پاکستان میں ڈی ایٹ کانفرنس

کالم نگار  |  ڈاکٹر حسین احمدپراچہ
پاکستان میں ڈی ایٹ کانفرنس


اسلامی دنیا نے اُمتِ مسلمہ کی عظمتِ رفتہ بحال کرنے اور اپنی اہمیت و حیثیت منوانے کیلئے ایک سے بڑھ کر ایک آئیڈیا پیش کیا ہے۔ اسلامی کانفرنس، رابطہ عالم اسلامی اور پھر ڈی ایٹ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ترکی کے سابق اسلام پسند وزیراعظم نجم الدین اربکان مرحوم نے جی ایٹ کے مقابلے میں ڈی ایٹ کا نہ صرف آئیڈیا پیش کیا بلکہ 1997ءمیں ترکی میں ایک کانفرنس بُلا کر اس کی بنیاد بھی رکھ دی۔ ڈی ایٹ کے ممالک آبادی کے لحاظ سے اور سیاسی و سائنسی لحاظ سے بڑی اہمیت کے حامل ہیں، یہی ممالک جدید اسلای دنیا کے نمائندہ ممالک ہیں۔ ان ممالک میں ترکی، ایران، پاکستان، بنگلہ دیش، مصر، انڈونیشیا اور نائیجریا شامل ہیں۔ اس اتحاد کا بنیادی مقصد بڑا دلکش اور پُرکشش ہے۔ مقصد اس کا یہ ہے کہ باہمی تجارتی، صنعتی اور سائنسی تعاون کے ذریعے یہ ممالک اپنے لئے ایسی معاشی خوشحالی کو یقینی بنائیں جو معاشی خوشحالی ترقی یافتہ ممالک میں پائی جاتی ہے۔ قدرتی و بشری وسائل اور تعلیمی و سائنسی لحاظ سے مالا مال یہ اسلامی ممالک اگر اپنے عوام کیلئے بین الاقوامی معیار کی خوشحالی حاصل کر لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر اسلامی دنیا میں بین الاقوامی سطح پر دریوزہ گری اور غیروں کی چاکری کے پست درجے سے بلند ہو کر ایک باوقار بلند مقام حاصل کر لے گی۔ گزشتہ پندرہ برس کے دوران ان آٹھ ممالک کے سات اجلاس ہو چکے ہیں اور اب آٹھواں اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا ہے۔ اس اجلاس کی میزبانی کا اعزاز پاکستان کو حاصل ہوا تھا مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان نے اتنے عظیم اعزاز کی قدر نہیں کی اور جس تفاخر اور شان و شوکت سے یہ کانفرنس منعقد ہونی چاہیے تھی اور جس انداز میں اس کا پیغام پوری دنیا کو جانا چاہیے تھا اس کا اہتمام نہیں ہو سکا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ م¶ثر سفارتکاری اور خارجہ تعلقات کے ہُنر کو کام میں لا کر زبردست ہوم ورک کیا جاتا اور کانفرنس کے انعقاد کا اس وقت تک اعلان نہ کیا جاتا جب تک ڈی ایٹ کے تمام سربراہان کی شرکت کو یقینی نہ بنا لیا جاتا۔ اس کانفرنس میں بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد، ملائیشیا کے وزیراعظم حاجی محمد ناجب عبدالرزاق اور مصری صدر محمد مرسی شریک نہ ہوئے۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد پہلے پاکستان آ چکی ہیں اُن کو قائل کیا جا سکتا تھا، سابق وزرائے خارجہ کے ذریعے کہ ماضی خوشگوار تھا یا ناگوار، قصور آپ کا تھا یا ہمارا، اب اسے ماضی کے تہہ خانے میں دفن کر دینا چاہئے اور باہمی مفادات اور مشترکہ اسلامی معاملات کو آگے بڑھانے کیلئے پرانی رنجشوں کو بھلا دینا چاہئے اور انہیں یہ سمجھانا چاہیے تھا کہ.... ع
تُو مجھ سے خفا ہے تُو زمانے کیلئے آ
بظاہر ملائیشیا کے وزیراعظم کی کسی عذر کے بغیر پاکستان آ کر ڈی ایٹ کانفرنس میں شامل نہ ہونا وزارتِ خارجہ کی بدترین ناکامی ہے۔ ملائیشیا پاکستان کا روایتی اور نہایت مخلص دوست ہے وہ دکھ سکھ میں ہمیشہ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا ہے۔ جہاں تک مصر کے صدر محمد مرسی کی آخر وقت میں آمد منسوخ ہوئی ہے اسکے کئی اسباب تھے ایک تو عین اس موقع پر انکی ہمشیرہ کا انتقال ہو گیا، دوسرے فلسطین و اسرائیل کی اچانک بھڑک اُٹھنے والی جنگ کے شعلوں کو سرد کرنے کا مشن تھا اور تیسرے خود مصری صدر کے اختیارات میں اضافے کی دستوری شق کی منظوری کےخلاف محمد البرادی کی پارٹی کی طرف سے کئے جانےوالے احتجاج کی لہر سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی مرتب کرنے کیلئے اُنکی مصر میں موجودگی ضروری تھی۔ تاہم اس سب کچھ کے باوجود اگر ہماری سفارتکاری انگریزی محاورے کےمطابق پرو ایکٹو ہوتی اور ہماری وزارتِ خارجہ ڈپلومیسی کے ہُنر سے آراستہ ہوتی تو وہ صدر محمد مرسی کی چند گھنٹوں کیلئے پاکستان آمد کا کوئی نہ کوئی طریقہ نکال سکتی تھی اور اگر ایسا ممکن نہ تھا تو وہ اپنے میڈیا کے ذریعے عین اس موقع پر اُن سے پاکستانی پارلیمنٹ اور عوام سے براہِ راست خطاب کا کوئی قرینہ ڈھونڈ سکتی تھی اور کسی حد تک کانفرنس کی ناکامی کے تاثر کو کم کیا جا سکتا تھا۔
کانفرنس میں کوئی جاندار سیاسی و معاشی ایجنڈا نہ پیش کیا گیا اور نہ اسے منظور کروایا گیا۔ بس یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان نے روٹین کی ایک کارروائی نبھائی اور اللہ اللہ خیر صلا۔
کتنا دل خوش کن خیال ہے کہ اسلامی ممالک کیلئے بین الاقوامی معیار کی خوشحالی کو یقینی بنایا جائے۔ اس مقصد کیلئے تجارت، صنعت، زراعت، صحت و طب اور تعلیم و تدریس کے شعبوں میں اگر حقیقی تعاون پیدا کیا جائے اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے تو بات کہاں سے کہاں تک پہنچ سکتی ہے۔ ڈی ایٹ کے ذریعے اگر پاکستان جیسے مسلمان ملک کشکول گدائی لے کر امریکہ جیسے استحصال پسند ملکوں کے دروازے پر دستک دینے سے بچ جائیں تو ایک بہت بڑی کامیابی شمار ہو گی۔ مگر گزشتہ پندرہ برس میں ڈی ایٹ کے فورم سے کوئی بہت بڑی پیشرفت نہیں ہوئی۔ ابھی تک ان آٹھ ممالک کے درمیان آزادانہ تجارت کا ہدف ہی حاصل نہیں ہو سکا۔ ابھی تک مشترکہ اسلامی نیوز ایجنسی اور اسلامک براڈ کاسٹنگ کا خواب بھی شرمندہ¿ تعبیر نہ ہو سکا۔
 اسلامی نیوز ایجنسی کا قیام اس لئے بھی بہت ضروری ہے کہ آزادی اظہار کے چیمپئن کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے ملک کے کلچر کے مطابق درجن دو درجن امریکیوں کے پلے کارڈ لیکر احتجاج ریکارڈ کروانے کو تو خبروں میں نمایاں کرتا ہے مگر ہزاروں بلکہ لاکھوں کے واشنگٹن پوسٹ کے دفتر کے عین نیچے احتجاج کا مکمل بائیکاٹ کرتا ہے اور دو سطری خبر نہ صرف یہ اخبار بلکہ کوئی بھی امریکی اخبار شائع کرتا ہے اور نہ کوئی خبر رساں ایجنسی اس خبر کو ریلیز کرتی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے ایک بہت ہی اہم نکتے کی طرف اشارہ اپنے کالم میں گزشتہ روز کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے بڑی طاقتیں اپنی معاشی حالت بہتر بنانے، دفاعی سامان تیار کر کے پوری دنیا میں فروخت کرتی ہیں۔ امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس دنیا میں اربوں ڈالر کا اسلحہ، گولہ بارود، جہاز، ٹینک اور آبدوزیں فروخت کرتے ہیں۔
مجھے جنرل صاحب سے اتفاق ہے کہ ترکی، مصر، پاکستان اور ایران دفاعی پیداوار میں آسمان سے تارے توڑ کر لا سکتے ہیں۔ البتہ یہاں یہ اضافہ بھی کرنا چاہتا ہوں کہ دفاعی سامان فروخت کرنے والے امریکہ جیسے کئی اہم ممالک کی دفاعی فیکٹریوں اور صنعتوں میں سرمایہ بھی اسلامی دنیا کا ہی خرچ ہوتا ہے۔ یہ سرمایہ نہ صرف اس دولت کا حصہ ہوتا ہے جو خلیج کے امیر ممالک امریکی و مغربی بنکوں میں رکھتے ہیں بلکہ اسکے علاوہ امریکہ خصوصی مطالبہ کر کے اُن کی دولت کی دفاعی صنعتوں میں ”سرمایہ کاری“ کرواتا ہے۔ پھر ہمیں آپس میں لڑانے کیلئے عراق، ایران جنگ کے انداز میں دونوں طرف کہیں براہِ راست اور کہیں بالواسطہ اسلحہ فروخت کر کے زرمبادلہ کماتا ہے۔
ڈی ایٹ کے آٹھ ممالک میں ایران کو چھوڑ کر باقی سب کسی نہ کسی انداز میں امریکہ کے زیر تسلط نہیں تو اس کے زیر اثر ضرور ہیں اسی لئے امریکہ جیسے چاہتا ہے اسی طرح اسلامی دنیا کو ہانکتا چلا جا رہا ہے۔ نہ اسے کوئی روکتا ہے اور نہ اسے کوئی ٹوکتا ہے۔ امریکہ میں امریکی شہریوں پر مشتمل کئی تنظیمیں پاکستان اور کئی دوسرے اسلامی ممالک میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف زبردست صدائے احتجاج بلند کر رہی ہیں۔ مگر فلسطین، کشمیر کے حق میں اور ڈرون حملوں کےخلاف ڈی ایٹ کے فورم سے ہمیں بھرپور صدائے احتجاج سُنائی نہیں دے رہی۔ ہمارے خیال میں پہلے انڈا یا پہلے مرغی کی بحث کو چھوڑ دیا جائے، اسی طرح اس بحث کو بھی چھوڑ دیا جائے کہ ڈی ایٹ ممالک میں پہلے امن و آشتی ہو اور پھر باہمی تجارت اور سرمایہ کاری ہو۔ ہماری رائے میں معاشی خوشحالی اور باہمی خودکفالت کے پروگرام کو بڑے جاندار اور بھرپور طریقے سے آگے بڑھایا جائے۔ پاکستان کے ایوان ہائے صنعت و تجارت کے پاس بڑی دلفریب اور قابل عمل تجاویز ہیں۔ اسی طرح ڈی ایٹ کے دیگر ممالک کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے پاس اس طرح کے کئی منصوبے ہونگے اُن منصوبوں کو فی الفور عملی جامہ پہنایا جائے اور ڈی ایٹ کے ممالک کے درمیان تجارتی، صنعتی اور دفاعی سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی کا جال بچھا دیا جائے اور باہمی تجارت کے حجم کو کم از کم ایک بلین ڈالر سالانہ تک بڑھا دیا جائے۔
ڈی ایٹ کے سربراہوں سے ہماری گزارش یہ ہو گی کہ اتنے پُرکشش اور قابل عمل فورم کو زیادہ سے زیادہ فعال بنانے کی ضرورت ہے۔ ان ممالک کی قیادت کے غیر فعال رویے کی بنیاد پر کہیں ایسا نہ ہو کہ اس فورم کا بھی وہی حشر ہو جو اس سے پہلے اسلامی کانفرنس اور رابطہ عالم اسلامی جیسے فورموں کا ہو چکا ہے۔ ڈی ایٹ ممالک کے بدحالی کا شکار عوام اس فورم کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اُن کی طرف سے خوشحالی کا سندیسہ کب آتا ہے۔