شجاعت اور ایثار کے درخشاں ستارے!

کالم نگار  |  اصغر علی گھرال
شجاعت اور ایثار کے درخشاں ستارے!

5 مئی 2013؁ء کو گجرات میں ایک انتہائی المناک اور دل فراش سانحہ پیش آیا جس میں 4سال سے 11سال تک کے 16معصوم بچے اور ایک 22سالہ معلمہ (بچوں کو بچاتی ہوئی )آگ کے شعلوں کی نذر ہو گئے ۔ سانحہ کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن کے گائوں منگووال میں ایک پرائیویٹ سکول ہے ۔ جسکے مالکان نے قریبی دیہات سے بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کیلئے ایک ازکار رفتہ چھکڑا سی 15سیٹر وین رکھی ہوئی تھی جس میں پارٹیشن کر کے اور اضافی پھٹے لگا کر 32سیٹر بنا دیاگیا تھا ۔25مئی ہفتہ کے روز وہ مواضعات راجیکی ، کوٹ کھگہ ، کنگ سہالی اور کنگ چنن سے 27بچے اور سکول ٹیچر سمیعہ نورین کولے کر موضع کوٹ فتح دین کی طرف روانہ ہوا جہاں سے مزید 4بچے پک کرنے تھے۔ اس دوران گیس ختم ہونے پر گاڑی کو پٹرول پر کیا تو پٹرول لیک ہوا۔ ایک بچے نے ڈرائیور کو توجہ دلائی کہ انکل پٹرول کی بو آرہی ہے۔ مگر اس نے سنی ان سنی کر دی ۔ اتنے میں ایک موٹر سائیکل سوا ر نے اور پھر ایک وین ڈرائیور نے اسے خبردار کیا کہ وین کے نیچے آگ لگی ہے تو اس نے گاڑی روک کر سڑک کے کنارے کھڑی کی۔ وہ نیچے اترا تو فرنٹ سیٹ سے کچھ بچے بھی چھلانگ لگا کر اتر گئے ۔ اتنے میں آگ اور دھواں گاڑی میں پھیل گیا اور بچے چیخیں مارنے لگے ۔دروازے بند تھے۔ ڈرائیور گھبراہٹ میں فرار ہو گیا۔ مس سمیعہ نورین اور بچوں نے اندر سے دروازے کھولنے کی کوشش میں ہاتھ جلا لئے ۔مگر کھول نہ سکے۔ڈیوٹی پر جاتے ہوئے ایک پولیس اہلکار عمران خان نے گاڑی کا دروازہ کھولنے میں اپنے دونوں ہاتھ جلا لئے ۔مس سمیعہ نورین اپنی سیٹ سے با آسانی اتر سکتی تھی۔ مگراس نے ہمت کر کے بچوں کو ٹوٹے شیشوں کی کھڑکیوں سے باہر دھکیلنا شروع کر دیا ۔ یوں وہ 6بچوں کو شعلوں سے نکال سکی ۔ ساتویں بچے کو باہر کی دنیا میں دھکیلنا چاہتی تھی کہ اسکے ساتھ ہی آگ کے شعلوں کی نذر ہو گئے ۔ آگ کے شعلوں میں گھر ے ہوئے نصف درجن بچوں کو بچانا اور اپنی جان نچھاور کر دینا ایسی قربانی ہے جسکی مثالیں کم کم ملتی ہیں۔
اس سانحہ میں خاندانوں کے خاندان اُجڑ کر رہ گئے  ایک ایک گھر سے دو دو تین تین بلکہ ایک بدقسمت والدین کے چاروں بچے آگ کی نذر ہو گئے ۔ایک چھوٹے گائوں کوٹ کھگہ سے سات بچے سکول جاتے تھے ۔ 6گاڑی کے اندر اور ساتواں ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر اللہ کو پیارا ہو گیا ۔ مس سمیعہ کی بہن اور کزن بہنوئی ریاض کے 3بچے ایک بیٹا اور 2بیٹیاں شہید ہوئے ۔چوتھی بیٹی بُری طرح جھلس کر برن یونٹ میں رہی اور بچ گئی۔اس سانحہ میں انتہائی تکلیف دہ مناظر دیکھنے کو ملے جن سے دل دہل جاتا ہے۔ ایک 4سال کا بچہ علی حسن بڑے شوق سے پہلے دن سکول جارہا تھا مگر وہ سکول نہیں پہنچ سکا اور شدید زخمی ہو کر ہسپتال پہنچ گیا۔ ایک بچے کو ماں نے برف کا گولا کھانے کیلئے پانچ روپے کا سکہ دیا ۔جب ایدھی کے ورکر اسکی جلی لاش کو تابوت میں رکھ رہے تھے تو دیکھا کہ اس نے پانچ روپے کا سکہ مٹھی میں بھینچ رکھا تھا۔ایک بچہ حسنات حفیظ سرگودھا سے تھا وہ ننھیال میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ خرم بٹ کا بیٹا ہاشم علی خوشی سے سکول جاتا تھا۔ مگر آج اس نے سکول نہ جانے کی زبردست ضد کی ۔کہنے لگا ہفتے کا دن ہے چھٹی کا دن ہے۔ پرائیویٹ سکول والوں نے خواہ مخواہ سکول کھول رکھے ہیں ۔ میرا آج میچ ہے ۔ سکول نہیں جائوں گا۔ اس نے گھر والوں کو ڈرانے کیلئے یہ تک کہہ دیا کہ مجھے سکول بھیج کر پچھتائو گے ۔میں کہیں بھاگ جائوں گا۔ تا ہم اسے بہلا پھسلا کر اور یہ وعدہ کر کے کہ چھٹیاں ہوتے ہی تمہیں مر ی لے جائینگے راضی کیا۔ اب والدین کو یہ پچھتاوا نہیں جاتا کہ اسکی کیوں نہ مان لی ۔ زبردستی کیوں کی۔اس سانحہ پر وفاق کے کسی نمائندے کو بد قسمت متاثرہ خاندانوں کی دل جوئی کو توفیق نہ ہوئی ۔چوہدری پرویز الٰہی کا یہ قومی اور مونس الٰہی کا صوبائی حلقہ ہے ۔ چوہدری پرویز الٰہی ہر کام چھوڑ کر دوسرے دن ہی پہنچ گئے ۔ نگران وزیر اعلیٰ نجم سیٹھی بھی اگلے دن متاثرہ خاندانو ں کے پاس آئے ۔ ہمدردی کی اور سرکاری امداد کا بھی اعلان کیا۔ اسی دن مریم نواز اور حمزہ شہباز بھی متاثرہ خاندانو ں کے پاس آئے ۔ انکے آنسو بھی پونچھے اور حسب توفیق امداد بھی کی۔میں گزشتہ اتوار کو راجیکی گیا۔ گائوں کے باہر گجرات سرگودھا روڈ پر شہیدوں کی خوبصورت یادگار تعمیر ہے ۔ سانحہ کا مختصر احوال ،مس سمیعہ کی شجاعت اور قربانی کا ذکر اور معصوم بچوں کی تصویریں دیکھ کر آنسو ضبط کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔
مس سمیعہ کے بھائی چوہدری سجاد وڑائچ اور کچھ دوسرے لوگوں سے ملاقات ہوئی ۔ جتنا سنگین سانحہ ہوا ہے اور جتنی بڑی قربانی دی گئی ہے ۔ (یہ اس دن کی میڈیا پر ورلڈ نیوز تھی ) مگر پھر میڈیامیں ذکر نہ ہونے کے برابر ہے ۔مس سمیعہ نورین کو شجاعت اور قربانی پر ستارہ شجاعت کا ایوارڈ دیا گیا ہے ۔ میں نے قومی اور مقامی اخبارات میں اپنے کالموں میں مطالبہ کیا تھا کہ ملے نہ ملے مگر سمیعہ نورین کا کیس سفارش کر کے نوبل انعام کیلئے بھجوایا جائے۔میں نے نوبل انعام پانے والوں کے پروفائل دیکھے ہیں ۔ بنی نوع انسان کی بھلائی کیلئے عظیم کارنامے عظیم قربانیاں ہیں ۔سچ پوچھیں تو سمیعہ نورین اور ہمارے درخشاں ستاروں کی بہادری کاگراف کسی طرح سے بھی کم نہیں۔
گلہ اپنوں سے ہوتا ہے گائوں والوں نے شکایت کی کہ چوہدری احمد مختار کا یہ حلقہ ہے ۔ ہم نے انہیں ووٹ دیکر قومی اسمبلی میں پہنچایا وہ وزیر بنے PPP کی ٹاپ لیڈر شپ میں انکا شمار ہے ۔ اس بار وہ کامیاب نہیں ہوئے لیکن پونے دو سال ہونے کو آئے ہیں ،بے حسی کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے یہاں تک تشریف لانے اور ہمارے غم میں شریک ہونے کی زحمت نہیں فرمائی اسی طرح ہمارے اپنے بھائی سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن کا تو منگووا ل اپنا گھر ہے ۔ہم انکا اور ہمار ی بیبیاں محترمہ بشری ٰ اعتزاز کا انتظار کرتے رہے ہیں۔ ظاہر ہے ڈیڑ ھ پونے دوسالوں میں وہ منگووال ضرور آتے رہے ہیںلیکن انہوں نے ہم تک آنے اور ہم سے ہمدردی کرنے کی زحمت نہیں کی۔  ایک غم زدہ بی بی کہہ رہی تھی  …؎
میرے پاس سے گزر کر میرا حال تک نہ پوچھا
میں کیسے مان لوں کہ وہ دور جا کے روئے
………  (ختم شد)