مقامی حکومت کا ڈھانچہ!

کالم نگار  |  سعد رسول

اٹھارویں ترمیم کے بعد ایک نئے نظام کے تحت پاکستان بھر میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ابتر صورتحال اختیار کر چکا ہے جس کا ابتدائی طور پر کسی بھی سیاسی جماعت کو ادراک نہ تھا۔ گزشتہ کچھ دنوں سندھ بھر میں موجودہ افراتفری کی صورتحال اس طویل کہانی کا محض ایک ابتدائی حصہ ہے۔
رواں برس فروری میںسندھ کی صوبائی اسمبلی نے ”پیپلز لوکل گورنمنٹ ایکٹ“ 2012ءاور ”سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس“2001ءکو منسوخ کرکے”سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس“ 1979ءکو بحال کر دیا۔ بعدازاں سپریم کورٹ کے شدید دباو¿کے تحت سندھ حکومت (دیگر تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ) ان نئے مقامی حکومتی قوانین پر عمل درآمد کے لئے کام کر رہی تھی جو کہ آئین کی شق 140Aکے مینڈیٹ کی تکمیل میں موثر ثابت ہو سکتے ہےں۔ آئین کی یہ شق مقامی حکومت کے ہر صوبے سے منتخب نمائندوں پر مقامی حکومتی نظام قائم کرنے اور سیاسی‘ انتظامی و مالی ذمہ داریاں اوراپنے عہدے کو قانونی طور پر نبھانے کی ذمہ داری عائد کرتی ہے۔
اس سلسلے میں رواں برس اگست میںسندھ پیپلز پارٹی کے بقول صوبائی اسمبلی کی دیگر تمام جماعتوں سے وسیع پیمانے پر مشاورت کے بعد سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء(شدید احتجاج کے دوران) پاس کیا گیا۔ اس نئے قانون نے بلدیاتی انتخابات یونین، ٹاو¿ن‘ ضلعی‘ میونسپل اور میٹرو پولیٹین سطح پر منعقد کئے جانے اور منتخب افراد کو سیاسی انتظامی اور مالی ذمہ داریاں سونپیں۔ ایک ایسا صوبہ جہاں پر سیاسی اثرو رسوخ اور سرپرستی کو ثقافتی‘نسلی اور لسانی حدود میں تقسیم کیا گیا ہے اور (مقامی حکومتی قانون سے متعلق) مقامی حکومتی حلقوں کی تقسیم کے معیار اور طرز کا معاملہ سیاسی جماعتوںکے مابین متنازعہ بن گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایکٹ2013ءکی دفعہ 10 سے ظاہر ہوتا ہے کہ یونین کونسل ایک یا ایک سے زیادہ محصولات والے علاقے پر مشتمل ہوگی جس کی اطلاع حکومت کی طرف سے دی جائیگی۔ اس قانون سے یہ ادراک بھی ہوتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے یونین کونسل کا علاقہ ”علاقائی اتحاد“،یکسانیت،آبادی اور مربوط محصولاتی دائرہ کارکی حدود میں رہے گا۔ اسی طرح اس قانون کی دفعہ 11کے تحت وارڈ ( مقامی حکومت کا ایک اور یونٹ) جہاں تک ممکن ہو سکے مردم شماری بلاک یا ملحقہ مردم شماری بلاکس پر مشتمل ہوگی۔
قانون کی ان شقوں کے مطابق مقامی حکومتوں کی حد بندی کا عمل اس وقت تک جاری ہی رہا (اور سندھ میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے مسلسل اعتراض کئے جا رہے تھے) جب تک سندھ کی مقامی حکومت کے قائم مقام گورنر سراج درانی نے سندھ لوکل گورنمنٹ (تیسری ترمیم) آرڈیننس 2013کے نفاذ کا اعلان نہ کر دیا۔ اس قانون کے نفاذ پر تقریباً (پی پی پی کے علاوہ) تمام سیاسی جماعتوں نے یک زبان ہو کر اختلاف کا اظہار کیا اور اس قانون کی بعض شقوں کو عدالت میں چیلنج بھی کیا گیا۔ سطحی طور پر مروجہ قانون میں یہ ترمیم معمولی لگتی ہے لیکن عمیق مطالعہ اور قانون کا تجزیہ کرنے سے ممکنہ طور پر اسکے دور رس اور مذموم نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
خاص طور پر ایکٹ2013ءکے مطابق سندھ حکومت ایک علاقے کے رہائشیوں کو اعتراضات اٹھانے کی دعوت دینے اور جو اعتراض کرنے چاہئیں انکے اعتراضات سننے کے بعدان مخصوص علاقوں کو دیہی یا شہری علاقے مقرر کیا گیا (جو حقیقت میں مقامی حکومت کے ان علاقوں کی وضع قطع پر براہ راست اثر انداز ہو گی)۔ 2013ءکے آرڈیننس میں یہ ترمیم شامل کی گئی کہ ”حد بندی کا دفتر“ ڈپٹی کمشنر اس نتیجے پر پہنچے کہ آیا ایک علاقہ دیہی ہوگا یا شہری۔ اس طرح سے وہ (خود مختارانہ طور پر کسی بھی جماعت کا اعتراض سنے اور وجہ بتائے بغیر) فیصلہ سنانے کا مجاز ہے۔
قانون کی اس دفعہ کو یہ بلاشبہ ایک مضبوط چیلنج ہے کہ یہ عہدہ ایک ڈپٹی کمشنر کو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد پر اثرانداز ہونے کیلئے اختیارات دےتا ہے۔ یہ اختیار بیوروکریسی کے ہاتھوں میں جو اکثر حکومت کی ہدایت پر اکیلے ہی عمل پیرا ہوتی ہے اورکبھی معقول یا مخلص نہیں رہتی منصفانہ نظر نہیں آتا۔ اس اختیار کے ذریعے ڈپٹی کمشنرمقامی حکومت کے مہیا کردہ کسی بھی علاقے کی بناوٹ میں ردوبدل کر سکتا ہے اور ایک علاقے کے زور قوت کے توازن کو عدالتی نظام سے رجوع کئے بغیر ایک سیاسی جماعت سے دوسری جماعت میں منتقل کر سکتا ہے۔
اسکے علاوہ آرڈیننس2013ءنے میٹرو پولیٹن کارپوریشن میں وسیع پیمانے پر مختلف یونین کمیٹیوں کی تشکیل کیلئے (اپنی بیوروکریسی کے ذریعے) حکومت کی صوابدید میں اضافہ کیاہے۔ قبل ازیں 2013ءکے قانون کیمطابق ایسی ہریونین کمیٹی 40ہزار سے 50 ہزار لوگوں کی آبادی والے علاقے پر مشتمل ہو گی، جو کہ (2013ءکے آرڈیننس کے ذریعے)اب 10ہزار سے 50 ہزار لوگوں کی حد تک بڑھا دی گئی ہے۔ نتیجتاً اس صوابدیدی اختیار کے ذریعے یہ بات کھل کرسامنے آچکی ہے کہ ایک یونین کمیٹی کیلئے دوسرے کے مقابلے میں پانچ گنا بڑھائے جانے کا نتیجہ ووٹوں کی غیر مساوی اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے صوت میں نکلے گا۔ مزید برآں آرڈیننس میں واضح کر دیا گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات امیدواروں کے پینل کے ذریعے منعقد کئے جائینگے جن کی تعداد 9سے کم نہیں ہوگی۔ یہ بھی طے کر لیا گیا ہے کہ بالفرض اگرکوئی پارٹی یا ایک آزاد امیدوارانتخابات لڑنے کیلئے ایک پینل تشکیل دینے میں ناکام ہوجاتا ہے توسیاسی جماعت کے دیگرتمام آزادامیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد تصور کئے جائینگے۔ درحقیقت یہ دفعہ انتخابات میں چھوٹی سیاسی پارٹیوں اورآزاد امیدوار وں (اگر وہ 9امیدواروں پر مشتمل پینل بنانے کے اہل نہیں) کے موثر طریقے سے انتخابات لڑنے کے حق کیخلاف امتیازی سلوک ہے۔آئین کی دفعہ25کیمطابق یہ قانون نہ صرف امیدوار سے امتیازی سلوک ہے بلکہ (آئین کی دفعہ17کے تحت ) انکے انتخابات میں حصہ لینے کے بنیادی حق کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے۔
 مقامی حکومت کے حلقوں کی حد بندی، اسکے قوانین اور ہدایات کی عملداری ہماری معاشرتی عمارت کی تعمیر کے سلسلے میں ایک بنیادی بلاک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے بظاہر جماعتی اور سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے آرڈیننس2013 ءکے ذریعے اس تصورکو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ ہمارے ملک میںجمہوریت کی روح سے غداری کی ہے اور یہ سندھ کے بد نصیب لوگوں کے حکومت پر اعتبار کو بھی ایک ٹھیس ہے۔