چین اپنا یار ہے

کالم نگار  |  قیوم نظامی

انگریزی کا محاورہ ہے کہ دوست وہ ہوتا ہے جو مصیبت میں کام آئے۔ 1962ءکی چین بھارت جنگ کے دوران جنرل ایوب خان امریکہ کی مکاری اور عیاری کا شکار ہوگئے۔ آمر جرنیل نے چین کی اخلاقی اور سیاسی مدد نہ کی اور نہ ہی کشمیر کی آزادی کیلئے سنہری موقع سے فائدہ اُٹھایا۔ امریکہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ پاکستان اگر بھارت چین جنگ کے دوران غیر جانبدار رہے تو امریکہ بھارت پر دباﺅ ڈال کر کشمیر کا مسئلہ حل کرادیگا۔ وقت گزرنے پر امریکہ نے آنکھیں پھیر لیں۔ 1965ءکی پاک بھارت جنگ کے دوران امریکہ نے معاہدوں اور حتمی وعدوں کے باوجود پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا۔ اس مشکل گھڑی میں چین نے پاکستان کی بھرپور مدد کی۔ پاک چین دوستی کے بانی بھٹو شہید اس وقت پاکستان کے وزیر خارجہ تھے۔ وہ چین کے عظیم لیڈر ماﺅزے تنگ کی وفات سے پہلے ان سے ملاقات کرنیوالے آخری لیڈر تھے۔جنرل یحییٰ کے دور میں جب امریکہ کے وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے پاکستان کے تعاون سے چین کا پہلا خفیہ دورہ کیا تو چین کے وزیراعظم چو این لاٹی نے کسنجر سے کہا کہ ”آپ جو پُل (پاکستان) عبور کرکے چین آئے ہیں اسے ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیئے“۔ تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان سے بے وفائی کی جبکہ چین نے پاکستان کو مضبوط اور مستحکم بنانے کیلئے بھرپور تعاون کیا۔ امریکہ منافقانہ پالیسیوں کی بناءپر زوال پذیر ہے جبکہ چین منصفانہ خارجہ پالیسی کی وجہ سے دنیا کی نمبر ون معاشی طاقت بننے جارہا ہے۔ عظیم چین کے نئے وزیراعظم لی کی چیانگ نے پاکستانی میڈیا کیلئے اپنے تحریری انٹرویو میں پر خلوص اور بے ساختہ باتیں کیں۔ انہوں نے کہا”چین دنیا کا مضبوط اور مستحکم ملک بن کر دنیا پر اجارہ داری قائم نہیں کریگا۔ چین نے جدید تاریخ میں مشکلات اور مصائب کا سامنا کرکے یہ سبق سیکھا ہے کہ ہمیں دوسروں سے وہ سلوک نہیں کرنا چاہیئے جو ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے ہم سے نہ کریں۔ گلوبلائزیشن کے دور میں ملکوں کے درمیان تعلقات دو طرفہ انحصار کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ جنگ کے قانون سے انسانوں پر حکومت نہیں کی جاسکتی۔ افہام و تفہیم سے ہی دنیا کو پر امن اور مستحکم بنایا جاسکتا ہے۔ پر امن ترقی چین کی حکومت کا بنیادی عزم اور سیاسی فلسفہ ہے۔ ہم کھلے ذہن کے ساتھ دوسروں سے تعاون کرنا چاہتے ہیں اور دوسروں سے بھی کھلے ذہن کی توقع رکھتے ہیں تاکہ ہم سب مل کر 21ویں صدی کو امن اور خوشحالی کی صدی بناسکیں“۔
پاکستان کے اکثر حکمران اگر امریکہ نواز نہ ہوتے تو پاکستان چین کی استعداد اور تجربات سے بہت بہتر فائدہ اُٹھاسکتا تھا۔ آج بھی پاکستان چین پر مکمل بھروسہ کرکے امریکہ کی غلامی سے باہر نکل سکتا ہے۔ راقم نے 1989ءمیں بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ چین کا دورہ کیا۔ چینی لیڈروں کا تاثر یہ تھا کہ پاکستانی بیوروکریٹ اور سیاستدان سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتے ۔ ملاقاتوں میں بڑے پر جوش نظر آتے ہیں مگر فیصلوں پر عملدرآمد میں غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس دور کے چینی وزیراعظم لی پانگ نے پاکستانی وفد کو اپنے گھر پر عشایہ دیا۔ جب وفد انکے گھر پر پہنچا تو چین کے وزیراعظم نے بیگم نصرت بھٹو سے معذرت کرتے ہوئے کہا ”میرا گھر چھوٹا ہے شاید آپ پر سکون محسوس نہ کریں“۔ چین کے وزیراعظم کا گھر واقعی مناسب سائز کا تھا۔ پاکستان کے وزیراعظم ہاﺅس میں اس سائز کے پچاس گھر بن سکتے ہیں۔ پاکستان کا یہی المیہ ہے کہ مقروض اور غریب ہونے کے باوجود ہم حکمرانوں اور اعلیٰ افسروں کی رہائش گاہیں چھوٹی نہیں کرسکے۔ عمران خان نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آکر گورنر ہاﺅس کو چلڈرن پارک اور وزیراعظم ہاﺅس کو یونیورسٹی بنادینگے۔ کاش میاں نواز شریف یہ کام کرگزریں تو پاکستان کی سمت درست ہوجائے اور میاں صاحب پاکستان کے انقلابی لیڈر قرار پائیں۔ اس اقدام سے کروڑوں روپے سالانہ کی بچت ہوگی۔ چین کے وزیراعظم نے پاکستان کو کفایت شعاری کا پیغام بھیجا اور پر تکلف استقبالیہ سے روک دیا۔جب وہ بھارت کے دورے کے بعد پاکستان تشریف لائے تو صدر پاکستان آصف علی زرداری نے پروٹو کول کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کا نور خان ائیر بیس راولپنڈی پہنچ کر خود ان کا استقبال کیا۔ چینی وزیراعظم کا طیارہ پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو ائیر فورس کے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ یہ تھنڈر طیارے چین کے تعاون سے تیار کئے گئے۔ صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران پاک چین تعلقات پر خصوصی توجہ دی اور چین کے نو دورے کیے۔ گوادر پورٹ کا کنٹرول چین کے حوالے کرنا پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے اہم نوعیت کا کلیدی فیصلہ ہے۔ صدر پاکستان نے چین کے وزیراعظم کو نشان پاکستان کا ایوارڈ دیا جو پاکستان کا اہم ترین سول ایوارڈ ہے۔ چین کے وزیراعظم نے کہا کہ پاک چین دوستی کا پودا ساٹھ سال پہلے لگایا گیا تھا جو آج پھلدار درخت بن چکا ہے۔ پاکستان اور چین ہمیشہ ایک دوسرے کے قابل اعتماد بھائی اور شریک کار رہیں گے۔ چین کے وزیراعظم نے پاکستان کو ”آہن برادر“ قراردیا اور کہا کہ دنیا کے حالات جو بھی شکل اختیار کرلیں پاک چین دوستی متاثر نہیں ہوگی۔ چین اور پاکستان کے درمیان 12معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ اس لحاظ سے یہ دورہ انتہائی خوشگوار، دوستانہ اور کامیاب رہا۔
پاکستان کے بہترین دوست کی آمد پاکستان کے سیاسی حالات کو خوشگوار بنانے کیلئے بڑی مبارک ثابت ہوئی۔ پاکستان کے متوقع وزیراعظم میاں نواز شریف چینی وزیراعظم لی کی چیانگ کے اعزاز میں ایوان صدر میں ہونیوالے ظہرانے میں شریک ہوئے۔ صدر پاکستان نے ان کو وزیراعظم کا پروٹو کول دیا۔ دونوں رہنماﺅں نے ملکی مسائل حل کرنے پر اتفاق کیا۔ چین کے وزیراعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے دورے کا مقصد عالمی برادری کو یہ پیغام دینا ہے کہ چین پاکستان کیساتھ اپنی دوستی اور سٹریٹجک شراکت داری کو اولین اہمیت دیتا ہے۔ چین کے وزیراعظم نے میاں نواز شریف سے بھی ون ٹو ون ملاقات کی جس میں میاں صاحب نے چین سے سول نیوکلر ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی فرمائش کی تاکہ پاکستان کی انرجی کی کمی پوری ہوسکے اور نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں۔ چینی وزیراعظم نے سینٹ کے اراکین سے تاریخ ساز اور یادگار خطاب کیا۔پاکستان چین کے تجربات سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔ چین کا سیاسی اور معاشی نظام دنیا کا کامیاب ماڈل ثابت ہوا ہے۔ پاکستان چین کے سیاسی اور معاشی نظام کا سنجیدگی سے مطالعہ کرکے اپنے سیاسی اور معاشی نظام کی اصلاح کرسکتا ہے۔ انتخابات میں صرف چہرے بدلے ہیں مگر نظام کی تبدیلی کے بغیر گڈ گورنینس ،ترقی اور خوشحالی کے امکانات پیدا نہیں ہوسکتے۔ عوامی شاعر حبیب جالب نے درست کہا تھا۔
چین اپنا یار ہے
اس پر جان نثار ہے
پر وہاں ہے جو نظام
اس طرف نہ جائیو
اس کو دور سے سلام