جمہوریت کیلئے ضروری تعلیم بالغاں

کالم نگار  |  سلطان ظہور اختر

جمہوریت کا مطلب ہے ”عوام کی حکومت ،عوام کیلئے اور عوام کے ذریعے یعنی Govt of the people for the people and by the people لیکن جب سے پاکستان بنا ہے یہ مقولہ اور اسکی روح ندارد ہے۔ شروع سے خواص کی حکومت، خواص کیلئے اور عوام پر حکومت کارفرمائی رہی ہے یعنی عوام ہر طرح سے تختہ¿ مشق بنتے رہے ہیں۔ البتہ خواص کبھی وڈیرے، کبھی بیورو کریٹ، کبھی فوجی، کبھی سرمایہ دار اور کبھی ساہوکار ہوتے رہے ہیں۔
پچھلے 5 سال سے خاندان کی حکومت، خاندان کیلئے حکومت اوران پڑھ، جاہل عوام پر حکومت جاری رہی ہے۔ اس پانچ سالہ دور میں ہر سطح پرحکمران اور انکے حواری لوٹ مار میں مصروف رہے اور عوام کمر توڑ مہنگائی، ملاوٹ، بے روزگاری، بجلی کی لوڈشیڈنگ، گیس کی ناپیدی و لوڈشیڈنگ، ملاوٹ، چوری چکاری ،ڈکیتی، بھتہ خوری، سمگلنگ، ٹارگٹ کلنگ خودکش حملوں اور دھماکوں کا شکار رہے ۔ ان سے تنگ آکر عوام دل برداشتہ ہو گئے اور الیکشن میں بھٹو اور بے نظیر کے جیالوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مرکز اور پنجاب میں ن لیگ کی حکومت، سندھ میں پی پی پی، بلوچستان میں ن لیگ کے حواری اور سرحد میں عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی حکومتیں قائم ہوگئی ہیں۔ یعنی پھر سپلٹ مینڈیٹ آ گیا۔ ہر جماعت نے ہر مقام پر قائداعظم کے تین رہنما اصولوں ایمان، تنظیم اور نظم و ضبط سے انحراف کیا اور صوبائیت کو فروغ دیا۔ مسلم لیگ ن، ایم کیو ایم نے اپنے حلقوں میں دھاندلی یا دھاندلوں کے ریکارڈ قائم کئے۔ ان الیکشنوں میں نوازشریف تیسری دفعہ وزیراعظم بنے پہلے دو دفعہ یہ وزیراعظم بنے تو ہر دفعہ بددیانتی اور نالائیکی کی بنا پر یہ نکالے گئے۔
 پچھلے دور میں آصف زرداری کی حکومت میں ہر سطح پر بدنظمی ہوئی، قائداعظم کے رہنما اصولوں کی تضحیک اور لوٹ مار، مہنگائی، دہشت گردی کا دور رہا۔
پنجاب میں بھی یہی عالم رہا، لوہے کے تندوروں پر، دانش سکولوں پر، لیپ ٹاپ کی مفت تقسیم پر غریبوں کیلئے مکانات بنانے پر دیگر اسی قسم کی شاہ خرچیوں اور جنگلہ بس سروس اور ہیڈ اووراور انڈر پاس بنانے پر مرکز سے صلاح مشورہ کئے بغیر مطلق العنانی رویہ اختیار کئے رکھا۔ ان کی اور مرکز میں پی پی کی لوٹ مار سے پریشان قوم نے پنجاب میں رگنگ اور ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے قوم سے جو نتیجہ سامنے کیا اس میں مندجہ بالا نتیجہ سپلٹ مینڈیٹ کی شکل میں دیا گیا۔
نوازشریف صاحب تیسری مرتبہ وزیراعظم بن گئے ہیں پہلی دو مرتبہ جس طرح یہ فارغ کئے گئے وہ تو اب تاریخ کا حصہ ہے اس مرتبہ انہوں نے بابو سر ہزارہ پوٹھوہار سے حسن ابدال موٹر وے، پشاور تا کراچی بلٹ ٹرین اور دیگر مضحکہ خیز وعدوں پر حکومت توبنالی لیکن پچھلے چار ماہ میں ان کی کارکردگی عیاں ہوگئی ہے۔ مرکز اور پنجاب میں بجلی 19 روپے فی یونٹ، پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، دو کنال اور اس سے بڑے پلاٹوں پر 5 لاکھ لگژری ٹیکس جو عدالت میں چیلنج ہوگیا ہے۔
گزشتہ چار ماہ میں پی پی پی کی حکومت سے بدتر حالات ہیں۔ کمر توڑ مہنگائی، بجلی گیس، پٹرول کی قیمت میں ہوشربا اضافے، دہشت گردی، لوٹ مار، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، رشوت، سفارش اورکنبہ پروری پہلے کی طرح جاری ہے۔اب کے یہ حضرت تیسری مرتبہ وزیراعظم بنے ہیں تو بھارت نے لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف سے فائرنگ کا سلسلہ جاری کر دیا ہے۔ انہوں نے دفاع اور دیگر محکمے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ صدر کیلئے انہوں نے عقلمند اور صائب رائے لوگوں کو دور رکھ کر دہی بھلے، جوتے اور کپڑا فروش بیوپاری کو صدر بنوا دیا ہے۔ یہ اسی قسم کا بندہ افواج کا سربراہ بنائینگے۔بہتر ہے کہ وہ میرٹ کو ترجیح دیں۔
قائداعظم نے جب مسلمانان ہند کو مغربی جمہوریت کیلئے تیار کیا تو تین رہنما اصول، ایمان، اتحاد اور تنظیم کے علاوہ نوجوانوں کو تعلیم اور عوام کو سُدھ بدھ دینے کیلئے جسے ”لٹریسی“ بھی کہتے ہیں کیلئے تعلیم بالغاں لازم قرار دیا جس کے سبب ہندی مسلمانوں نے سمجھ بوجھ کے ساتھ پاکستان کو ووٹ دیا اور یہ ملک معرض وجود میں آیا یہ سلسلہ ایوب خان کے دور تک جاری رہا لیکن بھٹو نے جہاں ملک کے ہر شعبے کو قومیا لیا عوام کو ”لٹریسی“ سے نابلد رکھنے کیلئے تعلیم بالغاں کو سرے سے ختم کردیا بہ بہت بڑا المیہ تھا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ:
( 1) شہر و دیہات میں ایک طریقہ تعلیم جیسے پی ٹی آئی نے سرحد میں کیا ہے بچوں کو انگریزی زبان لازمی قرار دے کر ملک میں اپنایا جائے۔ اسکے ساتھ ہی عام آدمی جو لائنوں میں لگ کر ووٹ دیتا ہے کو تعلیم بالغاں اسے جمہوریت سے شناسا کرنے کو شروع کیا جائے۔ تعلیم بالغاں ہر سکول میں لازمی شعبہ بنایا جائے۔
-2 قائداعظم کے تین رہنما اصول جن کی جگہ آجکل پیسہ، برادری اور ہیرا پھیری تین رہنما اصول بن گئے کو ختم کرکے قائد کے اصولوں قومی زبان اور قومی لباس کو اپنایا جائے تاکہ پاکستانی قومیت ہر شعبہ¿ زندگی میں عیاں ہو اور ذات برادری اور صوبائیت سے دور اور پاکستانیت واضح ہو۔ -3 انٹ شنٹ اللوں تللوں پر پیسہ ضائع کرنے کی بجائے عوام کے فلاحی کاموں، آٹا، دال، چینی اور کمر توڑ مہنگائی، رشوت، سفارش، بے روزگاری، چوری، ڈکیتی، بھتہ خوری اغوا اور دیگر معاشرے کی برائیوں سے قوم کو نجات دلائی جائے۔ -4 تعلیم، رسل و رسائل طبی جو اب تک نہیں ہوسکی کی ملکی سطح پر منصوبہ بندی کی جائے تاکہ قوم کو سہولتیں فراہم ہوں۔ -5 عوام میں بیداری کیلئے گاﺅں شہروں اور محلوں کی سطح پر ریٹائرڈ سینئر سٹیزنز کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ -6 اپنے کنبے اور اولاد کو سیاست سے دور رکھ کر اہل اور سفید پوش درمیانی طبقے کی سیاست میں آنے اور انہیں لانے کی ترغیب اور حوصلہ افزائی کی جائے کیونکہ موجودہ حالات میں سفید پوش طبقہ سیاست میں آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اگر انکی، اگر حالات اور انکی سوچ اسی طرح رہے تو عوام تو بعد میں سڑکوں پر نکلیں گے یہ خود ”کسی کے آنے پر“ پھٹے پھٹے ہو جائینگے۔ میری دعا رب عظیم سے ہے انہیں عقل دانش اور اس ملک کو دیانت دار قیادت عطا کرے آمین ....
تیری دعا ہے تیری آرزو ہو پوری
میری دعا ہے تیری آرزو بدل جائے