مولانا فضل الرحمان پر خودکش حملہ اور دھرنے کا انجام

کالم نگار  |  قیوم نظامی
مولانا فضل الرحمان پر خودکش حملہ اور دھرنے کا انجام

کوئٹہ بلوچستان میں ایک ہی دن میں دہشت گردی کے مختلف واقعات ہوئے۔جن میں ایف سی کے 2 اہلکار اور ہزارہ برادری کے 9 افراد شہید ہوئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کی بناء پر کوئٹہ سے ہزارہ برادری کے تین لاکھ افراد نقل مکانی کرچکے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن پر اس وقت خودکش حملہ ہوا جب وہ صادق شاہین سٹیڈیم میں جمعیت علمائے اسلام کی ریلی سے خطاب کرنے کے بعد باہر نکل رہے تھے۔ مولانا چونکہ بم پروف کار میں سوار تھے اس لیے محفوظ رہے۔ قبل ازیں ان پر دو خودکش حملے ہوچکے ہیں۔ کوئٹہ سے متضاد اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ پویس کے مطابق ٹارگٹ مولانا فضل الرحمن تھے جبکہ ایجنسیوں کے خیال میں خودکش حملہ آور سٹیڈیم کے اندر داخل ہونا چاہتا تھا مگر سخت سکیورٹی کی وجہ سے وہ اندر نہ جاسکا۔ اس افسوسناک واقعہ میں 2 افراد شہید اور 15زخمی ہوئے۔ اس واقعہ کی ذمے داری جنداللہ گروپ نے قبول کی ہے۔ بلوچستان کے ہوم منسٹر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ مولانا پر حملہ کرنے والے جند اللہ گروپ کا تعلق ایران سے نہیں بلکہ پشاور گروپ سے ہے جو تحریک طالبان کا اتحادی ہے جس نے 2013ء میں پشاور چرچ پر حملہ کرکے 18 افراد جان بحق اور 250زخمی کردئیے تھے۔ شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کی کامیابی کے بعد دہشت گرد منتشر ہوچکے ہیں اور ملک کے مختلف حصوں میں اکادُکا وارداتیں کررہے ہیں۔ دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے اور مستقل امن قائم کرنے کے لیے بلوچستان ، کراچی اور پنجاب میں بھی ضرب عضب کی طرز پر آپریشن کرنا پڑے گا۔ پاک فوج نے جس طرح شمالی وزیرستان میں کامیابیاں حاصل کی ہیں ان سے عوام کو اعتماد ہے کہ پاک فوج ملک بھر سے دہشت گردی کا ناسور ختم کر کے دم لے گی۔ مولانا فضل الرحمن پر تیسرے قاتلانہ حملے کے بعد پاکستان کے سیاسی و مذہبی رہنمائوں کو جلسے بند کردینے چاہئیں تاکہ شہریوں کی جانیں محفوظ رہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات کرکے سیاسی درجہ حرارت کم کریں۔
ڈاکٹر طاہرالقادری کو اشاعت دین کے سلسلے میں جو کامیابیاں ملیں وہ بے مثال ہیں۔ پاکستان اور پوری دنیا کے بڑے شہروں میں منہاج سینٹر قائم کرنا اور ان کو خو ش اسلوبی سے چلانا معمولی کارنامہ نہیں ہے۔ پاکستان میں ان کے لاکھوں مرید ہیں۔ ووٹ کی سیاست کی ماہر محترمہ بے نظیر بھٹو جانتی تھیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری انتخابات میں پی پی پی کے ووٹوں میں اضافہ کرسکتے ہیں چنانچہ انہوں نے منہاج القرآن تحریک کی تا حیات رکنیت حاصل کرلی۔ آصف علی زرداری بھی اپنے ووٹ بنک میں اضافے کے لیے مذہبی رہنمائوں سے رابطے کررہے ہیں۔ انہوں نے لاہور کے دورے کے دوران منصورہ جاکر امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ملاقات کی۔ قابل اعتماد ذرائع کے مطابق دونوں رہنمائوں نے انتخابی اشتراک اور تعاون کے لیے ورکنگ پیپر تیار کرنے پراتفاق کیا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خدا داد صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ وہ ان کو بروئے کار لاکر پاکستان کے روایتی سیاستدانوں کو شکست دے سکتے ہیں۔ ایک مخصوص نوعیت کا جوش و جنون ڈاکٹر صاحب کو خاموش نہیں بیٹھنے دیتا اور وہ جنون کے تحت اپنی سیاسی قوت اور مقبولیت سے بڑھ کر اہداف مقرر کرلیتے ہیں۔ 2013ء میں انہوں نے انتخابات سے پہلے اصلاحات کا نعرہ لگایا اور اپنے مریدوں کا قافلہ لے کر ڈی چوک اسلام آباد پہنچ گئے۔ ان کی نیت نیک تھی جذبہ صادق تھا اور تشخیص درست تھی مگر وہ زمینی حقائق کا درست ادراک کرنے سے قاصر رہے۔ طاقتور روایتی سیاستدان جن کے عزیز و اقارب ریاست کے اہم اداروں پر قابض ہیں ایک دھرنے سے سیاسی منظر سے غائب نہیں ہوسکتے۔ ڈاکٹر صاحب کو 2013ء میں دھرنا ختم کرکے ناکام لوٹنا پڑا۔ البتہ ان کے دل میں یہ خیال سما گیا کہ اگر وہ دس لاکھ افراد ڈی چوک پر جمع کرلیں تو انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔
جنرل ایوب خان نے’’ کنٹرولڈ جمہوریت‘‘ کا تصور دیا تھا جس کا مقصد فوج کی بالادستی کو قائم رکھنا تھا۔ فوج آج تک اس بنیادی اصول پر سختی سے کاربند ہے۔ 2013ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے دو تہائی اکثریت حاصل کرلی جس سے خفیہ ایجنسی کے کان کھڑے ہوگئے۔ میاں صاحب نے حسب روایت انتخابی نشے سے سرشار ہوکر اسٹیبلشمنٹ کی ’’ریڈ لائنز‘‘ کو کراس کرنا شروع کردیا۔ جیو کے مسئلے پر مسلم لیگ (ن) کے ترجمان نے ’’غلیل والوں کے بجائے دلیل والوں‘‘ کا ساتھ دینے کا اعلان کردیا۔ جمہورت کو ’’کنٹرول‘‘ میں لانے کے لیے خفیہ ہاتھ حرکت میں آئے۔ ڈاکٹر طاہر القادری پہلے ہی انقلاب مارچ کا اعلان کرچکے تھے۔ عمران خان نے بھی آزادی مارچ کا اعلان کردیا۔ دونوں کی منزل ایک مگر ایجنڈا مختلف تھا۔ دونوں تا حال اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے انقلاب دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ یہ درست ہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری اس بار بھی اپنے بنیادی انقلابی اہداف حاصل نہیں کرسکے البتہ اسلام آباد میں ان کا دھرنا کئی حوالوں سے کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے ہر قسم کے مصائب اور مشکلات کے باوجود دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا اور ستر دن پر محیط طویل دھرنا دیا۔ عوامی تحریک کے کارکنوں نے صبر، تحمل، استقلال اور بہادری کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔اسلام آباد دھرنے کے مثبت سیاسی و سماجی اثرات کو نظر انداز کرنا درست تجزیہ اور تبصرہ نہ ہوگا۔ اسلام آباد کے انقلاب اور آزادی دھرنے نے پاکستان میں ذہنی اور فکری انقلاب برپا کردیا ہے۔ عوام بیدار ہوگئے ہیں۔ سٹیٹس کو بے نقاب ہوا ہے۔ اشرافیہ کی جمہوریت سے لوگ بے زار ہونے لگے ہیں۔ دھرنے کی کامیابی کا بین اور ٹھوس ثبوت یہ ہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری اور عمران خان کے جلسوں میں عوام کی شرکت میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ فیصل آباد اور لاہور کی تاریخی ریلیوں کے بعد ایبٹ آباد میں بھی عوامی تحریک کے جلسے نے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اسلام آباد دھرنے کی افادیت ختم ہوتی جارہی تھی۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس دھرنے کو انقلابی تحریک میں تبدیل کردیا۔ انہوں نے پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں جلسے کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ڈاکٹر طاہرالقادری نے پندرہ ہزار کارکنوں کی ستر روز تک سیاسی و فکری تربیت کی۔ یہ تربیت یافتہ کارکن پورے ملک میں انقلاب کی تبلیغ کرکے لوگوں کے ذہن تبدیل کریں گے۔ ڈاکٹر صاحب نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان عوامی تحریک انتخابات میں بھی حصہ لے گی تاکہ ووٹ کی طاقت سے کرپٹ، لٹیرے، ٹیکس چور، قرضہ نادہندہ اور مفاد پرست اُمیدواروں کا راستہ روکا جاسکے اور پارلیمنٹ کے ذریعے پاکستان میں انقلاب برپا کیا جاسکے۔ دھرنوں سے عوام میں ظلم اور نا انصافی کے خلاف مزاحمت کا جذبہ پیدا ہوا ہے۔ حکمرانوں کے رویے تبدیل ہوئے ہیں اور انہوں نے پارلیمنٹ اور اپنی جماعت کے اراکین اسمبلی کو اہمیت دینا شروع کی ہے۔ اگر دھرنے کا دبائو نہ ہوتا تو ماڈل ٹائون کے شہدا کی ایف آئی آر درج نہ ہوتی۔ اس ایف آئی آر کے اندراج کے لیے آرمی چیف نے ’’سہولت کار‘‘ کا کردار ادا کیا۔ عوامی دبائو کی وجہ سے حکمرانوں کو بجلی کے نرخوں میں اضافہ واپس لینا پڑا۔ وزیراعظم پاکستان نے اپنی جماعت کے وزراء اور رہنمائوں کو ڈاکٹر طاہرالقادری کے خلاف بیان بازی سے روک دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام آباد کے دھرنوں میں مثبت اثرات زیادہ مرتب ہوئے ہیں البتہ حکمرانوں کے مطابق دھرنوں کی وجہ سے معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ دھرنے کی وجہ سے ایک اور مارشل لاء کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے اس خطرے کو ٹال دیا۔