ڈی ایٹ ممالک کی آٹھویں سربراہ کانفرنس

کالم نگار  |  افتخار علی ملک
ڈی ایٹ ممالک کی آٹھویں سربراہ کانفرنس


آٹھ ترقی پذیر ممالک کی تنظیم ڈی ایٹ کی آٹھویں سربراہ کانفرنس کی میزبانی کا اعزاز اس مرتبہ پاکستان کو حاصل ہواجس میں ایران، نائجیریا اور انڈونیشیا کے صدور، ترکی کے وزیراعظم، ملائشیا کے نائب وزیر اعظم اور بنگلہ دیش کی وزیراعظم کے مشیرِ خارجہ نے شرکت کی جبکہ مصر کے صدر محمد مرسی غزہ کی ہولناک صورتحال کے باعث کانفرنس میں شرکت نہیں ہوپائے۔ یہ نہ صرف ایک تاریخی موقع تھا بلکہ اسے پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جاسکتا ہے۔
ڈی ایٹ سربراہ کانفرنس کی افتتاحی تقریب 19نومبر کو ہوئی جس میں مجھے بھی شرکت کا اعزاز حاصل ہوا اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سمیت اہم شخصیات سے بہت سے امور پر تبادلہ خیال کا موقع ملا۔ دوستوں کی معلومات کیلئے بتاتا چلوں کہ ڈی ایٹ دراصل ترقی پذیر مسلم ممالک کا ایک اتحاد ہے جو15جون 1997ءکو ترکی کے سابق وزیراعظم نجم الدین اربکان کی کوششوں سے معرض وجود میں آیاکیونکہ وہ مسلم ممالک کی باہمی قربت اور اقتصادی ترقی کیلئے مشترکہ کوششوں کے خواہشمند تھے۔ اسکے علاوہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی معاشی و اقتصادی نظام میں نمایاں مقام دلانا، باہمی تجارتی و معاشی تعلقات کو مضبوط کرنا بین الاقوامی سطح پر فیصلہ سازی میں اراکین ممالک کے کردار ادا کو بہتر بنانا ، اراکین ممالک کے عوام کا معیار زندگی بہتر کرنا،رکن ممالک کے درمیان شعبے مالیات، بینکنگ ،سائنس و ٹیکنالوجی، انسانی وسائل کی ترقی، زراعت، توانائی، ماحولیات اورصحت کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینا بھی ڈی ایٹ گروپ کے قیام کے اغراض و مقاصد میں شامل تھا۔ بلاشبہ ڈی ایٹ فورم کے قیام کو ترکی کے سابق وزیراعظم کا ایک بڑا کارنامہ کہا جاسکتا ہے ۔ڈی ایٹ کے اراکین ممالک میں پاکستان، ایران، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ترکی، مصر، ملائشیا اور نائجیریا شامل ہیں جن کی مجموعی آبادی دنیا کی کُل آبادی کا لگ بھگ 13.5فیصد بنتی ہے۔اسلام آباد میں ڈی ایٹ فورم کا منعقدہونے والا اجلاس آٹھواں تھا جبکہ اس سے قبل سات اجلاس بالترتیب ترکی، بنگلہ دیش، مصر، ایران، انڈونیشیا، ملائشیا اور نائجیریا میں منعقد ہوچکے ہیں۔
14مئی 2006ءکو انڈونیشیا کے شہر بالی میں گروپ کے پانچویں اجلاس کے موقع پر اراکین ممالک نے ایک معاہدے پر اتفاق کیاجس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان مخصوص اشیاءپر ٹیکس کم کرنا، آزادانہ تجارت کی رکاٹوں کو کم کرنا اور اراکین ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینا تھا۔ تمام اراکین ممالک نے اس معاہدے پر دستخط کیے لیکن بنگلہ دیش نے نجانے کن وجوہات کی بناءپر اس معاہدے میںشمولیت سے انکار کردیا۔ بنگلہ دیش اگرچہ ڈی ایٹ کا رُکن تو ہے لیکن اس نے کبھی بھی اچھے اور حوصلہ افزا رویے کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اگرچہ ڈی ایٹ گروپ کو معرض وجود میں آئے ڈیڑھ دہائی سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے لیکن یہ بین الاقوامی سطح پر اثر و رسوخ قائم کرنے میں قطعاً ناکام رہا ہے جبکہ گروپ ایٹ یعنی جی ایٹ کی طاقت کا یہ عالم ہے کہ اس کے اراکین ممالک کینڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، روس، برطانیہ اور امریکہ دنیا کی 65%معیشت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اسی طرح یورپین یونین کے اراکین ممالک نے بھی عالمی تجارت کا بہت بڑا حصہ سنبھالا ہوا ہے۔ ڈی ایٹ ممالک کی باہمی تجارت ان کے برادرانہ تعلقات کی عکاسی نہیں کرتی جبکہ عالمی تجارت میں بھی تمام اراکین ممالک کا مجموعی حصہ بمشکل پانچ فیصد ہے حالانکہ مشترکہ کوششیں عالمی تجارت میں اپنا حصہ بڑھایا جاسکتا ہے۔
 صدر پاکستان آصف علی زرداری نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ساری قوم کے جذبات کی ترجمانی کی۔ انہوں نے فلسطین میں اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائےگی ، کشمیریوں کے حقوق کیلئے سب آگے بڑھیں۔ صدر مملکت نے مزید کہا کہ ڈی ایٹ ممالک خود مختار ہوں، تجارتی و ترقیاتی بینک قائم کریں اور دہشت گردی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں۔ڈی ایٹ کانفرنس کے سربراہ اجلاس میں ایک اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس کے تحت اراکین ممالک تجارت، توانائی، اقتصادیات، اور سائنس سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینگے، اقوام متحدہ کی طرح اپنے مسائل اجتماعی نظام کے تحت حل کرینگے، اسلامی بینکاری نظام کو فروغ دیا جائےگا، اراکین ممالک کے نجی شعبہ کے درمیان روابط مستحکم کیے جائینگے اور یورپین یونین اور دیگر گروپوں کےساتھ تعاون کو فروغ دیا جائےگا وغیرہ وغیرہ۔ اگر ڈی ایٹ کانفرنس کے اعلامیوں پر عمل درآمد ہوجائے تو اس سے نہ صرف تمام اراکین ممالک بلکہ ساری مسلم دنیا کو فائدہ ہوگا لہذا بطور ایک اہم رُکن پاکستان کو اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہمیں اراکین ممالک پر زور دینا چاہیے کہ وہ تجارت کے سلسلے میں ایک دوسرے کو ترجیح دیں جس سے ڈی ایٹ گروپ معاشی طور پر مستحکم ہوگا اور اراکین ممالک کے باہمی تعلقات بھی خوشگوار ہونگے۔ گروپ کے ارکین ممالک پر زور دیا جائے کہ وہ دفاع کے شعبوں میں بھی باہمی تعاون کو فروغ دیں، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی مدد کریں، پاکستان میں سرمایہ کاری کریں اور درآمدات کے سلسلے میں پاکستان کو ترجیح دیں کیونکہ پاکستانی مصنوعات معیار کے حوالے سے دنیا بھر میں بہترین ہیں۔ ایران کے صدر احمدی نژاد نے ایک مرتبہ پھر پاکستان میں توانائی کا بحران حل کرنے کیلئے تعاون اور بجلی و گیس فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے جس سے ہمیں فوری طور پر فائدہ اٹھانا چاہیے کیونکہ توانائی کا بحران اپنی جڑیں بہت مضبوطی سے گاڑ کر اور صنعت و تجارت ومعیشت کی تباہی و بربادی کا سبب بن رہا ہے۔ پاکستان بین الاقوامی سطح پر امن و سلامتی کے فروغ کیلئے بہت اہم کردار ادا کررہا ہے لہذا ڈی ایٹ ممالک اسکی بھرپور حمایت کریں۔ ملائشیا نے گذشتہ چند عشروں میں بے مثال ترقی کی ہے لہٰذا پاکستان کو اُسکے تجربات سے استفادہ کرنااور اُن عوامل کا جائزہ لینا چاہیے جنہوں نے آج ملائشیاءکو اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے۔ ڈی ایٹ ممالک پر زور دیا جائے کہ وہ او آئی سی کو فعال کرنے کیلئے بھی کردار ادا کریں اور تیل کی دولت سے مالامال مسلم ممالک کو آمادہ کریں کہ وہ ترقی پذیر مسلم ممالک میں اپنی سرمایہ کاری بڑھائیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ترکی اور ملائشیا کے پاس افرادی قوت کی قلت ہے جبکہ پاکستان کے پاس سستی مگر بہترین ہنرمند افرادی قوت موجود ہے لہذا ان دونوں ممالک کو افرادی قوت فراہم کرنے کی پیشکش کی جائے جس سے ہمیں معاشی و اقتصادی طور پر بہت فائدہ ہوگا۔ موجودہ عالمی صورتحال کے تناظر میں ڈی ایٹ ممالک کا حالیہ اجلاس بہت اہمیت کا حامل تھا لیکن بنگلہ دیشی وزیراعظم نے اسلا م آباد اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا جبکہ کچھ عرصہ قبل بنگلہ دیش یورپین یونین کی جانب سے پاکستان کو تجارتی مراعات دینے کی مخالفت بھی کرچکا ہے ۔ڈی ایٹ کے اراکین ممالک کو بنگلہ دیش پر زور دینا چاہیے کہ وہ بلاوجہ انتشار پھیلانے کے بجائے ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کرے تاکہ ڈی ایٹ گروپ کے تمام اراکین کسی بھی قسم کے اختلافات سے بالاتر ہوکر نہ صرف اپنی بلکہ پوری مسلم اُمہّ کی ترقی کیلئے کام کریں۔