داستان جھوٹ کے پیغمبر کی .... (1/2)

کالم نگار  |  غلام اکبر

بہت سارے لوگ مجھے ” جھوٹ کا پیغمبر “ کے مصنف کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ یہ کتاب میں نے اپریل 1977ءمیں لکھنی شروع کی تھی۔ اسکی اشاعت ستمبر1977ءمیں ہوئی اور یہ کتاب ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوئی۔ چند ہی ہفتوں کے اندر اسکے چار ایڈیشن شائع ہوئے۔ پانچویں ایڈیشن کی اشاعت ہونیوالی تھی کہ اسکے مرکزی کردار مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کواحمدرضا قصوری کے والد کے قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ اسکے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی او ر ملک کے سابق وزیراعظم کیخلاف میرے غم و غصے کی شدت میں نمایاں کمی آگئی اورمیں نے ”جھوٹ کا پیغمبر “ کی اشاعت و فروخت کا باب ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند کردیا۔
ایک عرصے تک میری وجہ ءشہرت یہ کتاب رہی۔ مجھ سے اکثر یہ پوچھا جاتا رہا ہے کہ اس کتاب کیلئے میں نے یہ عنوان کیوں منتخب کیا اور میری تحریر میں اتنا غصہ کیوں آیا۔خود میرے ذہن میں بھی یہ سوال بار بار اٹھتا رہا ہے۔آج اس کتاب کو میری شناخت کا حصہ بنے ہوئے 36برس ہوچکے ہیں۔ اس دوران تاریخ متعدد کروٹیں لے چکی ہے۔ بھٹو کو پھانسی پائے تقریباً ساڑھے چونتیس برس ہوچکے ہیں مگر اُن کی شخصیت کا سحر آج بھی فضاﺅں میں محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اُن کا نام آج بھی پاکستان کی سیاست کا ایک اہم حصہ ہے۔
جس عمر میں میں نے ” جھوٹ کا پیغمبر “ تحریر کی تھی اس سے آج میں تقریباً دگنی عمر کا ہوں۔ میںچاہتا ہوں کہ قوم کے سامنے وہ احساسات ضرورآئیں جو ہماری قومی سیاست میں ختم نہ ہونیوالی ایک عہد ساز پولرائزیشن کا باعث بنے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ میں اپنے اس کالم میں ”جھوٹ کا پیغمبر “ کا تمہیدی باب پیش کررہا ہوں۔ ملاحظہ فرمائیں۔
یہ کوئی تاریخی دستاویز نہیں ¾ یہ بھٹو کی داستانِ عروج وزوال بھی نہیں ¾ یہ میری کہانی ہے۔ یہ میرے ہم وطنوں کی کہانی ہے۔ یہ میرے جذبات کی کہانی ہے۔ یہ میرے ہم وطنوں کے جذبات کی کہانی ہے۔ وہ جذبات جنہیں بڑی چالاکی سے اُبھارا گیا۔ وہ جذبات جنہیں بڑی بے دردی کیساتھ کچل دیا گیا۔ وہ جذبات جنہوں نے بھٹو کو بامِ عروج تک پہنچایا۔ وہ جذبات جنہوں نے بھٹو کو قعرِ مذلت میں دھکیل دیا۔وہ جذبات جنہوں نے بھٹو کو میرِ کارواں بنایا۔ وہ جذبات جنہوں نے بھٹو کو مجرموں کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا۔ اپنے جذبات اور اپنے ہم وطنوں کے جذبات کی اس کہانی کو میں اصغر خان کے نام منسوب کرتاہوں جنہوں نے چند برس قبل مجھ سے کہا تھاکہ قوموں کی تقدیر بدلنے والے عہد ِ آفرین لوگ جھوٹ کی کوکھ سے جنم نہیں لیا کرتے۔ آج میں سوچ رہا ہوں کہ جھوٹ کی سیاہی سے لکھی جانے والی تاریخ حرفِ غلط کی طرح مٹ جاتی ہے اور صرف وہی سچ ہمیشہ روشن رہتا ہے جسے لوگ اپنے خون سے لکھتے ہیں۔
میں ایک مجرم ہوں۔ میرا جرم یہ ہے کہ میں نے 1970ءکے عام انتخابات میں بھٹو کو وو ٹ دیا تھا۔ اس وقت میرا تخیل بھٹو کوایک ایسے پاکستان کے معمار کے روپ میں دیکھ رہا تھا جوعالم اسلام کا ایک ناقابل ِ تسخیر قلعہ بن چکا ہو اور جس کی عظمت کا پرچم مسلم قومیت کے دشمنوں کو للکار للکار کر کہہ رہا ہو کہ قائداعظمؒ اور علامہ اقبال ؒ کے خوابوں نے حقیقت کا جامہ پہن لیا ہے ¾ میری چشمِ تصور بھٹو کو ملتِ پاک کے نجات دہندہ کا تاریخ ساز کردار ادا کرتے دیکھ رہی تھی ۔ میرے نزدیک بھٹو ایک ایسی تلوار تھا جو ظلم و بے انصافی ¾ بھوک ¾ جہالت اور استحصال و بے حسی کی زنجیریں کاٹ کر وطن ِ عزیز کو معاشی عدل ¾ معاشرتی مساوات اور سلطانی ءجمہورکی حسین منزل کی طرف لے جانے کیلئے بلند ہوئی تھی۔ بھارت کی سامراجی ذہنیت کیخلاف ایک ہزار سال تک جہاد جاری رکھنے کا اعلان کرنیوالا بھٹو۔۔۔ جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کی چکی میں پسنے والے کروڑوں عوام کو معاشی اور معاشرتی انقلاب کا پیغام دینے والا بھٹو۔۔ ایک ساکت جامد اور بیمار معاشرے میں غریب عوام کی حاکمیت اور عزتِ نفس کی روح پھونک کر ایک نئے پاکستان کی تعمیر کا دعویٰ کرنیوالا بھٹو ۔۔۔اُس وقت میرا ہیرو تھا۔ میں کسی بھی قیمت پر یہ بات تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں تھا کہ جاگیردارانہ نظام کی کوکھ سے ایک انقلاب آفرین اور عہد ساز شخصیت جنم نہیں لے سکتی ۔
اگر میری آنکھوں پر میرے معصوم خوابوں نے خود فریبی اور خوش فہمی کا پردہ نہ ڈال رکھا ہوتا تو مجھے جان لیناچاہئے تھاکہ جبرہ استبداد پرمبنی جس نظام کی کوکھ سے بھٹو نے جنم لیا تھا اس نظام کی کوکھ سے آج تک کسی لینن ¾ کسی ماﺅزے تنگ ¾ کسی ڈیگال ¾ کسی چرچل ¾ کسی لنکن ¾ کسی اتاترک ¾ کسی ناصر اور کسی جناح نے جنم نہیں لیا ۔میں بھول گیا تھا کہ جس نظام کی بنیادیں محکوم انسانوں کی ہڈیوں پر قائم ہوتی ہوں اور جسے صدیوں سے غریبوں اور بے بسوں کے خون سے سینچا جارہا ہو اس وحشیانہ نظام کا کوئی فرد ظالم اور مظلوم کے درمیان لڑی جانے والی جنگ میں مظلوم کی ڈھال بن کر اپنی کوکھ سے غداری نہیں کرسکتا۔ میں یہ سوچنے کیلئے تیار نہیں تھا کہ سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہونیوالے جس شخص نے ساری زندگی چاندی کے برتنوں میں کھانا کھایا ہوا سے کیا خبر کہ فاقہ کسے کہتے ہیں اور تنگ و تاریک اورشکستہ جھونپڑیوں میں رہنے والوں کے شب و روز کیسی یاس زدہ بے بسی اور کسمپرسی میں گزرتے ہیں میں نے اپنے آپ کو یقین دلا رکھا تھا کہ لاڑکانہ کی شکارگاہوں میں پرورش پانے والا وڈیرہ زادہ وطنِ عزیز میں ایک ایسے معاشرے کی داغ بیل ڈالنے کیلئے قومی سیاست کے افق پر طلوع ہوا ہے جس پر کسی کو بھی بھوک ¾ بیماری ¾ افلاس ¾ جہالت اور ناامیدی ورثے میں نہیں ملے گی۔ اور جس کا ہرفرد اس یقین کے ساتھ قومی زندگی میں اپنا کردار ادا کریگا کہ اس کے معاشرتی اور قانونی حقوق کو تاراج کرنے والی قوتوں کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کچل دیا گیا ہے۔
اس وقت میرے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ ہارورڈ یونیورسٹی کی رنگین فضاﺅں سے ممبئی اور کراچی کے نائٹ کلبوں تک سفر کرنیوالے جس رئیس زادے کو میرا ذہن مستقبل کے پاکستان کا معمار قرار دے چکا ہے وہ میرے ہی ووٹ کی تلوار سے میرے ہی وطن کے ٹکڑے ٹکڑے کرنیوالا ہے ۔ میرے تصور میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ میرا ووٹ ایک ایسے طالع آزما پر اقتدار کے دروازے کھولنے والا ہے جس کی پوری سیاسی شخصیت جھوٹ کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہے۔
میں نے بھٹو کو ووٹ دے کر جو جرم کیا تھا اس پر میں نادم ہوں ¾ شرمندہ ہوں ۔میں یہ سوچ کرکانپ اٹھتا ہوں کہ میرے اس جرم کا کفارہ ادا کرنے کیلئے میرے ہم وطنوں کو کراچی سے خیبر تک اپنا خون بہانا پڑا ہے۔۔۔ وہ خون بڑا ہی مقدس ¾ بڑا ہی عظیم تھا جو بھٹو کے ناقابلِ تصور جبرو استبداد کیخلاف ملت پاک کے جیالے فرزندوں اور غیور بیٹیوں نے ملک کے چپے چپے پر بہایا وہ ہزاروں جھوٹ جو بھٹو کے دورِ اقتدار میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر بولے گئے اخبارات کے صفحات پر لکھے اورلکھوائے گئے وہ سب جھوٹ بالآخر اس ایک عظیم سچائی کے سامنے دم توڑ گئے جو تحریکِ جمہوریت کے شہیدوں نے اپنے مقدس خون سے لکھی۔جھوٹ کی عمر زیادہ سے زیادہ اتنی ہی ہوسکتی ہے جتنی لمبی عمر بھٹو کے اقتدار کی تھی لیکن سچائی کی جنگ ابھی تک پوری طرح جیتی نہیں گئی۔ جھوٹ کی طاقت پراندھا بہرا ایمان رکھنے والا بھٹو اب بھی سونے چاندی کے انباروں پر کھڑا ہو کر چیخ رہا ہے کہ ” میں غریبوں کا ساتھی ہوں عوام کا دوست ہوں ¾ مزدوروں کا بھائی ہوں کسانوں کا خادم ہوں۔“
بھٹو کو اب بھی یقین ہے کہ اس کے جھوٹ کو شکست نہیں ہوئی ¾ وہ دوبارہ پاکستان کے عوام کے ساتھ دھوکا کرسکتا ہے ¾ وہ دوبارہ غریبوں کو فریب دے سکتا ہے ¾ وہ دوبارہ مزدوروں اور کسانوں کو بے وقوف بنا سکتا ہے ¾ وہ دوبارہ جبر و استبداد کی اس کرسی پر قابض ہوسکتا ہے ¾ جس کی مضبوطی پر اسے بڑا ناز تھا ¾ اور جس پر بیٹھ کر اس نے اپنی بندوقوں کا رخ عوام کی طرف موڑ دیا تھا۔ (جاری)