فوج کے کھلے اعلان سے کنفیوژن کیوں؟

کالم نگار  |  اسرا ر بخاری
فوج کے کھلے اعلان سے کنفیوژن کیوں؟

خواہشات کی ٹہنیوں پر امید کی کونپلیں پھوٹ رہی ہیں اور کہیں انجانے اندیشوں نے گھیراﺅ کر رکھا ہے۔ فوجی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل سلیم باجوہ کے بیان کو مختلف معنی پہنائے جارہے ہیں۔ کئی جانے انجانے لوگوں نے تجسس سے بھرپور سوال کیا ”اس کا کیا مطلب ہے؟“ حالانکہ اس بیان میں قطعاً ابہام نہیں ہے، بہت کھل کر کہہ دیا گیا ہے۔ فوج ”جمہوریت“ کے ساتھ ہے، جمہوریت کا مطلب ہے جمہوری اقدار کی سربلندی اور جمہوری روایت کی پاسداری۔ چنانچہ فوج نے کھل کر کہہ دیا وہ جمہوریت کے ساتھ ہے، اگر اس سے کوئی سیاستدانوں یا حکمرانوں کے ساتھ ہونے کا مطلب نکالتا ہے تو سوچ پر پہرے نہیں بٹھائے جاسکتے۔ ویسے جس کی بھی نظر خطے کی موجودہ صورتحال پر ہے، اس کے لئے اس بیان بلکہ پیغام کی تفہیم مشکل نہیں ہے۔ خطے میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے باعث بیجنگ بھی پاکستان میں مضبوط قیادت کا متمنی ہے جو معاملات کو بہتر طور پر سنبھال اور نمٹا سکے۔ یادش بخیر پاکستان میں حکمرانی امریکی حمایت کی مرہون منت سمجھی جاتی رہی ہے اور ”لیلیٰ کو خوش کرنے کے لئے اس کے کتے سے پیار کرو“ جیسے محاوروں کے مصداق پاکستانی حکمران بالواسطہ طور پر اسرائیل کے لئے نرم گوشے کا تاثر دیتے رہے۔ بےنظیر بھٹو جیسی منتخب اور عوامی لیڈر نے بھی ترکی کے سفیر کی رہائش گاہ پر اسرائیلی سفیر سے ملاقات کے ذریعہ امریکہ کی جانب ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بھیجا تھا۔ جنرل پرویز مشرف اور اس دور کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری تو اسرائیلیوں سے کھلم کھلا ملتے رہے ہیں۔ اب جنوبی ایشیا، افغانستان اور وسطی ایشیا میں چین کے بڑھتے ہوئے کردار کے باعث امریکی خارجہ پالیسی میں بھارت کو بھی اسرائیل جیسی پوزیشن حاصل ہوگئی ہے اور بھارت کے لئے اچھے جذبات کے اظہار کو امریکی خوشنودی کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے۔ جنرل پرویز مشرف کی شروع کردہ اس بدعت کو آصف زرداری اور بعد ازاں وزیراعظم نواز شریف نے خاصا آگے بڑھایا۔ وزیراعظم نواز شریف نے ہندوبنیئے کی کمزوری ”تجارت“ کو ایک حکمت عملی کے طور پر بروئے کار لاکر بھارتی حکمرانوں کو پاکستان مخالف سرگرمیوں سے باز رکھنے کی کوشش کی، اسے ذاتی مفادات کی بجائے ملکی مفاد کے لئے اخلاص کا نام دیا جاسکتا ہے مگر اس حقیقت کو فراموش کر گئے کہ بھارتی حکمران چانکیہ فلسفے پر یقین رکھتے ہیں جس کا ایک اصول پڑوسی سے دشمنی اور پڑوسی کے پڑوسی سے دوستی ہے۔ پڑوسی کے پڑوسی سے دوستی بھی اخلاص کی بنیاد پر نہیں بلکہ پڑوسی کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ اس کی زندہ اور بہترین مثال بھارت کے پاکستان کے پڑوسی افغانستان سے تعلقات کی شکل میں موجود ہے۔ بھارت سے تجارت کی پالیسی پر نظر ڈالی جائے تو کئی گنا توازن بھارت کے حق میں ہے۔ حکومت کی بے ثمر بھارت نواز پالیسی سے ملک کو تو کیا فائدہ ہونا تھا، خود حکومتی عہدیداروں کو بھی کوئی فائدہ نہ ہوسکا اور کل بھوشن جیسے معاملات پر بھی ”بے نیازی“ کے رویہ کے باعث حکومت اور فوج میں فاصلے کا تاثر ابھرا، فوج نے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا، اس دوران مالی دہشت گردی کے ڈانڈے اس سے ملتے نظر آئے اور جب مالی دہشت گردی پر ہاتھ ڈالا گیا تو ایسے ایسے چہرے بے نقاب ہوئے جو اشرافیہ میں بھی فروتر تھے۔ ان افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کے سلسلے میں وفاقی حکومت کے اداروں اور بالخصوص سندھ حکومت کو جو تعاون کرنا چاہئے تھا، اس کا عشرعشیر بھی نظر نہیں آرہا۔ اس لئے کہ پیپلز پارٹی کی حمایت وفاقی حکومت کی بقاءکی ضمانت ہے اور سندھ میں جن پر ہاتھ ڈالا گیا یا ڈالا جانا ہے، ان میں سے اکثریت کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔ کیا ایس ایس پی سطح کا پولیس آفیسر کسی پشت پناہی کے بغیر یہ جرا¿ت کرسکتا ہے کہ عزیر بلوچ اور نثار مورائی کی جی آئی ٹی پر دستخط کرنے سے انکار کردے۔ بغور جائزہ لیا جائے تو سندھ اور پنجاب کی پیپلز پارٹی میں واضح تقسیم نظر آئے گی۔ سندھ کی پیپلز پارٹی جو کرپشن کے واضح الزامات کی زد میں ہے، وہ وفاقی حکومت سے مفاہمانہ پالیسی رکھتی ہے جبکہ پیپلز پارٹی پنجاب وفاقی حکومت کے خلاف جارحانہ رویہ رکھتی ہے اور اعتزاز احسن، لطیف کھوسہ، ندیم افضل چن، قمر زمان کائرہ حکومت بالخصوص وزیراعظم کو کوئی رعائت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں اور یہ بھی غور طلب ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے لئے جن لیڈروں نے ریفرنس تیار کیا ہے، ان تمام کا تعلق پنجاب سے ہے۔ وزیراعظم کو آئین کے آرٹیکل 62، 63 کے تحت نااہل قرار دلوانے کے لئے ریفرنس دائر کرنا پیپلز پارٹی کے حوالے سے خاصا دلیرانہ فیصلہ ہے کیونکہ اس ریفرنس کی سماعت کے دوران پیپلز پارٹی کے لیڈروں بالخصوص آصف زرداری کے بارے میں بھی ان آرٹیکلز کی روشنی میں سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اس انقلابی سیاست سے تو اسی دن منہ موڑ لیا تھا جب انہوں نے کہا مجھے (الیکٹ ایبل) امیدوار چاہئیں، یعنی ایسے امیدوار جو پارٹی کی مدد کے بغیر ازخود الیکشن جیتنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ پاکستان میں کون ہے جو یہ نہیں جانتا کہ یہ الیکٹ ایبل لوگ انقلابی نہیں، روائتی سیاست کے علمبردار ہیں اور جو خود الیکشن جیتنے کی قوت رکھتا ہے، وہ کبھی پارٹی ڈسپلن کا پابند نہیں ہوتا۔ پارٹی پروگرام پر عمل درآمد بھی اس کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوتا۔ عمران خان نے دوسری بات جو کی ممکن ہے بقراطِ راولپنڈی نے یہ مت دی ہو، عمران خان نے وزیراعظم نواز شریف کے احتساب کے لئے جو تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے، اس میں ان کے ساتھ کنٹینر پر بلاول زرداری بھی ہوگا۔ اس اعلان نے غیروں ہی نہیں اپنوں کو بھی حیران پریشان کردیا ہے۔ پیپلز پارٹی جو گلے تک کرپشن میں لتھڑی ہوئی ہے، زرداری سے یوسف رضا گیلانی تک سینکڑوں واقعات کرپشن کی الف لیلیٰ کی صورت رکھتے ہیں، اس پارٹی کا چیئرمین کرپشن کے خلاف مہم چلائے گا۔ اس حادثہ¿ وقت کو کیا نام دیا جائے۔
کیا عجیب منظر ہوگا حال ہی میں سوئٹزرلینڈ جانے والی ٹیم جب آصف زرداری کے حوالے سے بھی بعض منفی حقائق لے کر آئی تو کیا بلاول پھر بھی کرپشن کے خلاف تحریک کے کنٹینر پر کھڑا رہ سکے گا۔ یہ سوال بے محل نہیں ہے۔ دشمنی میں حد سے گزرنا شاید اسی کو کہتے ہیں کہ آصف زرداری اور نواز شریف دونوں کو ایک جیسے کرپٹ قرار دے کر عمران خان پانامہ لیکس کی بنیاد پر نواز شریف کے خلاف تو تحریک چلائیں گے اور تحریک میں اپنا معاون آصف زرداری کے صاحبزادے کو بنائیں گے۔ بعدازاں اگر آصف زرداری کی کرپشن کے خلاف مہم چلے گی تو اس میں بلاول زرداری کا کیا کردار ہوگا۔ کیا ہوگا کیانہیں ہوگا، اس کا پتہ تو وقت آنے پر ہی چلے گا، البتہ اس سے عمران خان کے کردار میں تضادات ضرور بے نقاب ہوگئے ہیں۔
جہاں تک فوجی ترجمان کے بیان کا تعلق ہے کہ ”پاکستان میں جمہوریت پنپ رہی ہے، قومی سلامتی کے تمام اہم معاملات پر مشاورت کی جاتی ہے، مختلف امور پر جہاں بھی طلب کیا جاتا ہے تو فوج سویلین حکومت کی مدد کرتی ہے۔ قدرتی آفات سے ترقیاتی کاموں تک جہاں بھی ضروری ہو، فوج سویلین حکومت کی مدد کرتی ہے۔“ اس بیان میں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے، نہ اس سے کسی حکومت کی حمایت اور مخالفت کا پہلو نکلتا ہے بلکہ یہ فوج کی آئینی ذمہ داری ہے۔ 1973ءکے آئین کے آرٹیکلز کے تحت سول حکومت ضرورت پڑنے پر فوج کو طلب کرسکتی ہے۔ رہی یہ بات کہ فوج کی جانب سے موجودہ حکومت کو برقرار رکھنے کے لئے اس کے مخالفین کے خلاف اپنی قوت استعمال کرے گی ”ایں خیال است و محال است جنوں“ والا معاملہ ہے۔ فوج ترجمان کے بقول جمہوریت کا ساتھ دے گی اور موجودہ حکمران اگر جمہوریت کے حقیقی معیار پر پورا اتریں گے تو انہیں فوج کی پشت پناہی ازخود حاصل ہوجائے گی۔