سنہری نسلوں کے متلاشی

کالم نگار  |  ڈاکٹر علی اکبر الازہری
سنہری نسلوں کے متلاشی


گذشتہ روز جامعہ پنجاب میں ”مثالی انسان مثالی معاشرہ“ کے عنوان سے ایک عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس کا نہایت شاندار اہتمام ہمارے قابل احترام ترک دوستوں نے حکومت پنجاب کے باہمی تعاون سے کیا تھا۔ اس اعلیٰ علمی فکری اور قابل تقلید تقریب کے روح رواں ہارون کوکن اور انکے رفقائے کار گذشتہ کئی سال سے پاکستان میں تعلیمی، تربیتی اور فلاحی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ لوگ کون ہیں اور کیا چاہتے ہیں؟ ذیل میں ہم چند گوشے اسی مشن سے متعلق قارئین تک پہنچارہے ہیں۔
نیت میں اخلاص، عمل میں طہارت اور جذبوں میں حدت ہو تو ایک انسان بھی اپنے ماحول، اپنے ملک اور اپنے عہد کی تاریخ کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ اسکے برعکس نیتوں میں فتور، اعمال میں گراوٹ اور کردار میں منافقت ہو تو لاکھوں، کروڑوں انسانوں کا ہجوم بھی غیر موثر ہوتا ہے۔ بڑے انسانوں کے تاریخی کارناموں سے یہ حقیقت بآسانی سمجھی جاسکتی ہے کہ قوت و طاقت افراد کی کثرت میں نہیں بلکہ انکے کردار اور سچے جذبوں میں مضمر ہوتی ہے۔ آج کی جدید مشینی دنیا میں اگرچہ بہت سے متبادل محرکات حیات متعارف ہورہے ہیں مگر کردار کی طاقت کا کوئی نعم البدل کارخانہ قدرت میں موجود نہیں۔ اس تاریخی حقیقت کو جاننے کےلئے اگر ہم معاصر کرداروں کی فہرست مرتب کریں تو ان چند گنے چنے لوگوں میں ترکی کے صوفی دانشور محمد فتح گولن سر فہرست دکھائی دیتے ہیں۔ بڑا انسان بننے کےلئے بڑے خاندان، بڑی قدو قامت بڑے علم و فضل اور زیادہ دولت و ثروت بھی درکار نہیں ہوتی بلکہ بڑے لوگ وہی ہوتے ہیں جو عظمت و بزرگی کے خالق کی نگاہ میں بڑے ہوجاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مقام قرب و عظمت مخلوق کی خدمت اور خالق سے تعلق محبت سے حاصل ہوتا ہے۔
محمد فتح اللہ گولن کے 74 سالہ زندگی کے مختلف ادوار کو دیکھ کر لگتا ہے کہ انہوں نے بھی عظمت کو خدمت سے کشید کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی پوری تحریک کو ”خدمت تحریک“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مشرقی ترکی کے نسبتاً سنگلاخ پہاڑی علاقے ”ارض روم“ کے ایک متوسط مذہبی گھرانے میں پیدا ہونے والا جو شخص آج ترقی یافتہ دنیا کے بڑے بڑے اجتماعات میں دانشوروں کے علمی مقالات کا موضوع بنا ہوا ہے وہ متمول بڑھاپے میں بھی اپنا لباس خود دھوتا اور اپنے مختصر سے رہائشی فلیٹ کی صفائی خود کرتا ہے۔ انکی کوئی نسبی اولاد نہیں مگر امت مسلمہ کے سارے بچے، بچیاں انکی معنوی اولاد کا درجہ رکھتی ہیں۔ اس لئے انکی معیاری تعلیم و تربیت ان کی زندگی کا واحد مقصد ہے۔ حصول علم کے دوران انہیں دست قدرت نے اس دور کے ایک مرد باصفا اور فرد فرید بدیع الزماں سعید نورسیؒ کے ”حلقہ نور“ میں لابٹھایا۔ یہاں سے وہ مقصد حیات پانے اور اسے حاصل کرنے میں کامیابی کے سفر پر گامزن ہوئے۔ انہوں نے بطور امام مسجد جب اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا تو اپنی پہلی تنخواہ سے چند مستحق طلبہ کےلئے رہائشی سہولت فراہم کی۔
قدرت انکے اس ایثار نفس پر اپنی شان کریمی کے ساتھ ایسی مہربان ہوگئی کہ آج ان کی زیر سرپرستی ترکی کے کونے کونے میں لاکھوں طلباءکی ہزاروں قیام گاہیں قائم ہیں۔ یہ بہت ہی دلچسپ اور حیرت انگیز داستان عزیمت ہے جس کی تفصیلات کےلئے کالم نہیں کئی کتب کی ضرورت ہے۔ انکی کاوشوں کی کہکشاں دیکھنے کےلئے سردست اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ برادر اسلامی ملک ترکی میں 3500 سکولز، 20 چارٹر یونیورسٹیاں، 8 ٹی وی چینل، 4 قومی اخبارات، درجنوں علمی تحقیقی رسائل بین المذاہب مکالمے کے 50 مراکز درجنوں عالمی معیار کے شفاخانے اور دیگر رفاعی اور فلاحی ادارے کام کررہے ہیں۔ بیرون ترکی، امریکہ، یورپ،ا فریقہ، ایشیا کے تمام چھوٹے بڑے ممالک میں انکے رضا کاروں کی تعداد لاکھوں میں ہے جو اسی طرز پر وہاں دینی مراکز، تعلیمی ادارے اور فلاحی تنظیمیں قائم کرچکے ہیں۔ ترکی سمیت پوری دنیا میں ان سے وابستہ یہ مثالی تعلیمی اور فلاحی ادارے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ انکے رضا کار تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ ہوکر کردار کی خوشبوئیں لئے نسل نو کی آبیاری کرنے میں اس قدر محو ہیں کہ انہیں سردگرم موسموں کی شدت اور اپنے وطن اور عزیز و اقارب سے دوری کا احساس تک نہیں ہوتا۔ وہ اگر کاروبار بھی کرتے ہیں تو صرف اس نیت کے ساتھ کہ اس سے حاصل ہونےوالی آمدنی خدمت انسانیت پر صرف ہوگی۔ یہ محویت اور اخلاص دراصل ان کی اس تربیت کا حصہ ہے جس میں انہیں یہ مشن سونپا گیا ہے کہ پوری دنیا کے انسان خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب، فکر اور رنگ و نسل کے ساتھ ہے وہ تمہاری توجہ اور محبت کے محتاج ہیں۔ انہیں امن، محبت اور ایمان کی دولت فراہم کرنا امت احمد مرسل کا فرض منصبی ہے۔ یہ مشن حضور کی شان رحمة اللعالمینی کا امین ہے اسی لئے وہ کسی سے الجھتے نہیں، گفتار سے پہلے کردار کی دلیل ان رضا کاروں کا سب سے موثر ہتھیار ہے۔ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت تمام سائنسی ترقی کو اسلام کے آفاقی پیغام کو زمین کی وسعتوں میں پھیلانے کا قدرتی اہتمام سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ ہرگز جذباتی، جلد باز اور جھگڑالو نہیں۔ محبت صبر اور استقامت انکی پیشانیوں سے ٹپکتی ہے۔
فتح اللہ گولن کا طرز دعوت و تربیت سنت نبوی کا عملی نمونہ اور عظیم صوفیاءکا شاہکار ہے۔ انکی دانش میں مولانا رومؒ کی آفاقی محبت، امام غزالیؒ کی حکمت اصلاح، امام ربانیؒ کا تحمل، سعید نورسیؒ کی عزیمت اور اقبالؒ کی تڑپ قدم قدم پر دکھائی دیتی ہے۔ انکی 35سے زائد کتب میں اللہ تعالیٰ سے تعلق عبدیت میں خلوص، رسول اکرم سے والہانہ محبت اور صحابہ کرامؓ کا جذبہ خدمت و جہاد ہر قار ی کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ انکی شبانہ روز محنت اور انکے مخلص رضا کاروں کی کاوشیں موجودہ ترک حکومت کی اصل قوت و طاقت ہیں مگر یہ کتنی اعلیٰ ظرفی اور تحمل مزاجی ہے کہ امریکہ میں مقیم فتح اللہ گولن نے دس سال کے دوران اپنے زیر سرپرستی میڈیا پر نشر ہونےوالی کسی تحریر یا کسی تقریر میں آج تک ایسا ایک لفظ بھی اپنی زبان پر نہیں آنے دیا جس سے رجب طیب اردگان کےلئے ڈکٹیشن کا مفہوم اخذ ہوتا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایثار نفس، بے غرضی، اعلیٰ ظرفی، تحمل، عدم جذباتیت اور حکمت و دانش جیسی آفاقی خصوصیات ہیں جو ترک مسلمان بھائیوں کو اعلیٰ مقاصد کے حصول میں مدد دے رہی ہیں۔ کارخانہ قدرت میں بعید نہیں کہ سنہری نسلوں کے متلاشی یہی لوگ ایک بار پھر منتشر اور پریشاں حال قافلہ انسانیت کو سوئے حرم متوجہ کرنے میں قائدانہ کردار ادا کریں۔ زندہ دلان لاہور کی تاریخی دانش گاہ میں عالمی کانفرنس کے انعقاد پر وائس چانسلر مجاہد کامران اور ہارون کوکن دونوں خصوصی مبارکباد کے مستحق ہیں۔