خلیجی ممالک کا اضطراب اور پاکستان

کالم نگار  |  ڈاکٹر علی اکبر الازہری
خلیجی ممالک کا اضطراب اور پاکستان

معاشروں کی تبدیلی میں بنیادی کردار تو ذہنی انقلاب ہی ادا کرتا ہے مگر اس فکری انقلاب پر بعض اوقات سرمایہ اور دولت بھی اثر انداز ہوجاتی ہے لیکن یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ ذہنی اور فکری انقلاب اپنا راستہ ضرور بنالیتا ہے۔ جبر اور سرمایہ ایک وقت تک تو رکاوٹ بن سکتا ہے مگر انسانی فطرت کا مقابلہ دیرپا نہیں ہوسکتا۔ مشرقِ وسطیٰ میں بھی عرب ریاستیں گذشتہ چند برسوں سے اسی ذہنی انقلاب سے گزر رہی ہیں۔ تیونس سے رختِ سفر باندھنے والا عوامی انقلاب اب تک مصر، لیبیا، بحرین، یمن اور شام جیسے ممالک میں نہ صرف دستک دے چکا ہے بلکہ وہاں اچھا خاصا اضطراب بھی پیدا کرچکا ہے۔ عرب امارات، کویت اور سعودی عرب جیسے خوشحال ممالک جو سو فیصد بادشاہی نظام کے تحت چل رہے ہیں اس اضطراب کی لہریں اب ان کی سرحدوں پر بھی دستک دیتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس انقلاب اور اضطراب کو روکنے کے لئے وہی پرانا انسانی حربہ اپنایا جارہا ہے اور وہ ہے سرمایہ و دولت۔ یہ بات اب راز نہیں رہی کہ بادشاہت کا دفاع کرنے میں سعودی سرمایہ کس قدر فیاضی کے ساتھ تقسیم ہورہا ہے۔ صدیوں بعد مصر میں جمہوریت کی کونپلوں پر برگ و بار لگے تھے اور پھر اسلام پسند منتخب جمہوری صدر مرسی اپنے ہی جنرل کے ہاتھوں یرغمال ہوکر پابند سلاسل ہوگئے۔ مصری فوج کی اس جرأت کے پیچھے اسلام دشمن قوتوں کا ہاتھ یقینا ہوگا مگر ظاہری ہاتھ سعودی حکمرانوں کا ہی نظر آیا جب انہوں نے ایک خطیر رقم دے کر فوجی آمریت کی حوصلہ افزائی کی۔ اسی طرح چند سال قبل جب اسرائیل کے ساتھ نبرد آزما جہادی تنظیم حماس نے باقاعدہ سیاسی حکمتِ عملی وضع کی اور لوگوں کے ووٹوں سے جیت کر اس کے منتخب نمائندوں نے ریاستی ڈھانچہ قائم کرنے کی کامیاب کوشش کی تو حیران کن امر یہ تھا کہ توقعات کے برعکس سب سے پہلے ان کی مالی مدد سے ہاتھ روکنے والی یہی شاہی مسلمان حکومتیں تھیں۔ الغرض جہاں جہاں بھی عوامی انقلاب کی لہروں نے تختِ شاہی کو جھنجھوڑا وہاں وہاں شاہی سرمایہ حرکت میں آیا۔ بدقسمتی تو یہ ہے کہ اس سرمائے سے نہ تو کوئی ترقیاتی کام ہوئے اور نہ لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی کی کوشش کی گئی بلکہ یہ سرمایہ خونیں ہتھیاریوں کی شکل میں تباہی اور بربادی کا موجب بن رہا ہے جس کی بدترین مثال شام کے کوچہ و بازار ہیں۔ شام مشرق وسطیٰ کا ایک اہم ملک ہے جس کی تاریخی اور علمی حیثیت بڑی واضح ہے۔ آج وہاں دو مسلمان ممالک کے حمایت یافتہ لوگوں کی قتل گاہیں ہلاکو خان کے مظالم کو بھی پیچھے چھوڑ چکی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اس خانہ جنگی میں مسلکی فرقہ واریت کے ساتھ ساتھ شاہی مفادات کے تحفظ کی کاوشیں بھی کی جارہی ہیں۔ شام میں لڑنے والے باغی گروہوں نے دنیا کے سامنے بہت سے حقائق سے پردہ اٹھادیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک ان باغیوں کو امریکہ اور اسرائیل اسلحہ سپلائی کرتے رہے اور جب ان جارح سازشی قوتوں پر واضح ہوا کہ ان باغیوں میں القاعدہ بھی موجود ہے تو انہوں نے آہستہ آہستہ اپنے ہاتھ کھینچ لئے ہیں۔ اس لڑائی نے امریکہ کو خلیجی عرب ریاستوں کے ساتھ اپنے تعلقات پر ازسرِ نو نظر ڈالنے کی ضرورت کو واضح کیا۔ چنانچہ یہ تاثر تیزی سے حقیقت کی طرف بڑھ رہا ہے کہ امریکہ اب ایران سے مخاصمت کی بجائے دوستی کا تعلق رکھنا چاہتا ہے۔ اس نے اب اسرائیل کو بھی کئی سفارتی وفود کے ذریعے ایران کے ساتھ اپنی تلخیاں کم کرنے کی ہدایات دینا شروع کردی ہیں۔ اس تبدیلی کا فوری ردِعمل یہ ہورہا ہے کہ اب سعودی عرب کی سفارت کاری متحرک ہوچکی ہے۔ اس نے بھی امریکہ سے حتی المقدور احتجاج شروع کردیا ہے۔ تاہم خلیجی ریاستوں میں بڑھنے والا فکری انقلاب اب سعودی عرب کے مضبوط شاہی حصار میں بھی داخل ہوچکا ہے۔ انہوں نے چند روز قبل اخوان المسلمون پر اسی لئے پابندی لگادی ہے کہ مصر کی طرح کہیں سعودی عرب میں عوامی نمائندوں کوجمہوریت کا جنون نہ چڑھ بیٹھے۔ یہ صورت حال بڑی عجیب ہے کہ ایک طرف دوسرے ممالک میں اپنے مسلکی ہمدردی کو کھلا سرمایہ دیا جارہا ہے اور دوسری طرف وہی لوگ جب ریاست کے نظام میں جمہوری تبدیلی کی بات کرتے ہیں تو انہیں عبرت ناک سزائیں دی جاتی ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے خلیجی ممالک اور خصوصاً ایران اور سعودی عرب کی تبدیل ہوتی صورت حال میں پاکستان کو کس کا ساتھ دینا چاہئے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایران اور سعودی عرب ایک مرتبہ پھر ’’عرب و عجم‘‘ کی دیرینہ جنگ کے فریق بن چکے ہیں جس نے قبل ازیں عثمانی سلطنت کوختم کردیا۔ پاکستان کو اپنی حیثیت بہر صورت غیر جانبدار رکھنی پڑے گی۔ ایران ہمارا ہمسایہ ملک بھی ہے اور اسلامی رشتہ اس کے علاوہ ہے۔ ایرانی معاشرہ ایک فطری اور جذباتی انقلاب سے گزر کر اب مضبوط جمہوری بنیادوں پر کھڑا ہوچکا ہے جہاں مذہب بھی اس کی فعال قوت کے طور پر موجود ہے۔ عرب ممالک کو ایران اور ترکی کی مخالفت کی بجائے یہاں کی جمہوری روایات کو سراہنا چاہئے۔ آج کا دور میڈیا اورانٹرنیٹ کا دور ہے اور اس میں کوئی تبدیلی کسی جزیرے میں بند نہیں رہ سکتی۔ اسی طرح جمہوریت ایک فطری انسانی ضرورت ہے اور ہمارے دین اسلام نے بھی کسی سطح پر جمہوریت کی مخالفت نہیں کی بلکہ انسانی رائے اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے شورائی طرزِ حکومت کی تاکید کی ہے۔ جن ریاستوں میں آمریت نے اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں وہاں مذہبی گروہ بھی شدت پسندی کی طرف بڑھ رہے ہیں، ان کے مذہبی تصورات سے بھی اختلاف کرنے والے اسی طرح تہہ تیغ ہورہے ہیں جس طرح وہاں حکومت کی مخالفت کرنے والے اپنی موت آپ مرجاتے ہیں۔ پاکستان خود اس مسلکی جنگ کا میدان بنا ہوا ہے جس کی مالی اور اخلاقی امداد ان دونوں ممالک سے آتی ہے۔ لہذا حکومت پاکستان کو ایسی کسی مالی امداد سے معذرت کرلینی چاہئے جس سے ملک میں فتنہ و فساد بڑھنے کا خدشہ ہو۔ بلکہ براہ راست مذہبی گروہوں کی بیرونی فنڈنگ پر بھی پابندی ہونی چاہئے۔ اب تک کے حالات اسی مذہبی کشاکش کا نتیجہ ہیں۔ اس لئے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کی پالیسی ہی بہتر حکمت عملی ہے۔ کسی ملک کے کہنے پر یا اس کی ضرورت پر اپنی فوجیں اور اسلحہ ہرگز نہیں بھیجنا چاہئے جو وہاں کسی دوسرے مسلمان ملک کے خلاف استعمال ہوسکیں۔