پاکستان کی سفارتی کوششیں

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
پاکستان کی سفارتی کوششیں

بشمول آرمی چیف بہت سے لوگوں کی رائے میں سابق وزیر اعظم جناب نواز شریف نے سفارتی محاذ خالی چھوڑ کر اچھا نہیں کیا ۔اُ چار سالوں تک وزیر خارجہ منتخب ہی نہ کیا جس کا ملک کو نقصان ہوا ۔وزیر خارجہ نہ ہونے کی وجہ سے ہماری کوئی خارجہ پالیسی ہی نہ بن سکی جس پر متعلقہ اہلکار یا سفراء حضرات عمل کر سکتے۔سفارتی محاذ خالی دیکھ کر ہمارے ازلی دشمن بھارت نے اس سے فائدہ اٹھایا جس نے ہر قومی اوربین الاقوامی فورم پر پاکستان کیخلاف دہشتگردی کے الزامات لگا کر پاکستان کو تنہا کرنے کی پالیسی اپنائی۔بھارتی وزیر اعظم نے ہمارے پڑوسی مسلمان ممالک بشمول سعودی عرب اور عرب امارات کے دورے کر کے انکا اعتماد حاصل کیا اور پاکستان کیخلاف دہشتگردی کی جتنی زہر افشانی کر سکتا تھا کی۔ ان ممالک میں کام کرنیوالے بھارتیوں کو منظم کیا۔ان کیلئے بہتر سہولتیں حاصل کیں۔مزید بھارتیوں کیلئے ملازمت کے مواقع حاصل کئے ۔نتیجتاً آج ان ممالک میں کام کرنیوالے بھارتیوں کی تعداد پاکستانیوں کی نسبت کئی گنا زیادہ ہے۔ لہٰذا بھارت کو ان ممالک سے کثیر زرِمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔

بھارتی اثرو رسوخ کا یہ عالم ہے کہ ابو دھابی جیسے مسلمان ملک میں بھارت کو بھارتیوں کی عبادت اورپوجا پاٹ کیلئے مندر بنانے کی بھی اجازت دے دی گئی ہے۔ سعودی عرب میں تو نریندر مودی کو سب سے بڑے سول ایوارڈ سے نوازا گیاجو اب تک پاکستان کے کسی سیاستدان کو نصیب نہیں ہوا۔ان ممالک کا رجحان اب پاکستان کی نسبت بھارت کی طرف زیادہ ہے۔ ہماری لاپروائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے بھی پرخچے اڑا دئیے اور ہمارے حصے کے دریا کے پانی پر بھی قابض ہو گیا۔افغانستان پہلے ہی بھارت کی گود میں ہے اور ایران میں بھارت بہت بڑی سرمایہ کاری کررہا ہے جس سے ایران کا اعتماد بھی اسے حاصل ہو گیا ہے۔ ہمارے بہترین دوست چین اور قریب آتے ہوئے روس نے بھی’’ برکس کانفرنس ‘‘کے موقع پر پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگا کر بھارت کو خوش کیا۔ امریکہ کا دورہ کرکے ٹرمپ اور ٹرمپ حکومت کو پاکستان مخالف کر دیا ۔جاپان اور بنگلہ دیش سے بھی پاکستان مخالف بیان دلوادئیے۔ فلسطینیوں کو چھوڑ کر اسرائیل سے گہری دوستی بنالی۔ یورپ اور دیگر اہم ممالک میں بھارتی مشنز پاکستان کیخلاف بڑی تندہی سے پروپیگنڈا میں مصروف ہیںجس کی ایک اہم مثال حال ہی میں سامنے آئی ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں تمام ٹرانسپورٹ اور بس اڈے’’ آزاد بلوچستان تحریک ‘‘کے پوسٹرز سے بھرے ہیں۔ یاد رہے کہ خارجہ پالیسی اور اس پر عمل کرنے کیلئے متحرک سفارت کار اور چوبیس گھنٹوں کی بنیاد پر سفارتکاری ایک مسلسل عمل ہے جو پاکستان کے چار سالوں تک معطل رکھا گیاجس کی سزا اب بھگتنی پڑیگی۔
جب بھارت ہمارے خلاف سفارتی محاذ پر کاروائیاں کر رہا تھا تو ہماری قیادت نے حالات کا ادراک ہی نہ کیا۔ میاں صاحب مودی دوستی میں لوٹ پوٹ ہو تے رہے۔ مودی کے بھیجے ہوئے نمائندوں کو بغیر ویزہ اور سفارتی آداب کے مری کی سیریں کراتے رہے اور پھر پاکستان کو اس وقت ہوش آیا جب کلبھوشن کی سزائے موت بین الاقوامی عدالت نے معطل کر دی۔ چین اور روس نے ’’ برکس کانفرنس ‘‘کے موقع پر بھارت کی ہاں میں ہاں ملادی۔ نئے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو دہشتگرد ملک قرار دیکر اسکے خلاف کاروائی کی دھمکی دیدی۔ افغانستان کی جنگ پاکستان میں منتقل کرنے کا منصوبہ سامنے آیا اور پاکستان کی کوالیشن سپورٹ کی مد میں دی جانے والی امداد بند کر دی گئی۔ یہ سب کچھ میاں صاحب کی عظیم سفارتکاری کا نتیجہ تھا۔
میاں صاحب کے بعد قوم کو ایک بڑا فائدہ ہوا ہے وہ خواجہ محمدآصف کا وزارت خارجہ پر تقرر ہے۔خواجہ صاحب نے وزارت سنبھالتے ہی بیرونی محاذ پر توجہ دی۔ سب سے پہلے وہ چین تشریف لے گئے۔ چین ہمارا بہترین دوست ہے چین نے ہمیں ہر اہم موقع پر سپورٹ کیا۔ چین پاکستان میں 65ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کر رہا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں بھارت کی بھڑکائی ہوئی آگ اور ٹرمپ حکومت کے خلاف بھی چین کی مدد کی سخت ضرورت ہے۔ بہرحال خدا کا شکر ہے کہ خواجہ صاحب کی چینی سفارتکاری کامیاب رہی اور چین نے اعلان کیا کہ پاکستان کیلئے انکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی اور یہ بیان بہت خوش آئند ہے۔ اسی طرح ایران ہمارا مسلمان بھائی اور پڑوسی ملک ہے۔ایران نے ہر اہم موقع پر ہماری مدد کی۔ قیام پاکستان کے وقت پاکستان کو تسلیم کرنے والا سب سے پہلا ملک ایران ہی تھا۔ بھارت نے یہاں بہت بڑی انویسٹمنٹ کرکے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ حالات یہاں تک خراب ہوئے کہ ایرانی آرمی چیف جنرل محمد باقری نے پاکستان کے اندر آکر کاروائی کی دھمکی دی۔ یہ بیان کسی صورت بھی قابل قبول نہیں۔ لہٰذا خواجہ صاحب ایران گئے اور وہاں حالات سدھر گئے۔ حال ہی میں گوادر پاکستان میں پاکستان ایران مشترکہ سرحدی کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں بہت سے معاملات پر صلح صفائی سے فیصلے ہوئے اور یہ پاکستان کیلئے ایک اچھی خبر ہے۔ افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات کافی تکلیف دہ ہیں کیونکہ وہ بھارت کی زبان بولتا ہے۔ وہاں بات چیت کیلئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی ٹیم کے ہمراہ گئے۔ اس میٹنگ سے بھی حالات میں بہت بہتری آئی ہے۔ اگلے ماہ جناب اشرف غنی صاحب نے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی قبول کر لی ہے۔انشاء اللہ حالات مزید بہتر ہونگے۔ ترکی کیلئے وزیراعظم صاحبD-8 کانفرنس میں خود تشریف لے گئے ہیں۔ ترکی کے ساتھ پہلے بھی ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ اب مزید اچھے ہونے کی توقع ہے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات تاحال غیر یقینی ہیں۔ حکومت انہیں معمول پر لانے کیلئے پوری کوشش کر رہی ہے۔ امریکی مغوی جوڑے کو طالبان سے چھڑانے کے بعد سے ٹرمپ اور امریکی حکمرانوں کے رویے میں کافی نرمی آئی لیکن امریکی سی آئی اے چیف نے بھارت کے ایما پر الزام لگایا ہے کہ امریکی مغوی جوڑا پانچ سال تک پاکستانی حدود میں رہا اور پاکستان نے اسے آزاد نہیں کرایا۔ اگر اب بھی انہیں آزاد نہ کرایاجاتا تو امریکی کمانڈوز ایبٹ آباد ٹائپ کا آپریشن کرنے کیلئے تیار تھے۔امریکی سیکرٹری خارجہ ریکس ٹلرسن نے پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران ایک دفعہ پھر پاکستان کو ’’ڈومور‘‘ ورنہ سخت نتائج کی دھمکی دی ہے ۔ مزید تکلیف دہ بات یہ ہے کہ امریکہ نے بھارت کو پاکستان کی کڑی نگرانی اور علاقے کا چوہدری مقرر کیا ہے۔ ان سب تکلیف دہ بیانات کے باوجود وہاں سے کچھ اچھی خبریں بھی آرہی ہیں۔ مثلاً امریکی وزیر دفاع کے سی پیک پر اعتراض کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے سی پیک کے متعلق کہا ہے ’’امریکہ پاکستانی عوام کے حق میں ہونیوالے تمام ترقیاتی منصوبوں کا خیر مقدم کرتے ہیں‘‘ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ بھارت کی تمامتر مخالفت کے باوجود پاکستان انسانی حقوق کونسل کا ممبر منتخب ہو گیا ہے۔