کشمیری خواتین ، بھارتی درندگی اور ۔ ۔ !

کالم نگار  |  اصغر علی شاد
کشمیری خواتین ، بھارتی درندگی اور ۔ ۔ !

ممتاز ہندو دانشور اور صحافی ” ارون دھتی رائے “ نے چوبیس دسمبر 2012 کو کہا تھا کہ” ہندوستان کی فوج اور دیگر بالا دست طبقات خواتین کی بے حرمتی کو بطور اپنی حکمت عملی استعمال کر رہے ہیں اور یہ سلسلہ مقبوضہ کشمیر اور منی پور میں اپنی انتہا کو پہنچا ہوا ہے ۔ یاد رہے کہ سولہ دسمبر 2012 کو دہلی میں میڈیکل کی ایک طالبہ کے ساتھ بد ترین جنسی درندگی کا سانحہ پیش آیا تھا جس کے رد عمل میں بھارت کے طول و عرض میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا اور اسی پس منظر میں ارون دھتی رائے نے اپنے ان خیالات کا اظہار کیا تھا ۔ اس موقع پر ارون دھتی رائے نے اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا تھا کہ ” بھارتی معاشرت خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں بے کس کشمیری خواتین کی بے حرمتی کو دہلی سرکار نے قانونی تحفظ فراہم کر کے گویا اسے آئینی شکل دے دی ہے ۔ اسی وجہ سے ان گھاﺅنے جرائم کے مرتکب قابض بھارتی فوجیوں کے خلاف ” AFSPA “ ( آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ ) کے تحت مقدمہ تک نہیں چلایا جا سکتا ۔ “ 

مبصرین نے اس صورتحال کا جائزہ لیتے کہا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ یہ مکروہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا بلکہ ہر آنے والے دن کے ساتھ اس میں شدت پیدا ہوتی جا رہی ہے جس کا عملی مظاہرہ چند ہفتے پہلے ” ہندو اڑا “ میں پندرہ سالہ کشمیری طالبہ کے ساتھ کیا گیا اور بعد میں اسی متاثرہ لڑکی کو نہ صرف قید میں رکھا گیا بلکہ اس سے دوران قید زبر دستی اپنی مرضی کے ویڈیو بیانات ریکارڈ کروائے گئے اور بعد میں تمام اخلاقی اور عالمی ضابطوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اس زبر دستی لئے گئے بیان کی ریکارڈنگ پورے بھارتی میڈیا کو مہیا کی گئی جس کے رد عمل میں پوری کشمیری قوم سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے اور تحریک آزادی گویا ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے اور مصدقہ ااطلاعات کے مطابق جنوری 1989 سے لے کر اکتیس مئی 2016 تک مجموعی طور پر دس ہزار ایک سو پچاسی کشمیری خواتین کو قابض بھارتی فوجیوں نے جنسی درندگی کا نشانہ بنایا جبکہ بائیس ہزار آٹھ سو پندرہ خواتین کے سروں سے ان کے سہاگ کی چادر ہمیشہ کے لئے چھین کر انھیں بیوگی کے لق و دق صحرا میں دھکیل دیا گیا ۔
اسی تناظر میں ایک لاکھ سات ہزار پانچ سو انہتر معصوم بچوں کے سر سے ان کے والدین کا سایہ چھین کر انھیں یتیم بنا دیا گیا اور کشمیری قوم کے معاشی قتل عام کے ضمن میں ایک لاکھ چھ ہزار اڑسٹھ دکانوں اور مکانا ت کو مسمار یا نذر آتش کر دیا گیا اور ایک لاکھ چونتیس ہزار سات سو چھ بے قصور شہریوں کو گرفتار کر کے ہر طرح کی اذیتیں دی گئیں اور ان میں سے حراست کے دوران سات ہزار چون کشمیری زندگی کی بازی ہار گئے ۔ مجموعی طور پر اس عرصے کے دوران چورانوے ہزار تین سو چھیاسٹھ کشمیریوں سے زندہ رہنے کا بنیادی انسانی حق ہمیشہ کے لئے چھینا جا چکا ہے اور یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا چلا جا رہا ہے ۔
لیکن اس سارے معاملے کا یہ پہلو اور بھی افسوس ناک اور تکلیف دہ ہے کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے اس ضمن میں دہلی کے حکمرانوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی بجائے انھیں دہشتگردی سے متاثرہ فریق قرار دے رہے ہیں۔ حالانکہ کشمیر پر بھارتی قبضے کے سیاسی پہلو کو الگ رکھ کر بھی دیکھا جائے تو اس بد قسمت خطہ زمین پر آئے روز انسانی حقوق کی پا مالیاں اس پیمانے پر جاری ہیں جن کا تصور بھی کوئی نارمل انسانی سوسائٹی نہیں کر سکتی ۔
مثلاً کسے علم نہیں کہ تیئس فروری 1991 کو مقبوضہ ریاست کے ” کپواڑہ “ ضلع میں ” کنان پوش پارہ “ نامی گاﺅں میں بھارتی فوجیوں نے پورے گاﺅں کی سو سے زیادہ خواتین کو بد ترین جسمانی استحصال کا نشانہ بنایا اور ان بد نصیب خواتین میں عمر رسیدہ خواتین سے لے کر نو عمر بچیاں سب شامل تھیں مگر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی دعویدار اس ریاست کے کسی ایک بھی فرد کو چند لمحوں کے لئے بھی ایسے گھناﺅنے جرائم کے تحت سزا نہیں دی گئی الٹا ” AFSPA “ بنا کر ان سب کو قانونی تحفظ مہیا کر دیا گیا ۔
اور اس سارے معاملے کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ خود بھارت کے اکثر علاقوں میں بھی خواتین کی اجتماعی بے حرمتی روز مرہ کا معمول بن چکی ہے ۔ یہاں تک کہ بھارتی دارالحکومت ” دہلی “ بھی اس لعنت سے محفوظ نہیں ۔ اسی وجہ سے خود انسان دوست بھارتی حلقے دہلی کو ” ورلڈ ریپ کیپٹل “ کا نام دینے سے بھی قطعاً نہیں ہچکچاتے۔ ہندوستانی آرمی تو اخلاقی لحاظ سے اس قدر دیوالیہ ہو چکی ہے کہ اس کی ان حرکات سے خود بھارتی افواج کی خواتین افسر اور اہلکار بھی محفوظ نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ چند برسوں میں ہندوستانی آرمی سے تعلق رکھنے والی بہت سی خواتین آفیسرز نے خود کشی کر لی ۔
یہ معاملہ اس وجہ سے بھی بھارت میں عجیب سا لگتا ہے کہ وہاں ایک خاتون ” اندرا گاندھی “ تقریباً سترہ سال تک وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہی ہیں اور دس برس تک سونیا گاندھی ” سپر پرائم منسٹر “ کے طور پر کام کرتی رہی ہیں ۔ علاوہ ازیں ” جے للیتا “ تامل ناڈو جیسے بڑے صوبے کی نہ صرف اس وقت وزیر اعلیٰ ہیں بلکہ اس سے پہلے بھی کئی بار اس منصب پر فائز رہ چکی ہیں ۔ مغربی بنگال میں ” ممتا بینر جی “ وزارت اعلیٰ کی مسند پر فائز ہیں ۔ اتر پردیش جیسے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے میں دو بار ” مایا وتی “ وزیر اعلیٰ رہ چکی ہیں جبکہ رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے مدھیہ پردیش میں ” اوما بھارتی “ نامی خاتون چیف منسٹر رہی ہیں مگر ایسے کلیدی عہدوں پر خواتین کے فائز رہنے کے باوجودد ہندوستانی معاشرے میں خواتین کی آبرو ریزی روز مرہ کا معمول ہے اور اوسطاً اس جرم کے مرتکب پینتیس سو افراد میں سے سے صرف ایک کو عدالت کے ذریعے تھوڑی بہت سزا ملتی ہے ۔
ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں ہو رہی انسانی حقوق کی پا مالیوں کے مرتکب افراد اور گروہوں کو عالمی عدالت انصاف کے ذریعے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرے اور قابض بھارتی فوجیوں کے ساتھ ساتھ ان کے سر پرست یعنی دہلی کے حکمران ٹولے کی متعلقہ شخصیات کی بھی ان گھناﺅنے جرائم کے حوالے سے نہ صرف ذمہ داری کا تعین کرے بلکہ خصوصی ٹربیونل بنا کر سابقہ یوگو سلاویہ کے ” ملازو وچ “ کی مانند انھیں کیفر کردار تک پہنچائے ۔
تبھی توقع کی جا سکتی ہے کہ اجتماعی عالمی ضمیر تا حال بے حسی کی آخری حدوں کو نہیں چھو رہا وگرنہ موثر بین الاقوامی حلقوں نے اپنا یہ انسانی فرض کفایہ ادا نہ کیا تو آنے والے دور کی تاریخ انھیں اچھے الفاظ سے یاد نہیں رکھے گی ۔