کراچی: زخم پھر تازہ ہوگئے!

کالم نگار  |  محمد اکرم چوہدری
کراچی: زخم پھر تازہ ہوگئے!

اکثر و بیشتر ٹی وی چینلز میں امجد صابری مرحوم سے ملاقات ہو جایا کرتی تھی، ملاقات میں وہ نہایت صابر، دھیمے مزاج تھے اور بات بات میں عشقِ مصطفیٰؐ انکے انداز بیان سے جھلک جاتا تھا۔ میں انکی عزت اور احترام اس لیے بھی کرتا تھا کہ وہ اُس غلام فرید صابری کے بیٹے تھے جس نے ہندوئوں کے ہرے کرشنا تحریک کے مقابلے میں ایسی قوالیوں کے ذریعے برصغیر کے عوام کے دل موہ لیے تھے کہ جو آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔ آگے چلنے سے پہلے میں اس خاندان کو تھوڑا سا پس منظر پیش کرنا چاہوں گا۔ غلام فرید صابری 1930ء میں مشرقی پنجاب میں روہتک کے گائوں کلیان میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان صدیوں سے انسانوں کو اپنے فن موسیقی سے لطف اندوز کرتا آیا ہے۔ صابری خاندان کا دعویٰ ہے کہ مغل دربار کے مشہورِ عالم موسیقار تان سین اُنکے جد امجد تھے۔ صوفیانہ سلسلہ صابریہ سے تعلق رکھنے والا یہ عاشقِ رسول ؐ خاندان صوفی کلام کو اپنے منفرد انداز میں پیش کرنے میں یکتا ہے۔ 1947ء میں قیامِ پاکستان کے بعد صابری خاندان اپنا سب کچھ لٹا کر بے سروسامان نئی مملکت کا شہری بن گیا۔ مشکل حالات میں دوبارہ زندگی کا آغاز کوئی آسان کام نہیں۔ غلام فرید صابری مرحوم ہجرت کے شروع کے ایام میں ایک سرکاری عمارت کی تعمیر میں اینٹیں ڈھو کر اپنی ہجرت زدہ فیملی کا سہارا بنا۔
محنت کش غلام فرید صابری اپنے والد کی خواہش کے مطابق، مہاجر کیمپ میں ہر رات گھنٹوں ذکر کرتا اور صوفی روایت کے مطابق خدا کی محبت کو اپنے وجود میں بسانے کی کوشش کرتا۔ اس نے بندوق نہیں اٹھائی بلکہ صوفیائے کرام کا کلام اکٹھا کیااور کلام کے ذریعے پیغامِ محبت عام کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپنا قوال گروپ بنایا اور پھر پاکستان بھر میں 1958ء میں اسکی آواز نے سب کو اپنے سحر میں جکڑ لیا جب غلام فرید صابری کی یہ قوالی منظر عام پر آئی کہ ’’میرا کوئی نہیں ہے تیرےؐ سوا‘‘۔ جیسا کہ میں پہلے ذکر کرچکا ہوں کہ یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا میں ہرے کرشنا تحریک اور مغرب میں ’’ہپی‘‘ لوگ ابھر کر سامنے آ رہے تھے۔ ایسے میں پاکستان کی قوالی نے یورپ کے ہپیوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جو مکینکل طرزِزندگی کے باغی تھے۔ غلام فرید صابری نے قوالی کو ایک نئی روح دی اور اس طرح مزید قوال اور صوفی گلوکار ابھرے۔ اسی دور میں شہباز قلندر کے عشق میں گندھا پنجابی کلام ’’لعل میری پت رکھیو بھلا، جھولے لعلن دا سیہون دا سخی سرکار قلندر‘‘آیا تو اس نے مغرب میں ابھرنے والی ہرے کرشنا ہرے رام تحریک کا سامنا کیا۔ اسلام کا پیغامِ محبت صوفیائے کرام کی شاعری کے ذریعے برصغیر تک محدود نہ رہا۔ یورپ میں جہاں ہپی اور پھر ہپی سے ہرے کرشنا اثرورسوخ ابھرا، وہاں اب لعل میری پت رکھیو اور غلام فرید صابری کی آواز کے ذریعے پیغامِ اسلام عام ہونے لگا۔ بعد میں اسی روایت کے سبب نصرت فتح علی خان کی دنیا بھر میں پذیرائی ہوئی۔ فرانس، جاپان، امریکہ، مشرقِ وسطیٰ، بلجیئم، سویڈن، جہاں بھی قوالی پہنچی، لوگ جھوم اٹھے، کلام کے اندر موجزن انسانی پیغام کے ذریعے۔
غلام فرید صابری نے اردو، ہندی، عربی اور فارسی میں امام احمد رضا خان کا نبی پاک ؐ کی شان میں لکھا کلام بھی قوالی کی صورت میں پیش کیا۔ مختصر یہ کہ سارا صابری خاندان دہائیوں سے شانِ رسول ؐ بیان کرنے میں اپنی خوبصورت آواز کیساتھ جس طرح پیش پیش ہے، اسکے اثرات پورے برصغیر پر ثبت ہوچکے ہیں۔ تاج دارِ حرم، ہو نگاہِ کرم۔ بھر دو جھولی میری، یا محمدؐ۔ کچھ نواسوں کا صدقہ عطا ہو ۔ میرا کوئی نہیں ہے تیرےؐ سوا۔ اندھیرے سے دل میں چراغِ محبت، یہ کس نے جلایا سویرے سویرے۔ یا محمدؐ نورِ مجسم۔ یہ سب تمہارا کرم ہے آقاؐ۔ من کنت مولیٰ فھٰذا علی مولا۔نمی دانم چہ منزل بود۔ سر لامکاں سے طلب ہوئی۔ ہم یہ کلام سن کر جوان ہوئے۔
لیکن کچھ لوگوں نے اپنے مفادات کی خاطر انہیں نشانہ بنایا اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوگئے… مرحوم اپنے لاکھوں چاہنے والوں کو چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہو گیا ہے مگر اب کیا ہوگا، وزیراعظم نے نوٹس لے لیا، وزیراعلیٰ قاتلوں کا تعاقب کرینگے، کسی نے کہا انسانیت کا قتل ہے اور کسی نے کہا فرشتہ رخصت ہو گیا۔ یہ سب کہنے کی باتیں ہیں مگر اصل سوال اپنی جگہ پر موجود ہے کہ آخر امجد صابری کو قتل کیوں کیا گیا؟ اب یہ سوال بڑی شدت کیساتھ سامنے آیا ہے کہ آخر کیوں ٹارگٹ کلروں نے پھر سر نکالا ہے اور رینجرز کیلئے اب ایک اور نیا چیلنج سامنے کھڑا ہو گیا۔ یہ ہمارے انٹیلی جنس اداروں، سندھ حکومت، مرکز اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اور یہ بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے کہ اسی ہفتے کے آغاز میں ہی سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بیٹے کو دن دیہاڑے اغوا کر لیا گیا۔ ماضی قریب میں کراچی سے یہ پہلا ہائی پروفائل اغوا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ کراچی میں امن کہنا جرم سا لگتا ہے کیونکہ سندھ کا دارالحکومت جو ملکی معیشت ، تجارت و صنعت کا حب سمجھا جاتا ہے لیکن عام لوگوں کیلئے کراچی اور جرم ہم نام سمجھے جاتے ہیں۔ بارہا کوششوں کے باوجودکراچی میں ہر طرح کے جرائم ہوتے رہے ہیں۔ دہشت گردی، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگز، لوٹ مار، بھتہ خوری، سٹریٹ کرائم وغیرہ۔ اس شہر میں بڑے بڑے صنعتکار بھی اغوا ہوتے رہے ہیں۔ سیاسی مخالفین کے قتل، سابق گورنر سندھ حکیم سید کا قتل اور ایسے کئی واقعات کراچی کی جرائم کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ ایک پورا دور رہا ہے جس میں یہ سب کرائم عروج پر رہے۔ سیاست اور جرائم کا میلاپ بھی سامنے آ یا۔ حالیہ آپریشن کے دوران پولیس خواہ رینجرز دونوں نے بعض کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ جرائم میں بڑی حد تک کمی واقع ہوئی۔ لیکن گاہے بگاہے ایسے واقعات ہوتے رہے جن کو دیکھ کر کراچی میں امن کہنا جرم سا لگتا تھا۔ یہ شہر مختلف طریقوں اور حوالوں سے جرائم پیشہ افراد کے گھیرے میں رہا ہے۔ یہاں پر نہ صرف لسانی بنیادوں پر خونریزی ہوتی رہی بلکہ کالعدم تنظیموں کے دہشت گرد اس شہر کے امن کے ساتھ کھیلتے رہے ہیں۔ اسی شہر میں ان دہشت گرد تنظیموں کے خطرناک افراد پناہ لیتے رہے ہیں۔ اور یہ شہر سلیپنگ سیل کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ یہ بھی الزامات سامنے آتے رہے کہ ایک پڑوسی ملک اس شہر کے امن کو برباد کرنا چاہتا ہے۔ اس تمام صورتحال میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے بیٹے کا اغوا ہوگیا جو کہ یقینا ان سکیورٹی اداروں کیلئے ایک چیلنج ہے کہ جو کراچی میں امن کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ معاملہ اس لئے بھی زیادہ سنگین ہے کہ ایک اچھی شہرت رکھنے والے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بیٹے اویس شاہ کو اغوا کر لیا گیا ہے جو کہ خود بھی ایک نامور وکیل ہیں۔
ایک بار پھر یہ دہشت گرد سرگرم ہو گئے ہیں۔ جو کہ سندھ حکومت کیلئے سیاسی حوالے سے پریشانی کی بات بن سکتی ہے۔سوال ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوا کہ چار مسلح افراد آئے اور ایک مصروف شاپنگ سینٹر سے دن دہاڑے چیف جسٹس کے بیٹے کو اغوا کر لیا گیا۔ اویس شاہ کا اغوا سکیورٹی اداروں کی ناکامی ہی سہی لیکن اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان کا اغوا بھرے بازار میں ہوا جہاں لوگوں کا رش رہتا ہے۔اور واقعہ کے چشم دید گواہ بھی ہیں۔ اور کچھ فوٹیج دستیاب ہے۔ مغوی نے اس واقعہ کے دوران مزاحمت بھی کی اورمدد بھی طلب کی لیکن کوئی بھی انہیں بچانے کیلئے آگے نہیں بڑھا یہاں تک کہ وہاں موجود پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز بھی انکی مدد کو نہیں آئے۔ اس سے ایک مطلب یہ لیا جاسکتا ہے کہ ہماری سوسائٹی اتنی عادی ہوگئی ہے یا سہمی ہوئی ہے کہ اس میں مزاحمت یا دوسرے کی مدد کرنے کی سکت باقی نہیں رہی۔ یہ بھی عجیب معاملہ ہے کہ اغوا کے کئی گھنٹے بعد مغوی کے گھر والوں کو پتا چلتا ہے۔ جائے واردات پر موجود کسی بھی شخص کو اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ پولیس کو اطلاع کر دیتا۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کی گرفتاریاں پولیس اور ہمارے قانون نافذ کرنیوالے ادارے کرتے رہتے ہیں۔جائے وقوعہ پر موجودلوگوں نے شاید یہی سمجھا ہو کہ یہ بھی اسی طرح کی گرفتاری ہے۔ جس میں مداخلت نہیں کی جاسکتی۔
سیکیورٹی اداروں کو امجد صابری کے قتل اور اویس شاہ کے اغواء کے حوالے سے اس پہلو کا بھی جائزہ لینا ہو گا کہ گزشتہ ایک ماہ سے ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں اضافہ ہو ا ہے۔ کیا اسکی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ایم کیو ایم اورپاک سرزمین پارٹی کے درمیان تنازعات ہوں یا علاقائی قبضے کی جنگ کی صورت میں اپنی دہشت قائم رکھنا چاہتے ہوں۔ کیونکہ جیسے اس طرح کے واقعات میں ہوتا ہے وزیراعظم، وزیراعلیٰ سندھ اور دیگر اداروں کے سربراہان نے اس کا نوٹس لیا ہے۔ مختلف تحقیقاتی کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں لیکن اس منظم دہشت گردی کا خاتمہ کب اور کیسے ہوگا؟ ایسی صورتحال بنے کہ اس طرح کے واقعات نہ ہوں شہری خود کو محفوظ سمجھیں۔ کراچی کے موجودہ حالات ایک بار پھر انتشار کی طرف اشارہ کررہے ہیں‘ اس صورتحال میں سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ملکی مفاد میں مل جل کر کام کریں‘ اکیلی رینجر کچھ نہیں کر سکتی جب تک وہاں کے عوام‘ سیاسی قائدین اور دیگر سکیورٹی ادارے ساتھ نہ دیں۔