ایٹم بم کا معجزہ

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ

سیکسپیئر نے کہا تھا: ”انسانی زندگی میں ایک لہر آتی ہے ۔اگر اس سے فائدہ اٹھا لیا جائے تو کامیابی قدم چومتی ہے ورنہ ساری زندگی ناکامیوں اور پریشانیوں کی نظر ہوجاتی ہے“ یہی حال اقوام عالم کا ہے۔ اقوام کی تاریخ صدیوں یا سالوں سے نہیں بلکہ ان لمحات سے یاد کی جاتی ہے جو اسکی عظمت یا پستی۔ کامیابی یا ناکامی اور سب سے بڑھ کر عزت یا بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ تاریخ صرف ان لمحات کا شمار رکھتی ہے جو کسی قوم کی تقدیر پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اپنا مقدر سنوارنے کے لیے زندہ قومیں ایسے ہی لمحات کا انتظار کرتی ہیں۔ ہماری اپنی تاریخ میں 14اگست 1947۔ 16دسمبر1971 اور28مئی 1998 وہ دن ہیں جنہوں نے ہماری تاریخ کا رخ متعین کیا۔ دوسرے الفاظ میں یہی ہماری تاریخ ہیں۔ تاریخ کے ”ڈسٹ بن“ میں باقی سب کچھ تو شاید ضائع ہوجائے لیکن ہمارے نیو کلیئر پروگرام کے خالق ذوالفقار علی بھٹو ۔اس پروگرام کے محافظ جنرل ضیاءالحق مرحوم۔ دھماکے کرنے والے وزیراعظم نواز شریف صاحب۔ ان کے پس پردہ متحرک طاقت جناب مجید نظامی صاحب اور سب سے بڑھ کر ہمارے وہ عظیم سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب۔ ان کی ٹیم اور اس ٹیم کے خاموش ممبران سب قابل تعظیم لوگ ہیں۔ سب ہی مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے ہماری تاریخ کو دوبارہ زندہ کیا ورنہ ہماری تاریخ تو16دسمبر1971 کو ڈھاکہ پلٹن میدان میں دم توڑ چکی تھی۔ ہمارے نیو کلیئر پروگرام کی تاریخ بڑی دلچسپ ہے۔ 1965 کی جنگ کے بعد فوج میں ایک لطیفہ بڑا مشہور ہوا تھا اور وہ یہ تھا کہ جب ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کیا تو فرشتے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو ئے اور کہا: ”اے پروردگار ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا فوری اپنی بندوقیں اٹھاﺅ“ فرشتے بڑے حیران ہوئے اور دوبارہ عرض کیا: ”اے پروردگار پہلی جنگ عظیم چھڑی آپ نے کچھ نہیں فرمایا۔ دوسری جنگ عظیم میں بھی کچھ نہیں فرمایا۔ جاپان میں ایٹم بم استعمال ہوا کچھ نہیں فرمایا۔ پھر امریکہ اور کوریا کی جنگ میں بھی کوئی حکم نہ ہوا لیکن اب پاکستان کے نام پر آپ نے فوری ہتھیار اٹھانے کا حکم دیا ہے اسکا کیا راز ہے؟ فرمایا: ”پاکستانی وہ قوم ہیں جو ہر سانحہ کے بعد کہتے ہیں اللہ بہتر کریگا اور پھر سو جاتے ہیں۔ اب مجھے ہی انہیں بچانا ہوگا“ یہ لطیفہ اس لحاظ سے گردش میں آیا کہ بھارت نے 6ستمبر1965 رات کی تاریکی میں ہم پر حملہ کیا۔ ہماری مزاحمتی فوج بھی اس وقت وہاں موجود نہ تھی اور یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد اور اسکی رحمت تھی کہ بھارت آگے نہ بڑھ سکا۔ میری نظر میں یہی لطیفہ ہمارے ایٹمی پروگرام کی بنیاد ہے بلکہ ہماری ساری تاریخ ہے۔ ذرا غور فرمائیں اس لطیفے میں تین نکات بڑے اہم ہیں۔ اول بھارت کی طرف سے رات کی تاریکی میں حملہ۔ دوسرے الفاظ میں بھارت کی طرف سے ہماری سلامتی کو خطرہ۔ دوسرا ہماری روایتی سستی کہ ہر کام میں اللہ بہتری کرے گا اور تیسرا جو سب سے اہم ہے وہ ہے ہر مشکل وقت میں اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت اور مدد اور یہی تین نکات ہماری تاریخ ہیں۔ اب تک پاکستان نے جو بھی ترقی کی ہے وہ اپنی سلامتی محفوظ رکھنے کے لیے کی ہے اور ہماری سلامتی کو ہمیشہ خطرہ بھارت کی طرف سے رہا ہے۔ بھارتی جرنیل توپاکستان کی سلامتی پاش پاش کرنے کے اکثر بیانات دیتے رہتے ہیں۔متحدہ برصغیر کے متعلق ایک برطانوی مورخ نے لکھا تھا: ” بھارت میں تین اقوام بستی ہیں۔ ایک وہ جس کی نظر مسلسل مستقبل پر ہوتی ہے۔ آنیوالے واقعات کی دس سال پہلے سے پیش بندی کرتی ہے۔ دوسری قوم وہ ہے جو ماضی اور مستقبل سے لا پرواہ اس وقت حالات سے نبٹنے کی کوشش کرتی ہے جب واقعات رونما ہو رہے ہوتے ہیں اور تیسری وہ قوم ہے جسے کسی واقعہ کے رونما ہونے کے دس سال بعد ہوش آتا ہے“ تو معزز قارئین پہلی قوم ہندو ہیں۔ باقی آپ خود اندازہ لگالیں۔ برصغیر میں ایٹمی ٹیکنالوجی کی ابتداءپنڈت جواہر لعل نہرو کے ایما پر آزادی سے بھی بہت پہلے 1944میں اسوقت ہوئی جب ہوم جی بھابھا کی مدد سے بمبئی کے نزدیک     Tata Institute of Fundamental Researchکا قیام عمل میں لایا گیا اور مشہور بھارتی سائنسدان پیارا جی گل کو امریکہ سے لا کر نیو کلیئر فزکس کی ریسرچ ٹیم کا سربراہ بنا دیا گیا۔ 1945 میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم کے حملوں نے بم کی تباہ کن طاقت سے پوری دنیا کو حیران کر دیا ۔ 1946 میں بمبئی میں پنڈت نہرو نے ایک تقریر میں کہا: ” اگر ہندوستان بطور ایک طاقتور اور باعزت قوم زندہ رہنا چاہتا ہے تو اسے نیو کلیئر ٹیکنالوجی ہر صورت حاصل کرنا ہوگی“ اسکے بعد بھارت نے کبھی مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا جسکا پہلا ثبوت دنیا کے سامنے 18مئی 1974کو اس وقت آیا جب بھارت نے اپنا پہلا ایٹمی دھماکہ راجستھان میں پوکھران رینج پر کیا۔ اسے Smiling Budha کا نام دیا اور پھر 11مئی 1998 کو اسی مقام پر پانچ مزید ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو ”زیرو “کر دیا۔ پاکستان کو ایٹمی توانائی کا احساس تو روز اول سے تھا لیکن حالات نے ساتھ نہ دیا۔ پاکستان نے اپنا پہلا چھوٹا ایٹمی ریسرچ سنٹر دسمبر1965میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیو کلیئر سائنس اور ٹیکنالوجی(PINSTECH) کے نام سے اسلام آباد کے نزدیک قائم کیا۔ اپنے وسائل کے مطابق پاکستان کے تمام سربراہوں نے اسے پروان چڑھانے کی حتی المقدول کوششیں کیں جس کا نتیجہ 28 مئی 1998 کوچاغی کے مقام پر 6ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو ایٹمی پاورز کی صف میں لاکھڑا کیا اور مسلم ممالک میں پہلا ایٹمی ملک بنادیا۔فوج میں ایٹمی ٹیکنالوجی اور ایٹم بم کی افواہ پہلی دفعہ دسمبر1965 میں PINSTECHکے قیام کے وقت سننے میں آئی۔ میں اس وقت ڈھاکہ جنرل پوسٹ آفس میں سنسر آفیسر تھا اور ہم تمام ڈاک سنسر کرتے تھے۔ ایک مطیع الرحمن نامی بنگالی سٹوڈنٹ نے امریکہ سے اپنے ایک رشتہ دار کوایک خط میں کسی اخبار یا رسالے کی چھوٹی سی کٹنگ ڈالی ۔اس کٹنگ میں پاکستان کے وزیر خارجہ جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کے حوالے سے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی خبر تھی۔ہم نے وہ کٹنگ ہاتھ سے لکھوا کر تمام سٹاف میں سرکولیٹ کی۔ہم سب بہت خوش تھے۔ سب سے زیادہ جوش بنگالی کیپٹن عبد الکریم نے دکھایاجو ویسے تو ریٹائرڈ تھا لیکن جنگ کے لیے دوبارہ بلایا گیا۔ اسکی یہ حسرت تھی کہ یہ بم اسکی زندگی میں ہی بن جائے لیکن تقدیر کے کھیل بھی بڑے نرالے ہوتے ہیں کہ ایٹم بم بنا تو سہی لیکن نہ بنگالی ساتھ تھے نہ اسکا خالق موجود تھا اور نہ ہی اسکا محافظ۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عرفِ عام میں یہ ایٹم بم واقعی ہماری سلامتی کا ضامن بنا اور ہے۔ ایٹم بم کی افادیت کا پاکستان کو پہلی دفعہ اندازہ اس وقت ہو اجب1986-87 میں بھارت نے پاکستان پر حملے کی غرض سے ”براس ٹیک “کے نام سے فوجی مشقیں شروع کیں ۔ اس وقت ہمارے صدر جناب ضیاءالحق صاحب بھارت تشریف لے گئے اور بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کو حملے کی صورت میں دلی تباہ کرنے کی دھمکی دی۔ لالہ جی کی ہمت جواب دے گئی اور حملے کا منصوبہ ختم کر دیا گیا۔ اسے ضیاءالحق مرحوم نے کرکٹ ڈپلومیسی کا نام دیا۔دوسری دفعہ1999میں کارگل حملے کے بعد اور تیسری دفعہ 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر مجاہدین کے حملے کے بعد جب بھارت نے اپنی آدھی فوج ہماری سرحد پر لاکھڑی کی۔ یہ ایٹم بم کا خوف ہی تھا کہ بھارت تینوں دفعہ پاکستان پر حملے کی جرا¿ت نہ کر سکا۔ معزز قارئین اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ایٹم بم کا محرک پاکستان نہیں بلکہ بھارت تھا۔ اگر ہمیں بھارت کی طرف سے سلامتی کا خطرہ نہ ہوتا۔ 1965اور1971 جیسے واقعات نہ ہوتے تو ہم کبھی بم نہ بناتے کیونکہ ہم بنیادی طور پر سست لوگ ہیں۔ دوسرا اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد تھی کہ ہم تمامتر بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود کامیاب ہوئے۔ ایک ایسا ملک جو سوئی یا بائیسیکل تک خود نہیں بنا سکتا اس کے لیے ایٹم بم بنالینا کسی معجزے سے کم نہیں۔ اب آگے بھی انشاءاللہ” اللہ بہتری کرے گا“۔