معززین، مخلصین، اور محبتیں!

کالم نگار  |  نعیم مسعود
معززین، مخلصین، اور محبتیں!

جہاں محبتوں کے دریچے کھلے رہتے ہیں وہاں پورا ماحول عزتوں سے مالا مال اور اخلاص کی چمک دمک سے متوازن سماں پیش کرتا ہے! جس بھی ایکو سسٹم میں محبت پروان چڑھتی ہے وہاں معاشرہ پوری طرح عزت نفس سے لطف اندوز بھی ہوتا ہے، باوجود اس کے کہ ہر سوسائٹی امراء اورغرباء کا آمیزہ ہوتی ہے!!!
اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے
سمٹے تودل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے
سیانے کہتے ہیں کہ دین صرف (1) ایمانیات (2) عقائد اور (3) مذہبی رسومات تک محدود نہیں رہتا بلکہ ان میں تین اور اہم معاملات کا اضافہ ناگزیر ہے یعنی (1) سیاسیات، 2 سماجیات اور 3 معاشیات بھی۔ گویا اسلام سے محبت کرنے والے یا اسلامی نظام اور نظریہ اسلام و نظریہ پاکستان والوں کو ان 6 معاملات کی اپنی اپنی سائنس کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ متوازن معاشرے کی تشکیل کے لئے سماجیات میں اخلاص، سیاسیات میں خدمت اور معاشیات میں گھر گھروندے سے گلی محلے اور کوچہ و بازار سے ریاست و مملکت تک غریبوں کو بھی تعلیمی ضروریات اور صحت کی نزاکتوں کے علاوہ فراہمی انصاف کا خیال انفرادی سطح سے ریاستی سطح تک لازم ہے۔
آہ! کہاں مشکل مشکل باتوں میں ابتدا کھوگئی۔ آگے بڑھتے ہیں ان ملاقاتوں کی طرف جو رمضان المبارک کا حسن ثابت ہوئیں۔ مزا آتا ہے ان قائدین سے مل کر جو اسمبلی یا حکومت تک رسائی نہ ہونے کے باوجود خدمت کے عنصر کو فراموش نہیں کرتے۔ کسی فرسٹریشن (اضطراب) کا شکار نہیں ہوتے اور آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ پس یہ ثابت ہوا کہ کچھ معززین اور مخلصین ایسے بھی ہوتے ہیں جو پارلیمان کی رونق ہونے کے محتاج نہیں ہوتے اور وہ بیرون پارلیمان بھی سوسائٹی کا جلوہ ہوا کرتے ہیں۔ یہ لوگ صوبائی و برادری تعصبات سے ہٹ کر اپنا کام کرتے ہیں۔ شمع کی طرح روشن ان کی پیشانیاں مساوی روشنی فراہم کرتی ہیں جس سے مخصوص طبقہ ہی نہیں بلکہ سبھی طبقات مساوی منور ہوتے ہیں۔ یہ لوگ واقعتاً دیار عشق کے مکین ہوتے ہیں اور اعلیٰ مقام لینے ہی کے لئے نہیں دلوانے کے لئے بھی سرگرداں رہتے ہیں۔ قارئین کرام ! آئیے متذکرہ حوالوں سے چند ملاقاتوں کا ذکر خیر کرتے ہیں۔
وہ ملاقات جو الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان سے ہوئی تو آواز آئی کہ ’’کفالت یتیم سے… جنت کا حصول بھی… رفاقت رسولؐ بھی‘‘۔ غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ پاکستان کا پیغام بھی دلنشیں تھا کہ ’’رمضان کریم میں مستحق بچوں کے روشن مستقبل کی مہم میری محبت‘‘ پھر کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کا عزم کہ ’’بوند بوند کو ترستے تھر کے صحرا نشینوں کو دہلیز پرصاف شفاف پانی پہنچانا ہے اور مسیحائی کی دستک دینی ہے…‘‘ اسی طرح بابا فرید ہسپتال اور پنجابی یونین ویلفیئر فاؤنڈیشن کی بازگشت ہے کہ ’’آپ کی زکوٰۃ… زندگی کی امید‘‘ وہ سندس فاؤنڈیشن کہ جو شریانوں میں دوڑنے والے خون کی بہتر اور صحت مندانہ روانی کے لئے شبانہ روز رواں دواں ہے جو منو بھائی اور حاجی سرفراز احمد کی کاوشوں کے سبب خون کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لئے پورے ہونے والے وعدوں، ارادوں اور محبتوں کی کہکشاں ہے! رمضان کریم میں ان سب کے اخلاص، محبت اور غریب کی عزت کے عزم نے میرے جیسے گنہگاروں سمیت کئی لوگوں کے عزم کی بیٹری کو ریچارج کرکے پرعزم بنا دیا۔ ان سب کو سلام، ایسا ہی سلام جو ضرورت مندوں کے محسن عبدالستار ایدھی کی نذرکیا جاتا ہے۔ ویسا ہی سلام جو محسن پاکستان عبدالقدیر خان کو ایٹم بم بنانے کے بعد ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال ٹرسٹ کا پراجیکٹ چلانے پرکیا جاتا ہے۔ عبدالشکور (الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان) سید عامر محمود (غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ پاکستان)، ڈاکٹرآصف محمود جاہ (کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی )، حاجی ارشد محمود و سلیم ریاض (المدد چیرٹی لالہ موسیٰ، گجرات)، مدثر اقبال بٹ (بابا فرید ویلفیئر فاؤنڈیشن) اور آٹے میں نمک کے برابر ہی سہی قومی اسمبلی کے ممبران میں چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے ترقیات و منصوبہ عبدالمجید خانان خیل، ایم این اے ملک ابرار، ایم این اے جعفر اقبال اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی سے رمضان میں ملاقاتوں نے بہرحال درد دل دریافت کیا۔ اللہ کرے کہ ان کی سیاست پر خدمت کا اور عشق وشباب آئے! ایسے معززین، مخلصین اور ان کی محبتوں کی پاسداری کو ہم سلیوٹ کرتے ہیں، بقول جگر؎
تیرے نقش قدم کا ذرہ ذرہ!
عبادت گاہ جان عاشقاں ہے
انسانیت کی خدمت کا ذمہ اٹھانا اور پھر ثابت قدم رہنا معززین اور مخلصین ہی کا شیوہ ہے۔ اقبالؒ نے ’’دین و سیاست‘‘ کے حوالے سے بڑی جاندار بات کی کہ؎
اسی میں حفاظت ہے انسانیت کی
کہ ہوں ایک جنیدی و ارد شیری
معاشیات کو مدنظر رکھنا وہ بھی ضرورت مندوں اور غریبوں کی اکنامکس کا۔ یہ انسانیت سے محبت کی عظمت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ عثمانؓ کے نقش قدم پر چلنا گویا حرص و ہوس سے ہٹ کرچلنا ہے۔ ’’ہوئی دین و دولت میں جس دم جدائی… ہوس کی امیری، ہوس کی وزیری‘‘ دین میں اصلی سیاسیات اور اصلی معاشیات دین و دولت میں جدائی نہیں ہونے دیتی۔ ایسی مثالیں معاشرے میں جہاں کہیں پائی جائیں وہ رحمت خداوندی ہے۔ کاش ہماری سیاست میں خدا تعالیٰ کی بندگی کا مقابلہ بھی ہوجائے!
سورۃ النور کی آیت 22 میں رب کعبہ کا حکم ہے کہ: تم میں سے جو لوگ صاحب فضل اور صاحب مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار، مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے۔ انہیں معاف کردینا چاہیے اور درگزر کرنا چاہیے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے؟ اور اللہ کی صفت یہ ہے کہ وہ غفور اور رحیم ہے۔ پانامہ لیکس والوں اور سرے محل والوں کے لئے اس آیت کریمہ میں اہم پیغام ہے۔ تعلیم، صحت اور فراہمی انصاف کے لئے یہی کافی نہیں کہ اداروں کے ناموں کے ساتھ آپ لوگ بھٹو یا شریف کے محض سابقے اور لاحقے لگا دیں۔ شریف میڈیکل سٹی یا کمپلیکس عمل اور مرتبے میں شوکت خانم کا مقابلہ کرے اور شوکت خانم اپنی شان و شوکت میں مزید مرتبہ لائے۔ جتنی بڑی پاکستان کی آبادی ہے۔ اس لحاظ سے مملکت خداداد میں کینسر ہسپتالوں کی شدید کمی ہے۔ ویکسنز کی تیاری ممکن ہے لیکن اس طرح توجہ نہیں جس کی ضرورت ہے۔ نیوٹریشن کا معاملہ اور اس کی اہمیت پر کسی کا غور نہیں۔ خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی کوئی زندگی ہے ہی نہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خط افلاس سے نیچے تقریباً 22 فیصد ہیں۔ اور اس شماریات میں وہ نہیں آتے جن کی کمائی 1.25 ڈالر روزانہ ہے۔ یعنی ایک ڈالر والا خط افلاس سے اوپر ہے۔ ستم تو یہ ہے کہ ظالم سخن شناس نہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ والو اور میٹرو بنانے والو کیا سو روپے روزانہ کی آمدن سے غربت کے بھنور سے کوئی باہر نکل گیا؟ نہیں ایسا نہیں ہے! سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میں 90 فیصد لوگ غریب ہیں اور غریب دن بدن غریب تر ہوتا جا رہا ہے اور امیر، امیرتر! (واضح رہے کہ غربت کی لکیر کے نیچے بسنے والوں کے اعداد و شمار مختلف مواقع میں مختلف رہے لیکن ہنوز معاملہ بدتری سے بدتری کی جانب گامزن ہے) بہرحال میرا حسن ظن اور خوش گمانی یہ کہتے ہیں کہ لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات اور فیصل آباد کے لوگ اگر جائز زکوۃ اور وقتاً فوقتاً صدقات اور عشر ضرورت مندوں کو دے دیں تو پورے پنجاب میں کوئی بے گھر اور بے کس نہ رہے، کوئی ہاتھ ایسا نہ رہے گا جس کو مہندی نصیب نہ ہو، قلم دوات نہ ملے اور اسپرین نہ ملے۔ حکومتی بیت المال، حکومتی نظام اور حکومتی ویلفیئر اس کے علاوہ ہیں… لیکن کہاں ہیں؟
دئیے سے دیا جلانے سے پورا ماحول چراغاں ہو جاتا ہے۔ چاٹی کے دہی کی ایک پھٹی اور لسی کا ایک قطرہ زمانہ بھرکی چاٹیوں میں گھی، دہی اور لسی کے زخیرے پیدا کر دیتا ہے۔ سیاست کے ایوانوں میں اگر ’’بیمار دل‘‘ نہ ہوں تو ہر بیمار کے لئے مسیحائی کے دروازے کھلے ملیں گے۔ پتھر دلوں کی بالاخانوں میں برتری نے غریب خانوں کے درد دل کو کبھی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ میر نے کیا خوب کہا۔
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
لیکن نہیں! مفلس وہ معاشرے ہوتے ہیں جہاں انسان دوست نہیں ہوتے۔ اگر معاشرے میں چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی ایدھی سے ڈاکٹرخان تک، عبدالشکور سے سید عامر محمود، منو بھائی سے نثار برنی، آصف محمود جاہ سے زمرد خان تک انسان میسر ہوں تو حالات توازن دریافت کر ہی لیتے ہیں۔ ہم نے واقعی ایسا کوئی نہیں دیکھا جوخیرات کرتا رہتا ہو اور غریب ہوگیا ہو۔ غریب واقعی وہ ہوتے ہیں جنہیں دوست میسر نہ ہوں۔ بہرحال ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتیں وفاق سے صوبوں تک تعلیم، صحت اور انصاف کو ایاز تک پہنچائیں محمود تک محدود نہ کریں۔ رمضان کریم کے ارادے اور وعدے سال بھر تک اپنی وسعتیں رکھیں۔ کسان اور مزدور کے لئے حکومت بساط کے مطابق بھی کرے تو کم نہیں۔ ملک سے 25 فیصد کرپشن بھی کم ہو جائے تو بے گھر، یتیم اور بیمار بے یارو مددگار نہ رہیں گے۔ ایوان میں 62 اور 63 دفعات کی رُت لے آئیں 7 تا 28 کی دفعات جاں بر ہوکر وطن کو گلشن بنادیں گی۔ چمن میں، کوئی تو ہو جو میری وحشتوں کا ساتھی ہو! عقائد و عبادات و مذہبی رسومات والے سیاسیات و سماجیات و معاشیات کو دین کے قلب و ذہن میں جگہ دیں۔ پھر دیکھئے دیکھتے ہی دیکھتے بناؤ پکارے گا کہ وہ ہیں معززین اور مخلصین، اور یہ ہیں محبتیں!