرم عمل تھی۔ تو اس بات کا خطرہ پیدا ہوا کہ بھارت ، اسرائیل اور امریکہ کے گٹھ جوڑ سے کہیں حملہ نہ کر دے۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند کہتے ہیں کہ اطلاع آئی کہ حملہ ہو سکتا ہے محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں لیکن اس رات پوری قوم سینہ سپر ہوگئی پاکستان کا ہر ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر اس رات پاکستان کی فضاﺅں میں اور چاغی والوں پر سایہ فگن رہا کہ ایٹمی سائنسدانوں کو کوئی گزند نہ پہنچا سکے۔ یہ عجیب بات تھی کہ چاغی میں ایٹمی دھماکے کیے جانے کا فیصلہ ہوا تو اس میں کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری کے سائنسدانوں بالخصوص ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ حالانکہ ساری دنیا جانتی تھی کہ کہوٹہ ہی وہ جگہ ہے جہاں یورینیم کی افزودگی اور ایٹم بم بنانے کا کام ہوتا رہا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان چاغی کے مقام پر ایک مہمان کے طور پر موجود تھے انہیں دانستہ نظر انداز کیا گیا یا ان کے بارے میں بعد میں ایٹمی پھیلاﺅ میں ملوث ہونے کے حوالے سے جو باتیں سامنے آئیں اس بنا پر انکو نظر انداز کیا گیا۔ وجہ کچھ بھی تھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان بہر کیف صف اول میں نہیں تھے۔  28 مئی 1998ءکو پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ میاں نواز شریف جن کے دور حکومت میں پاکستان نے کامیاب ایٹمی دھماکے کیے تھے عنانِ حکومت سنبھالنے والے ہیں۔ انہیں یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے لئے قوم کو کتنی قربانیاں دینی پڑیں، کیسی کیسی دشمنیاں مول لینی پڑیں اور کتنے دباﺅ کا سامنا کرنا پڑا حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو پوری قوم نے اور پروگرام سے متعلقہ ذمہ دار افراد نے اپنے ایمان و یقین کا حصہ سمجھ کر پروان چڑھایا اور اس کی حفاظت کی ہے۔ یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ایک جمہوری وزیراعظم نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور دوسرے جمہوری وزیراعظم نے دھماکے کر کے پاکستان کو ایٹمی قوت بنا دیا۔ یہ درست ہے کہ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں 1975-76 میں کہوٹہ میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع ہوا یہ بھی درست ہے کہ مئی 1998 میں میاں نواز شریف کے دور حکومت میں ایٹمی دھماکے ہوئے لیکن درمیان میں 23-22 سال کیا ہوتا رہا بھٹو کی حکومت تو جولائی1977 میں ختم ہوگئی تھی ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان نے 1984 تک ایٹم بم بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی تھی اور اسکے کولڈ تجربات بھی کر لیے تھے۔ جنرل ضیاالحق ایک فوجی آمر اور غاصب سہی لیکن ماننا پڑے گا کہ اس نے بڑی ہمت ، جرا¿ت اور دلیری کے ساتھ پاکستان کے ایٹم بنانے کے پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ غلام اسحاق خان جو ملک کے صدر رہے انہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی دل وجان سے حفاظت کی۔ پھر آرمی چیف جنرل اسلم بیگ، جنرل عبدالوحید کاکڑ اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل وغیرہ سب ہی ایٹمی پروگرام کے پاسبان رہے ہیں۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایٹمی پھیلاﺅ میں ملوث ہونے کے الزام کی وجہ سے راندہ درگاہ سہی لیکن کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز میں یورینیم کی افسزودگی کی صلاحیت حاصل کرنا اور ایٹم بم کا تیار کرنا انکا اور انکی ٹیم کا ایک ایسا کارنامہ ہے جسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ کاش کوئی ایسا ہو جو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی پوری کہانی قوم کے سامنے لے آئے اور جن حقائق پر پردے پڑے ہوئے ہیں انہیں آ شکار کر سکیں۔