پاکستان کسی کا غلام نہیں کہ …

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
پاکستان کسی کا غلام نہیں کہ …

ہر چھوٹے بڑے ملک کی ہرزہ سرائی سنے اور برداشت کرے۔کبھی امریکہ پاکستان کے خلاف شروع ہو جاتا ہے ۔کبھی بھارت ،کبھی بنگلہ دیش اور کبھی افغانستان۔ایک تو بد قسمتی سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں لیڈرز ایسے عطا کئے ہیں جو مختلف ممالک کی دھمکیاں سنتے ہیں۔ ان کی طرف سے کرائے جانے والے دہشتگردی کے واقعات دیکھتے ہیںمگر انہیں جواب دینے کی ہمت نہیں رکھتے۔بھارت نے مشرقی پاکستان علیحدہ کیا اور نریندر مودی نے ڈھاکہ جا کر مشرقی پاکستان توڑنے میں اپنا کردار فخریہ طور پر بتایا۔ ہمیں چاہیے تھا کہ ہم بھارتی کاروائی کے خلاف احتجاج کرتے۔
پوری دنیا میں بھارتی دہشتگردی اور پاکستان دشمنی کا پول کھولتے ۔بھارتی کاروائی کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھاتے مگر افسوس کہ ہماری طرف سے تو ’’اُف‘‘ تک بھی نہ کی گئی۔بھارت نے پاکستان کو بلوچستان سے محروم کرنے کی کئی بار دھمکی دی۔ بلوچستان میں ’’را‘‘ کا بہت بڑا جاسوس پکڑا گیا مگر ہمارے لیڈروں کے منہ سے ’’مذمت‘‘ کا ایک لفظ تک نہ نکلا۔اسی طرح افغانستان جس کا اپنے ملک پر بھی کنٹرول نہیں۔آدھا ملک طالبان کے قبضے میں ہے۔ وہ بھی ہر چھوٹے بڑے معاملے میں پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دیتا ہے اور ہمارے دانا اور شیر دل حکمران سب کچھ سن کر سرریت میں دبا لیتے ہیں۔بنگلہ دیش نے پاکستان کے نام لیوا بنگالیوں کو چن چن کر پھانسی پر لٹکایا۔
بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کو دہشتگردی کا منبع قرار دیا مگر افسوس کہ ہمارے عظیم لیڈر وں کو ایک لفظ بھی جواب میں کہنے کی جراٗت نہ ہوئی۔ اسی لئے جس بھی ملک کا جو بھی دل چاہتا ہے پاکستان کے خلاف بولتا ہے۔ پاکستان کا تمسخر اڑاتا ہے پاکستان کو دھمکیاں دیتا ہے۔بد نام کرتا ہے اور ہم خاموش رہ کر ان سے بدلہ لیتے ہیں۔
اب ایک تازہ حملہ پھر امریکہ کی طرف سے ہوا ہے۔ جب سے امریکہ نے طالبان سے مار کھانی شروع کی ہے امریکہ کا غصہ پاکستان پر بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ مار طالبان سے کھا رہا ہے ذمہ دار پاکستان کو قرار دیتا ہے۔ہر وقت ’’ڈومور ۔ڈومور‘‘ کی رٹ لگا رکھی ہے ۔مانا کہ ہم ایک ترقی پذیر ملک ہیں۔ ملک کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے۔ ہمیں ڈبونے والے ہمارے اپنے ہی سیاستدان ہیں مگر اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ امریکہ کی اپنی ناکامیوں کا بوجھ پاکستان کے سر پر رکھ دیا جائے۔ پاکستان کو دھمکیاں دی جائیں۔ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی جائے۔ پاکستان کے دشمنوں سے محبت اور تعلقات بڑھائے جائیں۔ ان کی دل کھول کر امداد کی جائے۔ یہی کچھ امریکہ کررہا ہے۔
جنگ لڑنے کے لئے پاکستان امداد لینے کے لئے بھارت اور افغانستان۔ ابھی حال ہی میں امریکی ایوان نمائندگان نے 621.5ارب ڈالر کا دفاعی پالیسی بل منظور کیا ہے ۔ اس میں پاکستان کے لئے صرف 40کروڑ ڈالرز کی امداد منظور کی گئی ہے اور اس پر بھی سخت شرائط اور پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں جبکہ بھارت سے دفاعی تعاون بڑھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔یہ بل ایوان زیریں میں پیش کیا گیا جس کی میعاد یکم اکتوبر2017سے لے کر 31دسمبر2018تک ہے۔ اس میں 344ووٹ پاکستان کی مخالفت میں آئے اور 81ووٹ حق میں۔ 40کروڑ کی معمولی امدا پر نئی شرائط کے مطابق اس امداد کو حاصل کرنے کے لئے اپنے ہاں موجود نیٹو سپلائی راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہوگا۔ اپنے علاقے میں اور خصوصاً افغانستان میں دہشتگردی ختم کرنے کے لئے مناسب اقدامات کرنے ہو نگے۔
پاکستان سے افغانستان میں ہونے والی دہشتگردی کو ہر صورت روکنا ہوگا۔ IEDSیعنی بارودی سرنگوں سے پھیلائی جانے والی تباہی کے خطرات سے نبٹنے کے لئے بھی مناسب لیکن واضح اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان شرائط کے علاوہ پاکستان کو شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف عسکری کاروائی کرنا ہو گی۔
حقانی نیٹ ورک کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنا ہو گا اور پاکستان افغان سرحد پر دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کے لئے حکومت افغانستان کی مرضی کے مطابق تعاون کرنا ہو گا۔امریکہ کا غصہ صرف ان دھمکیوں اور شرائط پر ہی ختم نہیں ہوا۔ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائی نہ کرنے کے بہانے سے300ملین ڈالرز کی دفاعی امداد بھی روک لی گئی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دہشتگردوں کی فنڈنگ ختم نہ کرنے کی وجہ سے پاکستان کو سخت دھمکی بھی دے ڈالی ہے۔واہ رے واہ امریکہ۔یہ ہوتا ہے بھلائی کا بدلہ ۔یہ ہماری کم عقلی تھی کہ ہم نے آپ کی جنگ خوامخواہ اپنے گلے ڈالی۔آپ کی نیٹو فورسز کو افغانستان تک محفوظ راستہ دیا ۔فرنٹ لائن سٹیٹ بنے۔
نان نیٹو اتحادی بنے اور آج بھارت سے دوستی کر کے ہمیں اس طرح احکامات دئیے جا رہے ہیں جیسے پاکستان امریکی کالونی ہو یا زر خرید غلام۔اسوقت بھارت کہاں تھا جب پاکستان اہم اتحادی تھا۔اب جبکہ بھارت آپ کا قریبی دفاعی پارٹنر ہے۔
افغانستان کے مفادات بھی بہت عزیز ہیں۔ 8500امریکی فوجی اور کچھ کنٹریکٹرز پہلے سے ہی وہاں موجود ہیں۔ 5000 مزید امریکی فوجیوں کے آنے کی افواہ ہے تو اس صورت میں یہ تمام ذمہ داری بھارت اور افغانستان کو کیوں نہیں سونپی جا سکتی؟
یہ بھی سچ ہے کہ امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے۔ طاقتور ملک ہے۔روس اور چین کو چھوڑ کر پوری دنیا پر حکمرانی کا گھمنڈ ہے۔اپنے مفادات کی پالیسیاں پوری دنیا پر مسلط کررکھی ہے لیکن مسلمان ممالک کے خلاف خصوصی عناد معلوم ہوتا ہے۔افغانستان، عراق،شام اور لیبیا کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ اب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ یاترا کر آئے ہیں۔ ٹرمپ اور مودی ملاقات میں دوستی کی نئی راہیں ہموار ہوئی ہیں۔ F-16بھی اب بھارت میں بنیں گے۔ ٹرمپ مودی ملاقات میں پاکستان بھی زیر بحث آیا اور مودی کے پاکستان کے متعلق جو خیالات ہیں وہ ہم سے ڈھکے چھپے نہیں۔ مودی کی جانب سے لگائی ہوئی آگ امریکی بل کی صورت میں سامنے آگئی ہے۔
لہٰذا پاکستان مستقبل کے خطرات سے گھرا نظر آتا ہے۔ ہندوستان کی حتی الوسع کوشش ہے کہ پاکستان کو دہشتگرد ملک ثابت کر کے دنیامیں تنہا کر دیا جائے۔ مودی نے حالیہ منعقد ہونے والی G-20کانفرنس میں بھی پاکستان کے خلاف بہت زیادہ الزام تراشی اور ہرزہ سرائی کی ہے۔ ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ بھارتی پروپیگنڈہ بہت تیز اور مئوثر ہے۔ بہت سے کانگریسی ارکان کو بھارت نے ساتھ ملا رکھا ہے۔ دفاعی پالیسی بل میں سخت شرائط عائد کرنے کی ترامیم ارکان اسمبلی ڈانا رو ہرابا چر اورٹیڈ پو کی جانب سے پیش کی گئیں۔
ان ترامیم میں پاکستان کے غدار ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ہیرو قرار دیا گیا۔ دوسری جانب اسی بل میں بھارت سے دفاعی تعاون میں اضافے کی منظوری دی گئی جس میں بھارتی لابی سے تعلق رکھنے والی امریکن رکن اسمبلی ایمی بیرا نے بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ مزید یہ بات بھی پاکستان کو ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ڈانا رو ہراباچر اورٹیڈ پو دونوں رکن اسمبلی پاکستان مخالف اور پرو بھارت ہونے کے ساتھ ساتھ پرو آزاد بلوچستان بھی ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں رہنے والے بلوچ باغی سرداروں کی مدد میں پیش پیش رہتے ہیں۔
افغانستان کے بار بار پاکستان پر اعتراضات ختم کرنے کے لئے پاکستان سرحد پر باڑ لگانا چاہتا ہے تا کہ دہشتگرد کراس نہ کر سکیں لیکن افغانستان ایسا کرنے کے سخت مخالف اقوام متحدہ کے تحت کام کرنیوالی ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق بھارت نے سر زمین افغانستان پر65 قونصل خانے بنا رکھے ہیں۔ان قونصل خانوں میں اسرائیلی، بھارتی اور افغان خفیہ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ٹاپ ایجنٹ دہشتگردوں کو ٹریننگ دے کر پاکستان بھیجتے ہیں جہاں وہ دہشتگردی کی کاروائیاں کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے بھارت افغان سرحد بند نہیں ہونے دیتا اور افغانستان بھارت کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ بھارت پاک افغان سرحد بند نہیں کرنا چاہتا اس لئے افغانستان بھی نہیں چاہتا اور جب یہ دونوں نہیں چاہتے تو امریکہ بھی نہیں چاہتا۔
امریکی احکامات کی تابعداری کا مطلب ہے کہ ہم افغانستان اور بھارت دونوں کو خوش کریں تو تب امریکہ مطمئن ہوگا۔ہم اب تک دہشتگردی میں 60ہزار بے گناہ لوگوں کی قربانی دے چکے ہیں۔اس سے امریکہ خوش ہوا ہے نہ بھارت اور نہ افغانستان۔ ’’ڈومور‘‘ کا مطا لبہ مسلسل دوہرایا جا رہا ہے۔اتنی قربانیوں کے باوجود بھی یہ لوگ اگر مطمئن نہیں ہوتے تو اور ہم ان کے لئے مزید کیا کر سکتے ہیں؟لہٰذا وقت آگیا ہے کہ ان ممالک کو بتا دیا جائے کہ ’’پاکستان آپ کا زر خرید غلام نہیں کہ ہر وقت آپ کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا رہے‘‘۔