نیپرا کا فکر انگیز حقائق نامہ

نیپرا کا فکر انگیز حقائق نامہ

پاکستان کے بجلی اور توانائی کے شعبے کے ریگولیٹری ادارے نیپرا نے سٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2014ء میں انکشاف کیا ہے کہ ’’ 2020ء تک بھی ملک سے لوڈشیڈنگ ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں۔‘‘ دوسری طرف وزارت پانی و بجلی نے نیپرا کی طرف سے اپنی رپورٹ میں 2020ء سے قبل لوڈشیڈنگ ختم نہ ہونے کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2017ء تک لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا ہدف حاصل کریں گے۔ نیپرا نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہاہے کہ 480 ارب روپے کی ادائیگی کے باوجود عوام کو ریلیف نہیں ملا۔ نیپرا کیمطابق کراچی میں بجلی کی تقسیم کار کمپنی ’’کے۔ الیکٹرک‘‘ کو بھی آئندہ سال 1132میگاواٹ شارٹ فال کا سامنا رہے گا۔ نیپرا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقسیم کار کمپنیاں بجلی چوری روکنے اور وصولیاں بہتر بنانے میں ناکام رہی ہیں اور پاور سیکٹر کو متعدد سنگین چیلنجز کا سامنا رہا جبکہ اضافی بلنگ پر تقسیم کار کمپنیوں اور کے۔ الیکٹرک کو جرمانے بھی کئے گئے۔ نیپرا کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل‘ کے۔ الیکٹرک کو 300 میگاواٹ بجلی کم کرنے کی منظوری دے چکی ہے لیکن کے۔ الیکٹرک نے کونسل کے فیصلے کیخلاف سندھ ہائی کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کر رکھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیپرا کو بھی مختلف مقدمات کا سامنا ہے تاہم ادارے کی جانب سے کسی قسم کا ایکولائزیشن سرچارج کبھی عائد نہیں کیا گیا۔ وزارت پانی و بجلی کے ترجمان نے نیپرا کی رپورٹ میں لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے منسوب ریمارکس کو قطعی طور پر گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزارت پانی و بجلی کو وزیراعظم نے 2017ء تک ملک سے لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کا ہدف دیا ہوا ہے۔ ملک سے توانائی بحران کے خاتمہ کیلئے بہت سے بڑے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ 2017ء تک ملک سے لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔
نیپرا کی رپورٹ میرے خیال میں حقائق کی مکمل عکاسی کرتی ہے۔ شریف برادران نے الیکشن 2013ء کی انتخابی مہم میں کبھی اقتدار میں آنے کے 6 ماہ میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے دعوے کئے تھے تو کبھی 2 سال میں مگر جب دعوئوں اور نعروں سے عوام کو بیوقوف بناکر یہ اقتدار میں آگئے تو انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن 2018ء تک ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کردینگے۔ انکی تضاد بیانیوں سے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ انہوں نے کوئی وعدہ وفا نہیں کرنا۔ وزیراعظم نوازشریف نے بعد میں وزراء کو لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی ڈیڈ لائنز دینے سے ہی روک دیا تھا تاکہ مسلسل مزید وعدہ خلافیاں نہ ہوں۔ حکمرانوں نے تو کشکول توڑنے کی بھی بات کی تھی مگر اقتدار میں آکر پہلے ہی ہفتے آئی ایم ایف سے خفیہ مذاکرات کا آغاز کرکے بھاری قرض منظور کرالیا ۔ حکومت کے حلف اٹھاتے ہی آئی ایم ایف سے قرض لینے کی باتیں جب خبروں کی زینت بنیں تو اسی وقت قوم کو دھچکا لگا اور یہ بات ہر ذی شعور کے ذہن میں گونجنے لگی کہ ’’ہم اقتدار میں آکر کشکول توڑ دیں گے‘‘۔
شریف برادران نے اقتدار میں آنے کے چند ماہ بعد ہی گڈانی میں سولر پارک کا سنگ بنیاد رکھا اور بڑی تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب میں جوش خطابت کے جوہر دکھائے گئے اور قوم کو جلد ہی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا عندیہ دیا گیا مگر اب یہ خبریں بھی آئی ہیں کہ گڈانی سولر پارک منصوبہ ختم ہوگیا ہے کیونکہ غیر ملکی کمپنی نے معاہدہ منسوخ کردیاہے۔ اسی طرح پورٹ قاسم پر پاور پلانٹ کے منصوبے کا بھی کوئی اتاپتہ نہیں۔ حکمران گزشتہ ڈھائی سال سے قوم کو مسلسل سبز باغ دکھارہے ہیں لیکن نیپرا نے حقائق سے پردہ اٹھاکر قوم کو خوش فہمی کی دلدل سے نکالا ہے۔قوم کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ 2020ء تک لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہوسکتی اور حکمرانوں کے تمام دعوے حقائق کے برعکس ہیں۔
حکمرانوں کو عوام سے ہمدردی ہوتی تو کم از کم اتنا تو کرسکتے تھے کہ گزشتہ 6ماہ میں فرنس آئل کی قیمتیں 60%کم ہوئی ہیں تو بجلی کی قیمتوں میں بھی 60%کمی کردیتے لیکن انہوں نے صرف زبانی جمع خرچ سے کام لیکر ملک کو اس نہج تک پہنچایا ہے اور عملی طور پر بجلی کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔ اسی طرح پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرنا ان کی مجبوری بن گئی تھی تو اس پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرکے عوام کو مکمل ریلیف نہیں دیا گیا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود اشیائے صرف کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں آئی کیونکہ ان کا پرائس کنٹرول کا کوئی نظام ہی نہیں ہے۔
نیلم جہلم پروجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر سے منصوبے کی لاگت میں کئی ارب اضافہ ہوچکا ہے۔ کئی ایسے پروجیکٹ لگانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے جس سے مہنگی ترین بجلی پیدا ہوگی اور قوم کومہنگائی کے بوجھ تلے دبا دیا جائیگا۔ اگر تھرمل پاور پروجیکٹس لگائے جائینگے توان سے آخر قوم کو کیا فائدہ ہوگا؟ 25-40 روپے فی یونٹ بجلی سے عوام پر بوجھ بڑھے گا یا عوام کو ریلیف ملے گا؟ جب تک ہائیڈل پاور پروجیکٹس نہیں لگائے جاتے اس وقت تک پاکستان معاشی ترقی نہیں کرسکتا اور ملک سے مہنگائی کا طوفان کم نہیں ہوسکتا۔ تھرمل پاور منصوبوں سے صرف اور صرف حکمرانوں کو بھاری کمیشن مل جاتی ہے اور انکے منظور نظر افراد کو پروجیکٹس کی تنصیب سے ماہانہ اربوں روپے کی بچت ہوجاتی ہے کیونکہ تھرمل پاور منصوبوں کی تنصیب کیلئے بھی اپنے منظور نظر افراد کو ہی ترجیح دی جاتی ہے اور فی یونٹ ایسی قیمتیں منظور کی جاتی ہیں جس سے عوام پر بے شک جس قدر بھی بوجھ بڑھ جائے لیکن اپنے منظور نظر سرمایہ داروں کو بھاری منافع مل سکے۔ نیپرا نے بالکل درست کہا ہے کہ 480 ارب روپے کی ادائیگی کے باوجود عوام کو ریلیف نہیں ملا۔لگتا ہے 480 ارب روپے بھی اپنے منظور نظر افراد کو فائدہ پہنچانے کیلئے جاری کئے گئے تھے۔
صنعتوں کو براہ راست بجلی فروخت کرنے کی منظوری بھی اسی لئے دی جائیگی کیونکہ یہ صنعتکاروں کی ہی تو حکومت ہے اور حکومت کی تمام تر پالیسیاں سرمایہ داروں کے مفادات کے تحفظ کیلئے تشکیل پاتی ہیں۔ حکومت نے گیس کی فراہمی میں پہلی ترجیح صنعتوں کو دے رکھی ہے اور اب حکومت سے کوڑیوں کے بھائو گیس لیکر صنعتکار اس سے بجلی پیدا کرکے حکومت کو 25-40 روپے فی یونٹ فروخت کرینگے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں گیس کی فراہمی میں پہلی ترجیح گھریلو صارفین‘ دوسری ترجیح تھرمل پاور اسٹیشن اور تیسری ترجیح میں سی این جی سیکٹر کو رکھا گیا تھا، اضافی گیس انڈسٹری کو دی جاتی تھی۔ جنرل مشرف کے دور میں نہ تو سی این جی کی بندش ہوتی تھی اور نہ ہی بجلی کی لوڈشیڈنگ ۔ انکے دور حکومت میں چونکہ تمام تر پالیسیاں عوام کے مفاد کو مدنظر رکھ کر تشکیل پاتی تھیں اس لئے عوام آج ان کے دور حکومت کو اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں۔