بھارتی جارحیت پر ’’شاہ پرستوں‘‘ کی لاتعلقی

کالم نگار  |  خالد کاشمیری
بھارتی جارحیت پر ’’شاہ پرستوں‘‘ کی لاتعلقی

 وجوہ کچھ بھی ہوں بادل نخواستہ ہی سہی مگر یہ کریڈٹ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت ہی کو جاتا ہے کہ اس کی معاندانہ اور سفاکانہ کارروائیوں سے پاکستان کے ارباب حکومت کے دلوں میں مسئلہ کشمیر کے زندہ اور تروتازہ ہونے کا بھرپور احساس پیدا ہو جاتا ہے اور یقیناً ایسا ہوا ہے ورنہ لائن آف کنٹرول کے اس طرف تو حکومت کے بڑے بڑے بزرجمہر پاکستان بھارت کے مابین تجارتی اور اقتصادی تعلقات کیلئے مرے جارہے تھے اور یقیناً انکی اس روش میں پھر بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔ بھارت کے آزادکشمیر، سیالکوٹ اور نارووال میں ورکنگ بائونڈری اور کنٹرول لائن پر مختلف سیکٹروں میں جارحانہ اقدامات سے ڈیڑھ دجن کے لگ بھگ پاکستانی جام شہادت نوش کر چکے ہیں اس صورتحال میں جہاں پاکستان کے عوام تلملا اٹھے وہاں اعلی سطح کے ارباب اختیار کے دلوں میں بھی اس کی چبھن محسوس کی گئی۔ بلاشبہ اس مسئلہ کشمیر کی بات وزیراعظم میاں نواز شریف نے 26 ستمبر کو اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں واضح انداز میں کی۔ انہوں نے پڑوسیوں کیساتھ مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ کشمیری عوام کو انکی خواہش کیمطابق حق خودارادیت دلائے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تقریر کا حصہ ان پاکستانیوں کیلئے اشک شوئی کا کام کر گیا جو وزیراعظم میاں نواز شریف کی وزیراعظم بھارت نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے موقعہ پر حریت کانفرنس کے کشمیری رہنمائوں سے دانستہ ملاقات نہ کرنے پر دل گرفتہ تھے۔ کنٹرول لائن پر بھارت کی طرف سے مسلسل جارحانہ کارروائیوں ہی کی روشنی میں اسلام آباد میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں واشگاف الفاظ میں کیا گیا کہ بھارتی تھانیداری قبول نہیں ، مہم جوئی کا طاقت سے جواب دینگے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بری فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سربراہوں اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی شریک تھے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کی زیرصدارت اسی اجلاس میں خارجہ امور سے متعلق وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز کو ہدایت کی گئی کہ وہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو خط لکھیں جس میں بھارتی فوج کی طرف سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر ہونے والے فائرنگ کے واقعات سے آگاہ کریں۔ اسی اجلاس میں اقوام متحدہ کے پانچ مستقل ارکان کے ممالک میں خصوصی ایلچی بھیجنے کا بھی فیصلہ ہوا۔
ایک طرف تو حالات کی سنگینی کا عالم یہ ہے کہ بحری، بری اور فضائیہ کے سربراہوں کی موجودگی میں قومی سلامتی کمیٹی میں بھارتی مہم جوئی کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے طاقت سے جواب دینے کے عزم کا اظہارکیا گیا اور پاکستانی عوام کو یہ مژدہ بھی سنایا گیا کہ بھارت کو بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔ اعلی ترین سطح پر سرحدوں پر دشمن کی جارحانہ کارروائیوں پر سیاسی بالخصوص عسکری قیادت نے بھرپور سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے مگر برسراقتدار سیاسی قیادت کے بزعم خود ہمدرد اور خیرخواہ تنخواہ دار عناصر کو اس قسم کے حالات کی سنگینی کا رتی بھر احساس نہیں۔ انکے طور طریقوں سے یوں لگتا ہے جیسے کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر کچھ نہیں ہو رہا۔ اگر ہو بھی رہا ہے تو یہ ان عناصر کی سردرد نہیں جن کا کام اپنی قیادت کے سیاسی مخالفین کے بارے میں سراسر جھوٹ پر مبنی پریس ریلیزیں اور بے سروپا قسم کے بیانات جاری کرنا ہے۔ برسراقتدار سیاسی قیادت کے ایسے تمام وفاقی و صوبائی وزیروں سمیت ترجمان حکومت قسم کی کھیپ کے ارکان بھی اٹھتے بیٹھتے اور سوتے جاگتے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے فقیدالمثال جلسوں اور ریکارڈ ساز دھرنوں کے حوالے سے جھوٹ گھڑنے کے خبط میں مبتلا رہتے ہیں۔ پاکستان بھر کے عوام میں سرحدوں پر بھارتی فوج کی اشتعال انگیز فائرنگ اور گولہ باری پر غم و غصہ اور شدید تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے
 یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ جس طرح لائن آف کنٹرول اور بائونڈری لائن پر بھارت کی طرف سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کو بھی انتہائی سختی سے اس کا نوٹس لینا چاہئے تھا۔ صرف بھارتی افواج کی فائرنگ اور جارحانہ کارروائیوں ہی پر اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کا خیال نہیں آنا چاہئے بلکہ پاکستان کی شہ رگ کشمیر کو بھارت کے چنگل سے نجات دلانے کیلئے حکمرانوں کو مسلسل ادارہ اقوام متحدہ سے رابطے میں رہنا چاہئے مگر ایسا نہیں کیا گیا نہ اس بارے میں سوچا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے برسراقتدار سیاسی قیادت کے بعض عناصر پاکستان کیلئے کشمیر کی ضرورت و اہمیت سے آگاہی نہیں رکھتے اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ سیاسی قیادت کو تحریک آزادی کشمیر کی تاریخ ہی سے واقفیت نہیں نہ ہی انہیں اس حقیقت کا ادراک ہے کہ مسئلہ کشمیر تقسیم برصغیر کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ برسراقتدار سیاسی قیادت کو بھارت سے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کے قیام کا خیال خام دل سے نکال کر اس حقیقت کا ادراک کرنا ہو گا کہ پاکستان کسی بھی لحاظ سے دفاع کے معاملے میں بھارت سے کم تر نہیں ہے۔ بھارت کو اگر اپنے ایٹمی طاقت ہونے کا زعم ہے تو اللہ کے فضل سے پاکستان اس دوڑ میں ان سے دو قدم آگے ہو گا۔ پاکستان کے ایٹم بم شوکیسوں میں سجانے کیلئے نہیں۔ سرزمین پاکستان کے بدخواہوں کو ملیامیٹ کرنے کیلئے بنائے تھے۔ حکمرانوں کو ان حقیقتوں کی روشنی میں اپنے فرائض منصبی سے انصاف کرنے کی خو پیدا کرنی ہو گی۔ جہاں تک تحریک آزادی کشمیر کے تاریخی پس منظر کا تعلق ہے تو حالات اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ شاخ اقتدار پر چہچہانے والے مقربین حکومت کی کھیپ کے بیشتر حاشیہ نشینوں کیلئے ایسے ’’ریفریشر کورسز‘‘ کا اہتمام ہونا چاہئے جہاں انہیں نہ صرف آداب سیاست کے باب میں سچ بولنے اور سچ سننے کے اسباق ازبر کرائے جائیں بلکہ اس تحریک آزادی کشمیر کی تاریخ اور اسکی پاکستان کیلئے اہمیت سے روشناس کرایا جائے جس کے بارے میں ارض وطن حاصل کرنیوالے بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ نے واشگاف الفاظ میں فرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور قوم اپنی شہ رگ پر دشمن کا قبضہ برداشت نہیں کر سکتی۔