شہید محترمہ کے قاتل اب بچ نہ پائیں گے!

کالم نگار  |  مطلوب وڑائچ

دنیا میں آج تک جو مشہور قتل ہوئے اوران کا مکمل سراغ تک نہ لگایا جا سکا۔ ان میں 1865 میں ابراہام لنکن ،1948ءمیں مہاتما گاندھی ، 1949میں سابق وزیراعظم لیاقت علی خاں ، 1963ءمیں جان ایف کینیڈی،1968ءمیں مارٹین لوتھرکنگ،1980 ءجان لینن جبکہ محترمہ بےنظیر بھٹو شہید کو 27دسمبر 2007ءکو راولپنڈی کے لیاقت باغ کے سامنے قتل کر دیا گیا۔ محترمہ بےنظیر بھٹو کی شہادت کو آج 6 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ جس میں 5سال انکی اپنی پارٹی پاکستان پیپلزپارٹی جس کی وہ چیئرپرسن بھی تھی۔ اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان رہی۔ 2013ءکے الیکشن میں پیپلزپارٹی کی شکست کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ گذشتہ 5سال میں محترمہ کے قتل کا سراغ نہ لگا سکی یا جان بوجھ کر انویسٹی گیشن کو معطل کیے رکھا۔ بھٹو کے داماد اور محترمہ بےنظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد ہر سال 27دسمبر کو عام تعطیل کا اعلان کرنے کے سوا عملاً کچھ نہ کر سکے۔ 27دسمبر 2007ءکے بعد پیپلزپارٹی کی طرف سے سرکاری اداروں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا اور محترمہ کی شہادت کے اسباب جاننے کے لیے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی تفتیش کروانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ غیرملکی ادارہ پاکستان کے معروضی حالات سے لاعلم تھا۔وہ بس شلجم سے مٹی جھاڑ کر چلتے بنے۔ 20 فروری 2008کو پیپلزپارٹی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے افتتاحی تقریر کرتے ہوئے میں نے کہہ دیا تھا کہ اگر ہم نے محترمہ کے قتل کے اسباب جاننے کی بجائے اقتدار کو ترجیح دی تو پاکستان کے غیور جیالے اگلے الیکشن میں ہمیں عبرت کی مثال بنا دیں گے۔ افسوس وہی ہوا جس خدشہ کا میں نے اظہار کیا تھا۔ پیپلزپارٹی آج بھی پاکستان کے تین صوبوں سندھ ، کشمیر و گلگت بلتستان میں صاحب اقتدار ہے مگر امسال بھی ماہ رواں میں شہید محترمہ کے جوان بیٹے محترمہ کی شہادت کے متعلق کچھ بھی کہنے کی بجائے سندھی ثقافت کے نام پر بھنگڑے ڈالتے ہوئے نظر آئے اور محترمہ کی شہادت کے مہینے میں سندھ میں بسنت تہوار منانے کی نوید عوام کو سناتے رہے۔ محترمہ کے قتل کی وجوہات جو کچھ بھی ہیں وہ بہت جلد عوام کے سامنے آ جائیں گی کیونکہ اب محترمہ بے نظیر بھٹو کے حقیقی جانشینوں نے فیصلہ کیا ہے کہ محترمہ نے اپنی زندگی میں جس ڈیٹکٹیو ایجنسی سے آصف علی زرداری پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کروائی تھیں سوئٹزرلینڈ کی اسی ایجنسی سے پارٹی جیالوں نے رابطہ کر لیا ہے اب سوئٹزرلینڈ کی آئی آئی ایس انٹرانوسٹی گیشن سروس نامی ایجنسی محترمہ کے قتل کا سراغ لگائے گی۔ اب قاتل چاہے اپنے ہوں یا بیگانے زیادہ عرصہ تک قانون کی نظروں سے چھپے نہ رہ سکیں گے۔ مجھے پتہ ہے یہ تحریر منظر عام پر آ جانے کے بعد محترمہ کے قاتلوں کے حلقہ میں کھلبلی مچ جائیگی دنیا بھر میں کتنے قتل اندھے قتل بن گئے انکی فائلیں بھی بند ہو گئی ہیں مگر 27دسمبر 2014ءسے پہلے اس قتل کا سراغ لگانے کے لیے جیالے سرگرم عمل ہو گئے ہیں ہم اب محترمہ کی شہادت سے فیض یاب ہونے والوں کو معاف نہیں کریں گے اب قاتلوں کے گریبان ہوں گے اور جیالوں کے ہاتھ۔
بےنظیر بھٹو پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی تفتیش کے حوالے سے ابھی بہت سے ایسے سوالات ہیں ۔ ماہرین کیمطابق بےنظیر بھٹو کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے والوںنے سب سے زیادہ اہمیت ٹائم فریم کو دی۔ بےنظیر کو سکیورٹی فراہم کرنے والے ادارے اور اہلکار اس روز صبح سے ہی سکیورٹی کے انتظامات میں مصروف تھے۔ بےنظیر نے کس راستے سے جلسہ گاہ میں داخل ہونا ہے۔ انہیں رش سے بچا کر کس طرح سٹیج پر پہنچانا ہے۔ اس طرح کے بنیادی نکات پر سکیورٹی اہلکار توجہ مرکوز کئے ہوئے تھے جبکہ ملزموں نے جلسے کے بعد کا وقت دھماکے کےلئے منتخب کر رکھا تھا۔ جب بےنظیر جلسہ گاہ کے مین دروازے سے باہر نکل گئیں تو اپنی منزل کی طرف جانے کےلئے انہیں لیاقت روڈ سے گزرنا تھا۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں ملزموں نے اپنا ٹارگٹ پہلے سے بنا رکھا تھا۔ وہاں سکیورٹی کے انتظامات بھی جلسہ گاہ کی طرح سخت نہیں تھے۔ ملزم اس جگہ کی پہلے سے ریکی کر چکے ہونگے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ خودکش حملہ آور اور ماہر نشانہ باز اس روڈ پر پہلے سے موجود تھے لیکن انہیں یہ کیسے یقین تھا کہ بے نظیر بھٹو اس روڈ پر آنے کے بعد بلٹ پروف گاڑی سے سر باہر نکالیں گی۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے کسی ساتھی یا ساتھیوں نے مجمع کو پُرجوش کرنے کےلئے بے نظیر بھٹو کے حق میں نعرے لگائے ہوں گے۔ (جئے بھٹو ایک ایسا نعرہ ہے جس کی وجہ سے پیپلزپارٹی کے ورکروں میں فوری طور پر کرنٹ کی سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے) ایک اہم بات یہ ہے کہ بے نظیر جلسہ ختم کرنے کے بعد ہر بار بلٹ پروف گاڑی سے باہر نہیں آتی تھیں۔ بے نظیر بھٹو جب جلسہ گاہ کے گیٹ سے باہر نکلی تھیں تو خلاف معمول انکی پارٹی کے دوسرے اہم افراد کی گاڑیوں کا قافلہ تھوڑا پیچھے رہ گیا تھا۔ پولیس کی ابھی بہت کم نفری ان کی گاڑی کے ساتھ موجود تھی۔
 بےنظیر بھٹو پر فائرنگ کرنے والا چوبیس پچیس سال کا نوجوان تھا۔ وہ جب بے نظیر بھٹو پر گولیاں چلا رہا تھا اس نے کالے رنگ کے شیشوں والی عینک پہن رکھی تھی۔ مغرب کی اذان سے تھوڑی دیر قبل ڈارک شیشوں والی عینک پہننے سے اس کی نظر تیز نہیں ہوگی بلکہ یہ عینک کسی خاص شخصیت یا دوسرے ساتھیوں کےلئے علامت تھی کہ اس مجمع میں سے وہ ڈارک پینٹ کوٹ اور کالے شیشوں والے اپنے ساتھی کو آسانی سے پہچان سکیں۔ وہ ایک رہبر شوٹر تھا۔ شاید اس شوٹر کو معلوم تھا کہ ایک خود کش بمبار اس کے پیچھے پیچھے آرہا ہے ۔ اس سفید چادر میں چھپے شخص کا چہرہ موبائل فون ویڈیو میں تھوڑا سا نظر آتا ہے۔جب تین فائر ہوگئے تو ایک دم خودکش حملہ آور نے بم دھماکہ کر دیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی ماہر شوٹر نے دوربین گن یا لیزر گن سے دور سے فائر کیا ہو اور اس کی تصویر کسی بھی موبائل ویڈیو میں نہ آئی ہو اور ہوسکتا ہے وہ ملزم اب بھی زندہ ہو۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ اس طرح کا حملہ کرنا دو افراد کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ خودکش جیکٹ کو پہنانے کے بعد فیوز اور کنکشن کو جوڑنے کےلئے کسی ماہر کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے ماہر کو دھماکہ خیز مواد اور ضروری لوازمات ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کی مکمل تربیت دی جاتی ہے۔ ان ماہرین کو خودکش حملوں میں ضائع نہیں کیا جاتا بلکہ وہ ”بکرے“ کوتیار کر کے خود منظر سے غائب ہوجاتے ہیں۔
بے نظیر بھٹو کا قاتل کون ہے؟ اس بارے میں کئی بم دھماکوں کے ملزموں کو گرفتار کرنے اور ان کی تفتیش کرنے والے ایک افسر نے بہت دلچسپ معلومات دیں۔ انہوں نے کہا ”بم دھماکے تو بہت سے افراد دولت کے لالچ میں کرتے ہیں لیکن خودکش بم دھماکوں کے بارے میں‘ میں نے جتنے بھی افراد کی تفتیش کی ہے ان کے پیچھے مجھے ”جنت فیکٹر“ ہی نظر آیا ہے۔ ملک دشمن عناصر ہوں یا غیرملکی ایجنٹ وہ خاص منصوبہ بندی سے خودکش حملہ آور تک پہنچتے ہیں۔ سب سے پہلے کسی ایجنٹ کو رقم فراہم کی جاتی ہے۔ وہ کسی تاجر کو رقم فراہم کرتا ہے۔ وہ تاجر اپنا حصہ وصول کر کے رقم کسی مذہبی جنونی تک پہنچاتا ہے۔ وہ مذہبی جنونی اپنے پیروکاروں میں سے کسی شدت پسند کا انتخاب کرتا ہے اور پھر اسے جنت کی بشارت دے کر خودکش حملے کےلئے تیار کیا جاتا ہے۔ اب تک جتنے بھی خودکش حملے ہوئے ہیں ان میں سے کسی ایک بھی حملہ آور کے بارے میں ثابت نہیں ہوسکا کہ ان سے رقم کے لالچ نے یہ اقدام کرایا ہے۔ وہ ہمیشہ انتہائی سطح پر برین واشنگ کے بعد جنت کی تلاش میں خودکش حملہ کرنے کےلئے تیار ہوتا ہے اور اسے ہی ہم ”جنت فیکٹر“ کہتے ہیں۔ بےنظیر بھٹو پر خودکش حملہ کرنے والے کے پیچھے بھی یہی کہانی ہوگی“۔