پانی زندگی ہے

کالم نگار  |  محمد اکرم چوہدری
پانی زندگی ہے

خالقِ کائنات نے پاکیزگی کو ’’نصف ایمان‘‘ قرار دیا ہے اور پاکیزگی پانی کے بغیر ممکن نہیں… پانی پاکیزگی دینے کے ساتھ ہمیں زندگی بھی عطا کرتا ہے… پانی زندگی ہے اور زندگی کے سارے رنگ پانی سے ہی نکھرتے اور سنورتے ہیں۔انسانوں کا بانکپن، پرندوں کی چہچہاہٹ، کھیتوں کی ہریالی اور باغوں کی رعنائی سمیت دنیا کی ساری خوبصورتیاں پانی ہی کی مرہون منت ہیں۔ انسان اور پانی کا ساتھ قدم بہ قدم ہے۔ وہ ایک نومولود کی صورت میں ماں کی کوکھ سے جنم لیتا ہے تو اس کے جسم کو گندگی پانی سے دھو کر اسے ماں کی آغوش میں دیا جاتا ہے۔ اسی طرح وہ زندگی میں اپنا سفر پورا کرنے کے بعد اگلے جہان سدھارنا ہے تو قبر میں اتارنے سے قبل اسے پانی سے غسل دیا جاتا ہے۔
عام طور پر ایک انسان ہر روز پانی کے 8 گلاس پیتا ہے جوکہ 2 لیٹر پانی بنتا ہے جبکہ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک عام انسان کو ہر روز 3 لیٹر کے قریب پانی پینا چاہئے جو اسکی صحت اور تندرستی کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ پانی کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر کی تمام تہذیبوں نے پانی کے کنارے جنم لیا اور یہیں سے ارتقائی منازل طے کیں۔ اسی طرح جنگلوں، بیابانوں اور پہاڑوں میں جانوروں اور درندوں کے بسیرے اور غول آبشاروں، ندی نالوں اور تالابوں کے قریب ہوتے ہیں۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور زراعت کا دارومدار پانی سے وابستہ ہے۔ قدرت نے ہمارے ملک کو 7دریائوں سے نوازا ہے جن میں دریائے سندھ، راوی، چناب، ستلج، بیاس، جہلم اور دریائے سرسوتی شامل ہیں۔ ان دریائوں میں سے 5 دریا صوبہ پنجاب سے گزرتے ہیں جس کی وجہ سے اس کا نام پنجاب (پنج آب) ہے۔
زمین پر زندگی کی ضمانت ہونے کے ساتھ فطرت کے نظام میں توازن کی بنیاد پانی ہی ہے۔ دنیا کی 6 ارب سے زائد آبادی کیلئے پانی کی طلب روز بروز بڑھ رہی ہے۔ یہ آبادی کرہ ارض پر موجود صاف اور میٹھے پانی کا 54 فیصد استعمال کرتی ہے جس میں سے 70 فیصد زراعت، 22 فیصد صنعتوں اور 8 فیصد گھریلو ضروریات کیلئے استعمال ہوتا ہے۔
پاکستان میں 7 دریا اور بہترین نہری نظام موجود ہونے کے باوجود ہمیں پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ اس کی بڑی وجہ بھارت کی ہٹ دھرمی ہے جو ہمارے دریائوں کا پانی چوری کر رہا ہے۔ اس نے اپنے ملک بھارت سے گزر کر پاکستان آنیوالے ان دریائوں پر سینکڑوں ڈیمز بنا رکھے ہیں۔ اسے ’’سندھ طاس معاہدہ‘‘ کی بھی کوئی پرواہ نہیں۔ وہ معاہدہ سے 10 ملین ایکڑ فٹ کم پانی پاکستان کو دے رہا ہے۔ اس طرح ہمارے سابق حکمرانوں کی نااہلی کے باعث ملک میں نئے ڈیمز نہیں بنائے گئے جس سے مون سون کی بارشوں کا پانی ذخیرہ کیا جا سکے۔ بارش تو اللہ کی رحمت ہوتی ہے مگر ہمارے ہاں اس رحمت کو زحمت بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان میں سالانہ اوسطاً 240 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ ہر مون سون کے بعد سیلاب آنا معمول ہے جس کی زد میں آ کر ہر بار سینکڑوں لوگ مر جاتے ہیں۔ انکے مال مویشی سیلابی پانی میں بہہ جاتے ہیں اور ہزاروں دیہات صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔ اگر ملک میں بڑے ڈیمز بنے ہوتے تو ان سے سیلابی پانی کو ذخیرہ کیا جا سکتا ۔ ملک اور قوم کیلئے یہ آب… تباہی وبربادی کی بجائے آب حیات بن سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہمارے دریائوں میں وافر پانی کا انحصار قرا قرم اور کوہ ہندوکش کے گلیشیرز پر ہے۔ ماہرین کے مطابق بدلتے موسموں کے آثار کے تحت آنیوالے وقتوں میں ان گلیشیئرز میں زیادہ پگھلائو نہیں ہو گا جس سے پاکستان میں پانی کی کمی میں مزید اضافہ ہو جائیگا۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں زرعی مقاصد، توانائی اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے قومی سطح پر ایک فعال اور مربوط پالیسی تشکیل دی جائے کیونکہ اگر پاکستان کو بھارت سے اپنے حصے کا پورا پانی نہ ملا تو اس کی سرسبز شاداب زمینیں ہی بنجر نہیں ہونگی بلکہ یہاں کے عوام کیلئے پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی ناممکن رہے گی۔ اس ضمن میں لوگوں میں شعور پیدا کرنا بھی انتہائی ضروری ہے کہ جس طرح گزشتہ ادوار میں نئے ڈیمز نہ بنانے اور توانائی کی طرف توجہ نہ دینے کی وجہ سے ملک میں توانائی کا بحران مشکلات ومصائب میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے۔ اس طرح پانی کے بارے میں قومی پالیسی نہ ہونے سے قوم غذائی بحران میں مبتلا ہو سکتی ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ہم بھارت سے اپنے حصے کا پانی لینے کیلئے مؤثر طریقے سے مذاکرات کریں۔ اسکے ساتھ پانی کے ضیاع کو روکنے کیلئے بھی ضروری اقدامات کیے جائیں۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پانی اور توانائی ایک دوسرے کیلئے لازم وملزوم ہیں۔ دونوں کی زندگی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ پانی توانائی پیدا کرتا ہے اور توانائی پانی کو محفوظ اور اس کی مسلسل فراہمی کا ذریعہ ہے۔ دنیا بھر میں پیدا کی جانے والی کل بجلی میں 16 فیصد بجلی پانی سے ہی بنتی ہے۔ اس وقت دنیا کی آبادی جس رفتار سے بڑھ رہی ہے اسے اس مقدار میں خوراک میسر نہیں۔ خوراک کی کمی کو پورا کرنے کیلئے اس سے دگنی مقدار میں پانی اور توانائی کی ضرورت ہے۔
مستقبل میں اضافی پانی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے اضافی توانائی … اور اضافی توانائی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے اضافی پانی درکار ہو گا… گلوبل واٹر پارٹنرشپ کے مطابق دنیا میں آمدنی میں اضافے کے باعث ہونے والی معاشرتی بہتری کے نتیجے میں پانی اور توانائی کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں کم آمدنی والے عام افراد پانی کا استعمال … پانی پینے، کھانے پکانے، نہانے، کپڑے دھونے اور دیگر روزمرہ کی ضرویات کیلئے کرتے ہیں جبکہ ایلیٹ کلاس کو ان ضروریات کے علاوہ اپنے سوئمنگ پول بھرنے، محلوں کے پارکوں اور باغوں کو سیراب کرنے وہاں کے فوارے چلانے کیلئے بھی کئی گنا اضافی پانی اور توانائی درکار ہوتی ہے۔ اس طرح پاکستان میں دستیاب پانی میں سے 90 فیصد زراعت کیلئے اور باقی صنعتی شعبے اور گھریلو استعمال کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ انتہائی افسوسناک حقیقت ہے کہ پاکستان کا صوبہ سندھ کا 70 فیصد رقبہ پانی جیسی اہم ضرورت سے محروم ہے۔ وہاں فصلوں کا دارومدار صرف اور صرف بارشوں کا مرہون منت ہے۔ اس وقت بھی وہاں تھر کا علاقہ شدید قحط کی زد میں ہے۔ وہاں بھوک اور پیاس کے باعث 300 سے زائد انسانوں اور ہزاروں مویشیوں کی اموات ہو چکی ہیں۔ ہزاروں لوگ بیمار ہیں اور ہزاروں وہاں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ تھر کا المیہ‘ کمزور اور ناقص حکمرانی کی المناک داستان ہے۔ وہاں مسئلہ خوراک کی کمی کا نہیں بلکہ معاملہ حکمرانوں کی بے حسی کا ہے۔ وہاں کے گوداموں میں وافر مقدار میں گندم موجود تھی جو بھوک سے بلکتے اور سسکتے بے حال لوگوں کو نہیں دی گئی جس کے ذمہ دار وزیر اعلیٰ سندھ، انکے درباری اور انکے حواری ہیں۔ (باقی آئندہ)