قومی سلامتی کے تقاضے اور سیاسی و عسکری قیادت

کالم نگار  |  قیوم نظامی
قومی سلامتی کے تقاضے اور سیاسی و عسکری قیادت

پاکستان کی سلامتی اور بقا کیلئے لڑی جانیوالی جنگ میں وزیراعظم پاکستان اور افواج پاکستان کے سپہ سالار مرکزی کردار ادا کررہے ہیں۔ دونوں اپنے اپنے محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ افواج کے سپہ سالار نے عسکری محاذ پر جس عزم، حوصلے اور دلیری کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل رشک اور لائق تحسین ہے۔ انہوں نے سفارتی محاذ پر بھی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت دیکر افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کو خوشگوار اور دوستانہ بنایا ہے جس کا اقرار افغانستان کے صدر اشرف غنی برملا کررہے ہیں۔ سیاست کے سپہ سالار حکومتی سطح پر اپنی آئینی ذمے داری پوری کررہے ہیں۔  قومی سلامتی سیاسی و عسکری قیادت کی اہلیت اور کارکردگی کے ساتھ منسلک ہوچکی ہے۔ پاکستان کے عوام کے ذہنوں میں یہ سوال ہلچل مچارہا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ کے مثبت اثرات کیوں مرتب نہیں ہورہے۔ پاکستان کے معصوم اور بے گناہ شہریوں کا خون بہنا کب بند ہوگا۔ یہ ہے وہ سوال جس کا جائزہ سیاسی و عسکری قیادت کو لینا ہے اور ان رکاوٹوں کو دور کرنا ہے جو جنگ کو نتیجہ خیز بنانے میں حائل ہیں۔ 21ویں آئینی ترمیم کی روشنی میں دو سال کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ دہشت گردوں کو بلاتاخیر کیفر کردار تک پہنچایاجاسکے۔ آئینی ترمیم کو منظور ہوئے تین ماہ ہونے کو ہیں لیکن ابھی تک فوجی عدالتوں نے کام شروع نہیں کیا۔ اس ضمن میں سیاسی وعسکری سپہ سالار دونوں قوم کو جواب دہ ہیں۔ کیا جنگیں اس طرح لڑی جاتی ہیں کہ جنگی نوعیت کے بنیادی فیصلوں کو ’’سرخ فیتے‘‘ کی نذر کردیا جائے۔ یہ سرخ فیتہ ہی پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے۔ آج کل جنرل نصیر اللہ بابر ماڈل کا ذکر ہورہا ہے جس نے اسی ریاستی نظام میں معجزہ کردکھایا تھا۔ ہم نے اس کامیاب ماڈل کے بارے میں تحقیق کی تو قابل رشک انکشافات سامنے آئے جو سیاسی و عسکری قیادت کی خدمت میں پیش کیے دیتے ہیں۔
1995ء میں پاکستان کی معاشی شہہ رگ کراچی مجرمانہ سرگرمیوں کا گڑھ بن چکا تھا۔ بوری بند لاشیں، اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری، ڈکیتی، ٹارگٹ کلنگ اور کارلفٹنگ کی وارداتیں روز مرہ کا معمول بن چکی تھیں۔ خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹو جن کے جسم میں حب الوطنی کا خون موجزن تھا کیسے خاموش رہ سکتی تھیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ جنرل(ر) نصیر اللہ بابر کو کراچی کو جرائم سے پاک کرنے کی ذمے داری سونپی اور پوری اتھارٹی بھی دی۔ ذمے داری قبول کرنے کے بعد جنرل بابر کراچی پہنچے اپنا کیمپ آفس قائم کیا ۔ اسی آفس میں آئی جی سندھ سعید خان، جائنٹ ڈی جی آئی بی میجر (ر) شبیر احمد اور ڈی آئی جی کراچی شعیب سڈل اپنی اپنی ذمے داریاں نبھانے لگے۔ اسے کہتے ہیں کوآرڈی نیشن اور ایکشن کہ متعلقہ آفیسر لیٹر اور نوٹس ایک دوسرے کو بھیجنے کے بجائے ایک ہی دفتر میں فیصلہ کریں اور فوری کاروائی کریں۔ آئی بی نے پہلے ہی کراچی کے بارے میں ڈیٹا تیار کررکھا تھا۔ آپریشن سے پہلے پولیس کی تطہیر کی گئی۔ اسے سیاسی اثر ورسوخ سے آزاد کیا گیا۔ پولیس کے افسروں سے قرآن پر حلف لیا گیا کہ وہ کسی کی ناجائز حمایت نہیں کرینگے۔ تھانوں کی مانیٹرنگ کیلئے فول پروف سسٹم تشکیل دیا گیا۔ آپریشن ٹیم کے ارکان مادر وطن کی محبت سے سرشار تھے اور ذمے داریاں پوری کرنے کیلئے پوری طرح اہل تھے۔ شعیب سڈل جیسے اہل اور دیانتدار افسر قوم کا فخر ہیں۔  جنرل بابر کی ٹیم نے کراچی میں گولی، گولہ اور بارود کی سمگلنگ بند کردی۔ کلاشنکوف کی گولی جو تین روپے میں فروخت ہوتی تھی نایاب ہونے کی وجہ سے اسکی قیمت 35روپے ہوگئی۔ آپریشن کے انچارج افسر جنرل بابر سمیت رات کے 2 بجے تک کام کرتے تھے۔ وفاق اور صوبے میں ایک ہی پارٹی کی حکومت تھی اور آپریشن میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔
سیاسی عزم رکھنے والی قیادت، ٹیم ورک، نظم وضبط، کوآرڈی نیشن کی وجہ سے کراچی میں امن قائم ہوا۔ بے نظیر کی حکومت کے خاتمے کے بعد میاں نواز شریف وزیراعظم منتخب ہوئے تو وہ اقتدار کی مصلحتوں کا شکار ہوگئے۔ کراچی میں امن قائم کرنیوالے تھانیداروں اور افسروں کو چن چن کرقتل کردیا گیا۔ پاکستان اور کراچی میں دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے ایک بار پھر جنرل بابر کے کامیاب ماڈل پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ سندھ کی جو سیاسی ٹیم سات سال میں کراچی میں امن قائم نہیں کرسکی اس سے مزید توقع احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ بیانات جاری کرنے اور اجلاس کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ سندھ میں گورنر راج کا نفاذ قومی سلامتی کا اولین تقاضہ ہے۔ غیر جانبدار، محب الوطن، غیر سیاسی اور اہل گورنر ہی کراچی میں سکیورٹی فورسز کیلئے سازگار حالات پیدا کرسکتا ہے۔ سنا ہے اس سلسلے میں عسکری قیادت کا وژن واضح ہے۔البتہ سیاسی قیادت کو جماعتی مفادات سے اوپر اُٹھ کر ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہم گزشتہ بارہ سال سے سیاسی و مذہبی ایکٹرز کے تعاون سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں جو زمین پر پوری طرح کامیاب دکھائی نہیں دے رہی حالانکہ اس جنگ میں قوم بے مثال جانی و مالی قربانیاں دے چکی ہے۔ صرف فوٹو سیشن کرنیوالے سیاسی و مذہبی رہنمائوں کو موجودہ جنگ سے الگ کرنا ہوگا اور براہ راست عوام کو منظم اور فعال کرکے جنگ جیتنا ہوگی۔ قومی سلامتی کا تقاضہ یہ ہے کہ سول سروس میں ریفارمز کی جائیں تاکہ سول سروس گڈ گورنینس کو یقینی بناسکے اور جنگ میں فعال کردار ادا کرسکے۔ ڈاکٹر عشرت العبادکی سربراہی میں قائم اہل افراد پر مشتمل کمیشن نے دو سال کی محنت سے فیڈرل، صوبائی اور ضلعی حکومتوں کے نظام میں اصلاحات کیلئے سفارشات مرتب کی تھیں۔ کیا وزیراعظم پاکستان کا یہ فرض نہیں ہے کہ وہ حالت جنگ کے تقاضوں اور نزاکتوں کے پیش نظر ان سفارشات پر عملدرآمد کرائیں۔
نیٹو کے ساٹھ ممالک نے ایک کانفرنس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ صرف طاقت سے نہیں جیتی جاسکتی بلکہ مکمل کامیابی کیلئے عوام کے دل اور دماغ جیتنے ہونگے۔ گزشتہ حکومت میں ڈیٹرینٹ، ڈویلپمنٹ اور ڈائیلاگ (تھری ڈیز) کی حکمت عملی ترتیب دی گئی تھی۔ پس ماندہ علاقوں کے عوام کے دل اور دماغ تعلیم، صحت اور ڈویلپمنٹ سے ہی جیتے جاسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں سیاسی اور عسکری قیادت کی کارکردگی کیا ہے۔ قومی سلامتی کے بنیادی تقاضے پورے کئے بغیر دہشت گردی کی جنگ میں مکمل کامیابی ممکن نہیں ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف اور پاکستان کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف سے دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ خدا اور اسکے رسولﷺ کے واسطے پاکستان کی سلامتی اور بقا کیلئے وہ اقدامات ضرور اُٹھائیں جو دہشت گردی کیخلاف طویل اور مہنگی جنگ جیتنے کیلئے لازم ہیں۔ پاکستان کے مقابلے میں سیاسی و گروہی مفادات کی کیا حیثیت ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے اپنے تازہ بیان میں درست کہا ہے کہ ملک میں فتنہ پھیلانے والی تنظیموں کی کوئی گنجائش نہیں۔ کراچی آپریشن منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا۔ ریاست کے سوا کسی کے پاس بندوق برداشت نہیں کرینگے۔سوال یہ ہے کہ وزیراعظم کب تک ایک ہی نوعیت کے بیانات دے کر وقت گزارتے رہیں گے اور وہ وقت کب آئیگا جب بیانات سے اوپر اُٹھتے ہوئے وہ ٹھوس اقدامات لیے جائینگے جن کے بغیر دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہی نہیں ہے۔ وزیراعظم پاکستان سے ان کے والدین کے نام پر اپیل ہے کہ وہ پاکستان کی سلامتی اور بقا کیلئے سیاسی مصلحتوں کو ختم کردیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ جہاں پر تھانے بکتے ہوں وہاں پر جرم ختم نہیں ہوسکتے بلکہ پلتے ہیں۔ جنگ کے دوران چیف جسٹس پاکستان کا کردار بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ عدل و انصاف کے نظام کو موثر بنائیں۔ انکی آنکھوں سامنے سانحہ بلدیہ ٹائون میں بہنے والے ڈھائی سو معصوم اور بے گناہ افراد کے خون پر سیاست کی جارہی ہے۔ ان سے بھی خدا اور رسول کا واسطہ ہے کہ وہ اس سانحہ کے ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔اینٹی ٹیررازم کی خصوصی فورس کو براہ راست فوج کی کمان میں دیا جائے تاکہ اسے سیاست کے زہر سے محفوظ رکھا جاسکے۔