دھرنا اور حکومت کی بے تدبیری

کالم نگار  |  محمد اسلم خان....چوپال
دھرنا اور حکومت کی بے تدبیری

پاکستان جل رہا ہے اور کئی دیسی "نیرو" اپنی اپنی بانسریاں بجا رہے ہیں سیاست چمکا رہے ہیں گذشتہ 22 دنوں سے فیض آباد چوراہے پر جو ہنڈیا پھوٹ رہی ہے یا مسلسل پھوٹے جارہی ہے اس کی سب سے پہلی ذمہ داری وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پر عائد ہوتی ہے جو اس نازک مرحلے پر 22 کروڑ لا وارثوں کے والی وارث ہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ وہ سپریم± کورٹ سے نااہل ہو جانے والے اپنے رہنما سے وفاداری دکھائے جارہے ہیں' عجب ستم ظریفی ہے کہ جناب شاہد خاقان عباسی اپنے آپ کو وزیراعظم سمجھنے کی بجائے نااہل رہنما کو "اصل وزیر اعظم" قرار دےکر عدالت عظمی کی عزت افزائی کئے جا رہے ہیں جو حکمران جماعت اور حکومت خود سپریم کورٹ کا فیصلہ ماننے کو تیار نہیں وہ دھرنے والوں سے ہائیکورٹ کا فیصلہ منوانے کی دہائی دے رہی ہے۔ فیض آباد چوک ک±ھلواتے ک±ھلواتے پورا م±لک بند کروانے والے حکمت کاروں کو وزیر داخلہ احسن اقبال سمیت بیچ کٹہرے کھڑا کرنا چاہئے۔ دھرنا لاہور سے چلا تو کسی نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جب وہ حساس چوراہے پر قابض ہو گئے تو آنکھیں کھلیں اب فوج کو دھرنے کے مقابل لانے پر تحریری تحفظات سامنے آ گئے ہیں۔
جناب احسن اقبال نے بھارت سے دھرنے کا تعلق جوڑنے کا گھسا پٹا فارمولا چلانے کی کوشش کی اب دھرنے والے صرف زاہد حامد کے استعفی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آج کا منظر یہ ہے کہ سارا پاکستان افواہوں کی لپیٹ میں ہے چیئرمین پیمرا ابصار عالم خوش ہیں کہ ضمیموں کا قدیم دور لوٹ آیا ہے ویسے عجب معاملہ یہ ہے کہ ایک آدھ کے سوا سارے ٹی وی چینلز نے دھرنے کا بائیکاٹ رکھا جس کا کوئی منفی اثر نہیں مرتب ہوا وفاقی وزرا احسن اقبال' زاہد حامد کے آبائی گھروں کے سامنے مظاہرے ہو چکے ہیں۔
وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کی آبائی حویلی پر مشتعل مظاہرین نے دھاوا بول کر پسرور میں کھڑکیاں دروازے فرنیچر توڑ دیا۔ چودھری نثار کی عدم موجودگی میں ان کے گھر پر حملے کا افسوس ناک واقعہ ہوا ہے۔ تاریخ اس سانحے کی تمام تر ذمے داری کمزور ترین وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پر ڈالے گی۔ حکمران اپنی انا کے گنبدِ بے در میں بند مسلسل غلطی پر غلطی دہرائے جا رہے ہیں۔ پرویز رشید جیسے وفاشعار سے استعفیٰ لیا جا سکتا ہے اور راو¿ تحسین کو پیشہ وارانہ قواعد و ضوابط پر سمجھوتا نہ کرنے کے جرم بے گناہی میں گوشہ گمنامی کی نذر کر دیا گیا تو کسی اور میں کون سے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں؟
ختم نبوت کا تنازعہ کھڑا کرنے کے مجرموں کو سزا دینے کا مطالبہ سب سے پہلے کسی اور نے نہیں' شہباز شریف نے کیا تھا خود نواز شریف نے راجہ ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ کو دو دن میں شائع کرنے کا حکم دیا تھا اس کالم نگار نے 9 اور 10 اکتوبر کو "بچہ بغل میں ڈھنڈورا شہر میںکالم میں" واضح کر دیا تھا کہ یہ رپورٹ کبھی منظر عام پر نہیں آسکے گی اور اب تک ایسا ہی ہواہے کہ وقت حاصل کرکے ٹال مٹول سے کام لیا گیا ہے۔ انتخابات میں چھ سے آٹھ مہینے رہ گئے ہیں ایسے میں کسی دوسرے کو وزیر قانون بنانے سے کونسی قیامت ٹوٹ پڑتی؟
اکثر عرض کرتا رہتا ہوں کہ ریاستی رٹ ڈنڈے کے زور پہ نہیں، حقوق کی فراہمی سے قائم ہوتی ہے۔ عقیدہ ختم نبوت پر کاری ضرب لگانے والے مجرم سامنے موجود ہیں لیکن ادنیٰ دنیاوی مفادات نے شان ختم نبوت کے مسئلے پر بھی آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے۔ انتخابی اصلاحات کے آئینی بل کے مسودے کا کام اقتدار کے ایوانوں میں گذشتہ برس 2016 کے اوائل سے مکمل رازداری سے جاری تھا۔ جس کے بارے میں تفصیلی انکشافات 16 مارچ 2016 کو شائع ہونیوالے ایک کالم میں کر دئیے گئے تھے۔ آخرکار کامل ڈیڑھ برس بعد گزشتہ دنوں ان انکشافات کے مطابق حرف بہ حرف لفظ بہ لفظ مسودہ قانون سینٹ اور قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد قانون بن کر لاگو بھی ہو گیا۔ اس دھرنے نے پنجاب میں سارا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے آج عالم یہ ہے کہ آبائی گھروں پر حملوں کے وزرا کونوں‘ کھدروں میں چھپ گئے۔ کئی نون لیگ کے ارکان اسمبلی کے مستعفی ہونے کے اعلان کر رہے ہیں۔ خوف کا یہ عالم ہے وفاقی وزرا اپنے گھروں میں رات گزارنے کی بجائے ادھر ادہر ہو چکے ہیں۔
شیخ الحدیث مولوی خادم حسین رضوی کا طریقہ کار درست ہے یا غلط ہے اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی لیکن مورخ یہ ضرور لکھے گا جب ختم نبوت کے قانون میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تبدیلی کرنے کی کوشش کی گئی تھی تو خوش الحان ”مولانا“ روایتی درباری مولویوں کی طرح حاضری لگوا کر سوز و ساز سے حکمرانوں کے دل بہلا رہے تھے ایک اور درباری اس تبدیلی کے حق میں دلائل کے انبار لگا رہے تھے, طاہرالقادری لاپتہ تھا کپتان خان اپنے اللے تلوں میں مشغول تھے اور دوسری دینی سیاسی جماعتیں کرسی کے لالچ میں اتحاد بنا' بگاڑ رہی تھیں تب دونوں ٹانگوں
سے معذور ایک شخص اپنے محبوب (صلعم) کی محبت میں ہڈیوں کا گودا جما دینے والی سردی اور سیاہ راتوں میں دھرنا دے رہا تھا اور وہ مورخ یہ بھی بتائے گا کہ ایک حافظ سعید آبروئے ملت ایسا بھی تھا جس نے غیر قانونی قید سے رہائی کے بعد اسلام آباد دھرنے کے شرکا کے خلاف آپریشن کی شدید مذمت کی تھی اور حکومت کو مذاکرات کے ذریعہ پرامن طور پر مسئلہ حل کرنے کا مشورہ دیا تھا کہ تشدد کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے اور موجودہ حالات میں ملک کسی انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ حکومت سے دھرنے کے شرکا کے مطالبات تسلیم کرنے پر زور دیا تھا، راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر لانے اور ختم نبوت کے حوالہ سے قانون میں ترمیم کے ذمہ داران کیخلاف کاروائی کرنے مطالبہ کیا تھا جس کے بعد دھرنوں جیسے مسائل خودبخود حل ہو جائیں گے۔ عقیدہ ختم نبوت ہر مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو اور انتہائی حساس مسئلہ ہے۔ اس معاملہ پرتشدد سے ملک میں انتشار کی فضا پیدا ہو گی اوراسلام دشمن قوتوں کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔ حافظ سعید نے کہاکہ امریکہ و یورپ کی شروع سے یہ خواہش رہی ہے کہ پاکستان میں ختم نبوت کے مسئلہ کو بگاڑا جائے اور آئین میں ختم نبوت کو جو تحفظ حاصل ہے اسے ختم کر دیا جائے۔ اس کے لئے کئی غیر ملکی این جی اوز کروڑوں روپے کے بجٹ خرچ کر رہی ہیں اور کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کئے گئے ملک میں مسلمانوں کی صفوں میں قادیانیوں کو داخل کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں قائم کی گئی کمیٹی کی رپورٹ منظرعام پر لائے اور اس معاملہ میں ملوث تمام کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے‘ ان سب کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے سخت سزا دینی چاہیے۔