باغی سے ’’داغی‘‘ تک کا سفر

کالم نگار  |  رحمت خان وردگ....
باغی سے ’’داغی‘‘ تک کا سفر

شاہ محمود قریشی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے پہلے ہی ’’باغی‘‘ کو ’’داغی ‘‘ قرار دے دیا تھا اور انکی جانب سے دیئے گئے اس لقب سے میں مکمل طور پر اتفاق کرتا ہوں۔تحریک انصاف کے ساتھ دھوکہ کرنے کے بعد کیا ن لیگ اتنی بے وقوف ہوگی کہ جاوید ہاشمی صاحب کو دوبارہ اپنی پارٹی میں شامل کرے؟ اگر انکو ن لیگ میں شامل کر بھی لیا گیا تو کیا پارٹی کے اہم فیصلوں میں ان سے مشاورت کرنے کے بعد یہ بھروسہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ راز پوشیدہ ہی رہے گا؟ میرے خیال میں ہاشمی صاحب کے اب تک کے سیاسی ریکارڈ کیمطابق تو اب یہ قابل بھروسہ نہیں رہے ۔ جو پارٹی انہیں اپنے ساتھ شامل کریگی وہ ان سے وفا کی امید نہ رکھے۔ ویسے بھی انکے پورے سیاسی کیریئر میں ’’وفا‘‘ نام کا لفظ نہیں ہے حالانکہ نوازشریف کے جتنے احسانات جاوید ہاشمی پر تھے‘ انہیں یہ بات زیب ہی نہیں دیتی تھی کہ وہ پارٹی چھوڑتے مگر تحریک انصاف میں عمران خان نے ان کو جتنی اہمیت و عزت دی ‘ شاید وہ اب کہیں بھی نہ مل سکے۔ہاشمی صاحب نے اپنی سیاست کا آغاز اسلامی جمعیت طلباء سے ایوب خان کے دور میں کیا۔ جماعت اسلامی ایوب خان کیخلاف تھی اور اس وقت محترمہ فاطمہ جناح کیخلاف ایوب خان نے الیکشن لڑا تو جماعت اسلامی نے محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا اور اس وقت جاوید ہاشمی صاحب ایک سٹوڈنٹ تھے۔ بھٹو صاحب نے ایوب خان کی حکومت میں وزارت خارجہ سے استعفیٰ دیا اور راولپنڈی سے حکومت کیخلاف ٹرین مارچ کا آغاز کیا۔ حکومت نے بھٹو کے ٹرین مارچ کو ناکام بنانے کیلئے جگہ جگہ کریک ڈائون کا سلسلہ شروع کیا۔ بھٹو صاحب ٹرین مارچ کے دوران جب لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچے تو بھٹو صاحب کا استقبال کرنیوالوں میں جاوید ہاشمی صاحب بھی شامل تھے۔ لاہور ریلوے اسٹیشن پر حکومت کے کریک ڈائون میں یہ زخمی ہوگئے ۔ اس وقت انکی سیاست کا آغاز ہوا۔ زخمی ہونے کے بعد پہلی بار خبروں میں یہ نمایاں ہوئے ۔الیکشن ہوئے اور بھٹو صاحب اقتدار میں آئے تو جماعت اسلامی کے پیپلزپارٹی سے تعلقات خراب ہونے کی وجہ سے ہاشمی کو کوئی موقع نہ مل سکا اور یہ گمنامی سے سیاست کرتے رہے لیکن جب 1977ء کے انتخابات کے بعد بھٹو صاحب کیخلاف قومی اتحاد بنا اور تحریک کا آغاز ہوا تو اس تحریک کے دوران ہاشمی تحریک استقلال کے سربراہ ایئر مارشل اصغر خان کے بہت قریب ہوگئے ۔ 1977ء کے الیکشن میں دھاندلی کیخلاف تحریک میں ان کو سیاسی پہچان ملی۔ تحریک کے دوران بھٹو صاحب مڈل ایسٹ کے دورے پر چلے گئے اور قومی اتحاد نے بھی ایئرمارشل اصغر خان کو ایران کے دورے پر بھیج دیا۔ امریکہ بھٹو صاحب کیخلاف ہوگیا تھا کیونکہ انہوں نے ڈاکٹر قدیر خان کو لاکر ایٹمی پروگرام شروع کیا اور عالمی دبائو کو پس پشت ڈال کر پاکستان کے دفاع کیلئے بھٹو صاحب نے بہت دلیرانہ فیصلہ کیا جس کی پاداش میں امریکہ بھٹو صاحب کی حکومت ہر صورت میں ختم کرنا چاہتا تھا۔ ایٹم بم کی بنیاد بھٹو نے رکھی تھی۔بھٹو صاحب کیخلاف تحریک نے جب طول پکڑا اور حکومت مذاکرات پر آمادہ ہوگئی تو بھٹو صاحب مذاکرات کیلئے اپنے ہمراہ جنرل ضیاء الحق کو لے آئے اور مذاکرات میں بدمزگی کے بعد مارشل لاء نافذ ہوگیا ۔ بھٹوصاحب کو قید کردیا گیا۔ بھٹو صاحب کیخلاف تحریک کے دوران ہاشمی صاحب دراصل تحریک استقلال کے قائد ایئرمارشل اصغر خان کے بہت قریب تھے اور جب ضیاء الحق نے مارشل لاء نافذ کیا تو انہوں نے بھٹو کیخلاف تحریک چلانیوالی تمام سیاسی جماعتوں کو حکومت میں شامل ہوکر وزارتوں کی پیشکش کی۔ ضیاء الحق کی وزارتوں کی پیشکش ایئرمارشل اصغر خان نے مسترد کردی تھی تو اصولی طور پر جاوید ہاشمی بھی ضیاء الحق حکومت میں شامل نہ ہوتے مگر انہیں زندگی میں پہلی بار تو ’’موقع‘‘ ملا تھا ۔اس نے تحریک استقلال سے بے وفائی کرتے ہوئے ضیاء الحق کی شوریٰ میں حلف اٹھاکر وفاقی وزارت صحت کا قلمدان سنبھالا۔ جب ضیاء الحق نے انتخابات کا اعلان کیا تو ہاشمی صاحب نے ان سے پوچھا کہ کیا واقعی آپ الیکشن منعقد کرائیںگے؟ ضیاء الحق کی جانب سے انتخابات کے انعقاد کے عزم کے بعد انہوں نے وزارت سے استعفٰی دیدیا اور وزیراعظم بننے کا خواب دیکھنے لگے لیکن ضیاء الحق نے انتخابات ملتوی کردیئے تو یہ لاوارث ہوگئے۔ اسی وجہ سے شاید یہ فوج کے خلاف ہیں اور جب فوج کیخلاف زہر اگلنا شروع کرتے ہیں تو شاید انکے ذہن میں پہلی وزارت عظمیٰ سے محرومی آتی ہوگی۔جب نوازشریف کو ضیاء الحق نے لیڈر بناکر پنجاب کی وزارت اعلٰی دی اور مستقبل میں نوازشریف کے سیاست میں مقام پیدا کرنے کے امکانات بڑھے تو جاوید ہاشمی صاحب نے نوازشریف کی قربت حاصل کی اور مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرلی مگر شریف برادران کیساتھ وفا نہیں کی۔انکی سوچ ہمیشہ یہ رہی ہے کہ یہ جس پارٹی میں بھی رہے‘ اس پارٹی کے قائد سے بھی آگے نکلنے کی کوشش کی اور ہمیشہ وزارت عظمیٰ کے خواب دیکھے۔ نوازشریف جب جلاوطن تھے تو انہوں نے ایک خط لکھ کر ڈرامہ رچایا اور جیل میں جاکر ہیرو بننے کی کوشش کی۔ اس سارے ڈرامے میں بھی مشہور ہوکر وزیراعظم بننے کی خواہش میں ہی سب کچھ کیا۔
جب یہ سمجھ گئے کہ نوازلیگ میں رہ کر وزیراعظم نہیں بن سکتے تو اچانک بیمار ہوکر اسپتال پہنچ گئے۔ میں انکی عیادت کیلئے اسپتال گیا تو اسپتال میں کسی نے ان سے کہا کہ آپ کو تو بلڈپریشر وغیرہ کا مسئلہ کبھی نہیں رہا‘ اب اچانک آپ اسپتال کس طرح پہنچے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں اگر مر گیا تو میری F.I.R. شریف برادران پر ہوگی جن کی وجہ سے میں اسپتال پہنچا ہوں۔ حقیقت میں ن لیگ میں رہ کر یہ سمجھ چکے تھے کہ وزارت عظمیٰ تک رسائی ناممکن ہے اس لئے اسپتال سے فارغ ہوتے ہی تحریک انصاف کے کراچی کے عظیم الشان جلسے میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ حالانکہ بیگم کلثوم نواز انہیں پارٹی چھوڑنے سے روکنے کیلئے انکے گھر بھی گئیں مگر انہوںنے شریف برادران کے احسانات فراموش کردیئے۔ ہاشمی صاحب جب سیاست میں آئے تو انکے پاس 5ایکڑ زمین تھی جبکہ اب یہ ہزاروں ایکڑ زمین کے مالک آخر کس طرح سے بن گئے ؟ عمران خان نے انہیں نمایاں مقام دیا مگر انہوں نے جب یہ سمجھ لیا کہ اقتدار کیلئے 2018ء تک انتظار کرنا پڑیگا اور شاید 2018ء میں بھی تحریک انصاف کو اقتدار تک رسائی نہ ملی تو آخر میری ’’جمہوریت پسندی‘‘ کا معاوضہ کہاں سے ملے گا؟ اس لئے انہوں نے تحریک انصاف سے غداری کرتے ہوئے جھوٹے پروپیگنڈے کی بنیاد پر پارٹی چھوڑ کر اسمبلی رکنیت سے بھی استعفٰی دے دیا۔
ہاشمی صاحب سمجھ رہے تھے کہ میں الیکشن جیت جائوں گا مگر ضمنی الیکشن میں عوام نے ووٹ کے ذریعے اس بات پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے کہ باغی واقعی ’’داغی‘‘ ہوچکا ہے۔ میرے خیال میں اب انہیں سیاست کو خیرباد کہہ دینا چاہئے کیونکہ انکے طرز سیاست کے بعد آخر اب کونسی سیاسی جماعت ہوگی جو ان پر اعتبار کی ’’حماقت‘‘ کریگی؟