ایٹمی طاقت سے ناکام حکومت تک

کالم نگار  |  رائے ریاض حسین

یہ ایک عجیب اتفاق ہے بلکہ قدرت کے کاموں میں موجود نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ اس سال کا یوم تکبیر جناب محمد نواز شریف کی حکومت کی واپسی کی نوید کے ساتھ آیا ہے۔ آج پندرہ سال کے بعد یقیناً نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) فخر کے ساتھ اپنا سر بلند کر سکتے ہیں کہ ان کے کئے ہوئے ایٹمی دھماکے وطن عزیز کو ایٹمی طاقت بن اکر سربلند کرگئے۔ ان پندرہ سالوں میں ایٹمی تجربوں کا حکم دینے کا اعزاز حاصل کرنے والے وزیر اعظم کی قید و بند ‘ جلا وطنی اور پھر پیپلز پارٹی کی حکومت کی نااہلی اور کرپشن کی ایسی ایسی تصویریں دیکھنے کا موقع ملا ہے کہ الامان الحفیظ۔ مئی 1998ءسے مئی 2013ءکا سفر ایٹمی طاقت سے ناکام حکومت کا ایک سفر ہے جس میں پرویز مشرف اور زرداری برابر کے شریک او رذمہ دار ہیں۔ آج پاکستان کومعاشی تباہی کے دھانے پر لانے والوں کو پہچان کرقوم نے اپنا بہترین فیلہ نواز شریف کے حق میں دیدیا ہے۔ آج کے منتخب وزیر اعظم نواز شریف مئی 1998ءمیں وسطی ایشیاءکے دورے پر تھے کہ 11 مئی کوآنے والی خبر کہ ہندوستان نے پانچ ایٹمی دھماکے کر دئیے ہیں‘ کسی قیامت سے کم نہ تھی کیونکہ اس سے جنوبی ایشیاءمیں طاقت کا توازن یکسر ہندوستان کے حق میں ہو گیا اورایٹمی طاقت بننے سے بھارت کو جو نفسیاتی برتری حاصل ہو گئی وہ کسی طرح بھی پاکستان کے لئے قابل برداشت نہ تھی ۔ نواز شریف دوسرے دن دورہ مختصر کر کے وطن عزیزواپس لوٹے اور 12 مئی کو انہوں نے کہاکہ ”ہم اپنی قومی سلامتی کے لئے ہر مناسب قدم اٹھائیں گے“۔ بھارت کی ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی خواہش کسی طرح بھی عالمی برادری سے پوشیدہ نہیں رہی تھی۔ خاص طور پر مئی 1974ءمیں بھارت نے نام نہاد ایٹمی دھماکہ”بدھاکی مسکراہٹ“ کے نام سے کر کے پاکستان کو مجبور کر دیا تھا کہ ایٹمی قوت کے حصول کےلئے اپنی کوششوں کا آغاز کر دے۔نتیجہ یہ ہوا ڈاکٹر قدیر خان اپنے سائنسی تجربے اور بے پناہ ذہنی صلاحیتوں کے ساتھ ہالینڈ سے پاکستان آئے اور ذوالفقار علی بھٹو کی سرپرستی سے ایٹمی پروگرام کو ایک نئی جہت عطاءکی ۔ اس وقت کے مسلمان ملکوں کے نامور رہنماﺅں شاہ فیصل ‘ معمر قذافی اور یاسر عرفات کی مکمل سپورٹ پاکستان کو حاصل تھی ۔ بھٹو نے1978ءمیں کہا کہ ”عیسائی ‘ یہودی اور ہندو تہذیبوں کے پاس ایٹمی صلاحیت موجود ہے جبکہ مسلمان اس کے بغیر ہیں لیکن بہت جلد یہ صورتحال تبدیل ہونے والی ہے“۔ اس قسم کے عالمی حالات میں پاکستانی سائنسدان ایٹمی قوت اور توانائی کے حصول کے لئے اپنی کوششوں کی ابتداءکر چکے تھے۔ بھٹو کے بعد آنے والی حکومتوں نے بھی نہایت فراخدلی سے فنڈز کی فراہمی جاری رکھی اورپروگرام خاموشی سے جاری رہا۔ یورینیم کی افزودگی کا عمل جو اس سلسلے میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے ‘ میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے تاریخی بلکہ تاریخ ساز کردار ادا کیا اور ایسی شاندار کامیابی حاصل کی جس سے نہ صرف مغربی دنیا کی اجارہ داری ختم ہو گئی بلکہ مغربی دنیا بھی دنگ رہ گئی۔ اس پس منظر میں 11 مئی 1998ءکا دن ‘ جب بھارت کے ایٹمی قوت بننے کی افسوس ناک خبر لایا تو پاکستان کے لئے ایک انتہائی مشکل فیصلہ درپیش تھابھارت کی مذمت کی بجائے پوری دنیا ‘ امریکہ کی سربراہی میں پاکستان کو ایٹمی دھماکوں سے روکنے کے لئے کوشاں ہو گئی ‘بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعدعالمی طاقتوں کاپورا زور اس بات پر تھا کہ کہیں پاکستان ایٹمی قوت نہ بن جائے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو جسے ملک کی ہر حکومت کی مکمل اعانت اور سرپرستی حاصل رہی تھی اب تکمیل کے مراحل طے کر چکا تھا۔جب نواز شریف‘ جو اس وقت حکومت میں نہ تھے نے 1994ءمیں اعلان کر دیا کہ ”پاکستان کے پاس ایٹمی صلاحیت او رایٹم بم موجود ہے“ ۔ اس اعلان کے پانچ سال بعد عجیب صورتحال تھی‘ نوازشریف حکومت میں تھے اور بھارت نے ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو مشکل میں ڈال دیا تھا۔ اب یا تو پاکستان بیرونی دباﺅ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتا اور یا پھر اپنے قومی مفاد میں فیصلہ کرتا۔ اس موقع پر نواز شریف نے بیرون ملک سے واپس آ کر سب سے پہلے کابینہ کا ہنگامی اجلاس بلا کر اپنے وزیروں سے رائے طلب کی۔ یہ اجلاس 15 مئی کو اسلام آباد میں منعقد ہوا او راس میں تمام وزراءنے سوائے جناب سرتاج عزیز کے ایٹمی دھماکوں کے حق میں رائے دی۔ کابینہ کے اجلاس کے بعد نواز شریف نے مشاورت کا قومی سطح پر ایک وسیع سلسلہ شروع کیا ۔ سب سے پہلے 16مئی کو ڈاکٹر قدیر خان کو بلا کر پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ”جناب فیصلہ آپ کا ہو گا ‘ ہم تیار ہیں(ایٹمی دھماکوں کےلئے)“ ڈاکٹر اشفاق جو کہ اس وقت ایٹمی توانائی کمیشن کے سربراہ تھے اور بیرون ملک دورے پر تھے ‘17 مئی کو واپس وطن پہنچے تو نواز شریف کے پوچھنے پر انہوں نے بھی وہی جواب دیاجو ڈاکٹر قدیر خان نے دیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے تیاری کےلئے 10 روز کی مہلت بھی طلب کی۔ یہ دن ملکی تاریخ کے انتہائی ہنگامہ خیز دن تھے۔ قوم ایک عجیب ہیجانی کیفیت میں مبتلا تھی۔ عالمی اور قومی پریس میں بے انتہاءشدت کے ساتھ اس موضوع پر مختلف آراءدی جا رہی تھیں ۔ میں ان دنوں وزیر اعظم کا پریس سیکرٹری تھا ۔ میرے ہاتھ میں ہر وقت قومی اور عالمی پریس میں چھپنے والے مضامین اور خبروں کی کٹنگ ‘ تین مختلف فائلوں کی شکل میں موجود رہتی تھیں(حق میں‘ مخالف اور بین بین)۔  اس دوران مشاورتی عمل کے سلسلے میں دو میٹنگ بہت اہم ثابت ہوئیں۔ ایک تو ڈیفنس کالج اسلام آباد میں جس میں کورس کے شرکاء‘ سول اور آرمی کے افسران نے متفقہ طور پر وزیر اعظم کو قرآئن اور حالات کے طویل تجزئیے کے بعد کہا کہ ”ایٹمی دھماکے کریں اور ابھی کریں“۔(Do it & Do it now)‘ اور دوسری اہم میٹنگ اخباروں کے سینئر ایڈیٹروں کی تھی جس میں ملے جلے خیالات کا اظہار کیا گیا ۔جس میں جناب مجید نظامی کی رائے سب پر بھاری ثابت ہوئی جنہوں نے کہا کہ ”وزیر اعظم صاحب آپ دھماکہ کر دیں ورنہ ہم آپ کا دھماکہ کر دیں گے“ میرا اندازہ ہے کہ اس کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے حتمی فیصلہ کرلیا اور 18 مئی کو اپنی ایٹمی ٹیم کو حکم دیدیا کہ ”ایٹمی دھماکہ کی تیاری کی جائے“۔ معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا ‘ اخبارات میں شدو مد کے ساتھ مختلف آراءکا اظہار کیا جا رہا تھا۔ ہندوستان کا رویہ انتہائی توہین آمیز ہوتا جا رہا تھا اور پاکستانی ایٹمی پروگرام کو بلف اور فراڈ کا نام دیا جا رہا تھا۔ پاکستان کے دیر سے ردعمل پر بعض حلقوں میں بے چینی اور مایوسی بھی پھیلنی شروع ہو گئی۔ ایٹمی دھماکوں کے کئی سال بعد جب میں بھارت میں منسٹر پریس تعینات ہوا تو مجھے دہلی میں مقیم بھارتی مسلمانوں بتایا کہ 11 مئی سے 28 مئی کے دوران ہندوﺅں کا رویہ مسلمانوں کے ساتھ انتہائی توہین آمیز اور جارحانہ تھا۔ ایسے لگ رہا تھا کہ ہندوﺅں نے ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے لیا ہے۔ ہندو لالے اور بنئیے کے چہروں پر شیطانی مسکراہٹ تھی اور ان کی گردنیں غیر معمولی طور پر تنی ہوئی تھیں۔ یہی رویہ نئی دہلی میں مقیم پاکستانی سفارتکاروں کو دیکھنے کومل رہا تھا۔ ادھر وطن عزیز میں عام پاکستانی بے چین اور بے آرام تھا ۔ بیرونی دباﺅ حد درجہ بڑھتا جا رہا تھا ‘قومی وقار اور عزت داﺅ پر لگی ہوئی تھی مگر ماہر معاشیات آنے والے دنوں کی بھیانک تصویر پیش کر رہے تھے جو ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان پر لگنے والی پابندیوں کی شکل میں صورتحال بننے جا رہی تھی۔ امریکی صدر کلنٹن جن کے میاں نوازشریف کے ساتھ بہت اچھے اور ذاتی مراسم تھے‘ بار بار ٹیلی فون کر کے پاکستانی وزیر اعظم کوباز رکھنے کی کوشش کر رہے تھے ‘ پانچ ار ب ڈالرامداد کا لالچ بھی دیا گیا مگر نواز شریف نے وہ فیصلہ کیا جو قوم کے حق میں بہتر تھا اور جس سے قوم کا سر فخر سے بلند ہو گیا۔ 28 مئی1998ءکو پاکستان نے چاغی کے پہاڑوں میں5 ایٹمی دھماکے کر دئیے اور پھر 30مئی کو چھوٹا ایٹم بم ‘ جسے سمارٹ بم کہتے ہیں بھی چلا دیا جو اپنی طرز کی ایک نہایت شاندار اور قابل قدر کامیابی تھی۔ 28 مئی کو ہمارے سائنسدانوں کی محنت رنگ لائی او رسیاسی قیادت نے صحیح فیصلہ کیا جسے یوم تکبیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یوم تکبیر کا نام بھی مشاورت کے ذریعے دو رکنی کمیٹی نے تجویز کیاجو منظور کر لیا گیا۔ہم ایٹمی طاقت تو بن گئے مگرایٹم بم کا صحیح فائدہ بھی اسی وقت ہو سکتا ہے جب گورننس صحیح ہو اور ملک سے حکمرانوں کی لوٹ مار ختم ہو اور ہم بھیک مانگنا چھوڑ دیں ۔ ساتویں عالمی ایٹمی قوت کو در در بھیک مانگنا زیب نہیں دیتا۔مگر پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں آئین کو پامال ‘ اکبر بگٹی کو قتل اور لال مسجد کی بے حرمتی کر کے ایک سیاہ دو رکی مثال پیش کی ہے‘ مگر اس کے جانشین آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے جیالوں نے لوٹ مار ‘ کرپشن اور نااہلی کے ذریعے اس ایٹمی قوت کا جو حشر کیا ہے وہ کفن چور کے بیٹے کی مثال پیش کرتا ہے جس کے کرتوت دیکھ کر لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے تھے کہ اس سے تو کفن چور باپ ہی بہتر تھا جو کم ا زکم مردوں کی بے حرمتی تو نہیں کرتا تھا۔ آج ایٹمی قوت کے خالق کو اللہ تعالیٰ نے ایک جمہوری عمل کے ذریعے پھر موقع دیا ہے کہ اس ملک کے وقار او رمعیشت کو بحال کریں اوراس ملک کو قوموں کی برادری میں اس کا جائز مقام دلائیں۔ نواز شریف ایک تجربہ کار اور مضبوط ٹیم کے ساتھ اقتدار سنبھال رہے ہیں اور قوم ان سے بہتر مستقبل کی امید رکھنے میں حق بجانب ہے۔ ....ایٹمی قوت قوم کو یوم تکبیر مبارک