وصال ِ مرشد

کالم نگار  |  نعیم قاسم
وصال ِ مرشد

میری زندگی کی روحانی مائیت کیا ہے؟ محض وصل آرزو سے وصال مرشد کے قالب روح کی اسیر، ایسا اثر آفرین کیونکر؟ کیا رہائی ہے، کیا اسیری ہے؟ اپنا بناکر چھوڑ دیا۔ میں تو مرشد من نسیم انور بیگ کے ہجر اور جدائی کی صلیب کندھوں پر اٹھائے پھررہا ہوں مگر انکی کہکشاں کے اکثر ستارے مجید نظامی، جنرل حمید گل، جسٹس اعجاز احمد، آغا افضال اور اکبر عالم جان کی پاکیزہ ارواح مقام اثیر میں مرشد کی محفل مجتمع ہوگئیں۔ جون کمبخت تو میری ذات کیلئے سوہانِ روح بن چکا ہے، ابھی ابھی برادرم بیگ راج کا پیغام آیا: 24 جون ہمارے محبوب مرشد انکل نسیم انور بیگ کی چوتھی برسی پر سبھی سے التماس ہے کہ ان کیلئے درود شریف اور سورۃ فاتحہ پڑھ کر انکی مغفرت کی دعا کریں۔ جون کے مہینے میں ہی میرے ماموں جمیل فخری اللہ کو پیارے ہوئے اور اب امجد صابری کے بہیمانہ قتل نے دل و دماغ کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ مرشد کی باتیں، یادیں، رفاقتیں، محفلیں میری زندگی کا سرمایہ حیات ہیں۔ وہ یونیسکو کے اعلیٰ افسر تھے۔ تحریک پاکستان میں وہ نوجوانوں کے ہراول دستے کے قائد تھے۔ ضیاء الحق سے لیکر مجید نظامی اور قاضی حسین احمد سبھی کا شمار اُنکے ذاتی نیازمندوں میں ہوتا تھا۔ شام کے وقت روزانہ اُنکی چائے کی میز پر اُنکے احباب اکٹھے ہوتے اور اسلام، پاکستان اور مذہبی اقدار کے تحفظ کیلئے زور شور سے آوازیں بلند کی جاتیں۔ شہاب نامہ میں قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ یونیسکو میں موجود نسیم انور بیگ کو دیکھ کر دیانت اور صداقت پر یقین پختہ ہوتا ہے۔ آج مرشد اور اُنکے احباب جو پاکستان کی تاریخی شخصیات تھیں۔ مرشد کے ہاں جنہیں ملنے اور سننے کا ہمارے جیسے خاکساروں کو شرف ملا۔ آج وہ سب ہمارے درمیان نہیںہیں …؎
وہ صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں
اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں
مرشد کے متعلق میرے سمیت پاکستان کے نامور کالم نگاروں نے بہت کچھ لکھا۔ امریکی میگزین ٹائم کے سرورق پر اُن کا نام چھپا۔ امریکی صدر جانسن کی مسز پاکستان آئیں تو نسیم انور بیگ پاکستان سے باہر تھے۔ امریکہ پہنچ کر اس نے آپ کو خط تحریر کیا کہ کاش پاکستان کے دورے پر وہ آپ سے ملاقات کا شرف حاصل کرپاتیں۔ نوجوانی میں وہ برصغیر کے کالجز میں ڈیبیٹس کے مقابلوں میں گورنمنٹ کالج لاہور کی نمائندگی کرتے اور دہلی میں ہر سال وہ اول ٹرافی بھی حاصل کرتے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی یوتھ اسمبلی میںوجے لکشمی پنڈت کو پاکستان کیخلاف منفی بات کرنے پر ٹوک دیا اور بعد میںوجے لکشمی پنڈت نے نوجوان نسیم انور بیگ کو بلاکر معذرت کی، اُنکی سیاسی، سماجی، سرکاری اور روحانی زندگی کے تمام پہلو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت، عشق اور سنت کی پیروی کے عکاس ہیں۔ اُنکے لبوں پرہر دم خاکِ پائے رسولؐ کا ورد جاری رہتا۔ انہوں نے اپنے گھر کے ایک ایک پودے پر لاکھوں مرتبہ درود شریف کا ورد کیا۔ وہ مستجاب الدعا تھے۔ نوائے وقت کے ایک کارکن پرویزحمید کے بیٹے سخت بیمار تھے، انہیں پتہ چلا کہ مجید نظامی صاحب نسیم انور بیگ سے ملنے اسلام آباد جارہے ہیں۔ انہوں نے نظامی صاحب سے عرض کیا کہ جب وہ وہاں جائیں تو بیگ صاحب کو انکے بیٹے کی صحت کاملہ کیلئے دعا کرنے کا کہیں۔ پرویز حمید نے خود یہ واقعہ اپنے کسی کالم میں درج کیا کہ جونہی نظامی صاحب نے انہیں فون پر بتایا کہ بیگ صاحب نے تمہارے بیٹے کیلئے دعا کی ہے تو کچھ ہی ساعتوں بعد اُن کا بیٹا بہتری کی طرف گامزن ہوگیا۔ میری ذاتی زندگی میں اُنکی روحانیت کے بہت زیادہ اثرات ہیں، جب بھی فیصل ایونیو اسلام آباد کے قریب سے گزرتا ہوں تو خیال آتا ہے …؎
دیکھتا ہوں تو سبھی کچھ ہے سلامت گھر میں
سوچتا ہوں تو تیرے بعد رہا کچھ بھی نہیں
قارئین کچھ عرصہ قبل مرشد کے ایک دیرینہ ساتھی عبدالوحید راٹھور جو تحریک پاکستان میں مرشد کے ساتھی تھے، اُن کیلئے خطوط موصول ہوئے، اُنکی گواہی تحریک پاکستان میں نسیم انور بیگ کے کردار اور اُس دور کے حالات و واقعات پر مکمل روشنی ڈالتی ہے اور یہ خط بہت سارے تاریخی حقائق کی درستگی کیلئے بھی بڑا اہم ہے۔ وہ اپنی ای میل میں نسیم صاحب کیلئے مرشد اور گیتا بھون کا ٹائٹل لکھتے۔ میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ نسیم انور بیگ اور انکے ساتھیوں نے لاہور میں آسٹریلیا چوک پر گیتا بھون نامی مندر کو اپنا ہیڈکوارٹر بنا لیا تھا۔ نسیم انور بیگ گیتا بھون کیمپ کے انچارج تھے، انہیں یہ ڈیوٹی ڈاکٹر ضیا الاسلام جو پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر تھے، نے سونپی تھی۔ یہاں سے نسیم انور بیگ اور میرے سمیت دوسرے ورکرز روزانہ والٹن کے کیمپ میں جاتے جہاں تقریباً ہم نے 13 لاکھ ڈیڈ باڈیز اور زخمیوں کو وصول کیا جو ہجرت کی اس راہ میں شہید ہوگئے تھے۔ اندرون شہر لاہور میں نسیم انور بیگ اور اُن کے ساتھی ہر وقت متحرک رہتے تھے۔ دیال سنگھ کالج نسبت روڈ میں ہندوئوں کی اکثریت تھی مگر ہمارا وہاں پر کافی دبدبہ تھا۔ جون 1947ء میں کالج بند ہوگئے اور ہندو زیادہ تر لاہور چھوڑ کر چلے گئے۔ شاہ عالمی انکے کاروبار کا گڑھ تھا۔ وہاں پر شرپسندوں نے آگ لگا دی جو پانچ چھ روز تک نہ بجھ سکی اور اس آگ کی آڑ میں وہاں سے تمام ہندو نکل گئے۔
مرشد کے دوست لکھتے ہیں کہ تم لوگ پاکستان کی قدر کرو، ہم نے یہ پاکستان لاکھوں مسلمانوں کی قربانیاں دے کر حاصل کیا ہے۔ صرف 13 لاکھ مسلمان تو مشرقی پنجاب میں قتل ہوئے اور ایک لاکھ 30 ہزار عورتیں اغوا ہوئیں اور کُل شہید ہونیوالوں کی تعداد تیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ وحید صاحب اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ صحت کی خرابی کی وجہ سے زیادہ تر دوائیوں کے زیر اثر رہتا ہوں۔ نوائے وقت اخبار زمیندار اخبار بند ہونے کے بعد پڑھنا شروع کیا تھا۔ وگرنہ ہم لوگ ڈان اور پاکستان ٹائمز پڑھتے تھے۔ مجھے آج بھی ڈاکٹر ضیاالاسلام، میاں امیر الدین، نسیم انور بیگ اور اپنا دوست شاہد ملک یاد آتا ہے جسے ہندوئوں نے مال روڈ جلوس میں سر پر اینٹ مار کر شہید کردیا تھا۔ نسیم انور بیگ سمیت کئی اکابرین گرفتار ہوئے۔ لاہور جیل میں تمام لیڈران صاحبان اور Studentsاکٹھے رہتے تھے۔ یہ جیل شادمان کی جگہ پر قائم تھی۔ نسیم انور بیگ یہاں پر نہیں تھے۔ ہم نے جب مہاجرین کی آمد پر بارڈر اورکیمپس کو سنبھالا تو مرشد گیتا بھون ہیڈ کوارٹر کے انچارج تھے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اس ملک کی حفاظت فرمائے۔ میں تو آجکل خود اپنے دوست اور ہمارے مرشد نسیم انور بیگ اور دوسرے دوستوں کے پاس اگلے جہان جانے کی تیاری کررہا ہوں۔ پرانے دوستوں میں سے ہم صرف دو ہی زندہ ہیں۔ خدارا اس ملک کو لٹیروں سے محفوظ کرے۔ ہم نے بڑی قربانیاں دے کر یہ ملک حاصل کیا تھا۔