جیالے اور متوالے

کالم نگار  |  قیوم نظامی
جیالے اور متوالے

دنیا کی تاریخ میں حکمرانوں اور بادشاہوں کے بارے میں کتابیں لکھی گئیں مگر عوام اور سیاسی کارکنوں کے بارے میں کتابیں نہیں لکھی گئیں حالانکہ تاریخ کے خالق عوام ہوتے ہیں اور سیاسی کارکنوں کے بغیر کسی سیاسی جماعت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ مسلم لیگ اور پی پی پی دو بڑی قومی سیاسی جماعتیں ہیں۔ مسلم لیگ کے کارکنوں کو متوالے کہا جاتا ہے جس کے لغوی معانی مست اور نشے میں چور کے ہیں۔ قائداعظم کی کرشماتی قیادت میں مسلم لیگ کے متوالوں نے قیام پاکستان کے لیے تاریخ ساز قربانیاں دیں۔ یہ متوالے ہی آزادی کی تحریک کا ہراول دستہ بنے۔ ان کے پرجوش اور سرگرم کردار اور بے مثال قربانیوں کی بناء پر ہی برصغیر کے مسلمانوں کو ایک آزاد وطن نصیب ہوا۔ میں چونکہ خود ایک جیالا رہا ہوں اس لیے سیاسی کارکنوں کے جذبے بلکہ جنوں کا اندازہ کرسکتا ہوں۔ قائداعظم مسلم لیگی متوالوں کی بڑی قدر کرتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد تحریک پاکستان کے کارکنوں کو وہ پذیرائی نہ ملی جس کے وہ مستحق تھے البتہ جب میاں نواز شریف پہلی بار پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے تو انہوں نے نظریہ پاکستان کے نشے سے سرشار اقبال و قائدؒ کی مسلم لیگ کے متوالے ڈاکٹر مجید نظامی کے ایماء پر تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ قائم کیا۔ اس کے لیے فنڈز مختص کیے۔ نظامی صاحب اس ٹرسٹ کے بانی ہیں۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے فعال اور سرگرم ڈائریکٹر برادرم شاہد رشید نے بتایا کہ پاکستان ورکرز ٹرسٹ اب تک تحریک پاکستان کے ایک ہزار سے زیادہ کارکنوں کو گولڈ میڈل دے چکا ہے۔ مستحق کارکنوں کو مالی امداد بھی دی جاتی ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے پنجاب کے ہسپتالوں کو تحریک پاکستان کے کارکنوں کے مفت علاج کی ہدایت جاری کررکھی ہے۔ بلاشک یہ کارکن پاکستانی قوم کے محسن ہیں اور ہرخدمت کے مستحق ہیں۔
مسلم لیگ کے موجودہ متوالے کس حال میں ہیں ان کے بارے میں معلومات کم ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے متوالوں کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی ادارہ تشکیل نہیں دیا۔ سیاسی رہنما تو ارب پتی بن جاتے ہیں مگر کارکنوں کا مقدر نہیں بدلتا۔
ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن
مسلم لیگ (ن) کی قیادت دس سال تک جلاوطن رہی اس دوران مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے ہر قسم کی صعوبتیں برداشت کرکے پارٹی کو زندہ رکھا۔ جب میاں صاحب نے ججوں کی بحالی کے لیے لانگ مارچ کی کال دی تو متوالوں نے جی ٹی روڈ کو بھردیا۔ کیا یہ متوالے قیادت کے حسن سلوک کے مستحق نہیں ہیں افسوس پاکستانی سیاست میں سیاسی کارکنوں کو مزارع ہی سمجھا جاتا ہے۔ پی پی پی کے کارکنوں کو جیالے کہا جاتا ہے جس کے لغوی معانی بہادر اور ہمت والا ہیں۔ جیالوں نے قربانیوں کی بے مثال تاریخ رقم کی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں جیالوں نے اپنے ننگے جسموں پر کوڑے کھائے، قید و بند کی صعوبتیں اور شاہی قلعے کے تشدد برداشت کیے۔ ہزاروں جلاوطن ہوئے۔ جیالے مجموعی طور پر لاوارث ہی رہے البتہ ہوشیار اور مستعد جیالے مستفید بھی ہوئے۔ ہزاروں کارکن تاریک راہوں پر مارے گئے اور درجنوں دار کی خشک ٹہنی پر وارے گئے۔ پی پی پی کے بانی لیڈر بھٹو شہید جیالوں کو اہمیت دیتے تھے۔ وزیراعظم کی حیثیت میں ہر ڈویژن میں ورکرز کنوینشن کرتے ہر ضلع میں کھلی کچہریاں لگاتے، کارکنوں کے خطوط کا جواب دیتے اور ان کی داد رسی کرتے۔ راقم نے 1972ء میں پی پی پی کے پرائمری یونٹ نیو سمن آباد کے صدر کی حیثیت میں بھٹو شہید کو ملاقات کے لیے ایوان صدر ٹیلی گرام روانہ کیا انہوں نے دو ہفتے کے اندر گورنر ہائوس لاہور میں ملاقات کا وقت دے دیا۔ بھٹو شہید پارٹی کے عہدیدار نامزد کرنے اراکین اسمبلی کو پارٹی ٹکٹ جاری کرنے سے پہلے مقامی جیالوں سے بامعنی مشاورت کرتے تھے۔ بھٹو اور جیالوں کے درمیان رشتہ عاشق اور معشوق کا تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی اپنے بابا کی شاندار سیاسی روایات کا خیال رکھا۔ ان کو ہر شہر کے سرگرم جیالوں کے نام زبانی یاد ہوتے تھے۔ جیالوں کی ان تک رسائی ممکن تھی۔ آصف علی زرداری نے جیالوں کو سیاسی طور پر یتیم کردیا۔ سندھ کے جیالے تو ان کی محبت کے مستحق ٹھہرے البتہ پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کے جیالے ان کی شفقت سے محروم ہی رہے۔ مسلم لیگ کے ایک بزرگ متوالے بیرسٹر ظہور بٹ نے ’’پاکستان کی کہانی میری زبانی‘‘ کے نام سے ایک دلچسپ کتاب تحریر کی ہے۔ بٹ صاحب نے پاکستان کو بنتے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ پاکستان کی کہانی کے سلسلے میں ان کی گواہی معتبر اور مستند ہے۔ برادرآصف بھلی نے اس کتاب کا جامع جائزہ پیش کیا ہے۔ بٹ صاحب نے اپنی کتاب میں سیاسی کارکنوں کے بارے میں ایک دلچسپ تاریخی واقعہ بیان کیا ہے جو سیاسی رہنمائوں، جیالوں اور متوالوں کی توجہ کے لیے پیش کرتا ہوں۔
’’لاہور میں حسین شہید سہروردی صاحب کے دست راست ملک حامد سرفراز بھی وہاں پہنچ گئے اور ان کارکنوں کو ساتھ لے کر گورنر ہائوس کے اندر چلے گئے وہاں انتظار کرنے والے کمرے میں اس وقت کے مغربی پاکستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر خان صاحب اور کچھ اعلیٰ سرکاری افسران بھی بیٹھے تھے۔ ملک حامد سرفراز نے ایک چٹ اندر بھجوا دی کہ گوجرہ کے کارکن بھی سہروردی صاحب سے ملنے کے لیے انتظار کررہے ہیں ان کارکنوں کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب چند ہی منٹ بعد سہروردی صاحب کے پرائیویٹ سیکریٹری آفتاب احمد کمرے میں آئے اور کہا کہ جناب وزیراعظم ملاقاتوں کے لیے تیار ہیں اور سب سے پہلے انہوں نے اپنے کارکنوں کو ملنے کیلئے بلایا ہے چنانچہ یہ کارکن اندر گئے سہروردی صاحب بڑے پرتباک انداز میں انہیں ملے۔ میں نے (مصنف) سہروردی صاحب سے پوچھا بابا! آپ پہلے ڈاکٹر خان صاحب سے کیوں نہیں ملے؟ انہوں نے کہا کہ بیٹا! ایک بات یاد رکھو کہ سیاست کے میدان میں کارکن کسی بھی جماعت کی ریڑھ کی ہڈی ہوا کرتے ہیں جیلوں میں جاتے ہیں طرح طرح کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں۔ پولیس کی لاٹھیاں کھاتے ہیں اکثر گولیوں کا نشانہ بھی بنتے ہیں۔ سیاسی جماعت کی اصل قوت بھی یہی کارکن ہوتے ہیں اور یہ مخلص کارکن اتنی تکلیفیں برداشت کرنے کے باوجود اپنے لیڈروں سے کسی بھی لالچ کی توقع نہیں رکھتے محض اپنے لیڈروں سے دلجوئی اور دلنوازی کے خواہشمند ہوتے ہیں اس لیے جب میں وزیراعظم کی حیثیت سے لاہور آیا تو میرا فرض تھا کہ اپنے کارکنوں کو سب پر فوقیت دیتا جو محض مجھے ملنے کی خاطر آدھی رات کو اپنے گائوں سے چل کر لاہور پہنچے تھے۔ کوئی بھی جماعت جب اقتدار حاصل کرنے کے قریب پہنچ جاتی ہے یا اقتدار حاصل کرلیتی ہے تو بے شمار لوگ اس میں شامل ہونے لگتے ہیں مگر یہ لوگ دراصل فصلی بٹیرے ہوتے ہیں جونہی یہ جماعت زیر عتاب آتی ہے تو اُڑ کر کسی اور جماعت کی چھتری کے نیچے بسیرا کرلیتے ہیں مگر یہ مخلص کارکن ہی ہوتے ہیں جو اچھے برے وقت میں اپنی جماعت اور اپنے لیڈر کا ساتھ دیتے ہیں اور ہر طرح کی آفت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں‘‘۔
میرا جیالوں اور متوالوں سے سوال ہے کہ کیا ان کا مقدر یہی ہے کہ وہ سٹیج سجائیں، کرسیاں لگائیں، دریاں بچھائیں، نعرے لگائیں اور گلی محلوں میں اپنے لیڈروں کا مقدمہ لڑیں۔ کیا عزت نفس اور جمہوری عمل میں شراکت ان کا حق نہیں ہے۔ کیا پارٹی عہدیداروں کا انتخاب اور پارٹی ٹکٹوں کا فیصلہ ان کی مرضی اور منشاء کے مطابق نہیں ہونا چاہئیے۔ کیا مقامی حکومتوں کا انتخاب ان کا جمہوری اور آئینی حق نہیں ہے۔ جیالوں اور متوالوں کی وفاداری بشرط استواری دیکھیے کہ دھوکے اور فریب کھانے کے باوجود اپنے لیڈروں سے ایسے جڑے رہتے ہیں جیسے مرید اپنے پیر سے زندگی بھر جڑا رہتا ہے۔ سیاسی کارکنو! خدا کے لیے جاگو اپنے جمہوری اور سیاسی حقوق کے لیے سیاسی کارکنوں کی ایک کنفیڈریشن بنائو تاکہ سیاست کا رنگ ڈھنگ تبدیل ہو اور پاکستان میں جمہوریت کا ماڈل معیاری اور مثالی بن سکے۔