قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کرنے کی بہترین راہ

دسمبر کا مہینہ قائداعظم محمد علی جناح کی ولادت کا مہینہ ہے۔ آپ کا جنم اس ماہ کے آخری ہفتے میں ہوا۔ آپ بلا شبہ ایک بہت ہی غیرمعمولی شخصیت و کردار کے حامل تھے ۔آپکی بصیرت سے پاکستان وجود میں آیا۔ آپ ایک بااصول، نہایت دیانتدار، واضح سوچ کے حامل ایک پکے مسلمان تھے۔ آج کے کالم میں قائداعظم کے چند اقوال کا ذکر کر رہا ہوں تاکہ قارئین اور خصوصاً جوان نسل یا ہماری مستقبل کی قیادت ان سے مستفید ہو سکے۔ قرآن مجید سے متعلق قائداعظم نے فرمایا کہ قرآن مجید ہمارا آخری اور قطعی رہبر ہے۔ قرآن مسلمانوں کا مذہبی، سماجی، شہری، کاروباری، فوجی، عدالتی، تعزیری اور قانونی ہمہ گیر ضابطہ حیات ہے۔ قائدنے یہ بھی فرمایا کہ ہماری نجات اس اسوہ¿ حسنہ پر چلنے میں ہے جو ہمیں قانون عطا کرنے والے پیغمبر اسلام نے ہمارے لئے بنایا ہے۔ دوقومی نظریے کے متعلق فرمایا ہمارا مذہب، ثقافت، آرٹ، زبان، ادب، موسیقی تاریخ روایات، فن تعمیر اور نام و نسب ہمارے الگ تشخص کی پہچان ہیں۔ ہمارا نور ایمان زندہ ہے۔ ہمیشہ زندہ رہا ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ہمارا ایک خدا، ایک کتاب، ایک رسول، ایک قبلہ، ایک امت، اللہ پر ایمان، اپنی ذات پر ایمان اور اپنی تقدیر پر ایمان ہے۔ ہمیں ایک صف میں متحد ہو کر آگے بڑھنا چاہئے۔ ۔۔ اسلامی کردار کا مطلب عزت نفس، خودداری، ارادے کی پختگی اور دیانتداری ہے۔ اسلامی انصاف، مساوات، مقبولیت اور رواداری کا حامل ہے۔ پاک سرزمین کی اصل منزل اسلامی جمہوری، اسلامی معاشرتی انصاف اور انسانی مساوات ہے۔ پاکستان ایک ایسی تجربہ گاہ ہے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں۔اہل وطن سے کہا متحد ہو جاﺅ منتشر ہوئے تو گر پڑو گے۔ اسلام کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ ہم نے جمہوریت 1300سال پہلے سیکھ لی تھی۔ سیاسی شعور مسلمانوں کے خون میں ملا ہوا ہے اور ان کی رگوں اور شریانوں میں دوڑ رہا ہے۔ پاکستان اگر مانگے تو اپنی جان بھی نذر کر دیجئے تاکہ یہ ایک شاندار، عظیم اور خوشحال مملکت بن جائے۔ ہندوستان کی تقسیم ناقابل تنسیخ ہے۔ پاکستان اسلامی نظریات پر مبنی ایک مسلم مملکت ہو گی۔ یہ پاپائی ریاست نہیں ہو گی۔ تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا کہ علم تلوار سے بھی زیادہ طاقت ور ہے۔ جائیے اور علم حاصل کیجئے چونکہ مسائل کا حل سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ میں ہے۔ جسمانی ذہنی اور روحانی ارتقا کے لئے تعلیم بہت ضروری ہے۔ ہماری قوم کے لئے تعلیم زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔
 قارئین! افسوس کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہماری تباہی و بربادی فرقہ واریت اور دہشتگردی کی اصل جڑ جہالت ہے ہم آج بھی تعلیم پر اپنے بجٹ کا 2فیصدی سے بھی کم خرچ کر رہے ہیں۔ نوجوانوں کے متعلق قائداعظم نے فرمایا کہ نئے میدان، نئے راستے اور نئی منزلیں ان کی نگاہ شوق کے منتظر ہیں۔ میرے نوجوان ہی وہ مرد عمل ہیں جو آئندہ قوم کی تمناﺅں کا بوجھ اٹھائیں گے۔ جواں نسل سے یہ توقع ہے کہ وہ اپنی ذات سے وفا، اپنے والدین سے وفا، اپنی مملکت سے وفا، اور اپنی تعلیم سے وفا کریں گے۔ وقار، ہنرمندی، راست بازی، بے لوث خدمت اور احساس ذمہ داری، نوجوانوں کی کردار سازی کے ستون ہیں۔ خواتین سے متعلق قائداعظم نے فرمایا کہ دنیا کی کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی۔ جب تک اس قوم کے مردوں کے شانہ بشانہ عورتیں بھی آگے نہ بڑھیں۔ آج کے پاکستان میں ہم عورتوں کی بے پناہ صلاحیتوں سے بالکل مستفید نہیں ہو رہے۔ مزدوروں کی فلاح سے متعلق قائداعظم نے فرمایا کہ صنعت میں کام کرنے والے کارکنوں کو مناسب رہائش گاہیں اور دیگر ضروری سہولتیں مہیا کی جائیں۔ ہمارے پاس صنعت کے لئے خام مواد کے بے پناہ ذخائر ہیں۔ انہیں عوام کی بہبود کے لئے زیادہ سے زیادہ استعمال میں لائیے۔ پاکستان میں ترقی اور افزائش دولت کے بے پناہ امکانات ہیں۔ عظیم قائد نے فرمایا کہ میں اس چیز کا قائل نہیں کہ امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر کر دیا جائے۔ بلوچستان میں تعمیر و ترقی کے زبردست امکانات موجود ہیں۔ قائداعظم کو پاکستان کے وجود میں آتے ہی معدنی دولت کا احساس تھا۔ انہوں نے فرمایا بے حد و حساب معدنی دولت زمین کے نیچے پڑی منتظر ہے کہ اس کو کھود کر استعمال کیا جائے۔ کرپشن اور چور بازاری گھناﺅنے ترین جرائم سے بھی زیادہ گھناﺅنا جرم ہے۔ اقربا پروری اور خیانت منصبی کو بے دردی سے کچل دیجئے۔ پاکستان میں ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ انہیں نیست و نابود کر دیں۔ بینکاری کو معاشرتی و اقتصادی زندگی کے اسلامی تصورات کے مطابق بنایا جائے۔ ہمارے پیارے نبی نے تیرہ سو سال پہلے جمہوریت کی بنیاد ڈال دی تھی۔ قائداعظم کا اشارہ میثاق مدینہ اور مدینہ کی ریاست کی طرف تھا۔ آپ نے فرمایا کہ مسلمان تو اپنے مذہب میں بھی جمہوری نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ پاکستانیوں کو ہدایت کی کہ قوت ارادی، قوت عمل اور قوت کردار پیدا کریں۔ مٹھی بھر مسلمانوں نے ایران اور روم کی سلطنتوں کے تختے الٹ دئیے تھے۔ ہم بھی اسی طرح فتح یاب ہوں گے۔ حکومت کا اصل کام غریبوں کا معیار زندگی بلند کرنا ہے۔ سرکاری ملازم حاکم نہ بنیں۔ دفاعی قوت کو مضبوط بنایا جائے۔ قائد نے فرمایا جب تک ہمارا دشمن ہمیں اٹھا کر بحیرہ عرب میں نہ پھینک دے ہم ہار نہیں مانیں گے۔ صوبہ پرستی کے زہر کو ملکی سیاست سے باہر نکال کر پھینک دیں۔ اب ہم سب پاکستانی ہیں۔ نہ بلوچ، نہ پٹھان، نہ سندھی، نہ بنگالی اور نہ پنجابی۔ کشمیر کے متعلق قائداعظم کا فرمان تھا کہ سیاسی اور فوجی اعتبار سے کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ اس کو دشمن کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ اقلیتوں کے ساتھ اسلامی روایات کے مطابق بہترین فیاضانہ سلوک روا رکھا جائے۔ پاکستان ہندوستانی مسلمانوں کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھول سکتا۔
 قارئین ہر سال 25دسمبر کو قائداعظم کا یوم ولادت منانا اور ان کے مزار پر پھولوں کی چادریں چڑھانا کافی نہیں۔ ہمیں اپنے عظیم قائداعظم کے ایمان افروز اور پربصیرت فرمودات کو نہ صرف بار بار پڑھنا چاہئے بلکہ ان سے رہنمائی حاصل کر کے ان پر عمل بھی کرنا چاہئے۔ پاکستان کی ولادت کے بعد تقریباً ایک سال کی قلیل مدت میں قائداعظم نے جو رہنما اصول قوم کو دئیے ان پر عمل کر کے ہم پاکستان کو ایک بہترین جمہوری اسلامی اور فلاحی ریاست بنا سکتے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ کی مغفرت کے لئے دعا کی جائے اور آپ کی بصیرت کو عملی شکل دی جائے۔